تقویٰ بہترین انسانی صفت

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22
گذشتہ آ یات میں رُوئے سُخن مو منین کی طرف تھا، اورخطاب یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا کی صورت میں تھا، اور متعدد آیات کے ضمن میں ، وہ باتیں ،جوایک مو من معاشرے کوخطرے سے دوچار کرتی ہیں،بیان کی ہیں ، اور ان سے منع کیاہے ۔
جبکہ زیربحث آ یت میں ،سارا انسانی معاشرہ مخاطب ہے او روہ اہم ترین اصل اوربنیاد ، جونظم وثبات کی ضامن ہے ،بیان کرتاہے.اورکاذب اور چھوٹی اقدار کے مقابلہ میں حقیقی انسانی اقدار کی میزان کو مشخص کرتاہے اور فرماتاہے ۔ اے لوگو!ہم نے تمہیں ایک مراد اور ایک عورت سے پیدکیاہے اور تمہیں شعوب وقبائل قرار دیاہے .تاکہ تم ایک دوسرے کوپہنچان سکو(یا أَیُّہَا النَّاسُ ِنَّا خَلَقْناکُمْ مِنْ ذَکَرٍ وَ أُنْثی وَ جَعَلْناکُمْ شُعُوباً وَ قَبائِلَ لِتَعارَفُوا) ۔
لوگوں کی ایک مرداورا یک عورت سے خلقت سے مراد، وہی انسانوں کے انساب کی آدم وحواکی کی طرف بازگشت ہے ، اس بناء پرچونکہ وہ سب کے سب ایک ہی جڑسے ہیں ،لہٰذا کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ نسب وقبیلہ کے لحاظ سے ایک دوسرے پرفخر کریں اوراگرخدا نے قبیلہ اور گروہ کے لیے کچھ خصوصیات خلق کی ہیں ، تووہ لوگوں کی اجتماعی زندگی کے نظم وضبط کی حفاظت کے لیے ہے ،کیونکہ یہ فرق اور تفاوت شناخت اورپہنچان کے لیے ہے اورافراد کی پہچان کے بغیر انسان معاشرے میں کوئی نظم وضبط قائم نہیں ہوسکتا،کیونکہ اگروہ سب کے سب یکساں اورایک دوسرے کے مشابہ اورمانند ہوتے توسارے انسانی معاشرے کوفتنہ وفساد گھیر لیتا ۔
اس بارے میں شعوب (جمع شعببروزصعب)لوگوں کے ایک عظیم گروہ کے معنی میں ،اور قبائل جمع قبیلہکے درمیان کیافرق ہے ؟ مفسرین نے مختلف احتمال دئیے ہیں ۔
ایک جماعت نے تویہ کہاہے کہ شعوب کادائرہ قبائل کے دائرے سے زیادہ وسیع ہے ،جیساکہ موجودہ زمانہ میںشعب کا ایک ملت وقو م پراطلاق ہوتاہے ۔
بعض شعوب کوطوائف عجم کی طرف اشارہ ، اور قبائل کوطوائف عرب کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں ۔
اور آخر میں بعض نے شعوب کوانسان کے جغرافیائی منطقوں کی طرف منسُوب ہونے کے لحاظ سے ،اورقبائل کو نسل اورخون کی طرف منسُوب ہونے سے متعلق سمجھاہے ۔
بہرحال قرآن مجید زمانہ جا ہلیّت کے بزرگ ترین فخر و مباہات کے سبب ، یعنی نسب وقبیلہ پرفخر کوختم کرنے کے بعد واقعی اورحقیقی انسانی اقدار اورحقیقی انسانی اقدار کے معیار کوبیان کرتے ہُوئے مزید کہتاہے: تم میں سے زیادہ مکرم وگرامی خداکے نزدیک وہ ہے جو تم میں سے زیادہ متقی ہے (انَّ أَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللَّہِ أَتْقاکُم) ۔
اس طرح سے تمام ظاہری اورمادی امتیازات پرخطِ بطلان کھینچتے ہُوئے بڑائی کی واقعیت وحقیقت کو مسئلہ تقویٰ و پرہیزگاری اورخوفِ خدامیں قرا ر دیتاہے ،اورکہتاہے کہ خدا کے تقرب اوراس کی ساحت قدس سے نزدیکی کے لیے کوئی امتیاز سوائے تقویٰ کے مؤثر نہیں ہے ۔
اور چونکہ تقویٰ ایک روحانی اورباطنی صفت ہے ، جسے سب سے پہلے انسان کے دل وجان میں مستقر ہونا چاہیئے اورممکن ہے کہ اس کے مدعی تو بہت ہوں، مگر اس سے متصف بہت کم ہوں، لہٰذا آ یت کے آخر میں مزید کہتاہے خدا علیم وخبیر ہے(انَّ اللَّہَ عَلیم خَبیر) ۔
وہ پرہیزگار وں کواچھی طرح سے پہچانتاہے، اوران کے درجہ پرتقویٰ وخلوصِ نیّت اوران کی پاکیزگی اورصفائی سے آگاہ ہے ان کواپنے علم کے مطابق مکرم و محترم اورگرامی رکھتاہے، اورجروپاداش دیتاہے، جُھوٹے دعویداروں کوبھی پہچانتاہے اورانہیں سزا اور عذاب دیتاہے ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma