صلح حدیبیہ کی مزید برکات

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22

ان برکات وفوائد کی ،جواس رہ گز رسے مسلمانوں کونصیب ہُوئے .تشریح کررہی ہیں ۔
پہلے فرماتاہے خدانے بہت سے غنائم کاتم سے وعدہ کیاہے ، جنہیں تم حاصل کروگے ، لیکن یہ ایک بہت جلدی تمہارے لیے فراہم کردی ہے (وَعَدَکُمُ اللَّہُ مَغانِمَ کَثیرَةً تَأْخُذُونَہا فَعَجَّلَ لَکُمْ ہذِہِ) ۔
آ یت کالب ولہجہ بتاتاہے کہ یہاں غنائم کثیرہ سے مراد وہ تمام غنائم ہیں جو خدانے مسلمانوں کوعطا کیے تھے ،چاہے تھوڑ ی مُدّت میں اور چاہے طویل مدت میں ،یہاں تک کہ مفسرین کی ایک جماعت کانظر یہ ، یہ ہے کہ وہ غنائم جودامن قیامت تک مسلمانوں کے ہاتھ آ تے رہیں گے وہ بھی اس عبارت میں داخل ہیں ۔
اور یہ جووہ کہتاہے ان میں سے یہ ایک بہت جلد ی تمہارے لیے فراہم کی ہے ، توغالباً اسے غنائم خیبر کی طرف اشارہ سمجھا ہے جومختصر سے فاصلہ میںفتح حدیبیہ کے بعد فراہم ہوئی ۔
لیکن بعض نے یہ احتمال دیاہے کہ ھذہ فتح حدیبیہ کی طرف اشارہ ہے ،جوعظیم ترین معنوی فتح تھی ۔
اس کے بعد اس ماجرہ میں مسلمانوں کے لیے خداکے الطاف میں سے ایک دوسرے لُطف کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے مزید فر ماتاہے : اورلوگوں کے دست تعدی کوتم سے روک دیا وَ کَفَّ أَیْدِیَ النَّاسِ عَنْکُم ۔
یہ ایک بڑالطف تھا کہ وہ افراد کی کمی اور کافی مقدار میںآ لاتِ جنگ کے نہ ہونے کے باوجود وہ بھی وطن سے دور دراز کے علاقہ میں اور دشمن عین گڑ ھ میں حملے سے بچے رہے ، اوردشمن کے دل میں اس طرح کارعب ڈالا کہ جس وجہ سے وہ ہر قسم کاحملہ کرنے سے رُکے رہے ۔
مفسرین کی ایک جماعت اس جملہ کوخیبر کے ماجر ے کی طرف اشارہ سمجھتی ہے کہ بنی اسد اور بنی غطفان کے قبائل ین یہ مصمم ارادہ کیاہوا تھا کہ مسلمانوں کے پیچھے مدینہ پر حملہ کردیں اور مسلمانوں کے اموال کولُوٹ کرے جائیں اوران کی خواتین کو قید کرلیں
یاان دونوںقبیلوں کی ایک جماعت کے مصمم ارادہ کی طرف اشارہ سمجھاہے .جن کاارادہ یہ تھا کہ یہود یوں کی مدد کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں ،لیکن خدانے ان کے دلوں میں رعب اوروحشت ڈال دی اور وہ اپنے ارادہ سے باز آگئے ۔
لیکن پہلی تفسیر زیادہ نظر آ تی ہے ، چونکہ بعد کی چند آ یات میں ہم اسی تعبیر کومشاہد ہ کرتے ہیںجواہل مکّہ کے بارے میںگفتگو کررہی ہے ، اورایک تفصیل و تشریح کے مانند ہے ، اِس مطلب کے لیے جوزیر بحث آ یت میں آ یاہے ۔
اورقرآن کی روش کے ساتھ جواجمال وتفصیل کی روش دہے سازگار ہے ۔
اہم بات یہ ہے کہ مشہور روا یات کے مطابق ساری سورۂ فتح ماجرا ئے حد یبیہ کے بعد اور پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم) کی مکّہ سے مدینہ کی طرف بازگشت کی راہ میں نازل ہوئی ۔
اس کے بعد اس آ یت کو جاری رکھتے ہُوئے خداکی نعمتوںمیں سے دودوسری عظیم نعمتوں کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے فرماتاہے ، مقصد یہ تھا کہ یہ واقعات مومنین کے لیے ( تیری دعوت کی حقانیت پر )نشانی بنیں ،اور خدا تمہیں صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت کرے (عَنْکُمْ وَ لِتَکُونَ آیَةً لِلْمُؤْمِنینَ وَ یَہْدِیَکُمْ صِراطاً مُسْتَقیماً ) ۔
اگرچہ بعض مفسرین تمکون کی ضمیر کو غنائم موعود کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں اور بعض دوسرے مسلمانوں کودشمنوں کے حملے سے محفوظ رکھنے کی طرف ، لیکن مناسب یہ ہے کہ یہ ضمیر حدیبیہ کے تمام حوادث اوراس کے بعد کے واقعات کی طرف لوٹے ، کیونکہ ان میں سے ہر ایک خداکی آ یتوں میں سے ایک آ یت ، اور پیغمبر کی صداقت پرایک دلیل، اور لوگوں کے لیے صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت کاایک وسیلہ تھا ، اوران کاایک حِصّہ توپیشین گوئی اور خبر غیبی کاپہلو رکھتاتھا اوران میں سے بعض عام ، قسم کے حالات واسباب کے ساتھ سازگار نہ تھے ، اورمجموعی طور سے یہ سب پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے معجزات میں سے واضح معجزہ شمار ہوتے تھے ۔
بعد والی آ یت میں مسلمانوں کو مزید بشارت دہتے ہُوئے کہتاہے :
خدانے تمہیں اوردوسری فتو حات اورغنیمتوں کا وعدہ دیا، جن پرتمہیں نہ پہلے قدرت تھی نہ اب ہے ،لیکن خداکی قدرت ان سب پراحاطہ کیے ہُوئے ہے ،اورخدا ہر چیز پرقادر ہے :(وَ أُخْری لَمْ تَقْدِرُوا عَلَیْہا قَدْ أَحاطَ اللَّہُ بِہا وَ کانَ اللَّہُ عَلی کُلِّ شَیْء ٍ قَدیراً ) ۔
اس بارے میں کہ یہ وعدہ کونسی غنیمت اورکونسی کامیابی کی طرف اشارہ ہے ،مفسرین کے درمیان اختلاف ہے ۔
بعض تو اسے فتح مکّہ اور حنین اور غنیمتوں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں اور بعض ان فتو حات اور غنیمتوں کی طرف ، جو پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے بعد اُمّت اسلامی کی نصیب ہوئیں ( مثل فتح ایران وروم ومصر) ۔
یہ احتمال بھی ہے کہ ان تمام ہی کی طرف اشارہ ہو( ١) ۔
لَمْ تَقْدِرُوا عَلَیْہا کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسلمان اس سے پہلے ہرگز اس قسم کے فتوحات وغنائم خیال تک نہ دیتے تھے ،لیکن اسلام کی بر کت اور خدائی امدا دوں کی بناء پر ان میں یہ قدرت پیدا ہوگئی ۔
بعض نے اس جُملہ سے یہ مطلب نکالا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان پہلے سے ان فتوحات کے بارے میں بحث چلی ہوئی تھی ،لیکن وہ ان کوانجام دینے کے لیے خود کونا تواں اورکمز ور سمجھتے تھے ، خصوصاً وہ حدیث جوجنگ ِ احزاب کے واقعہ میںمنقول ہے اس میں یہ بیان ہواہے کہ : اس دن جب کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے مسلمانوں کوا یران و روم ویمن کی فتح کی بشارت دی تو منافقین نے اس کامذاق اڑایا ۔
قَدْ أَحاطَ اللَّہُ بِہا (خدانے ان کا احاطہ فرمایا )کاجملہ ان غنائم یافتو حات پر ، پر وردگار کی قدرت کے احاطہ کی طرف اشارہ ہے ،لیکن بعض نے اسے اس کے احاطہ عملی کی طرف اشارہ سمجھاہے ،لیکن پہلامعنی آ یت کے دوسرے جُملو ں کے ساتھ زیادہ ساز گار ہے ، البتہ دونوں معانی کوجمع کرنے میں بھی کوئی امر مانع نہیںہے ۔
اور آخر میں آ یت کاآخری جُملہ یعنی وَ کانَ اللَّہُ عَلی کُلِّ شَیْء ٍ قَدیرا درحقیقت پہلے جُملہ کے لیے علّت کے بیان کے طورپر ہے .جواس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا کی ہرچیز پر قدرت کی بناء پر اس قسم کی فتوحات مسلمانوں کے لیے عجیب نہیں ہیں ۔
بہرحال یہ آ یت اخبار غینی ، اورقرآن مجید کی آ ئندہ کے بارے میں پیشن گو ئیوں میں سے ہے ، یہ کامیابیاں تھوڑ ی سی مدّت میں وقوع پذیر ہوئیں ،اوران آ یات کی عظمت کوواضح کیا۔
 ١۔ "" اخرٰی "" "" مفانم ""کی صفت ہے جومحذوف ہے،اورتقد یر میں "" مغانم اخرٰی "" ہے اورمنصوب ہے "" مغانم کثیر ة "" پر عطف کی بناء پر ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma