شان نزول :

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22

پہلی زیر بحث آ یت کی تفسیر میں دوشانِ نزول بیان کی گئی ہیں. بعض نے توجیسے طبرسی نے مجمع البیان میں دونوں کاذکرکیاہے، اوربعض نے جیسے قرطبی و نورالثقلین و فی ضلال ! قرآن صرف ایک ہی پرایک اکتفاکیاہے ۔
پہلی شانِ نزول جسے اکثر مفسرین نے بیان کیاہے، یہ ہے کہ :آیہ یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا ِنْ جاء َکُمْ فاسِق ولیدبن عقبہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے،جسے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبیلئہ بنی المصطلق کی زکات جمع کرنے کے لیے بھیجاتھا، جس وقت اہل قبیلہ کوپتہ چلا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کانمائندہ آرہاہے تووہ بہت خوش ہُوئے اوراس کے استقبال کے لیے دوڑے، لیکن چونکہ ان کے اور ولید کے درمیان زمانۂ جاہلیت میں سخت دشمنی تھی، تواس نے خیال کیاکہ وہ اُسے قتل کرنے کے ارادہ سے آرہے ہیں ۔
وہ (اپنے اس گمان کی تحقیق کیے بغیر ہی) پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پلٹ آیااور عرض کیا،کہ انہوںنے زکات اداکرنے سے انکار کردیاہے،(اور ہم جانتے ہیں کہ زکات اداکرنے سے انکار حکو متِ اسلامی کے خلاف ایک طرح کی بغاوت سمجھی جاتی تھی ،تواس بناء پروہ اس بات کامدعی تھاکہ وہ مرتد ہوگئے ہیں) ۔
پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس پرسخت غصّہ آیااوراُن سے جنگ کرنے کا ارادہ کیاتواُوپر والی آ یت نازل ہوئی، اور مسلمانوں کوحکم دیاکہ جس وقت کوئی فاسق خبرلے کرآئے تواس کے بارے میں تحقیق کرلیا کرو( ١) ۔
بعض نے اس پرمزید کہاہے کہ ولید کی طرف سے قبیلہ بنی المصطلق کے ارتداد کی خبردینے کے بعد پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خالدبن ولیدبن مغیرہ کوقبیلہ بنی المصطلق کی طرف بھیجا اوریہ حکم دیاکہ جلد بازی میں کوئی کام نہ کربیٹھنا ۔
خالد راتوں رات قبیلہ کے قریب پہنچ گیا، اور اطلاع دینے والے مامورین کوتحقیق کے لیے بھیجا، انہوںنے اکرخبردی کہ بنی المصطلق مکمل طورپر اسلام کے وفادارہیں،اوران کی اذان و نماز کی صدا انہوںنے اپنے کانوں سے سُنی ہے،صبح کے وقت خالد خود ان کی طرف گیااور خبردینے والوں کی گفتار کی صداقت ملاحظہ کی وہ پیغمبرکی خدمت میں  پلٹ آیااور ماجرابیان کیاتواس وقت اوپروالی آ یت نازل ہوئی، اوراس کے ساتھ ہی پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: التانی من اللہ ، والعجلة من الشیطان: تاخیر وتحقیق کرناخداکی طرف سے ہے اور جلد بازی سے کام لینا شیطان کی طرف سے ہوتاہے ( ٢) ۔
دوسری شان نزل جِسے صرف بعض مفسرین نے نقل کیاہے ، یہ ہے کہ یہ آ یت ماریہ زوجہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ( والدہ ابراہیم )کے بارے میں نازل ہوئی ہے،کیونکہ کچھ لوگوں نے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں یہ عرض کیاتھاکہ اس کاایک چچازاد بھائی ہے جوکبھی کبھی اس کے پاس آ تاہے (اوران دونوں میں غیرمشروع تعلقات ہیں) پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے علی علیہ السلام کوبلایا ۔ اور فرمایا: اے میرے بھائی ! یہ تلوار لو، اگرتم اس کو ماریہ کے پاس دیکھو تو اُسے قتل کردو ۔
امیر المو منین علیہ السلام نے عرض کیا،اے خدا کے رسول کیامیں گرم کئے ہُوئے سکہ(٣) کی طرف مامور ہوں کہ آپ کے حکم کو عملی جامہ پہناؤ ( یاجوکچھ حاضرشخص دیکھتاہے وہ غائب نہیں دیکھتا) مزید تحقیق کرکے ذمہ داری کوپورا کروں ۔
فرمایا: نہیں ! بلکہ اس بنیاد پرکہ حاضر اس چیز کودیکھتاہے جسے غائب نہیں دیکھتا، عمل کرو۔
علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں نے تلوارکمر سے باندھی اوراس کی طرف آیا، میں نے دیکھا کہ وہ ماریہ کے باس ہے، اور میں نے تلوار کھینچی تووہ بھاگ کھڑا ہوا، اورایک کھجور کے درخت پرچڑھ گیا، اس کے بعدا س نے ) اپنے آپ کواس سے نیچے گرادیا، اسی دوران اس کاپیراہن (کرتا) اُوپر اُٹھ گیا،تو معلو م ہوا، کہ وہ تواصلاً جنسی عضو رکھتاہی نہیں ،میں پیغمبرکی خدمت میں حاضر ہوااور ماجرے کی تفصیل بیان کی تو پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: خداکاشُکر ہے کہ اس نے بدی ، آلودگی اوراتہام کوہمارے دامن سے دُور کردیاہے(٤) ۔
١۔ تفسیر مجمع البیان "" جلد٩""صفحہ ١٣٢۔
٢۔ تفسیر"" قرطبی"" ،جلد ٩،صفحہ ٦١٣١۔
٣۔ "" سکہ"" عربی زبان میں اس وسیلہ اورآلہ کے معنی میں ہے جس کے ذریعہ، ہم دینار وغیرہ پرنقش کرتے ہیں،اوراس مقصد کے لیے اُسے آگ میں گرم کرتے ہیں ، تاکہ وہ اپنانقش مکمل طورپر درہم ودینار پرمنتقل کردے، اس تعبیرسے مراد یہ ہے کہ حکم کوبے چون وچرااورکسی تحقیق کے بغیر ! اجرا کیاجائے ۔
٤۔ "" مجمع البیان "" جلد٩ صفحہ ١٣٣، تفسیرنورالثقلین میں بھی یہ شانِ نزول اس سے زیادہ تفصیلی صورت میں بیان ہوئی ہے( جلد٥،صفحہ٨١) ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma