١۔ تنز یہ صحابہ کی داستان :

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22

اہل سُنّت کے علماء اور دانشمندوں میں مشہور یہ ہے کہ صحابۂ رسُول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اُمت کے تمام دوسرے افراد سے ایک خاص امتیاز رکھتے ہیں کہ وہ سب کے سب پاک و پاکیز ہ ہیں، اور وہ آ لود گیوں سے دُور ہیں ، اور ہمیں ان میں سے کسی پر تنقید واعتراض کاحق نہیں ہے ،اورانہیں بُرا بھلا کہنا مطلقا ممنُوع ہے ، یہاں تک کہ بعض کے قول کے مطابق موجب کُفر ہے ،اوراس مقصد کوثابت کرنے کے لیے انہوںنے قرآن مجید کی کُچھ آ یات سے استناد کیاہے ،منجملہ ان کے ایک زیر بحث آ یت ہے جویہ کہتی ہے کہ :خدانے اُن میں سے اُن لوگوں سے جوایمان لائے ہیں اورجنہوںنے عمل صالح انجام دیا ہے مغفرت اوراجرِ عظیم کاوعدہ کیاہے اوراسی طرح سورۂ توبہ کی آ یہ ١٠٠جو مہاجرین و النصار کاذکر کرنے کے بعد کہتی ہے :
رضی اللہ عنھم ورضو اعنہ ۔
خدا ان سے خوش ہوگیا اوروہ خدا سے خوش ہوگئے ۔
لیکن اگر ہم اپنے آپ کو پہلے سے کئے ہُوئے فیصلوں سے خالی کرلیں توایسے واضح قرائن ہمارے سامنے موجود ہیں جواس مشہور عقیدہ اورنظر یہ کو متز لزل کردیتے ہیں ۔
١.سورۂ تو بہ میں رضی اللہ عنھم ورضوعنہ کاجُملہ صرف مہاجرین وانصار کے ساتھ مخصوص نہیں ہے .کیونکہ اس آ یت میں مہاجرین وانصار کے ساتھ لذین اتبعوھم باحسانکاجُملہ بھی موجُود ہے ،جس کامفہوم تمام ان افراد کوشامل ہے ،جودامن قیامت تک نیکی میں ان کی پیروی کریں گے ۔
جس طرح سے تابعین اگرایک دن خط ایمان واحسان میں ہوں اور دوسرے دن کُفر و اساء (بدی کرنے ) کے خط میں قرار پاتے ہیں تووہ رضا یت الہٰی کے چتر کے نیچے سے نکل جائیں گے ،بعینہ یہی مطلب صحابہ کے بارے میںبھی ہوگا ،کیونکہ انہیں بھی سُورہ ٔ فتح کی آخری آ یت میں ایمان وعمل صالح کے ساتھ مقید کیاہے کہ اگرکسی دن یہ صفت اُن سے سلب دہوجائے تووہ رضایت الہٰی کے دائرہ سے باہر نکل جائیں گے ۔
دوسرے لفظوں میں احسان کی تعبیر تابعین کے لیے بھی ہے ،اور متبوعین کے بارے میں بھی ،اور متبو عین کے بارے میں بھی ، اس بناء پر ان دونوں میں سے جوکوئی بھی خط احسان کوچھوڑ دے گا وہ رضایت خدا میں شامل نہیں رہے گا ۔
٢۔روایات اسلامی سے یہ معلوم ہوتاہے کہ اصحابِ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اگرچہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی مصاحبت کااعزازوامتیاز رکھتے تھے .لیکن وہ لوگ جو بعد کے زمانوں میں آ ئیں گے ، اورایمان راسخ اورعمل صالح سے متصف ہوں گے وہ ایک لحاظ سے صحابہ سے افضل ہیں ۔
جیساکہ ایک حدیث میں پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے بیان ہؤ ا ہے ،کہ صحابہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )سے عرض کیا:
نحن اخوانکم یارسول اللہ ؟! قال :لاانتم اصحابی ، واخوانی الّذ ین یأ تون بعدی ، اٰمنوابی ولم یرونی ،وقال : للعامل منھم اجرخمسین منکم، قا لوابل منھم یارسول اللہ ؟ قال : بل منکم ! ردّ وھا ثلا ثا ثم قال :لانّکم تجدون علی الخیر اعوانا !:
یارسول اللہ !کیاہم آپ کے بھائی ہیں ؟فرمایا : نہیں ! تم تو میر ے اصحاب ہو، لیکن میرے بھائی تووہ لوگ ہیں جومیرے بعد آئیں گے ، اورمُجھ پرایمان لائیں گے حالانکہ انہوںنے مجھے نہیں دیکھا !
اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے مزید فرمایا: ان میں سے وہ افراد جوعمل صالح کرنے والے ہوں گے وہ تم میں سے پچاس افراد کااجر رکھتے ہیں ،صحابہ نے عرض کیا: یارسول اللہ !کیاوہ اپنے میں سے پچاس افراد کا (اجر رکھیں گے )فر مایا نہیں: تم میں سے پچاس افراد کا اورانہوںنے اس بات کوتین مرتبہ دہرایا ، ( اور پیغمبر نے تینوںمرتبہ یہی کہا) اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فر مایا،یہ اس بناپر ہے کہ تمہارے پاس ایسے شرائط وحالات موجود ہیں جوتمہاری اچھے کاموں میں مدد کرتے ہیں ( 1) ۔
صحیح مسلم میں بھی رسول خداسے اس طرح نقل ہواہے کہ ایک دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا:
وددت انا قد رأ ینا اخواننا ۔
میں دوست رکھتاہوں کہ ہم اپنے بھائیوں کودیکھتے ۔
قالو ا!ولسنا اخوانک یارسول اللہ؟!:
انہوں نے کہا: یارسو ل اللہ ! کیاہم آپ کے بھائی نہیں ہیں ؟ !
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا:
انتم اصحابی واخواننا الّذین لم یأ توابعد :
تم تومیرے اصحاب ہولیکن ہمارے بھائی ابھی تک نہیں آ ئے ( 2) ۔
عقل ومنطق بھی یہی کہتی ہے ،کہ دوسرے لوگ جوشب وروز پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی دائمی تعلیمات کے سایہ میں نہیں تھے لیکن اس کے باوجود وہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے صحابہ کے مانند یاان سے زیادہ ایمان وعمل صالح رکھتے تھے . وہ ان سے برتروافضل ہیں ۔
٣۔ یہ بات تاریخی طورپر بھی صحیح نہیں ہے ،کیونکہ بعض صحابہ کوہم دیکھتے ہیں کہ انہوںنے پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے بعد یاخود پیغمبر کے زمانہ میںہی غلط راستہ اختیار کرلیا تھا ۔
ہم ان لوگوں کوجنہوںنے جنگ ِ جمل کی آگ بھڑ کائی ، اوراتنے سارے مسلمانوں کوقتل کرایا ،اورپیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے برحق خلیفہ کے سامنے تلوار کھینچی ،گناہ سے کیسے بری قرار دے سکتے ہیں ؟
یا وہ لوگ جو صفین و نہروان میں کھٹے ہونے اور پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے وصی وجانشین اور مسلمانوں کے منتخب خلیفہ کے مقابلہ جنگ کھڑی کردی ، اور بے حساب خون بہائے ،انہیں رضائے خدا کا مشمول جان لیں ،اور کہنے لگیں کہ گناہ وعصیان کاگرد وغبار بھی ان کے دامن پر نہیں بیٹھا ۔
اوراس سے بھی عجیب تران لوگوں کاعذر ہے جوان تما م مخالفتوں کواس عنوان سے کہ وہ مجتہد تھے اور مجتہد معذ ور ہے توجیہ کرتے ہیں ۔
اگراس قسم کے عظیم گناہوں کی اجتہاد کے ذریعہ توجیہ کی جاسکتی ہوتو پھر کسی قاتل کوملامت نہیں کی جاسکتی ،یاحدودِ الہٰی کااس میں اجراء نہیں ہوسکتا .کیونکہ ممکن ہے کہ اس نے اجتہاد کیاہے ۔
دوسرے لفظوں میں میدان جمل یاصفین یانہروان میں دو گر وہ ایک دوسرے کے مقابلہ میں کھڑے ہُوئے ہیں، اور یقینی طورپر وہ دونوں کے دنوں حق پرنہیں تھے ، کیونکہ ضدین کاجمع ہونامحال ہے .اس حالت میں دونوں کورضا ئے خُدا کا مشمول کیسے سمجھا جاسکتاہے ،جبکہ یہ مسئلہ کوئی مشکل اورایسے پیچیدہ مسائل میں سے نہیں تھا ، جس کی تشخیص ممکن نہ ہو؟کیونکہ سب کومعلوم تھاکہ علی علیہ السلام یاتوپیغمبر(صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم)کی نص کے مطابق اوریامسلمانوں کے انتخاب کے ذ ریعہ برحق خلیفہ تھے ، اس کے باوجود ان کے خلاف تلوار کھینچی ، اس کام کی اجتہاد کے طریقہ سے کیسے توجیہ کی جاسکتی ہے ؟!
اصحابِ ردہ کی شورش کوجو ابو بکر کے زمانہ میں ہوئی اس کی طریق اجتہاد سے توجیہ کیوں نہیں کرتے ، اورانہیںرسمی وقانونی طورپر مرتد کیوں شمار کرتے ہیں ،لیکن جمل وصفین و نہر وان کے شور ش کرنے والوں کوہر قسم کے گناہ سے مبّراسمجھتے ہیں ۔
بہرحال ایسامعلوم ہوتاہے کہ تنز یہ اصحاب کامسئلہ مُطلق طورپر ایک سیاسی مسئلہ تھا ، ایک گروہ نے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے بعد اپنی حیثیت کی حفاظت کے لیے اس پر تکیہ کیاتا کہ اپنے آپ کوہرقسم کی تنقید واعتراض سے بچالے اورمحفوظ کرلے ، اور یہ ایک ایسامطلب ہے جو نہ توعقل کے ساتھ سازگار ہے اور نہ ہی مُسلمہ اسلامی تاریخوں کے ساتھ ، اور یہ ایک ایساشعر ہے جو ہمیں اپنے قافیہ میں گرفتار کرلے گا ۔
کیاہی اچھا ہو کہ ہم صحابۂ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اوران لوگوں کاجوہمیشہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے طریقہ اور راستہ پرچلتے رہے ، احترام کرنے کے باوجود ان کے بارے میں معیارِ حیات ، ان کی زندگی میں آغاز سے لے کر انجام تک ان کے عقائد واعمال کواُسی معیار سے سمجھیںجومعیار کہ ہمیں قرآن سے معلوم ہواہے ،یعنی وہی معیار کہ جس کے ساتھ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اپنے صحابہ کوپرکھتے تھے ۔
1۔"" تفسیر رُوح البیان "" جلد ٩،صفحہ ٦١۔
2۔""صحیح مُسلم"" جلد اوّل کتاب الطہارة حدیث ٣٩۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma