گناہ کی توجیہ کرنا ایک عام بیماری ہے

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22

گناہ چاہے جتنا بھی سنگین ہو وہ توجیہ گناہ جتنی سنگینی نہیں رکھتا ،کیونکہ وہ گنہگار جو گناہ کامعترف ہو وہ اکثر تو بہ کی طرف مائل ہوتاہے ،لیکن مصیبت اس وقت شروع ہوتی ہے جب گنہگار اس کی توجیہ کرنے لگ جاتاہے ، جونہ صرف انسان کے سامنے تو بہ کے راستے کوبند کردیتاہے بلکہ اُسے ہرگناہ کرنے میں اور بھی زیادہ راسخ اور زیادہ جری بنادیتاہے ۔
یہ تو جیہیں کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے ، اس کے مختلف نمونے بشر کی پوری تاریخ میں دیکھے جاسکتے ہیں، کہ تاریخ کے بڑ ے بڑے بدکار اپنے آپ کویاد وسروں کودھو کہ دینے کے لیے کس طرح سے مضحکہ خیز توجیہات پیش کیاکرتے تھے جس سے ہر انسان حیران رہ جاتاہے ۔
قرآن مجید نے جوتربیت اورانسان سازی کاایک عظیم درس ہے اس بارے میں بہت سے مباحث پیش کیئے ہیںجس کاایک نمونہ توہم اوپر والی آ یات میں ملاحظہ کرچکے ہیں ۔
اس بحث کی تکمیل کے لیے دوسرے نمونے بھی غور ومطالعہ کے لیے پیش کردیئے جائیں تومناسب نہ ہوگا ۔
١۔مشرکین عرب بعض اوقات اپنے شرک کی توجیہ کے لیے اپنے بڑ وں کی رسم سے متوسل ہوتے تھے اور کہتے تھے : ِنَّا وَجَدْنا آباء َنا عَلی أُمَّةٍ وَ ِنَّا عَلی آثارِہِمْ مُقْتَدُونَ :یعنی ہم نے اپنے باپ داد ائوں کوایک طریقے پر پا یااور ہم نے ان کے آثار کواپنایا ہوا ہے اورہم انہیں کے آ ثار کی پیروی کررہے ہیں ِنَّا وَجَدْنا آباء َنا عَلی أُمَّةٍ وَ ِنَّا عَلی آثارِہِمْ مُقْتَدُونَ ۔
ہم نے اپنے آبائو اجداد کو ایک دین پر پایا ہے اور ہم انہیں کے آثار کی پیروی کر رہے ہیں ( زخرف ۔ ٢٣) ۔
اوربعض اوقات جبر کی ایک قسم کے ساتھ متوسل ہوتے ہوئے کہتے تھے :
لَوْ شاء َ اللَّہُ ما أَشْرَکْنا وَ لا آباؤُنا
اگرخدا چاہتا تو نہ توہم ہی شرک کرتے اور نہ ہی ہمارے آبائو اجداد مشرک ہوتے ( انعام : ١٤٨) ۔
٢۔ اور کبھی کمزور ایمان والے مُسلمان جنگ سے فرار کرنے کے لیے پیغمبر کی خدمت میں آ تے تھے ،اوراس عنوان سے میدان کو خالی چھوڑ جاتے تھے کہ ہمارے گھروں کے در و دیوار ٹھیک طرح کے نہیں ہیں لہٰذاہمیںنقصان کاخطرہ ہے : وَ ِذْ قالَتْ طائِفَة مِنْہُمْ یا أَہْلَ یَثْرِبَ لا مُقامَ لَکُمْ فَارْجِعُوا وَ یَسْتَأْذِنُ فَریق مِنْہُمُ النَّبِیَّ یَقُولُونَ ِنَّ بُیُوتَنا عَوْرَة وَ ما ہِیَ بِعَوْرَةٍ ِنْ یُریدُونَ ِلاَّ فِراراً (احزاب۔١٣)ان میں سے ایک گروہ پیغمبر سے اجازت طلب کرتااور کہتا ہمارے گھر آ سیب پذیر ہیں ، حالانکہ وہ آسیب پذیر نہیں تھے ، وہ توصرف قرار کر ناچاہتے تھے ۔
٣۔ اور کبھی اس بہانہ سے ، کہ اگرہم رومیوں سے جنگ کرنے کے لیے جائیں توممکن ہے کہ خوبصورت رومی عورتیں ہمیں فریفتہ کرلیں اورہم حرام میں مبتلا ہوجائیں ، لہٰذا پیغمبر سے جنگ میں شرکت نہ کرنے کی اجازت مانگتے ،: وَ مِنْہُمْ مَنْ یَقُولُ ائْذَنْ لی وَ لا تَفْتِنِّی (توبہ ۔ ٤٩) ان میں سے بعض یہ کہتے ہیں کہ ہمیں تورہنے ہی دیں اور گناہ میں نہ ڈالیں۔
٤۔ اور کبھی اس عنوان سے کہ ہمارے اموال اوربیوی بچّوں کے خیال نے ہمیں روکے رکّھا .پیغمبر کے فرمان کی اطاعت سے فرار کرنے جیسے عظیم گناہ کی توجیہ کرتے ( آ یات زیر بحث) ۔
٥۔شیطان نے بھی ایک غلط قیاس کے ذ ریعے اپنی صریح نافر مانی کی خداکے سامنے توجیہ کی اور کہا: تو نے مجھے آگ سے پیداکیاہے ،اور آدم کومٹی سے ! یہ کیسے ہوسکتاہے کہ ایک زیادہ شریف موجودایک پست ترموجود کوسجدہ کرے ! ( أَنَا خَیْر مِنْہُ خَلَقْتَنی مِنْ نارٍ وَ خَلَقْتَہُ مِنْ طین)( اعراف ۔١٢) ۔
٦۔زمانہ ٔ جاہلیّت میں بھی دختر کشی جیسے عظیم جرم کی توجیہ کے لیے یہ کیا کرتے تھے کہ ہم اس چیز سے ڈ رتے ہیں کہ جنگوں میں ہماری بیٹیاں دشمنوں کے ہاتھ لگ جائیں گی ،لہٰذا ہماری غیرت کاتقاضایہ ہے کہ ہم نئی پیدا ہونے والی لڑکیوں کو زندہ زمین میں دفن کردیں ،اور کبھی یہ کہتے کہ اگر ہماری اولادزندہ رہ جائے تو ہم ان کی زندگی کی تامین پر قادر نہیں ہیں ! (اسراء ۔٣١) ۔
یہاں تک کہ بعض آ یات قرآنی سے پتہ چلتاہے کہ گنہگار اپنے گناہوں کوتوجیہ کے لیے قیامت میں بھی ان امور سے تمسک کریں گے ، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہم نے اپنے قوم کے بزرگوں کی پیروی کی تھی اور وہی لوگ تھے جنہوںنے ہمیں گمراہ کیا، اورہماری راہنمائی کاذمہ لیاتھا۔
وَ قالُوا رَبَّنا ِنَّا أَطَعْنا سادَتَنا وَ کُبَراء َنا فَأَضَلُّونَا السَّبیلاَ ( احزاب ۔٦٧) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ ، توجیہ کرنے کی بلا ایک ایسی مصیبت ہے ،جوہمہ گیر ہے ،جس نے لوگوں کے ایک بہت بڑے گروہ کو، خواہ وہ عام ہوں یاخواص ،اپنے گھیرے میں لے لیاہے ، اوراس کاعظیم خطرہ یہ ہے کہ یہ گنہگار وں کے سامنے اصلاح کی راہیں بند کردیتی ہے اور بعض اوقات حقیقتوںاور و ا قیعتوں کوخد انسان کی نظر میں گرگوں کرکے دکھانا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔
بہت سے لوگ ایسے ہیں جواپنے خوف اور بزدلی کی احتیاط اور حرص کی مستقبل کی تأ مین سے اور تہور کی قاطعیت سے اور ضعف نفس کی حیاوشرم سے اور بدحالی کی زہد سے اور ارتکابِ حرام کی کلاہ شرعی سے اور ذمہ داری کے زیر بار جانے سے فرار کی موضع کے ثابت نہ ہونے سے اوراپنی کمز ور یوں اور کو تا ہیوں کی قضا و قدر سے توجیہ کرتے ہیں . اورکس قدر و رو ناک ہے یہ امر کہ انسان اپنے ہاتھ سے راہ نجات کواپنے سامنے بندکردے ۔
اگرچہ یہ مفاہیم ہر ایک اپنی جگو ں پر صحیح ہیں . لیکن اعتراض کی بات یہ ہے کہ وہ اس کو تحریف کرکے اُلٹا نتیجہ نکالتے ہیں ، انسانی معاشروں ،خانو ادوںاور افر اد کو اس رہ گز رے سے کتنے عظیم نقصانات پہنچے ہیں ؟ !
خدوند عالم ہم سب کواس عظیم اور گھروں کوتباہ کرنے والی بلا اور مصیبت سے محفوظ رکھے ، (آ مین ) ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma