٦۔ استثنائی مواقع

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22
غیبت کے بارے میں آخری بات یہ ہے کہ قانون غیبت میں بھی، ہردوسرے قانون کی طرح ، کچھ باتیں مستثنیٰ ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے ، کہ بعض اوقات مشورہ کے طورپر مثلاً بیوی یاشوہرکے انتخاب میں، یاکسب وکاروغیرہ میں شریک ہونے کے لیے کوئی شخص کسی سے سوال کرتاہے، تو مشورت میں امانت کاجواسلام کا ایک مسلمہ قانون ہے و تقاضایہ ہے کہ اگرطرفِ مقابل میں اُسے کوئی عیب معلو م ہو، تووہ اُسے تبادے، کہیں ایسانہ ہو کہ ایک مُسلمان جال میں پھنس جائے ، اوراس قسم کی غیبت جواس قسم کی نیّت سے انجام پائے حرام نہیں ہے ۔
البتہ جوشخص علی الاعلان اور آشکار ا گناہ کرتاہے اوراصطلاح کے مطابق متجاھربہ فسق ہے وہ موضوع غیبت سے خارج ہے اوراگرکوئی اس کے گناہ کواس کے پیٹھ پیچھے بیان کرے تواس پرکوئی اعتراض نہیں ہے،لیکن اس بات کی طرف توجہ رکھنی چاہیئے کہ یہ حکم اُسی گناہ کے ساتھ مخصوص ہے ، جس کے بارے میں وہ متجاہرہے ۔
یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ نہ صرف غیبت کرناحرام ہے ، بلکہ غیبت کاسننا بھی حرام ہے ،اور غیبت کی مجلس میں حاضر ہونابھی حرام کاموں میں سے ہے، بلکہ کچھ روایات کے مطابق تو مسلمانوں پر غیبت کارد کرناواجب ہے ،یعنی غیبت کے مقابلہ میں دفاع کے لیے کھڑے ہوں، اور اس مسلمان بھائی کا ، جس کی حیثیت وشخصیّت خطرے میں پڑ گئی ہے،دفاع کریں، اورکتنازیبا اور خوبصورت ہوگا ،وہ معاشرہ ، جس میں یہ اخلاقی اصُول دقیقاًاجراء ہوں ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma