سُورہ"" ق "" کے مطالب و مضامین اور فضیلت

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22
یہ سُورہ مکہ میں نازل ہوا
اوراس کی ٤٥ آیا ت ہیں

سُورہ ٔ ق کے مطالب و مضامین
اس سورہ کے مباحث کامحور مسئلہ معاد ہے ،اور تقریباً اس کی تمام آ یات اسی محور کے گرد گھومتی ہیں، اوراس میں دوسرے مسائل ضمنی حیثیت رکھتے ہیں ۔
معاد سے مربوط مسائل میں امور ذیل بیان کیے گئے ہیں ۔
١۔ کفار کامسئلہ معاد سے انکار اور تعجب ( معاد جسمانی سے) ۔
٢۔ مسئلہ معاد پر نظامِ آفرینش کی طرف توجہ دلانے کے طریقہ سے استد لال، خصوصاً مردہ زمینوں کابارش کے نزول کے ذ ریعہ احیائ۔
٣۔ مسئلہ معاد پر خلقت کی طرف توجہ دلانے کے طریقہ سے استد لال ۔
٤۔ یوم الحساب کے لیے ثبت اعمال کے مسئلہ کی طرف اشارہ اوراس کے لیے اقوال ۔
٥۔ موت سے مربوط مسائل، اوراس جہان سے دوسرے گھر کی طرف انتقال۔
٦۔ روزِ قیامت کے حوادث کاایک گوشہ ، اورجنت ودوزخ کے اوصاف۔
٧۔ اختتام جہان کے ہلا دینے والے حوادث کی طرف اشارہ ، جودوسرے جہان کے لیے ایک سرآغاز ہیں ۔
اس کے ضمن میں گذشتہ اقوام کی وضع و کیفیت ان کی درد ناک اور شوم سرنوشت کی طرف مختصر اورمؤ ثر اشارے ہیں، (جیسے قومِ فرعون، عاد ، لوط ، شعیب، اورتبع کی سرنوشت) نیز خداکی طرف توجہ اوراس کے ذکر کے سلسلہ میں پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوکچھ احکام دیئے گئے ہیں، اور سُورہ کے آغاز اوراختتام پر عظمت قرآن کے بارے میں ایک مختصر سااشارہ کیاگیاہے ۔


سورہ ق کی تلاوت کی فضیلت


روایات اسلامی سے معلوم ہوتاہے کہ پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوبہت اہمیّت دیتے تھے ،یہاں تک کہ ہر جمعہ کے دن نماز جمعہ کے خُطبہ میں اس کی تلاوت فرمایا کرتے تھے ( ١) ۔
ایک اورحدیث میں آ یاہے ، کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہرعید اور ہرجمعہ کے دن اس کی تلاوت فرمایا کرتے تھے ، (٢) ۔
یہ سب کچھ اس بناء پر ہے کہ جمعہ اور عید کادن ،انسانوں کی بیداری اور آگاہی کادن ہے، یہ پہلی فطرت کی طرف لوٹنے ،اور خدااوریوم الحساب کی طرف توجہ کرنے کادن ہے، اور چونکہ اس سُورہ کی آ یات ،مسئلہ معاد، موت اورقیامت کے حوادث کوبہت ہی مؤ ثر طریقہ سے بیان کرتی ہیں، علاوہ ازیں مسائل پرغور وفکر کرنا انسانوں کی بیداری اور تربیّت میں عمیق اور گہر تاثیر رکھتاہے، لہٰذا آنحضرت اس پر خاص توجہ فر ماتے تھے ۔
ایک حدیث میں پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ وآولہ سلم) سے اس طرح نقل ہواہے :
من قرأ سورہ ق ھو ن اللہ علیہ تارات المو ت وسکراتہ:
جوشخص سُورہ ق کی تلاوت کرے گا، خدا وند عالم اس پر موت کی مشکلات اور سکرات کوآسان کردے گا (٣) ۔
نیز ایک حدیث میں امام باقر سے آ یاہے :
من اد من فی فرائضہ و نو افلہ سورہ ق وسع اللہ فی رزقہ واعطاء کتابہ بیمینہ وحاسبہ حساباً یسیراً
جو شخص ہمیشہ واجب اور مستحب نمازوں میں سُورہ ق کی تلاوت کرتارہے گا، خدا اس کی روزی میں وسعت پیداکر دے گا، اوراس کانامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دے گا، اورقیامت میں اس کاحساب کتاب آسان کردے گا ( ٤) ۔
یہ بات یاد دلانے کی ضرورت نہیں ہے ، کہ یہ سب افتخار وفضیلت صرف الفاظ کے پڑھنے سے حاصل نہیں ہو تے بلکہ الفاظ کاپڑھنا توافکار ونظریات کے بیدار ہونے کاوسیلہ ہے اوروہ عمل صالح اور سُورہ کے مطالب کے ساتھ ہم آہنگی کاایک ذ ریعہ بھی ہے ۔
١۔ "" تفسیر قرطبی"" جلد٩صفحہ ٦١٧١۔
٢۔"" تفسیر فی ظلال"" جلد٧،صفحہ ٥٤٧۔
٣۔ "" تفسیر مجمع البیان"" جلد ،٩صفحہ ٤٠ ١۔
٤۔ "" تفسیر مجمع البیان"" جلد ،٩صفحہ ٤٠ ١۔ 
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma