شان نزول :

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22
مفسرین نے ان آ یات کے لیے مختلف شان ہائے نزول نقل کیے ہیں، منجملہ اُن کے یہ ہے کہ :
لا یسخرقو م من قو م : کاجملہ ثابت بن قیس (پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خطیب ) کے بارے میں نازل ہواہے، جس کو کانوں سے کم سُنائی دیتاتھااور جس وقت وہ مسجد میں آتے تھے تو پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک اس کے لیے جگہ چھوڑ دیتے تھے تاکہ وہ آنحضرت کے ارشادات سُن سکے، ایک دن وہ مسجد میں وارد ہُوئے تولوگ نمازسے فارغ ہوچکے تھے اور اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے ہُوئے تھے ، وہ مجمع کوچیزتاہوا کہتاہے جارہاتھاکہ جگہ دوجگہ دو ،!یہاں تک کہ وہ ایک مسلمان کے پاس پہنچ گیاتواس نے کہاکہ یہیں بیٹھ جا! تو وہ اس کے پیچھے بیٹھ گیا، لیکن بہت غصّے ہوا ، جس وقت فضا روشن ہوئی ثابت نے اس مرد سے کہا: توکون ہے؟ اس نے اپنا نام لیااورکہا کہ میں فلاں شخص ہوں ۔ ثابت نے کہا: کیافلاں عورت کابیٹا؟!اوراس کی ماں کانام، اس بُرے لقب کے ساتھ ، جوزمانہ جاہلیّت میں لیاکرتے تھے،لیا، اس پروہ شخص شرمندہ ہوا، اوراپناسرنیچے کرلیاتو آیت نازل ہوئی اورمُسلمانوں کو اس قسم کے بُرے کاموں سے منع کیا ۔
مفسرین نے کہاکہ:ولانساء من نساء جناب امّ سلمہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، جن کابعض ازواج پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے مخدو مہ کے مخصو ص لباس کی وجہ سے جوانہوں نے پہن رکھاتھا، یااُن کے چھوٹے قد کی وجہ سے مذاق اڑایا تواس پریہ آ یت نازل ہوئی اورانہیں اس عمل سے روکا ۔
اور یہ بھی کہاہے کہ ولا یغتب بعضکم بعضاً کاجُملہ اصحابِ رسُول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)میں سے دو افراد کے بارے میں ہے جنہوںنے اپنے ساتھی ، سلمان کی غیبت کی تھی، کیونکہ انہوں نے اُسے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بھیجاتھاتاکہ وہ انکے لیے کھانا لے آئیں پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلمان کواسامہ بن زید کے پاس جو بیت المال کے مسؤل تھے، بھیج دیا اسامہنے کہا:اس وقت میرے پاس کچھ نہیں دہے توان دوافراد نے اسامہ کی غیبت کی اور کہا کہ اس نے بخل سے کام لیاہے،اور سلمان کے بارے میں کہا: اگراُسے چاہ سمیحہ (ایک پانی سے بھرے ہُوئے کنوئیں)کی طرف بھیجیں تواس کا پانی بھی نیچے چلاجائے گا: اس کے بعد وہ خود چل پڑے تاکہ اسامہ کے پاس جاکر اپنے کام کے بارے میں جستجو کریں، توپیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا:مجھے تمہارے مُنہ سے گوشت کھانے کے آثار نظر آ رہے ہیں، انہوں نے عرض کیا: اے رسُولِ خداہم نے توآج بالکل ہی گوشت نہیںکھایاہے ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:تم نے سلمان اور اسامہ کاگوشت کھایاتھا، تواس پر یہ آ یت نازل ہوئی ، اور مسلمانوں کوغیبت کرنے سے منع کیا( ١) ۔
استہزاء ، بدگمانی ،غیبت ، تجس ، اور بُرے القاب سے یاد کرناممنوع ہے
چونکہ قرآن مجید اس سُورہ میں اسلامی معاشرے کواخلاقی معیار وں کی بنیاد پرتعمیر کرناچاہتاہے، لہٰذا مختلف اسلامی گروہوں کے بارے میں نزاع و مخاصمت کی صورت میں مسلمانوں کی ذمہ داریوں کے بارے میں بحث کرنے کے بعد ، زیربحث آ یات میں ان کے اختلافات کی جڑوں کے ایک حصّہ کی تشریح کرتاہے تاکہ ان کے منقطع ہونے سے اختلافات بھی ختم ہوجائیں اورلڑائی جھگڑے اورنزاع کابھی خاتمہ ہوجائے ۔
اوپر والی آ یات میں سے ہرایک میں اُن امور کے تین تین حصوں کو، جوجنگ اوراختلاف کی آگ کوروشن کرنے کے لیے چنگاری بن سکتے ہیں،صریح اور مُنہ بولتی تعبیروں کے ساتھ بیان کرتاہے ۔
پہلے فرماتاہے: اے ایمان لانے والو!تمہارے مردوں میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ کاٹھٹااور مذاق نہ اڑائے(یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا لا یَسْخَرْ قَو م مِنْ قَو م ) ۔
کیونکہ شاید وہ لوگ جن کا مذاق اڑایا جارہاہے،ان سے بہتر ہوں (عَسی أَنْ یَکُونُوا خَیْراً مِنْہُمْ) ۔
اسی طرح عورتوں میں سے بھی کوئی گروہ دوسرے گروہ کامذاق نہ اڑائے ،کیونکہ ممکن ہیکہ وہ ان سے بہتر ہوں (وَ لا نِساء مِنْ نِساء ٍ عَسی أَنْ یَکُنَّ خَیْراً مِنْہُنَّ ) ۔
یہاں مخاطب مؤ منین ہیں چاہے وہ مرد ہوں یاعورتیں ، قرآن سب کوخبر دار کرتاہے، کہ وہ اس بُرے عمل سے پرہیزکریں، کیونکہ استہزاء اورتمسخرکاسرچشمہ ، خود کو برتر سمجھنے کااحساس اور کبروغرورہے، جوطول تاریخ میںبہت سی خونیں جنگوں کاعامل رہاہے ۔
اور یہ اپنے آپ کوبڑا سمجھنا زیادہ ترظاہری اور مادی اقدارسے پیداہوتاہے، مثلاً فلاں شخص اپنے آپ کودوسرے سے زیادہ مالدار ، زیادہ خوبصُورت یازیادہ معروف قبیلہ میں شمار کرتاہے . اور بعض اوقات یہ خیال ، کہ وہ علم و عبادت اور دوسر ے معنویات میں فلاں جمعیّت سے برترہے، اس کی تمسخر اوراستہزاء پرآمادہ کرتاہے ،اورحالیکہ خدا کے نزدیک قدرو قیمت کامعیار تقویٰ ہے ، اوراس کاتعلق نیت اور دل کی پاکیزگی ، تو اضع، اخلاق اور ادب کے ساتھ ہے ۔
کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتاکہ :میں خدا کے نزدیک فلاں شخص سے برترہوں، اس بناء پر دوسروں کی تحقیر اوراپنے آپ کوبرتر سمجھنا ، بد ترین کاموں میں سے ایک ہے،اورقبیح ترین اخلاقی عیب ہے، جس کا رد عمل ہو سکتاہے کہ انسانوں کی ساری زندگی میں آشکار ہو ۔
اس کے بعد دوسرے مرحلہ میں فرماتاہے: اورایک دوسرے کے عیب نہ نکالو اور طعن و تشنیع نہ کرو ( وَ لا تَلْمِزُوا أَنْفُسَکُمْ) ۔
لا تَلْمِزُوا لمز بروزن ( طنز) کے مادہ سے ، عیب نکالنے اور طعن کرنے کے معنی میں ہے اور بعض نے ھمز اور لمز کے درمیان اس طرح فرق بیان کیاہے کہ لمز تولوگوں کے سامنے ان کے عیوب گنواناہے اور ھمزان کے پیٹھ پیچھے ان کے عیوب کو بیان کرناہے، اور یہ بھی کہاہے کہ لمز توآنکھ اوراشارہ سے عیب جوئی کرنا ہے ،جبکہ ھمز زبان سے عیب جوئی ہے (اس موضوع کے سلسلہ میں مزید تشریح انشاء اللہ سُورہ ٔ ھمزہ کی تفسیر میں آئے گی ) ۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن اس آ یت میں انفسکم کی تعبیر کے ساتھ مو منین کی وحدت اورایک ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے اعلان کرتاہے ، کہ تمام مو منین نفس واحد کی طر ح ہیں ، اگر تم کسی دوسرے کی عیب جوئی کرو توواقع میں تم نے خود اپنی ہی عیب جوئی کی ہے ۔
اور آخر میں تیسرے مرحلہ میں مزید کہتاہے: اورایک دوسرے کو بُرے اورناپسند یدہ القاب کے ساتھ یاد نہ کرو ( وَ لا تَنابَزُوا بِالْأَلْقابِ) ۔
بہت سے پھٹ اور بے مہار لوگ گذشتہ زمانہ میں بھی اور آج بھی دوسروں کوبُرے القاب سے یاد کرنے پر مصر رہے ہیں اور ہیں اوراس طریقہ سے ان کی تحقیر کرنے ان کی شخصیّت کی سرکوبی کرنے یا بعض اوقات ان سے انتقام لینے پر اصرار کرتے ہیں اور اگر کسی نے سابقہ زمانہ میں کوئی بُراکام کرلیاتھا، اس کے بعد اس نے توبہ کرلی، او ر وہ مکمل طورپر پاک ہوگیا،لیکن اس کے بعد بھی وہ اس کے لیے اسی لقب کوجو اس کی سابقہ وضع کو بیان کرنے والاہے ، برقرار رکھتے ہیں۔
اسلام صریح طورپر اس بُرے عمل سے منع کرتاہے ، اورہر وہ نام اورلقب جو معمولی سے معمولی غیر مطلوب مفہو م رکھتاہے اورکسی مسلمان کی تحقیر وتذلیل کاسبب بنتاہے اُسے ممنُوع قرار دیتاہے ۔
ایک حدیث میں آ یاہے کہ ایک ان صفیہ دختر حی ابن اخطب ( وہی یہودی عورت جوفتح خیبر کے واقعہ کے بعد مسلمان ہوگئی اورپیغمبراسلام کی زوجیت میں آ ئی )ایک دن پیغمبرکی خدمت میں حاضر ہوئی ،درآنحالیکہ ان کے آنسو جاری تھے ، پیغمبرنے ماجرا پوچھا تواس نے کہا کہ عائشہ مجھے ملامت کرتی ہے اور کہتی ہے: اے یہودی کی لڑکی ، !تو پیغمبرنے فرمایا: تونے یہ کیوں نہ کہا کہ میراباپ ہارون ہے ، اور میرا چچا مُوسیٰ ہے ،اورمیراشوہر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)ہے، اس موقع پر یہ آ یت نازل ہوئی ( ۲) ۔
اسی بناء پر آ یت کے آخر میں مزید کہتاہے : بہت بُری بات ہے یہ کہ تم کسی پراس کے ایمان لانے کے بعد کفرکانام رکھو ( بِئْسَ الاِسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْیمانِ ) ۔
بعض نے اس جُملہ کی تفسیر میں ایک اوراحتمال بھی دیاہے.اوروہ یہ ہے کہ کہ خدامو منین کواس بات سے منع کررہاہے کہ ایمان لانے کے بعد لوگوں کی عیب جوئی کی بناء پراپنے لیے فسق کے نام کوقبول کرلیں ۔
لیکن پہلی تفسیر، صدر آ یہ ، اوراس شان نزول کی طرف توجہ کرتے ہُوئے ، جوبیان ہوئی ہے، زیادہ مناسب نظر آتی ہے ۔
آ یت کے آخر میں مزید تاکید کے لیے فرماتاہے: اور وہ لوگ جوتوبہ نہ کریں ، اوران اعمال سے دست بردارنہ ہوں، ظالم وستمگر ہیں:(وَ مَنْ لَمْ یَتُبْ فَأُولئِکَ ہُمُ الظَّالِمُونَ ) ۔
اس سے بدتر ظلم اورکیاہوگاکہ انسان اپنی نیش دار باتوں سے ، اورتحقیراورعیب جو ئی سے کسِی صاحب ایمان کے دلوکو آزارپہنچائے، جو عشق خداکامرکز ہے .اوران کی شخصیت اور آبروکو، جوان کی زندگی کاسرمایاہے،ختم کردے ۔
ہم بیان کرچکے ہیں کہ دونوں زیربحث آ یات میں سے ہرایک میں، اسلامی ،اجتماعی اخلاق کے مسائل کے سلسلہ میں ،تین تین حکم پیش ہُوئے ہیں، پہلی آ یت کے تین احکام ترتیب کے ساتھ تمسخر نہ کرنا، ترک عیب جوئی اور تنابز بالا لقاب تھے ،اوردوسری آ یت کے تین احکام بالترتیب ، بدگمانی سے اجتناب ،عیوب کاتجسس اور غیبت ہیں ۔
اس آ یت میںپہلے فرماتاہے: اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو، بہت سے گمانوں سے پرہیز کرو، کیونکہ بعض گناہ گناہ ہیں (یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا کَثیراً مِنَ الظَّنِّ ِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ ِثْم ) ۔
کَثیراً مِنَ الظَّنِّ سے مراد بُرے گمان ہیں ، جواچھے گمانوں کی نسبت لوگوں میں زیادہ ہیں ،لہٰذااس کو کثیر کے ساتھ تعبیرکیاگیاہے ، ورنہ حسن ظن اور گمانِ نیک نہ صرف یہ کہ ممنوع نہیں ہے، بلکہ مستحسن ہے،جیساکہ قرآن مجیدسورۂ نورکی آ یت ١٢ میں فرماتاہے: (لَوْ لا اِذْ سَمِعْتُمُوہُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَ الْمُؤْمِناتُ بِأَنْفُسِہِمْ خَیْراً ) ۔
جس وقت تم نے اس ناروانسبت کوسناتھاتو باایمان مردوں اورعورتوں نے اپنی نسبت (اوراس کے لیے جو خود انہیں کی طرح تھا) اچھاگمان کیوں نہ کیا؟!
قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ نھی کثیر گمانوں سے ہوئی ہے ،لیکن مقام تعلیل میں کہتاہے، کیونکہ بعض گمان گناہ ہیں ممکن ہے تعبیر کایہ فرق اس وجہ سے ہو کہ بعض بُرے گمان واقع کے مطابق ہُوتے ہیں ،اوربعض واقع کے مخالف ، جو گمان واقع کے خلاف ہوتے ہیںوہ تو مسلم گناہ ہیں، لہٰذاان کی ِانَّ بَعْضَ الظَّنِّ ِثْم سے تعبیر ہوئی ہے، اس بناء پر اسی گناہ کاوجود اس بات کے لیے کافی ہے کہ سب سب پر ہیزکرے ۔
یہاں یہ سوال بھی سامنے آ تاہے ،کہ بُرااوراچھا گمان عام طورپر پراختیار ہی نہیں ہوتا، یعنی وہ ایک سلسلۂ مقدمات کے زیر اثر جوانسان کے اختیار سے خارج ہیں، ذہن میںمنعکس ہوتاہے، اس بناء پر اس سے کس طرح ورکا جاسکتاہے ؟!
١۔ اس نہی سے مراد ترتیب آثار سے نہی ہے ، یعنی جس وقت کسِی مسلمان کے بارے میں تمہارے ذہن میں کوئی بُراگمان پیداہو تواس کے لیے عمل میں معمولی سے معمولی اعتناء بھی نہ کرو، اپنی طرزرفتار میں تبدیلی نہ کرو، اوردوسرے سے اپنے سلوک اورمعاملات کونہ بدلو ، اس بناء پر جوچیزگناہ ہے وہ بُرے گمان کے مطابق عمل کرناہے ۔
لہذا ایک حدیث میں پیغمبرگرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے ۔
ثلات فی المؤ من لایستحسن ، ولہ منھن مخرج ، فمخرجہ من سوء الظن ان لا یحققہ۔
تین چیزیں ایسی ہیں جن کا وجودمؤ من میں پسندیدہ نہیں ہے ، جبکہ اس کے لیے ،ان سے فرار کی راہ موجود ہے ،منجملہ ان کے ایک سوء ظن ہے ، جس سے راہ فرار یہ ہے کہ اس کوعمل میں لایاجائے ( ٢) ۔
٢۔ انسان مختلف مسائل میں غوروفکر کرنے سے، بہت سے مواقع پربُرے گمان کواپنے سے دور کرسکتاہے، اوروہ اس طرح سے کہ ان کوصحت پرمحمول کرنے کے راستوں میںغور کرے ،اوران سے صحیح احتمالات کوجواس پرعمل کے بارے میں موجود ہیں اپنے ذہن میں مجسم کرے ، اورآہستہ آہستہ بُرے گمان پرغلبہ حاصل کرے ۔
اس بناء پر گمان کوئی ایسی چیزنہیں ہے جوہمیشہ انسان کے اختیار سے خارج ہو ۔
لہٰذا روایات مین بطور حکم آ یاہے کہ اپنے بھائی کے اعمال کوجہاں تک ہوسکے بہتر ین صُورت پرمحمُول کرو، جب تک کہ اس کے خلاف کوئی دلیل قائم نہ ہوجائے اورتیر مسلمان بھائی سے جوسخت بات صادر ہوگئی ہے اس کے لیے ہرگز بدگمانی نہ کر جب تک تواسکے لیے نیکی پرمحمول کرنے کی گنجائش رکھتاہے ۔
قال المیر المو منین علیہ السلام ضع امراخیک علی احسنہ حتی یاتیک ما یقبلک منہ ، ولاتظنن بکلمة خرجت من اخیک سُوء وانت تجد لھا فی الخیرمحملا ( ۴) ۔
بہرحال یہ اسلامی دستور انسانوں کے اجتماعی روابط کے سلسلے میں ایک جامع ترین اورایک انتہائی جچا تلاحکم ہے، جو معاشرے میں امن وامان کے مسئلہ کو کامل طورسے ضمانت دیتاہے ، جس کی تفصیل نکات کی بحث میں آ ئے گی ۔
پھربعد والے حکم میں تجسس سے نہی کے مسئلہ کوپیش کرتے ہوئے فرماتاہے: اورہرگزدوسروں کے کاموں میں تجسس نہ کرو (وَ لا تَجَسَّسُوا ) ۔
تجسس اور تحسس دونوں جستجو کرنے کے معنی میں ہیں، لیکن پہلا عام طور پر غیرمطلوب امور میں آتاہے اوردوسرا اعام طورپر امر خبرمیں آتاہے جیساکہ یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹوں کوحکم دیتے ہیں، :(یا بَنِیَّ اذْہَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِنْ یُوسُفَ وَ أَخیہ) اے میرے بیٹوجاؤ اور ( میرے گمشدہ ) یوسف اس کے بھائی کے بارے میں جستجو کرو (سورہ یوسف : ٨٧) ۔
درحقیقت بُراگمان ایک عامل ہے جستجو کرنے کا ، اورجستجو کرناایک عامل ہے لوگوں کوراز ہائے نہانی اوراسرار کے کشف کے لیے ، اوراسلام ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دیتاکہ ان کے خصوصی رازفاش ہوں ۔
دوسرے لفظوں میں اسلام یہ چاہتاہے کہ لوگ اپنی خصوصی زندگی میں ہرلحاظ سے امن وامان میں رہیں، یہ بات واضح ہے کہ اگریہ اجازت دے دی جائے کہ ہرآدمی دوسروں کے بارے میں جستجو کرنے کے لیے کھڑا ہوجائے تولوگوں کی حیثیت اورآبروتباہ و برباد ہوجائے گی اورایک جستجو وجود میں آجائے گی ، جس میں معاشرے کے تمام فراد معذّب ہوں گے ۔
البتہ یہ دستور ، حکو مت ِ اسلامی میں سازشوں سے مبارزہ کرنے کیے لیے اطلاعاتی اواروں (سی آئی ڈی ) کے وجود کے ساتھ منافی نہیں ہے. لیکن یہ بھی اسی معنی میں نہیں ہے، کہ یہ ادارے لوگوں کی خصوصی زندگی میں جستجو کرنے کاحق رکھتے ہیں .جیساکہ انشاء اللہ اس بارے میں میں تفصیل سے بحث کی جائے گی ۔
اور آخر میں تیسرے اورآخری دستور میں ، جوحقیقت میںپہلے دو پرو گراموں کامعلُول اورنتیجہ ہے،فرماتاہے: تم میں سے کوئی کسی دوسرے کی غیبت نہ کرے ( وَ لا یَغْتَبْ بَعْضُکُمْ بَعْضاً)۔
اوراس طرح سے بُراگمان تو تجسس کاسرچشمہ بنتاہے اورتجسس ،افشائے عیوب اوراسرار پنہانی کاموجب ہوتاہے اوران امورسے آگاہی غیبت کاسبب بنتی ہے اوراسلام نے معلول اورعلّت دونوں سے منع کیاہے ۔
اس کے بعد اس عمل کی قباحت اوربُرائی کو کامل طورسے مجسم کرنے کے لیے ،اس کوایک عمدہ مثال میںڈھال کرکہتاہے ، : کیاتم میں سے کوئی بھی اس بات کو پسند کرتاہے، کہ اپنے مُردہ بھائی کاگوشت کھائے ؟( أَ یُحِبُّ أَحَدُکُمْ أَنْ یَأْکُلَ لَحْمَ أَخیہِ مَیْتا) ۔
یقیناتم سب اس امر سے کراہت رکھتے ہو ( فَکَرِہْتُمُوہُ ) ۔
ہاں مسلمان بھائی کی آبرواس کے بدن کے گوشت کی مانند ہے اوراس آبروکوغیبت کے ذ ریعہ ختم کرنا، اورپوشیدہ بھیدوں کوافشاء کرنا، اس کے بدن کا گوشت کھانے کے مانند ہے ۔
اور مردہ کی تعبیراس بناء پر ہے کہ غیبت لوگوں کے پیٹھ پیچھے کی جاتی ہے ،جو مردوں کی طرح اپنے آپ سے دفاع پرقدرت نہین رکھتے ۔
اور یہ ایک ایساظلم ہے جوانتہائی بزدلانہ ہے ،کہ جسے انسان اپنے بھائی کے بارے میں روار کھ سکتاہے ۔
ہاں !یہ تشبیہ ، غیبت کی حد سے زیادہ بُرائی ،اوراس کے عظیم گناہ کوبیان کرنے والی ہے ۔
اسلامی روایات میں بھی جیساکہ بیان کیاجائے گا،مسئلہ غیبت کوحد سے زیادہ اہمیّت دی گئی ہے اور بہت کم ایسے گناہ ہیں، جس کی سزا ، اسلام کی نظر میں ،اس قدر سنگین ہو ۔
اورچونکہ ممکن ہے کہ کچھ لوگ ان تینوں گناہوں میں سے بعض سے آلودہ ہوں ، اوروہ ان آ یات کے سُننے سے متنبہ او ر بیدارہوجائیں، اورتلافی کے لیے تیارہوں ،اس لیے آ یت کے آخر میں ان کے لیے راستہ کھلارکھتے ہُوئے فرماتاہے : تقوے الہٰی اختیار کرو، اورخدا سے ڈرو ،کیونکہ خداتو بہ قبول کرنے والا مہربان ہے (وَ اتَّقُوا اللَّہَ ِنَّ اللَّہَ تَوَّاب رَحیم) ۔
سب سے پہلے تقویٰ اورخداسے ڈرنے کی رُوح زندہ ہونی چاہیئے اوراس کے بعد گناہ سے توبہ کی جائے ، تاکہ خدا کا لطف اوراس کی رحمت ان کے شامل حال ہو ۔
١۔"" تفسیر مجمع البیان "" جلد٩،صفحہ ١٣٥ "" قرطبی "" نے بھی اپنی تفسیر میں تھوڑے سے فرق کے ساتھ یہی شانِ نزول نقل کی ہے ۔
۲۔"" مجمع البیان ،جلد٩،صفحہ ١٣٦۔
۳۔محجة البیضاء ، جلد٥،صفحہ ٢٦٩۔
۴۔ ""اصولِ کافی "" جلد ٢،باب التہمتہ وسوء والظن حدیث ،٣۔ اسی معنی کے مشابہ نہج البلاغہ میں بھی مختصر سے فرق کے ساتھ آ یاہے کلمات قصار کلمہ ٣٦٠۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma