سوره «ق»/ آیه 6- 11

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22

٦۔أَ فَلَمْ یَنْظُرُوا ِلَی السَّماء ِ فَوْقَہُمْ کَیْفَ بَنَیْناہا وَ زَیَّنَّاہا وَ ما لَہا مِنْ فُرُوجٍ ۔
٧۔ وَ الْأَرْضَ مَدَدْناہا وَ أَلْقَیْنا فیہا رَواسِیَ وَ أَنْبَتْنا فیہا مِنْ کُلِّ زَوْجٍ بَہیجٍ ۔
٨۔ تَبْصِرَةً وَ ذِکْری لِکُلِّ عَبْدٍ مُنیبٍ ۔
٩۔وَ نَزَّلْنا مِنَ السَّماء ِ ماء ً مُبارَکاً فَأَنْبَتْنا بِہِ جَنَّاتٍ وَ حَبَّ الْحَصیدِ ۔
١٠۔وَ النَّخْلَ باسِقاتٍ لَہا طَلْع نَضید ۔
١١۔ رِزْقاً لِلْعِبادِ وَ أَحْیَیْنا بِہِ بَلْدَةً مَیْتاً کَذلِکَ الْخُرُوجُ۔

ترجمہ
٦۔کیاانہوں نے آسمان کی طرف جوان کے سرکے اوپر ہے نگاہ نہیں کی کہ ہم نے اس کوکس طرح سے بنایاہے ، اور کس طرح سے ستاروں کے ذ ریعہ اُسے بچایاہے،اوراس میں کسی قسم کاشگاف اورغیر موزونی نہیں ہے ۔
٧۔اور ہم نے ہی زمین کوپھیلا یاہے ،اوراس میں بڑ ے بڑے پہاڑ قائم کیے ہیں، اور ہرقسم کی لہلہاتی ہوئی گھاس اس میں اُگادی ہے ۔
٨۔تاکہ ہر تو بہ کرنے والے بندے کے لیے بصیرت اوربیداری کاوسیلہ اور ذ ریعہ ہو ۔
٩۔اورہم نے آسمان سے برکت والا پانی نازل کیا، اوراس کے ذریعہ باغات اوران دانوں کواگایا ،جنہیں کاٹ کرتیار کیاجاتاہے ۔
١٠۔اور بلند قامت کھجوروں کے درخت ،جن کے پھل ایک دوسرے پر تہ بہ تہ لگے ہوئے ہوتے ہیں ۔
١١۔یہ سب کچھ بندوں کو روزی دینے کے لیے،اورہم نے بارش کے ذ ریعہ مردہ زمین کوزندہ کیاہے، ہاں!مُردوں کوزندہ کرنابھی اسی طرح ہے ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma