١۔ باغیوں سے جنگ کرنے کے شرائط

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22
فقہ اسلامی میں کتاب جہاد میں اھل البغی سے قتال کے عنوان سے ایک بحث بیان ہوئی ہے،جن سے مرادوہ ستمگر ہیں، جوامام عادل اورمسلمانوں کے سچے پیشوا کے برخلاف قیام کریں، اوران کے لیے بہت سے احکام ہیں، جواس باب میں آ ئے ہیں ۔
لیکن جو بحث اوپروالی آ یت میں پیش ہوئی ہے وہ ایک دوسرامعنی رکھتی ہے.اور یہ ایسے جھگڑے اورنزاع ہیں، جو مسلمانوں کے دوگروہوں کے درمیان رونما ہو تے ہیں جس میں نہ توامام معصو م کے خلاف قیام ہے اورنہ ہی صالح اورصحیح حکو مت اسلامی کے خلاف قیام ہے،اگرچہ بعض فقہا اورمفسرین نے اس آیت سے سابقہ مسئلہ میں بھی استفادہ کیرناچاہاہے،لیکن کنزالعرفان میں فاضِل مقداد کے قول کے مطابق یہ استدالال صحیح نہیں ہے ( ١) ۔
کیونکہ امام معصو م کے خلاف قیام موجب کفرہے، جب کہ دو مو منین کے درمیان نزاع صرف فسق ہے نہ کہ کفر، لہٰذا قرآن مجید نے اوپر والی آیت سے ، دوسرے قرائن کوساتھ ملاکر وہ خاص اشارے جوامربالمعروف اورنہی عن المنکر کے ابواب میںآ ئے ہیں،اُن سے ذیل کے احکام کااستفادہ کیاجاسکتاہے ۔
الف: مسلمانوں کے متخاصم گروہوں کے دمیان صلح کرانا ایک واجب کفائی امرہے ۔
ب: اس کام کوسرانجام دینے کے لیے ابتداء میں نسبتاً سادہ مراحل سے شروع کرناچاہیئے ،اوراصطلاح کے مطابقالاسھل فالا سھل کے قاعدے کی رعایت کرنی چاہیئے،لیکن اگروہ مفید واقع نہ ہو تو پھر مسلحانہ مبارزہ اورجنگ وقتال بھی جائز بلکہ لازم وضروری ہے ۔
ج: باغیوں اورتجاوزکرنے والوں کے خون جواس راہ میں گرائے جائیں ،اوروہ جواس دور ان تلف ہوں وہ ہدر اوررایگان ہیں، کیونکہ یہ شرع کے حکم اورایک واجب وظیفہ کے انجام دینے میں واقع ہُوئے ہیں اوراصولاً اس قسم کے موقعوں پرکوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی ۔
د: گفتگو کے طریقے سے اصلاح کے مراحل میں حاکم شرع کی اجازت ضروری نہیں ہے ، لیکن شدت عمل کے مرحلہ میں، خصوصاً جہاں معاملہ خونریزی پرمنتہی ہو، وہاں حکو مت اسلامی اورحاکم شرعی کی اجازت کے بغیر جائز نہیں ہے،مگر ایسے مواقع پر جہاں کسی طرح سے دسترس نہ ہو تو وہاں مو منین عدول اورآگاہ افرادآپس میں صلاح مشورہ کریں گے ۔
ھ: ا س صورت میں جب کہ باغی اورظالم گروہ مصلح گروہ میں سے کسی کاخون گرائے گایاکوئی مال تلف کرے گا، توشریعت کے حکم کے مطابق وہ ضامن ہے اورقتل عمدکی صُورت میں حکم قصاص بھی جاری ہوگا، اس طرح ان مواقع پرجہاں مظلو م گروہ کے خون بہائے گئے ہیں یامال تلف ہُوئے ہیں، وہاں بھی حکم ضمان و قصاص ثابت ہے اور یہ جو بعض کے کلمات سے معلو م ہوتاہے کہ : صلح کے وقوع کے بعد باغی اورظالم گروہ ان خونوں اور اموال کے مقابلہ مین جوہدر گئے ہیں ذمہ دار نہیں ہیں، کیونکہ زیربحث آیت میں اس کی طرف اشارہ نہیں ہواہے! درست نہیں ہے ، کیونکہ آ یت ان تمام مطالب کے بیان کے درپے نہیں ہے، بلکہ اس قسم کے امور میں ، ان تمام قواعد اوراصولوں کی طرف رجوع کرناہے ،جوقصاص واتلاف کے ابواب میں بیان ہُوئے ہیں ۔
و: چونکہ اس جنگ وپیکار کا مقصد ظالم گروہ کوحق کے قبول پر آمادہ کرناہے ، لہٰذا اس جگہ میں اسیران جنگ اور غنائم کامسئلہ درپیش نہ ہوگا.کیونکہ دونوں گروہ مسلمان ہیں، لیکن جھگڑے کی آگ کوخاموش کرنے کے لیے وقتی طورپر قید کرنے میں کوئی امرمانع نہیں ہے، لیکن صلح کے بعد فوراً قید یوں کوآزاد کرناہوگا ۔
ز: بعض اوقات ایسابھی ہوتاہے ، کہ نزاع اورجھگڑے کے دونوں فریق، باغی اورظالم ہوتے ہیں،انہوںنے دوسرے قبیلہ کے ایک گروہ کوقتل کیااوران کے مالوں کوتلف کیاہے، اوراُنہوںنے بھی یہی کام پہلے قبیلہ کے بارے میں انجام دیاہے، بغیراس کے کہ دفاع کے لیے مقدار لازم پرقناعت کریں، چاہیے ایک ہی مقدار میں دونوں بغاوت وستم کریں یاایک زیادہ کرے اور دوسراکم کرے ۔
البتہ اس سلسلہ میں قرآن مجید میں کوئی حکم صراحت کے ساتھ نہیں آیا، لیکن اس کاحکم القاء خصوصیّت کے طریق سے زیربحث آ یت سے معلو م کیاجاسکتاہے،اوروہ یہ ہے کہ مسلمانوں کاوظیفہ اورذمہ داری یہ ہے کہ دونوں کے درمیان مصالحت کرائیں اوراگر وہ صلح کے لیے تیارنہ ہون ، تودونوں کے درمیان جنگ کریں ،یہاں تک کہ وہ حکم الہٰی کی طرف لوٹ آئیں ،اوروہ احکام جو باغی اور متجاوز کے بارے میں بیان ہُوئے ہیں ،دونوں کے لیے جاری کیے جائیں ۔
اس گفتگو کے آخر میں ہم پھر دوبارہ تاکید کرتے ہیں کہ ان باغیوں کاحکم، ان لوگوں کے حکم سے جوامام معصو م ، یااسلامی عادل حکو مت کے خلاف قیام کریں ، بالکل الگ ہے اوراس دوسرے گروہ کے لیے زیادہ سخت اور شدید احکام ہیں جو فقہ اسلامی کی کتاب الجہاد میں بیان ہُوئے ہیں ۔
 ۱۔" کنزالعرفان فی فقہ القرآن"" کتاب الجہاد "" باب انواع آخرمن الجہاد"" جلد ١،صفحہ ٣٨٦۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma