دشمنوں کے مقابلہ میں سخت گیر اور دوستوں کے لیے مہربان

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22

ان دوآ یات میں جوسُورہ فتح کی آ خری آ یات ہیں فتح المبین یعنی صلح حدیبیہ سے مربوط دو دوسرے ہم مسائل کی طرف اشارہ رکرتاہے ، جن میں سے ایک تواسلام کے عالمگیر ہونے کے ساتھ مربو ط ہے اور دوسرے میںپیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے اصحاب کے اوصاف اوران کی خصوصیات ، اوران کے بارے میں خدائی وعدہ کوبیان کرتاہے ۔
پہلے کہتاہے وہ وہی ہے جس نے اپنے رسول کوہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے ،تاکہ اُسے تمام دینوں پر غالب کردے اوراس بات کے لیے خدا کی گواہی کافی ہے ،: (ہُوَ الَّذی أَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْہُدی وَ دینِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّینِ کُلِّہِ وَ کَفی بِاللَّہِ شَہیداً) ۔
یہ خدا وند قادر متعال کی جانب سے صریح اوردوٹوک وعدہ ہے .اسلام کے تمام دینوںپرغالب ہونے کے بارے میں یعنی اگرخدا نے پیغمبر کے خواب کے ذ ریعہ تمہیں کامیابی اور فتح کی خبر دی ہے کہ تم انتہائی امن اور امان کے ساتھ مسجد حرام میں داخل ہوگے اورمراسم عمرہ بجالائوگے ،اور کسی میں تم سے مزاحمت کرنے کی جرأت نہ ہوگی علاوہ ازیں اگرخداتمہیں فتح قریب (خیبر کی کامیابی ) کی خبردے رہاہے تواس پرتعجب نہ کرو ، یہ تو ابتداہے انجام کاراسلام عالمگیر ہوجائے گا اورتمام ادیان پر کامیا ب و کامران ہوگا۔
ایسا کیوں نہ ہو، جبکہ رسول خداکی دعوت کامطلب ہدایت ہے :( أَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْہُدی)اوراس کادین حق ہے : ،(وَ دینِ الْحَق)اورہر غیر جانب دار ناظر ا س کی حقانیت کو ، اس قرآن کی آ یات میں اوراسلام کے انفرادی واجتماعی اورقضا ئی وسیاسی احکام اوراسی طرح اس کی اخلاقی دانسانی تعلیمات میں دیکھ سکتاہے ، اوران دقیق وصریح پیشین گوئیوںسے جو مستقبل کے بارے میںہیں ، اور بالکل ٹھیک واقع ہوئی ہیں . اس پیغمبرکے خدا سے ارتباط کوقطعی طورپر جان سکتاہے ۔
ہاں اسلام کی قوی منطق اوراس کے با ر آور مطالب کاتقاضایہی ہے کہ آخرکاروہ تمام شرک آلود مذاہب کاصفایا کردے گا اورتحریف شدہ آسمانی دینوں کواپنے جُھکادے گا ،اوراپنی عمیق کشش کے ساتھ دلوں کواس خالص دین کی طرف کھینچ لے گا ۔
اس بارے میں کہ اس کامیابی سے منطقی کامیابی مراد ہے یافوجی ولشکر ی کامیابی مفسرین کے درمیان اختلاف ہے ۔
ایک جماعت کانظر یہ یہ ہے کہ یہ کامیابی صرف منطقی و استد لالی کامیابی ہے اوریہ امر حاصل ہوچکا ہے کیونکہ اسلام منطق اوراستد لال کی قدرت کے لحاظ سے تمام موجودہ ادیان پربر تری رکھتاہے ۔
جبکہ ایک دوسری جماعت کامیابی کو ظاہر ی غلبہ اور غلبۂ اقتدار کے معنی میں سمجھتی ہے،اور اس لفظ یظہر کاموقع استعمال بھی خارجی غلبہ کی دلیل ہے ، اور اسی بناء پر کہاجاسکتاہے ،کہ ان بہت سے وسیع علاقوں کے علاوہ جودُنیا کے مشرق ومغرب اور شمال وجنوب میں اسلام کی قلم رو میں داخل ہیں ، اوراس وقت بھی ٤٠ سے زیادہ اسلامی ممالک میں مجموعی طورپر تقریباً ایک ارب افراد پرچم اسلام کے زیر سایہ سانس لے رہے ہیں .ایک زمانہ ایساآ ئے گا کہ ساری دنیارسمی طورپر بھی اس پرچم کے نیچے آ جائے گی ، اوریہ امر قیام مہدی ( ارواحنا لہ الغدا)کے ذ ریعہ تکمیل کوپہنچے گا ۔
جیسا کہ ایک حدیث پیغمبرگرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے منقول ہوا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فر مایا:
لا یبقی علی ظھر الارض بیت مدر ولا و بر الّااد خلہ اللہ کلمة الا سلام ۔
پورے روئے زمین پرکوئی پتھر اور مٹی کاگھریااون اوربالوں کاخیمہ باقی نہ رہے گا .مگر یہ کہ خدا اسلام کو اس میں داخل کردے گا ( ١) ۔
اس سلسلہ میں ہم سُورہ ٔتوبہ کی آ یہ ٣٣ میں جو اس آ یت کے مشابہ ہے ایک تفصیلی بحث کرچکے ہیں ( ٢) ۔
یہ نکتہ بھی قابل ِ توجہ ہے کہ بعض نے الھدٰی کی تعبیر کو عقائد اسلامی کے استحکام کی طرف اشارہ سمجھاہے ، جبکہ دین الحق کو فر وع دین سے متعلق جاناہے ،لیکن اس تقسیم بندی پرکوئی دلیل ہمارے پاس نہیں ہے ۔
ویسے ظاہر یہ ہے کہ ہدایت وحقا نیّت اصول میں بھی ہے اور فروع میں بھی ۔
اس بارے میں لیظھرہ کی ضمیر کامرجع اسلام ہے یا پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)مفسرین نے دواحتمال دیئے ہیں . لیکن قرائن اچھی طرح گواہی دے رہے ہیں کہ اس سے مراد وہی دین حق ہے ، کیونکہ جُملہ بندی کے لحاظ سے بھی ضمیر کے ساتھ زیادہ نزدیک ہے اور دین کی دین پرکامیابی کے ساتھ بھی مناسبت رکھتاہے ،نہ کہ شخص کی دین پر ۔
آ یت کے بارے میں آخری بات یہ ہے کہ کفٰی باللہ شھیدً ا کاجُملہ اس واقعیّت کی طرف اشارہ ہے کہ اس پیشین گوئی کے لیے کسی شاہداور گواہ کی ضرورت نہیں ہے .کیونکہ اس کا شاہد اور گواہ اللہ ہے اوررسولِ خدا کی رسالت بھی کسی دوسرے گواہ کی محتاج نہیں ہے ، کیونک اس کا گواہ بھی اللہ ہی ہے اور سہیل بن عمر اوراس کے مانند دوسرے لوگ اس بات پرتیار نہ ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے نام کے ساتھ رسول اللہ لکھا جائے تووہ خود اپنا نقصان کرتے ہیں اوراس میںہمارے لیے کوئی زحمت نہیں !
آخری آ یت میں قرآن پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے مخصوص اصحاب وانصار کی اوران افراد کی جوآپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے طریقہ پرتھے ،تورات وانجیل کسی زبان سے ایک بہت ہی واضح تصویر پیش کرتاہے ، اوراُن لوگوں کے لیے جنہوںنے حد یبیہ اور دوسرے مراحل میں پامردی دکھاتی ہے ، ایک فخر اورمباہات کی بات بھی ہے ، اوراتمام قرون اعصار میں تمام مسلمانوں کے لیے ایک سبق آموز درس بھی ہے ۔
ابتداء میں فر ماتاہے : محمد خدا کابھیجا ہوا رسول ہے (مُحَمَّد رَسُولُ اللَّہ) ۔
چاہے سہیل بن عمر و جیسی چمگادڑیں اسے پسند کریں یانہ کریں ؟اورخود کواس آفتاب عالمتاب سے پنہاں کرلیں یا نہ کریں ؟خدانے اس کی رسالت کی گواہی دی ہے اورتمام صاحبان علم وآگاہی بھی اس بات کے گواہ ہیں۔
اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے اصحاب وانصار کی تعریف و توصیف کاآغاز کرتے ہُوئے ان کے ظاہروباطن اوصاف اورعواطف وافکار واعمال کوپانچ صفات کے ضمن میں بیان کرتاہے وہ لوگ جو اُس کے ساتھ ہیں کفار کے مقابلہ میں زیادہ سخت اورمحکم ہیں (وَ الَّذینَ مَعَہُ أَشِدَّاء ُ عَلَی الْکُفَّارِ) ۔
اور دوسری صفت یہ بیان کرتاہے : لیکن آپس میںرحم دِل اورمہر بان ہیں (رُحَماء ُ بَیْنَہُمْ) ۔
ہاں وہ اپنے بھائیوں ، دوستوں اورہم مذہب افراد کے لیے تو عطوفت ومحبت کامرکز اور خزا نہ ہیں اور دشمنوں کے مقابلہ میں سخت اورجلانے والی آگ اورمضبوط فولادی دیوار ہیں ۔
درحقیقت ان کے عواطف و رجمانات کاخلاصہ یہ قہر ہی ہیں ، لیکن ان دونوں کاان کے وجود میں جمع ہوناکو ئی تضاد نہیں رکھتا ، اوردشمن کے مقابلہ میں ان کاقہر ، اور دوستوں کیے لیے ان کامہر ومحبت اس بات کاسبب نہیں بنتا کہ وہ راہِ حق وعدالت سے قدم باہر رکھیں تیری صفت میںجوان کے اعمال کے بارے میں ہے مزید کہتاہے .توانہیں ہمیشہ رکوع وسجود کی حالت میں دیکھے گا اوروہ ہروقت عبادت خُدا میں مشغول رہتے ہیں (تَراہُمْ رُکَّعاً سُجَّدا ) ۔
یہ تعبیر خداکی عبادت و بندگی کو جواس کے دواصلی ارکان رکوع و سجود کے ساتھ بیان ہوئی ہے ،ان کی دائمی اور ہمیشہ کی حالت کے طورپر ذکر کرتی ہے ،ایسی عبادت ،جوحق تعالیٰ کے فرمان کے سامنے سرتسلیم خم کرنے ،اورکبرو غرُور اورخود خواہی کی ان کے وجود سے نفی کی رمز ہے ۔
چوتھی توصیف وتعریف میں جوان کی پاک اورخالص نیّت سے بحث کرتی ہے فرماتاہے وہ ہمیشہ خدا کے فضل اور اس کی رضا کوطلب کرتے ہیں ( یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللَّہِ وَ رِضْواناً ) ۔
نہ تو وہ دکھا وے اورریا کاری کے لیے قدم اُٹھا تے ہیں ، اورنہ ہی مخلوق خداسے اجرو پاداش کی توقع رکھتے ہیں . بلکہ ان کی نظر صرف اس کی رضا وفضل پرلگی ہوئی ہے ، اورتمام زندگی میں ان کے عمل کامحرک صرف یہی امرہے .اوربس،۔
یہاں تک کہ فضل کی تعبیریہ بتاتی ہے کہ وہ اپنی کوتاہی کے معترف ہیں، اوراپنے اعمال کوکمتر سمجھتے ہیں کہ ان کے مقابلہ میں خدا کااجر وپاداش طلب کریں، بلکہ وہ پوری سعی وکوشش کے باوجود پھر بھی یہ کہتے ہیں ، خدا وندا ! اگرتیرا فضل وکرم ہماری مدد ونصرت نہ کرے تووائے ہے ہم پر ۔
پانچویں اورآخری توصیف میں ان کے آراستہ اورنورانی پیکر ظاہر کے بارے میں بحث کرتے ہُوئے کہتاہے . ان کی نشانی ان کے چہرے میں سجدہ کے اثر سے نمایاں ہے (سیماہُمْ فی وُجُوہِہِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُود)(٣) ۔
سیما اصل میں علامت و ہیٔت کے معنی میں ہے .چاہے یہ علامت چہرے میں ہو یابدن کی کسی دوسری جگہ ،اگرچہ فارسی کے روزمرّہ کے استعمال میں چہرے کی نشانیوں اور چہرہ کی ظاہری وضع وکیفیت کے لیے بولا جاتاہے ۔
دوسرے لفظوں میں ان کا قیافہ اچھی طرح سے اس بات کی نشاندہی کرتاہے ، کہ وہ خدا ،حق قانون اورعدالت کے سامنے ایک خاضع انسان ہیں ، نہ صرف ان کے چہرے میں ہی بلکہ ان کے سارے وجُود اورزندگی میں یہ علامت منعکس ہوتی ہے ۔
اگرچہ بعض مفسرین نے پیشانی پرسجدہ کے ظاہر ی اثر یاسجدہ گاہ کی جگہ پرمٹی کے اثر سے تفسیر کی ہے . لیکن ظاہراً آ یت اس سے زیادہ وسیع مفہوم رکھتی ہے جوان مردانِ خداکے چہرہ کی مکمل طورپر تصویر کشی کرتی ہے ۔
بعض نے یہ بھی کہاہے کہ یہ آ یت قیامت میں ان کے سجدہ گاہ کی طرف اشار ہ ہے ،جوچودھویں کے چاند کی طرح چمکے گی ۔
البتہ مُمکن ہے کہ قیامت میں ان کی پیشانی اسی طرح ہو ،لیکن یہاں آ یت دنیاوی زندگی میں ان کی ظاہری وضع و کیفیّت کی خبردے رہی ہے ۔
ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے بھی آ یاہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم ) نے اس جُملہ کی تفسیر میں فرمایا،:
ھو السھر فی الصّلوٰة : اس سے مراد رات کونماز پڑھنے کے لیے بیدار رہنا ہے جس کے آثار دن کے وقت ان کے چہروں سے نمایاں ہوتے ہیں ( ٤) ۔
البتہ ان معانی کو جمع کرناپُورے طورپر ممکن ہے ۔
بہرحال قرآن ان تمام اوصاف کوبیان کرنے کے بعد مزید کہتاہے : یہ ان (اصحاب محمد )(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی توصیف توارت میں ہے (ذلِکَ مَثَلُہُمْ فِی التَّوْراةِ ) ۔
یہ ایک ایسی حقیقت ہے . جس کابیان پہلے سے آچکاہے ،اورایسی توصیف وتعریف ہے جو ایک عظیم آسمانی کتاب میں ہے ،جو ایک ہزار سال سے پہلے نازل ہوئی تھی ۔
لیکن اس بات کونہیں بھولنا چاہیئے کہ والّذین معہ ( اور وہ جواس کے ساتھ ہیں ) کی تعبیر ایسے افراد کے بارے میں گفتگو کرتی ہے ،جوہرچیز میں پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) کے ساتھ تھے ، فکرو نظرمیں ، عقیدہ واخلاق میں اور عمل میں ، نہ کہ صرف وہ لوگ جو آپ علیہ السلام کے ساتھ ہم عصر اورہم زبان تھے، چاہے ان کاطریقہ اور راستہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جدا ہی کیوں نہ ہو ،۔
اس کے بعد ان کی ایک اور آسمانی عظیم کتاب یعنی انجیل میں، توصیف کوپیش کرتے ہُوئے اس طرح کہتا ہے : ان کی توصیف انجیل میں اس زراعت کی طرح ہے ، جس نے اپنی کو نپلون کو باہر نکالاہو، پھر انہیں تقویت دی ہو یہاں تک کہ وہ مضبوط اور مستحکم ہوکراپنے پائوں پرکھڑ ی ہے ، اور اس قدر نشو ونما کی ہے اورپُربرکت ہوئی ہے . کہ زراعت کرنے والوں کوتعجب میں ڈال دیتی ہے (وَ مَثَلُہُمْ فِی الِْنْجیلِ کَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَہُ فَآزَرَہُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوی عَلی سُوقِہِ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ)(٥) ۔
شطأ ہٹنی اورچوز ے کے معنی میں ہے .ایسی ٹہنیاں جوتنے کے نیچے اورجڑوں کے قریب سے باہر نکلتی ہیں ۔
اٰزر موازرہ کے مادہ سے معاونت کے معنی میں ہے ۔
استغلظ غلظت کے مادہ سے سخت اور مستحکم ہونے کے معنی میں ہے ۔
استوٰی علی سوقہ کے جملہ کامفہوم یہ ہے کہ وہ اس قدر مستحکم ہوگیاہے کہ وہ اپنے پائوں پرکھڑا ہے ،(اس بات پر توجہ رکھیے کہ سوق ساق کی جمع ہے ) ۔
یعجب الزراع کی تعبیر ، یعنی وہ اتنی تیزی کے ساتھ اُگی اوراتنی زیادہ ٹہنیاں اور شاخیں نکلیں اوراس کے پیدا وار اس حد کوپہنچی کوخود کسانوں تک کو،جو ہمیشہ ان مسائل سے سر وکاررکھتے ہیں ،بہت زیادہ حیرت اور تعجب ہورہاہے ۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ دوسری توصیف میں بھی ،جوانجیل میں آ ئی ہے ،مومنین اورمحمد کے صحابہ کے پانچ عمدہ اوصاف بیان ہُوئے ہیں (کوپنل نکالنا ، پرورش کے لیے مدد کرنا ،محکم ہونا، اپنے پائوں پرکھڑاہونا ، حیرت انگیزدکھائی دینے والی نشو ونما) ۔
حقیقت میںتورات میں جواوصاف ان کے لیے بیان ہُوئے ہیں وہ ایسے اوصاف ہیں ، جوحالات ،مقاصد ، اعمال اور ظاہری صورت کے لحاظ سے ان کے وجود کے پہلوئوں کوبیان کرتے ہیں .لیکن وہ اوصاف جوانجیل میں بیان ہُوئے ہیں وہ ان کے مختلف پہلوئوں میں ترقی اورنشو ونما کو بیان کرتے ہیں (غور کیجئے ) ۔
ہاں! وہ ایسے بلند صفات ہیں جوایک آن کے لیے بھی حرکت و عمل سے نہیں رُکتے ،وہ ہمیشہ کونپلیں نکالتے رہتے ہیں ، وہ کونپلیں پرورش پاتی ہیں .اور بار آ ور ہوتی ہیں ۔
وہ اپنے قو ل وعمل کے ذ ریعہ اسلام کو دُنیا میں پھیلاتے رہتے ہیں .اورروز بروز نئے دستوں کااسلامی معاشرے میںاضافہ کرتے رہتے ہیں ۔
ہاں ! وہ کبھی بھی بے کار ہوکر نہیں بیٹھتے ،اورہمیشہ آگے کی طرف بڑھتے رہتے ہیں ،عابد ہونے کے ساتھ مجاہد ہیں، اورجہاد کے ساتھ ساتھ عبادت کرتے ہیں ،ان کاظاہرآرا ستہ ہے اور باطن پیراستہ ہے ،ان کے عواطف قوی اور نیتیں پاکیزہ ہیں .حق کے دشمنوں کے مقابلہ میں خدا کے غضب کے مظہر ہیں ، اورحق کے دوستوں کے ساتھ اس کے لطف ورحمت کو نمایاں کرتے ہیں ۔
اس کے بعد آ یت کے آخر میں مز ید کہتاہے : یہ عالی اوصاف ، یہ تیزی کے ساتھ بڑھنے والی نشوونما ، اوریہ پربرکت حرکت وترقی جتنی دوستوں میں شوق اورنشاط پیداکرتی ہے ،اتناہی کفار کے لیے غیض وغضب کاسبب بنتی ہے : یہ اس بناء پر ہے تاکہ کافروں کاغصّہ دلائے (لِیَغیظَ بِہِمُ الْکُفَّار)(٦) ۔
اور آ یت کے آخر میں فرماتاہے ، : خدانے ان میں سے اُن لوگوں سے جوایمان لائے ہیں ، اور ساتھ میں عمل صالح انجام دیئے ہیں ،بخشش اوراجرِ عظیم کاوعدہ کیاہے (وَعَدَ اللَّہُ الَّذینَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ مِنْہُمْ مَغْفِرَةً وَ أَجْراً عَظیماً ) ۔
یہ بات واضح ہے کہ وہ اوصاف جوآ یت کی ابتداء میں بیان کئے گئے ہیں، ان میں ایمان اورعمل صالح جمع تھا ، اس بناء پران دواوصاف کی تکرار ان کے دوام اورہمیشہ برقرار رہنے کی طرف اشارہ ہے . یعنی خدانے یہ وعدہ صرف اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)میں سے اس گروہ سے کیاہے جوآپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے راستہ اور طریقہ پر باقی رہیں گے ، اورایمان وعمل صالح کودوام بخشیں گے ، ور نہ وہ لوگ جوایک دن تواس کے دوستوں اوراصحاب وانصار کے زمر ہ میں شامل تھے . اور دوسرے دن آنحضرت سے جدا ہوگئے ، اوران کے برخلاف راستے پر چل پڑے ، وہ اس قسم کے وعدہ میں ہر گز شاملِ نہیں ہیں ۔
منھم کی تعبیر ( اس نکتہ کی طرف توجہ کرتے ہُوئے کہ لفظ من ایسے مواقع پر تبعیض کے لیے ہوتاہے اور آ یت کاظاہر بھی یہی معنی دیتاہے ).اس بات کی دلیل ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے صحابہ دو گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے : ایک گروہ ایمان اور عمل صالح کوجاری رکھے گا ، اورحق تعالیٰ کی رحمت واسعہ اوراجرِ عظیم میں شامل ہوگا ،لیکن ایک گروہ اس سے الگ ہوکراس عظیم فیض وبرکت سے محروم ہوجائے گا۔
معلوم نہیں مفسرین کاایک گروہ اس بات پرکیوں اصرار کرتاہے .کہ اوپر والی آ یت میں منھم کا من حتماً بیانیہ ہے .حالانکہ بالفرض اگرہم خلاف ظاہر کے مرتکب بھی ہوں اور من کوبیان کے لیے ہی لے لیں ، توان قرائن عقلی کوجویہاں موجود ہیں ،انہیں کیسے ایک طرف کریں گے ،کیونکہ کوئی شخص بھی اس بات کا مدعی نہیں ہے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے تمام صحابہ معصوم تھے تواس صُورت میں راہ ِایمان اورعمل صالح پر باقی نہ رہنے کااحتمال ان میں سے ہر ایک کے بارے میں جائے گا توان حالات میں یہ کیسے ممکن ہے کہ خدا مغفرت اوراجرِ عظیم کاوعدہ بغیر کسِی قید وشرط کے اُن سب کودے دے ، عام اس سے کہ وہ ایمان وصلاح کی راہ طے کریں یاآدھی راہ سے پلٹ جائیں اورمنحرف ہوجائیں ۔
یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ : والذین معہ (وہ لوگ جو اس کے ساتھ ہیں)کے جُملہ کامفہوم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے پاس بیٹھنا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے جسمانی مصاحبت نہیں ہے ،کیونکہ ایسی مصاحبت تومنافقین بھی رکھتے تھے ، بلکہ معہ سے مراد قطعی طورپراصول ایمان اور تقوٰی کے لحاظ سے ہمراہ ہونا ہے ۔
اس بناء پر ہم اوپر والی آ یت سے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے تمام ہم نشینوں اور معاصرین کے لیے ہرگزایک حکم کلی کا استفادہ نہیں کرسکتے ۔
١۔"" تفسیرمجمع البیان " " جلد ٥،صفحہ ٢٥ ،"" قر طبی "" نے بھی اس روایت کوپیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اسلام سے سُورہ ٔ نور کی آ یہ ٥٥ کے ذیل میں نقل کیاہے (جلد ٧،صفحہ ٤٦٩٢) ۔
٢۔ تفسیر نمونہ جلد ٤،صفحہ ٥٧٦۔
٣۔ "" سیماھم "" مبتدااور"" فی وجوھھم"" اس کی خبر ہے اور "" من اثر السجود"" یا"" سیما "" کابیان ہے یا"" سیما"" کے لیے حال ہے ،لیکن بہتر یہ ہے کہ "" من "" کو""نشویہ "" جانیں اورجُملہ کامعنی اس طرح ہوگا ان کی علامت ان کے چہرے میں ہے اور یہ علامت سجود کے اثر سے ہے ۔
٤۔ "" من لایحضرہ الفقیہ"" روضة الواعظین "" مطابق نقل تفسیر نورالثقلین ،جلد٥ ،صفحہ ٧٨۔
٥۔ اس بارے میں کہ "" ومثلھم فی الانجیل "" ایک مستقل جُملہ ہے اوراصحاب پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم) کی ایک الگ توصیف وتعریف کرتاہے جواس تعریف کے علاوہ ہے جوتورات میں آ ئی ہے یایہ ذالک ،مثلھم فی التّو راة "" کے جملہ پرعطف ہے اس طرح سے کہ دونوں اوصاف کی دونوں آسمانی کتابوں سے خبردیتاہے ، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے .لیکن آ یت کاظاہر یہ ہے کہ یہ دونوں اوصاف الگ الگ جدا گانہ طورپر ان دو آسمانی کتابوں میں لکھے ہُوئے موجود تھے ،اسی لیے لفظ "" مثل "" کا تکرار ہواہے ،درحالیکہ اگر یہ ایک دوسرے پرعطف ہوتے تو فصاحت کا تقاضا یہ تھا کہ یوں کہاجاتا :( ""ذالک مثلھم فی التوراة والا نجیل "" ) ۔
٦۔ "" لیغیظ "" کے جمُلہ میں جو"" لام "" ہے بہت سے مفسرین اسے علت کا"" لام "" سمجھتے ہیں ،اس بناء پر اس جملہ کامفہوم یہ ہوگا "" پیش رفت کی یہ قوت و قدرت خدانے اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کونصیب کی ہے تاکہ کفار کی غصّہ میں لے آ ئے ""۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma