٢۔ تجسس نہ کرو

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22

ہم نے دیکھ لیاکہ قرآن نے اُوپر والی آ یت میں تجسس کوپوری صراحت کے ساتھ منع کیاہے ،اورچونکہ اس کے لیے کسی قسم کی کوئی قیدو شرط نہیں لگائی ،لہٰذا یہ چیزاس بات کی نشاندہی کرتی ہے، کہ دوسروں کے کاموں میں جستجو کرنا ،اوران کے بھیدوں کوفاش کرنے کی کوشش کرنا،گناہ ہے،لیکن وہ قرائن جوآ یت کے اندر اورباہر موجود ہیں وہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں،کہ یہ حکم افراد کی شخصی اورخصوصی زندگی سے مربوط ہے ،اوراجتماعی زندگی میں بھی اس حد تک،کہ اس سے معاشرے کی سرنوشت میںکوئی اثر نہ پڑتا ہو،یہی حکم صادق ہے ۔
لیکن یہ با ت واضح اور روشن ہے کہ جہاں اس کادوسروں کی سرنوشت اورمعاشرے کی حالت سے تعلق ہو، تو پھر مسئلہ کی دوسری شکل ہوجاتی ہے، لہٰذا پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے کچھ اشخصا اطلاعات جمع کرنے کے لیے مقرر کیے ہُوئے تھے ،جنہیں عیون کے عنوان سے تعبیر کیاجاتاہے تاکہ وہ ایسی اطلاعات جوداخل اورخارج میں اسلامی معاشرے سے متعلق ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اکھٹی کریں ۔
اسی بناء پر حکو مت اسلامی میں مامورین اطلاعاتی رکھ سکتی ہے یااطلاعات جمع کرنے کے لیے ایک وسیع ادارہ قائم کرسکتی ہے اورجہاں کہیں معاشرے کے برخلاف سازش کاخوف ہو، یا امن وامان کوخطرے میں ڈالنے یاحکو مت اسلامی کونقصان پہنچانے کا خطرہ ہو، وہاں تجسس کریں، یہاں تک کہ بعض افراد کی خصوصی وداخلی زندگی میں بھی جستجوکریں ۔
لیکن یہ امر ہر گز اس اسلامی بنیادی قانون کی حرمت کوتوڑنے کے لیے بہانہ نہیں بننا چاہیئے ، کہ کچھ لوگ اپنے آپ کواس بات کامجازقرار دے لیں کہ وہ مسئلہ سازش اورنقص امن کے بہانہ سے لوگوں کی خصوصی اورشخصی زندگی پرحملہ آور ہوں، اوران اعمال نامہ کھولیں ،ان کے ٹیلیفونوں پرکنڑول کریں اوروقت بے وقت ان کے گھروں کی تلاشی لیں ۔
خلاصہ یہ کہ تجسس اورمعاشرے کے امن وامان کی حفاظت کے لیے لازمی اطلاعات کے درمیان کی سرحدبہت ہی دقیق اورطریف ہے ، اورامورا جتماعی کے ادارہ کے ذمہ داروں کی وقت کے ساتھ اس سرحد کی نگرانی کرناچاہیئے ،تاکہ انسانوں کے اسرار کی حرمت کی حفاظت بھی ہو، اورمعاشرے اورحکو مت اسلامی کاامن وامان بھی خطرے میں نہ پڑے ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma