٥۔ غیبت کاعلاج اور اس سے توبہ

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22

غیبت بہت سے مذمو م صفات کے مانند آ ہستہ آہستہ ایک نفسیاتی بیماری کی شکل اختیار کرلیتی ہے، اوراس طرح سے کہ غیبت کرنے والا اپنے کام سے لذّت اٹھانے لگتاہے اوراس سے کہ ہمیشہ کسی نہ کسی کی آبروریزی کرے ، راضی اور خوش ہوتاہے اور یہ ایک بہت ہی خطرناک اخلاقی مرحلہ ہے ۔
یہی وہ موقع ہے ، جب غیبت کرنے والے کوہرچیزسے پہلے غیبت کے اندرونی محرکات کا علاج کرناچاہیئے ،جواس کی رُوح کی گہرائیوں میں ہیں اورگناہ پرابھاررہے ہیں، ایسے محرکات جیسے کہ بخل وحسد و کینہ پروری و عداوت اور خود کوافضل وبرتر سمجھناہیں ۔
اسے چاہیئے کہ خود سازی کے طریق سے اوران بُرے صفات کے نتائج بد اوران کے بُرے ثمرات کے بارے میں غور وفکر کرنے سے ، اوراسی طرح ریاضت نفس کے طریقہ سے ، ان آلود گیوں کو اپنے جا ن ودل سے دھوڈالے ، تاکہ اپنی زبان کوغیبت کی آلودگی سے باز رکھ سکے ۔
اس کے بعد تو بہ کے مقام میں آئے ، اورچونکہ غیبت حق الناس کاپہلو رکھتی ہے اگرصاحبِ غیبت تک رسائی ہو اوراس سے کوئی نئی مشکل پیدانہ ہوتی ہو، تواس سے عذ رخواہی کرے ،چاہے وہ سربستہ شکل میں ہی ہو مثلا کہے میں بعض اوقات نادانی اور بے خبری میں آپ کی غیبت کربیٹھا ہوں مجھے معاف کردو، اوراس سے زیادہ تشریح نہ کرے، تاکہ کہیں تازہ فساد کاسبب نہ بن جائے ۔
اوراگر طرفِ مقابل تک دسترس نہیں ہے ، یااُسے پہچانتانہیں ہے ، یا وہ فوت ہوگیا، تواس کے لیے استغفار کرے اورنیک عمل انجام دے ،شایداس کی برکت سے خداوند متعال اس کوبخش دے، اور طرفِ مقابل کوراضی کرلے ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma