٤۔ غیبت کامفہو م

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22

غیبت جیساکہ اس کے نام سے واضح ہے . یہ ہے ، کہ کسی شخص کے پیٹھ پیچھے کوئی بات کہیں، البتہ وہ ایسی بات ہوجو اس کے کسی خاص عیب کوفاش کرے ، چاہے وہ عیب جسمانی ہو یااخلاقی ، اس کے اعمال میں ہو یاگفتگو میں ، یہاں تک کہ اُن امورمیں جواس سے متعلق ہیں، مثلاً لباس ، گھر، بیوی اوراولاد وغیرہ ۔
اس بناء پر اگرکوئی شخص کسی دوسرے کے ظاہر و آشکار صفات کوبیان کرے تو وہ غیبت نہیں ہوگی ،مگر یہ کہ اس کامذمت اورعیب جوئی کاارادہ ہو ،تواس صورت میں وہ حرام ہے، مثلاً یہ کہ مذمت کے طورپر کہے کہ فلاں شخص نابینا، یا کوتاہ قد، یاکالا،یاکوسہ ، یعنی بے ڈاڑھی مونچھ کا ۔
اس طرح سے پوشیدہ عیوب کاذکر کرنا،چاہے کسی بھی نیت اور ارادہ سے ہو،غیبت اورحرام ہے ، اور ظاہر عیوب کاذکر، اگرمذمت کے ارادے سے ہوتوحرام ہے ،چاہے ہم اس کوغیبت کے مفہو م میں داخل سمجھیں یانہ سمجھیں ۔
یہ سب کچھ اس صور ت میں ہے ،جبکہ یہ صفات واقعاً اس شخص میں موجود ہیں.لیکن اگرایسی اصلاً اس میں موجوہی نہ ہوتووہ تہمت کے عنوان میں داخل ہوگی ، جس کاگناہ کئی گنازیادہ شدید اور زیادہ سنگین ہے ۔
ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے ۔
الغیبة ان تقول فی اخیک ماسترہ اللہ علیہ ، واما الا مرالظاہر فیہ،مثل الحدة والعجلة، فلا ، والبھتان ان تقول مالیس فیہ:
غیبت یہ ہے کہ تواپنے مسلمان بھائی کے بارے میں وہ بات کہے ، جسے خدانے پنہاں رکھاہے،لیکن وہ چیز ظاہرہے ،مثلاً سخت مزاجی اورجلد بازی تو وہ غیبت میں داخل نہیں ہے ، لیکن بہتان یہ ہے کہ توایسی چیزکہے کہ جواس میں موجود نہ ہو(١) ۔
اور یہاں سے واضح ہوجاتاہے کہ وہ عام عذر جوبعض لوگ غیبت کے بارے میں پیش کرتے ہیں ،سننے کے لائق نہیں ہے ۔ مثلاً بعض اوقات غیبت کرنے والایہ کہتاہے کہ غیبت نہیں ہے .بلکہ یہ تواس کی صفت ہے ، حالانکہ اگروہ اس کی صفت نہ ہوتی توپھر تو وہ تہمت ہوتی نہ کہ غیب ۔
یایہ کہ وہ یہ کہتاہے کہ یہ توایسی بات ہے ، جسے میں اس کے سامنے بھی کہتاہوں ، حالانکہ اس کو اس کے سامنے کہنانہ صرف غیبت گے گناہ میں کوئی کمی نہیں کرتا، بلکہ اس کوایذاء وتکلیف پہنچانے کی بناء پر اس سے بھی زیادہ سنگین گناہ کا مرتکب ہوتاہے ۔
 ١۔ ""اصول کافی "" جلد ٣ ، باب الغیبة والبستہ حدیث۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma