سوره فتح/ آیه 15- 17

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22

١٥۔سَیَقُولُ الْمُخَلَّفُونَ ِذَا انْطَلَقْتُمْ ِلی مَغانِمَ لِتَأْخُذُوہا ذَرُونا نَتَّبِعْکُمْ یُریدُونَ أَنْ یُبَدِّلُوا کَلامَ اللَّہِ قُلْ لَنْ تَتَّبِعُونا کَذلِکُمْ قالَ اللَّہُ مِنْ قَبْلُ فَسَیَقُولُونَ بَلْ تَحْسُدُونَنا بَلْ کانُوا لا یَفْقَہُونَ ِلاَّ قَلیلاً ۔
١٦۔قُلْ لِلْمُخَلَّفینَ مِنَ الْأَعْرابِ سَتُدْعَوْنَ ِلی قَوْمٍ أُولی بَأْسٍ شَدیدٍ تُقاتِلُونَہُمْ أَوْ یُسْلِمُونَ فَِنْ تُطیعُوا یُؤْتِکُمُ اللَّہُ أَجْراً حَسَناً وَ ِنْ تَتَوَلَّوْا کَما تَوَلَّیْتُمْ مِنْ قَبْلُ یُعَذِّبْکُمْ عَذاباً أَلیماً ۔
١٧۔ لَیْسَ عَلَی الْأَعْمی حَرَج وَ لا عَلَی الْأَعْرَجِ حَرَج وَ لا عَلَی الْمَریضِ حَرَج وَ مَنْ یُطِعِ اللَّہَ وَ رَسُولَہُ یُدْخِلْہُ جَنَّاتٍ تَجْری مِنْ تَحْتِہَا الْأَنْہارُ وَ مَنْ یَتَوَلَّ یُعَذِّبْہُ عَذاباً أَلیم۔

ترجمہ

١٥۔ جب تم آ ئندہ چل کرمال غنیمت حاصل کرنے کے لیے روانہ ہوگئے تو پیچھے رہ جانے والے کہیں گے ، ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے دیں ( تاکہ اس جہاد میں شرکت کریں) وہ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے کلام کوبدل دیں، کہہ دو : تمہیں ہرگز ہمارے ساتھ چلنے کی اجازت نہیں ہے ، خدانے پہلے ہی سے یہ کہہ دیاہے ، لیکن عنقریب وہ یہ کہیں گے : تم ہمارے بارے میں حسد کررہے ہو، لیکن وہ اس بات کو سمجھتے ہی نہیں مگرتھوڑا ۔
١٦۔ اعراب میں سے پیچھے رہ جانے والوں کو کہہ دے : تمہیں عنقریب ایک جنگجو قوم کی طرف جانے کی دعوت دی جائے گی تاکہ تم ان سے جنگ کرویاوہ اسلام لے آ ئیں ، اگرتم نے اطاعت کی توخدا تمہیں اچھی جزا دے گا ، اور اگر تم نے اسی طرح سے رُو گردانی کی جیسے کہ پہلے بھی رو گردانی کرچکے ہو تووہ تمہیں درد ناک عذاب دے گا ۔
١٧۔ نابینا لنگڑے اور بیمار (اگروہ میدانِ جہاد میں شرکت نہ کریں ) کوئی گناہ نہیں ہے ، اور جوشخص خدااور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا ، خدااُسے (بہشت ) کے باغات میں داخل کرے گا ، جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں ، اورجوشخص روگر دانی کرے گا تو اُسے درد ناک عذاب میں گرفتار کرے گا ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma