دوست مجھ سے بھی زیادہ میرے نزدیک ہے

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22

بعض فلاسفہ کہتے ہیں:جس طرح شدّت بُعد پوشیدگی کاموجب ہے اسی طرح شدّت قرب بھی پوشیدگی کاموجب ہے، مثلاً اگرسُورج ہم سے بہت دور ہو جائے تووہ دکھا ئی نہیں دے گا، اوراگرہم اس سے بہت زیادہ نزدیک ہوجائیں، تواس کے روشنی اتنی خیرہ کرنے والی ہے، کہ پھر بھی ہم اس کودیکھنے پرقادر نہیں ہیں ۔
اوردرحقیقت خدا کی ذات پاک بھی ایسی طرح کی ہے یامن ھواختفی لفرط نورہاے وہ کہ جو شدت نورانیت کی وجہ سے ہماری نگاہ سے پوشیدہ ہواہے!۔
زیربحث آ یات میںبھی بندوں سے خدا کی حد سے زیادہ نزدیکی ایک عمدہ تشبیہ کے ضمن میں بیان ہوئی ہے، کہ وہ ہماری شہ رگ سے بھی ہم سے زیادہ نزدیک ہے ۔
یہ نزدیکی ،ہماری اس سے زیادہ شدید وابستگی سے سر چشمہ حاصل کرتی ہے ۔
یہاں تک کہ اس قسم کی تشبیہیںبھی :کہ تمام عالم جسم ہے اور وہ روح عالم ہے، تمام عالم شعاع کی مانند ہے اوروہ قرص آفتاب ہے . یہ سب اس قرب کے رابط کوبیان نہیں کرسکتیں، اور بہترین تعبیروہی ہے، جوامیر المو منین علیہ السلام نے (نہج البلاغہ کے پہلے خطبہ میں)بیان فرمائی ہے :
مع کل شی ء لا بمقارنةو غیر کل شی ء لا بمز ایلة :
وہ تمام موجودات کے ساتھ ہے، لیکن اس طرح نہیں کہ ان کے قرین ہو ، اور تمام موجودات سے جُدا ہے لیکن اس طرح نہیں کہ ان سے الگ ہو۔
فلاسفہ کی ایک جماعت نے اس حد سے زیادہ قرب کے بیان کے لیے ایک اور تشبیہ بیان کی ہے، انہوں نے اس کی وضاحت : یہ کی ہے کہ جس وقت ہم یہ کہتے ہیں (کعبہ کی طرف رُخ کرو) روبہ کعبہ کن تو لفظ بہکااکیلے کوئی مفہوم نہیں ہے ، جب تک اس کے ساتھ لفظ کعبہ کااضافہ نہ ہو، وہ گو نگا ،مبہم اور ناقابلِ فہم ہے ،اس بناء پرکسی حرف کااکیلے کوئی معنی نہیں ہوسکتا،جب تک کہ وہ کسی اسی معنی کے ہمراہ نہ ہو ۔
تمام موجودات عالم کی ہستی بھی اسی طرح ہے،کہ اس کی ذات کے ساتھ وابستگی اور پیوندکے بغیر نہ اصلاًاس کاکوئی مفہوم ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی وجود بقاء ہے، اوریہ چیز خداکے بندوں کے ساتھ انتہائی قرب اور بندوں کے خداکے ساتھ انتہائی قرب کی نشاندہی کرتی ہے، اگر چہ بے خبر اس معنی سے غافل ہیں ۔
دوست نزدیک ترازمن بہ من است دیں عجب ترک من ازوی دورم
چکنم باکہ تواں گفت کہ دوست درکنار من ومن مہجورم!
میرادوست مجھ سے خو د مجھ سے بھی زیادہ نزدیک ہے،لیکن زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ میں پھر بھی اس سے دور ہوں، میں کیاکروںاور کس سے کہہ سکتا ہوں کہ دوست تومیرے پہلو میں ہے ، لیکن میں پھر بھی ہجر وفراق میں ہوں۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma