ساسقوں کی خبروں پر اعتبارنہ کرو

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22

گذشتہ آ یات میں مسلمانوں اوران کے پیشوا پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقابلہ میں وظائف اور ذمہ داریوں کے بارے میں گفتگو تھی، اوراس میں دواہم احکام بیان ہُو ئے تھے ، ایک خدااور پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پرکسی کام میں سبقت نہ کرنااور دوسرا پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بارگاہ میں گفتگو کرنے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوآواز دینے کے وقت ادب واحترام کی رعایت کرنا ۔
زیربحث آ یات اس عظیم رہبر کے سامنے اُمّت کے وظائف اور ذمہ داریوں کوجاری رکھتے ہُوئے کہتی ہیں، کہ جس وقت تم اس کی خدمت میں خبریں لے کرآؤ توان کی بنیاد تحقیق پرہونی چاہیئے اوراگر کوئی فاسق آدمی کسی چیز کی خبردے ، توبغیر تحقیق کے اُسے قبول نہ کریں، اور پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پراُسے قبول کرنے کے لیے دباؤ نہ ڈالیں ۔
پہلے فرماتاہے، اے وہ لوگو!جوایمان لائے ہو، اگرکوئی فاسق شخص تمہارے پاس خبر لے کر آئے تواس کے بارے میں تحقیق کرلیاکرو (یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا ِنْ جاء َکُمْ فاسِق بِنَبٍَ فَتَبَیَّنُوا ) ۔
اس کے بعداس کی علّت کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے مزید کہتاہے: کہیں ایسانہ ہو کہ بغیر تحقیق عمل کرنے کی صورت میں کسی گروہ کو نادانی کی وجہ سے نقصان پہنچا دو، اورپھراپنے کیے پر تمہیں پشیمان ہوناپڑے ( أَنْ تُصیبُوا قَو ماً بِجَہالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلی ما فَعَلْتُمْ نادِمین) ۔
جیساکہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگرولید بن عقبہ کے کہنے پرعمل کرلیتے اورقبیلہ بنی المصطلق کے ساتھ ایک مرتد قو م کی حیثیت سے جگن کرتے تو پھر دردناک فاجعہ اورمصیبت کاسامنا کرناپڑتا، بعد والی آ یت کے لب ولہجہ سے یہ معلو م ہوتاہے، کہ ایک گروہ اس جنگ کرنے پراصرار کررہاتھا،قرآن کہتاہے: یہ تمہارے لیے شائستہ نہیں ہے یہ عین جہالت اورنادانی ہے اوراس کاانجام ندامت و پشیمانی ہوگا ۔
عُلماء علم اصول کے ایک گروہ نے خبر واحد حجت پراس آ یت سے استدالال کیاہے ، کیونکہ آ یت یہ کہتی ہے کہ فاسق کی خبر میں تحقیق وتلاش لازمی وضروری ہے اوراس کامفہو م یہ ہے کہ شخصِ عادل خبردے تواُسے بغیرتحقیق کے قبول کیاجاسکتاہے ۔
لیکن اس استدالال پربہت سے اعتراضات ہُوئے ،جن میں سے دو زیادہ اہم ہیں: باقی کوئی خاص اہمیّت نہیں رکھتے ۔
پہلایہ کہ : اوپر والااستدالال وصف کے مفہو م کی حجیت کوقبول کرنے پرموقوف ہے جبکہ مشہور یہ ہے کہ وصف کا مفہوم حجت نہیں ہے( ١) ۔
دوسرا یہ کہ : جوعلّت آ یت کے ذیل میں بیان ہو ئی ہے وہ اس قدر وسعت رکھتی ہے کہ عادل اور فاسق دونوں کی خبر کوشامل ہے کیونکہ ظنی خبرپر عمل ، چاہے جوبھی ہو پشیمانی اور ندامت کااحتمال رکھتاہے ۔
لیکن یہ دونوں اعتراض قابل ِ حل ہیں،کیونکہ مفہو م وصف اور ہر دوسری قید ،ایسے موقعوں کے لیے جواصطلاح کے مطابق، کسی مسئلہ کے قیود اور مقام احتراز کوبیان کرنے کے لیے ہوں ، حجّت ہوتی ہے،اور اُپر والی آ یت میں اس قید( قید فاسق)کاذکر ظہور عرفی کے مطابق خبرعادل کی حجت کے بیان کے سوااور کوئی قابلِ ملاحظہ فائدہ نہیں رکھتا ۔
لیکن وہ علّت جو آ یت کے ذیل میں بیان ہوئی ہے . ہر قسم کی ادلہ ظنیہ کو شامل نہیں ہے .بلکہ یہ ایسے مواقع کے لیے ہے کہ جہاں عمل جاہلانہ یاسفیانہ ہو، کیونکہ آیت میں جہالت کے عنوان پرتکیہ ہواہے، اورہم جانتے ہیںکہ زیادہ تر اولہ کہ جہاں عمل جاہلانہ یاسفیانہ اور احمقانہ ہو، کیونکہ آ یت میں جہالت کے عنوان پرتکیہ ہواہے، اور ہم جانتے ہیںکہ زیادہ تراولہ جن پر تمام عقلاء عالم روز مرّہ کی زندگی میں تکیہ کرتے ہیں ظنی دلائل ہی ہیں ( ظواہر الفاظ ، قول شاہد، قول اہل خبر ، قول ذو الید وغیرہ کے قبیل سے ) ۔
معلو م ہے کہ ان میں سے کوئی بھی بات جاہلانہ اوراسفیانہ شمارنہیں ہوتی ، اوراگروہ کبھی کبھار واقع کے مطابق نہ بھی ہو تو پھر بھی اس میں ندامت کاکوئی مسئلہ پیش نہیں آ تا، کیونکہ یہ ایک عمو می راستہ ہے ۔
بہرحال ہمارے نظر یہ کے مطابق یہ آ یت ان محکم آ یات میں سے ہے ، جو خبرواحد کی حجیت پر یہاں تک کہ موضوعات میں بھی دلالت کرتی ہے، اوراس سلسلہ میں بہت زیادہ مباحث ہیں، جن کی تشریح وتفصیل کی یہاں گنجائش نہیں ہے ۔
اس کے علاوہ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا،کہ مثق کہ موثق اخبار پراعتماد کے ذ ریعہ ہی بشر کی زندگی کی تاریخ کی بنیاد قائم ہے، اس طرح سے کہ اگر حجیّت خبرعادل یاموثق کامسئلہ انسانی معاشرے میں سے حذف ہوجائے تو بہت سے گذشتہ علمی مواریث ، اورانسانی معاشروں سے مربوط اطلاعات ، یہاں تک کہ بہت سے ایسے مسائل جن کے ہاتھ ہم آج اپنے معاشروں میں تعلق رکھتے ہیں ، کلی طورپر حذف ہوجائیں گے ،اورنہ صرف انسان پیچھے کی طرف پلٹ جائے گا ، بلکہ اس کی موجودہ زندگی کی ترقی کی رفتار بھی رُک جائے گی ، لہٰذا تمام عقلاء کااس کی حجیّت پراجماع ہے اور شارع مقدس نے بھی قولاً عملاً اس کی تصدیق فرمائی ہے ۔
لیکن جتنا ثقہ خبرواحد کی حجیّت ،زندگی کوسامان بخشتی ہے، اتناہی غیر موثق اخبار برتکیہ کرنا، بہت خطرناک ،اورمعاشروں کے نظام کے بکھر جانے کا موجب ہے جوبہت سے مصائب کے پیدا ہونے کاسبب بنتاہے، لوگوں کے حقوق اور حیثیت کو خطرے میں ڈال دیتاہے،اورانسان کو بے راہ روی اورانحراف کی طرف کھینچ لے جاتاہے، اور زیربحث آ یت میں قرآن کی عمدہ تعبیر کے مطابق ، انجام کار ندامت کاسبب بنتاہے ۔
یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے ، کہ جھوٹی خبریں گھڑنا، اور غیر موثقِ اخبار پرتکیہ قدیمی جبار اوراستعماری نظاموں کے حربوں میں سے ایک ہے ، جس کے ذریعہ وہ ایک جھوٹی فضا پیدا کرکے بے خبر اوراناآگاہ لوگوں کو،فریب اور غفلت میں رکھ کر،انہیں گمراہ کرتے ہیں، اوران کے سرمایہ کولوٹ لے جاتے ہیں ۔
اگرمُسلمان وقت کے ساتھ آ اس خدائی حکم پر حواس آ یت میں وارد ہوا ہے ، عمل کریں، اور فاسقوں کی خبروں کوبغیر تحقیق وتفتیش کے قبول نہ کریں توان عظیم بلاؤ ں سے بچ جائیں گے ۔
یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ اہم مسئلہ خود خبر پروثوق واعتماد کاہے، البتہ کبھی تو یہ وثوق خبر دینے والے کی ذات پر اعتماد کی وجہ سے حاصل ہوتاہے، اور کبھی دوسرے خارجی قرائن کے ذ ریعہ، اسی لیے کچھ موقعوں پر باوجود اس کے کہ خبر دینے والا فاسق ہوتاہے، ہم اس کی خبر پراعتماد پیدا کرلیتے ہیں ۔
اس بناء پر یہ وثوق واعتماد جہاں کہیں سے حاصل ہو. چاہے بیان کرنے والے کی عدالت، تقویٰ، اور صداقت سے حاصل ہویاقرائن خارجی سے ، وہ ہمارے لیے معتبرہے، اورعقلاء کی سیرت بھی ، جوشریعت اسلامی کی تصدیق کرتی ہے،اسی بنیاد پرقائم ہے ۔
اسی بناء پر ہم فقہ اسلامی میں دیکھتے ہیں کہ بہت سے اخبار جن کی سند ضعیف ہے ، چونکہ وہ عمل مشہود قرار پاچکے ہیں، اوروہ مختلف قرائن کی بناد پراس اس خبرکی صحت سے واقف ہُوئے ہیں.لہٰذایہی معیار عمل قرار پایاہے اوراسی کے مُطابق فتویٰ دیتے ہیں ۔
اس کے برعکس بعض اوقات ایسے اخبار نقل ہُوئے ہیںجن کابیان کرنے والا معتبرشخص ہے، لیکن خارجی قرائن ہمیں اس خبرکی نسبت بدگمان کردیتے ہیں ، یہ وہ منزل ہے کہ ہمارے لیے اس خبرکو چھوڑنے کے سوا اورکوئی چارہ ئہ نہیں ہے، اگرچہ اس خبرکے بیان کرنے والا شخص عادل و معتبرہے ۔
اس بناء پر ہرجگہ معیار خود( خبر) پراعتماد ہے، اگر چہ عام طورپر راوی کی عدالت و صداقت اس اعتماد کاایک وسیلہ و ذریعہ بنتی ہے،لیکن یہ کوئی قانون کلی نہیں ہے (غور کیجیے ) ۔
بعد والی آ یت میں ایک اہم مطلب کی تاکید کے لیے جوگذشتہ آیت میں بیان ہوا تھا، مزید کہتاہے: تم یہ جان لو کہ رسول تمہارے درمیان میں ہے، اگروہ بہت سے امورمیں تمہاری اطاعت کرنے لگے ، تو تم مشقت میں پڑجاؤ گے (وَ اعْلَمُوا أَنَّ فیکُمْ رَسُولَ اللَّہِ لَوْ یُطیعُکُمْ فی کَثیرٍ مِنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ )(2) ۔
یہ جُملہ . جیساکہ مفسرین کی ایک جماعت نے کہاہے . اس بات کی نشاندہی کرتاہے، کہ قبیلہ بنی المصطلق کے مرتد ہونے کے بارے میں ولید کی خبر دینے کے بعد ،ظاہر بین اور سادہ مُسلمانوں کاایک ایک گروہ ، پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ دباؤ ڈال رہاتھا، کہ وہ قبیلہ مذکور کے برخلاف جنگ کااقدام کریں ۔
قرآن کہتاہے، یہ تمہاری خوش بختی ہے کہ خداکارسُول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے درمیان ہے . اور عالم وحی سے اس کارابط برقرار ہے اورجس وقت انحرافی خط اورراستے تمہارے درمیان پیدا ہو جائیں تووہ اس طریق سے تمہیں آگاہ کردتیاہے ۔
لیکن وہ رہبرورہنماہے، تمہیں یہ امید اور توقع نہیں رکھنی چاہیئے کہ وہ تمہاری اطاعت کرے اورتم سے حُکم احکام لے ، وہ تمہارے لیے ہرشخص سے زیادہ مہر بان ہے، اپنے افکار اس پر لادنے کے لیے اس پر دباؤ نہ ڈا لو، کیونکہ یہ بات تمہارے ہی نقصان میںہے ۔
آ یت کے آخر میں مؤ منین پرخدا کی ایک اورعظیم نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتاہے: لیکن خدا نے ایمان کوتمہارے لیے محبوب قرار دے دیاہے اوراُسے تمہارے دلوں میں زینت بخشتی ہے :(وَ لکِنَّ اللَّہَ حَبَّبَ ِلَیْکُمُ الْیمانَ وَ زَیَّنَہُ فی قُلُوبِکُمْ ) ۔
اور اس کے برعکس کفر وفسق وگناہ کوتمہارے لیے قابلِ نفرت قرار دے دیاہے (وَ کَرَّہَ ِلَیْکُمُ الْکُفْرَ وَ الْفُسُوقَ وَ الْعِصْیانَ) ۔
درحقیقت یہ تعبیرات قانونِ لطف وہ بھی لطف تکوینی کی طرف ایک لطیف اشارہ ہیں ۔
اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ : جس وقت کوئی حکیم کسی کام کوانجام دیناچاہتاہے تووہ ہرلحاظ سے اس کے اسباب فراہم کرتاہے یہ اصل انسانوں کی ہدایت میں بھی پُورے طورپر صادق آ تی ہے ۔
خداچاہتاہے کہ تمام انسان ۔کسی جبر کے پروگرام کے تحت قرارپائے بغیر۔ اپنے میل اور رغبت اورقصد و ارادہ سے راہ ِ حق کو طے کریں ،اس لیے ایک طرف سے تو رسُو لوں کو بھیجتاہے، اور ابنیاء کو کتبِ آسمانی کے ساتھ مبعوث فرماتاہے اور دوسری طرف سے ایمان کو انسانوں کے لیے محبُوب قرار دیتاہے.حق جوئی اورحق طلبی کے عشق کی آگ ان کے دل وجان کے اندر شعلہ ور کرتاہے اور کفر وظلم و نفاق وگناہ سے نفرت و بیزاری کااحساس ان کے دلوں میںپیدا کردیتاہے ۔
اوراس طرح ہر ایک انسان فطرتاً ایمان و پاکیزگی وتقویٰ کاخواہاں ہے اورکفر وگناہ سے بیزار ہوتاہے ۔
لیکن یہ بات کامل طورسے ممکن ہے کہ بعد کے مرحلوں میں یہ صاف وشفاف پانی جو آسمانِ خلقت سے انسانوں کے وجود میں ڈالا گیاہے،آلودہ ماحول میں رہنے کے باعث اپنی صفات کھو بیٹھے اور گناہ، کُفر اورعصیان کی نفرت انگیز بدبوحاصل کرلے ۔
یہ فطری نعمت آسمانوں کورسُول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی اور آپ پر تقدم اور سبقت نہ کرنے کی دعوت دیتی ہے ۔
اس نکتہ کی یاد آواری بھی لازم وضروری ہے کہ اس آ یت کامضمون مشورت کے مسئلہ کے ساتھ ہر گز منافق نہیں ہے، کیونکہ شوریٰ کامقصد یہ ہوتاہے کہ ہرشخص اپنے نظر یہ کو بیان کرے ،لیکن آخری فیصلہ اور نظر یہ خود پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کاہوگا، جیساکہ شوریٰ والی آیت تحمیل فکر کی نفی کرتی ہے نہ کہ مشورت کی ۔
اس بارے میں کہ اُو پروالی آ یت میں فسوق سے کیامراد ہے؟ بعض نے اس کی تفسیر کذب اور جُھوٹ کے ساتھ کی ہے لیکن اس کے مفہو م لغوی کی طرف تو جہ کرتے ہُوئے ، اور آ یت میں کسی قید کے نہ ہونے کی بناء پرہرقسم کے گناہ اور اطاعت سے خارج ہونے کوشامل ہے ، اس بناء پراس کے بعد عصیان کی تعبیرتاکید کے عنوان سے ہے جیساکہ َ زَیَّنَہُ فی قُلُوبِکُمْ (اے تمہارے دلوں میں زینت دی ہے) کاجُملہ حَبَّبَ ِلَیْکُمُ الْیمان (ایمان کوتمہارا محبوب قرار دیاہے ) کہ جُملے پرایک تاکید ہے ۔
بعض فسوق کو گناہانِ کبیرہ کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں . جبکہ عصیان کواس سے عام سمجھتے ہیں،لیکن اس فرق واختلاف پرکوئی دلیل موجود نہیں ہے ۔
بہرحال آ یت کے آخر میں ایک کلی اور عمو می قاعدہ کے طورپر فرماتاہے: جن لوگوں میں یہ صفات پائی جاتی ہیں(ایمان ان کی نظرمیں محبُوب و مزین ،اورکفر وفسق وعصیان ان کی نظر میں منفور ہے) وہ ہدایت یافتہ ہیں ( أُولئِکَ ہُمُ الرَّاشِدُون)یعنی اگر تم اس موہبت الہٰی ( ایمان سے عشق اور کفر وگناہ سے نفرت ) کو محفوظ رکھو، اوراس پاکیز گی اورصفائے فطرت کو آلودہ نہ کرو ، توبلاشک وشبہ رشد وہدایت تمہارے انتظار میں ہے ۔
قابلِ تو جہ بات یہ ہے کہ پہلے کہ تمام جملے تو مو منین سے خطاب کی صورت میں تھے، لیکن یہ جملہ انہیں غائب کی صورت میں یاد کرتاہے، یہ تعبیرکافرق ظاہراً اس بناء پر ہے تاکہ اس بات کی نشاندہی کرے کہ یہ حکم اصحابِ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اختصاص نہیں رکھتا، بلکہ یہ ایک ہمہ وقتی اور عمو می حکم ہے کہ جوبھی کوئی جس زمانہ میں بھی اپنی فطرت کی صفائی اورپاکیز گی کو محفوظ رکھے گاوہ اہل نجات وہدایت ہے ۔
خداکی عظیم نعمتوں میں سے ہے ،فر ماتاہے: یہ خدا کی طرف سے ایک فضل ہے، اوروہ نعمت ہے جواس نے تمہیں عطا کی ہے اور خدا دانا وحکیم ہے :(فَضْلاً مِنَ اللَّہِ وَ نِعْمَةً وَ اللَّہُ عَلیم حَکیم )(3) ۔
اُس کے علم وحکمت کاتقاضا یہ ہے کہ وہ رشد وسعادت کے عوامل تم میں پیدا کرے ،اوراُسے انبیاء کی دعوت کے ساتھ ہم آہنگ اورمکمل کرے اورانجام کار تمہیں منزل تک پہنچادے ۔
ظاہر یہ ہے کہ فضل اور نعمت دونوں کاایک ہی واقعیت کی طرف اشارہ ہے ، اوروہ ہی نعمتیں ہیں جو خدا کی طرف سے بندوں کو عطا ہوتی ہیں، البتہ فضل کا تواس محاظ سے اس پر اطلاق ہوتاہے،چونکہ خدااس کامحتاج نہیں ہے، اور نعمت اس لحاظ سے ہے کہ بندے اس کے محتاج ہیں،اس بناء پر (فضل اورنعمت) ایک سکّہ کے دورخوں کی طرح ہے ۔
بلاشک وشبہ بندوں کی احتیاج کے بارے میں خدا کاعلم اورمخلوقات کی پرورش اورارتقاء کے سلسلہ میں اس کی حکمت، اس بات کاتقاضا کرتے ہیں، کہ وہ انہیں یہ عظیم معنوی نعمتیں ، یعنی ایمان کو محبُوب رکھنا، اورکفر وعصیان سے نفرت کی رنا مرحمت فرمائے ۔
١۔بعض نے گمان کیاہے کہ یہاں مفہو م شرط کے قبیل میں سے ہے ، اور مفہو م شرط حجت ہے ،حالانکہ یہ مفہو م شرط کے ساتھ کوئی ارتباط نہیں رکھتا، علاوہ وہ ازیں یہاں جُملہ شرطیہ موضوع کوبیان کرنے کے لیے ہے،اورہم جانتے ہیں کہ اس قسم کے مو قعوں پر"" جُملہ شرطبیہ"" بھی مفہو م نہیں رکھتا( غور کیجئے گا) ۔
2۔ "" لعنتّم"" "" عنت"" کے مادہ سے ،ایسے کام میں پڑنے کے معنی میں ہے کہ انسان جس کے عواقب سے ڈرتاہے،یاایساکام ہے جس میں مشقت ہو ،اوراسی بناء پرجب ٹوٹی ہڈی پر دباؤ پڑے ، اوراس سے دردوتکلیف پیدا ہو، تواُسے ""عنت"" کہاجاتاہے ۔
3۔ "" فضلاً ونعمة "" یاتو"" مفعول جلہ"" ہے "" ضب الیکم الایمان ..."" کے لیے ،اور یایہ "" مفعو ل مطلق"" ہے فعل مقدر کے لیے اورتقدیر میں اس طرح تھا،"" افضل فضلاً وانعم نعمة ""َ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma