پیچھے رہ جانے والوں کی عذ رتراشی

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22

گذشتہ آیات کی تفسیر میں ہم بیان کرچکے ہیں کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)ایک ہزار چار مو مسلمانوں کے ساتھ مدینہ سے عمرہ کے ارادہ سے مکّہ کی طرف روانہ ہُوئے ۔
پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی طرف سے باد یہ نشین قبائل میں اعلان ہوا کہ وہ بھی سب کے سب اس سفر میں آپ علیہ السلام کے ساتھ چلیں ،لیکن ضعیف الایمان لوگوں کے ایک گروہ نے اس حکم سے رو گر دانی کی ، اور ان کا تجز یہ یہ تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ مسلمان اس سفر سے صحیح وسالم بچ دکرنکل آ ئیں، حالانکہ کفّار قریش پہلے ہی ہیجان واشتعال میں تھے ، اورانہوں نے اُحد واحزاب کی جنگیں مدینہ کے قریب مسلمانوں پر تھوپ دی تھیں ،اب جبکہ یہ جھوٹا ساگروہ بغیر ہتھیاروں کے اپنے پائوں سے چل کر سکّہ کی طرف جارہاہے ، گو یابھڑ وں کے چھتہ کے پا س خود پہنچ رہاہے ،تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ و ہ اپنے گھروں کی طرف واپس لوٹ آ ئیں گے ؟!
لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمان کا میابی کے ساتھ اور قابلِ ملاحظہ امتیازات کے ہمراہ جوانہوں نے صُلح حدیبیہ کے عہد و پیمان سے حاصل کیے تھے ،صحیح وسالم مدینہ کی طرف پلٹ آ ئے ہیں .اورکسی کے تکسیرتک بھی نہیں پھوٹی ، توانہوںنے اپنی عظیم غلطی کااحساس کیا اور پیغمبر کی خدمت میں حاضر ہُوئے تاکہ کسی طرح کی عذر خواہی کرکے اپنے فعل کی توجیر کریں، اور پیغمبر سے استغفار کاتقاضا کریں ۔
لیکن اوپر والی آ یات نازل ہوئیں اوران کے اعمال سے پردہ اٹھادیا اورانہیں رسواکیا۔
اس طرح سے پہلی آ یات میں منافقین اور مشرکین کی سرنوشت کاذکر کرنے کے بعد ،یہاں پیچھے رہ جانے والے ضعیف الایمان لوگوں کی کیفیت کابیان ہورہاہے ، تاکہ اس بحث کی کڑ یاں مکمل ہوجائیں ۔
فر ماتاہے : عنقر یب باد یہ نشین اعراب میں سے پیچھے جانے والے عذر تراشی کرتے ہُوئے کہیں گے : ہمارے مال ومتاع اور بال بچّوں کی حفاظت کرتے ہُوئے ہمارے لیے طلب بخشش کیجئے (سَیَقُولُ لَکَ الْمُخَلَّفُونَ مِنَ الْأَعْرابِ شَغَلَتْنا أَمْوالُنا وَ أَہْلُونا فَاسْتَغْفِرْ لَنا) ۔
وہ اپنی زبان سے ایسی چیزکہہ رہے ہیں جوان کے دل میں نہیں ہے (یَقُولُونَ بِأَلْسِنَتِہِمْ ما لَیْسَ فی قُلُوبِہِم) ۔
وہ تو اپنی توبہ تک میں بھی مخلص نہیں ہیں ۔
لیکن ان سے کہہ دے : خدا کے مقابلہ میں . اگر وہ تمہیں نقصان پہنچا ناچاہے توکس کی مجال ہے کہ وہ تمہارا دفا ع کرسکے ،اور اگروہ تمہیں کچھ نفع پہنچاناچاہے توکس میں طاقت ہے ،کہ اُسے روک سکے : (قُلْ فَمَنْ یَمْلِکُ لَکُمْ مِنَ اللَّہِ شَیْئاً ِنْ أَرادَ بِکُمْ ضَرًّا أَوْ أَرادَ بِکُمْ نَفْعا) ۔
خدا کے لیے یہ بات کسی طرح بھی مشکل نہیں ہے ،کہ تمہیں تمہارے امن وامان کے گھر وں میں ،بیوی بچّوں اور مال و متال کے پاس ،انواع واقسام کی بلائوں اورمصائب میں گرفتار کردے ، اوراس کے لیے یہ بھی کوئی مشکل کام نہیں ہے کہ دشمنوں کے مرکز میںاور مخالفین کے گڑ ھ میں تمہیں ہرقسم کے گز ندسے محفوظ رکھے ، یہ تمہاری قدرت خداکے بارے میںجہالت اور بے خبری ہے جوتمہاری نظر میں اس قسم کے افکار کوجگہ دیتی ہے ۔
ہاں ! خدا ان تمام اعمال سے جنہیں تم انجام دیتے ہو باخبر اور آگاہ ہے ( بَلْ کانَ اللَّہُ بِما تَعْمَلُونَ خَبیراً ) ۔
بلکہ وہ تو تمہارے سینوں کے اندر کے اسرار اور تمہاری نیتوں سے بھی اچھی طرح باخبرہے ، وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ عُذر اوربہانے واقعیت اورحقیقت نہیں رکھتے اور جواصل حقیقت اور واقعیّت ہے ،وہ تمہارا شک وتردد ،خوف و خطر اور ضعف ایمان ہے ،اور یہ عذر تر اشیاں خداسے مخفی نہیں رہتیں ،اور یہ ہرگز تمہاری سز ا کو نہیں روکیں گی ۔
قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ آ یت کے لب ولہجہ سے بھی ور تواریخ سے بھی یہی معلوم ہوتاہے کہ یہ آ یات پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی مدینہ کی طرف بازگشت کے دو ران نازل ہوئیں. یعنی اس سے پہلے کہ پیچھے رہ جانے والے آ ئیں اور عذر تراشی کریں ، ان کے کام سے پردہ اٹھادیا گیا اورانہیں رسوا کردیا۔
اس کے بعد مز ید وضاحت کے لیے مکمل طورپر پردے ہٹا کرمزید کہتاہے :بلکہ تم نے تو یہ گمان کرلیاتھا کہ پیغمبر اورمومنین ہرگز اپنے گھر والوں کی طرف پلٹ کرنہیں آ ئیں گے (بَلْ ظَنَنْتُمْ أَنْ لَنْ یَنْقَلِبَ الرَّسُولُ وَ الْمُؤْمِنُونَ ِلی أَہْلیہِمْ أَبَدا) ۔
ہاں !اس تاریخی سفر میں تمہارے شریک نہ ہونے کاسبب ، اموال اور بیوی بچّوں کامسئلہ نہیں تھا ، بلکہ اس کااصلی عامل وہ سو ء ظن تھاجو تم خداکے بارے میں رکھتے تھے ،اوراپنے غلط اند ازوں کی وجہ سے یہ سوچتے تھے کہ یہ سفر پیغمبر اور مومنین کے ختم ہونے کاسفر ہے اور اس سے کنارہ کشی کرنی چاہیئے ۔
ہاں ! یہ غلط خیال اور شیطانی وسوسے تمہارے دلوں میں زینت پاچکے تھے (وَ زُیِّنَ ذلِکَ فی قُلُوبِکُمْ ) ۔
اور یہ تم نے بُرا گمان کیا (وَ ظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْء ِ) ۔
کیونکہ تم یہ سوچ رہے تھے کہ خدانے پیغمبر کواس سفر میں بھیج کر انہیں دشمن کے چنگل میں دے دیاہے ،اوران کی حمایت نہیں رکے گا !۔
اورانجام کار تم ہلاک ہوگئے (وَ کُنْتُمْ قَوْماً بُوراً) ۔
اس سے بدتر ہلاکت اور کیا ہوگی کہ تم اس تاریخی سفر میں شرکت ،بیعت ِ رضوان ، اور دوسرے افتخار ات واعزازات سے محروم رہ گئے ،اوراس کے پیچھے رسوائی تھی اور آ ئندہ کے لیے آخرت کادر د ناک عذاب ہے : ہاں تمہارے دِل مردہ تھے اس لیے تم اس قسم کی صورت ِ احوال میں گرفتار ہُوئے ۔
چونکہ یہ ضعیف الایمان یامنافق ایسے ڈ رپوک، آرام طلب اور طبعاً جنگ اور ہرقسم کے مقابلہ سے بھاگنے والے آدمی ہیں لہٰذا وہ حوادث کے بارے میں جوبھی تجز یہ و تحلیل کرتے ہیں وہ کسی طرح بھی واقعیّت کے مطابق نہیں ہو تی . اس کے باوجود وہ ان کی نظروں میں بہت ہی کشش رکھتی ہے ۔
اوراس طرح سے خوف اور عافیت طلبی ، اور ذمہ داریوں کو قبول کرنے سے فرار ، بُرے گمانوں کوان کی نظر میں حقیقت و اقعیّت کے طورپر جگہ دیتے ہیں، وہ تمام چیزوں کے بارے میں بدبین ہیں، یہاں تک کہ پیغمبرخُداا ور خدا کے بارے میں بھی ۔
نہج البلاغہ میں مالک اشتر کے نام حکم میں یہ آ یاہے :
انّ البخل والجبن والحرص غرائز شتی یجمعھاسوء الظن باللہ :
بخل بزدلی ،اور حرص ایسی مختلف قسم کی مذموم صفات ہیں جوسب کی سب خداکے بار ے میںسوء ظن میں جمع ہیں (١) ۔
رُو داد حدیبیہ اور زیر بحث آ یات اسی معنی کاظہور عینی ہیں جواس بات کی نشاندہی کرتی ہیں ،کہ پر وردگار کے بارے میں سوء ظن ، کِس طرح سے بخل وحرص اور خوف جیسے بُرے صفات کوحاصل کرلیتاہے ۔
چونکہ اس قسم کی غلط کاسرچشمہ بعض اوقات عد م ایمان ہوتاہے لہٰذا بعد والی آ یت میں کہتاہے : جوشخص خدا اوراس کے پیغمبر پرایمان نہیں لایا اس کی تقد یر جہنم کی آگ ہے ،کیونکہ ہم نے کافروں کے لیے بھڑ کتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے (وَ مَنْ لَمْ یُؤْمِنْ بِاللَّہِ وَ رَسُولِہِ فَِنَّا أَعْتَدْنا لِلْکافِرینَ سَعیراً )(٢) ۔
انجام کار آخری زیر بحث میں کفار اورمنافقین پر خدا کے عذاب دینے کی قدرت کے ثبات لیے فر ماتا ہے : آسمانوں اور زمین کی مالکیّت اور حاکمیت خدا کے لیے ہے ،جسے چاہے بخش دیتاہے اور جسے چاہے عذاب کرتاہے اور خدا غفور ورحیم ہے (وَ لِلَّہِ مُلْکُ السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ یَغْفِرُ لِمَنْ یَشاء ُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَشاء ُ وَ کانَ اللَّہُ غَفُوراً رَحیماً) ۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہاں مغفرت اور بخشش کے مسئلہ کوعذاب کے مسئلہ پرمقدم رکھاہے ،اور آ یت کے آخر میں پھر دوبارہ غفران اوررحمت الہٰی پر تاکید کی گئی ہے ، کیونکہ ان تمام دھمکیوں اور ڈ را وں کامقصد تربیّت ہے اور مسئلہ تر بیّت کاتقاضا یہ ہے کہ گناہگار وں اور کافر وں تک کے لیے بازگشت کی راہ کُھلی رہے ، خاص طورپر جبکہ ان منفی اعتراضات اور تنقیدوںمیں سے زیادہ کاسرچشمہ جہالت اور بے خبری ہے اس قسم کے افراد کے سامنے بخشش کی امید میں اضافہ کرناچاہیئے کہ شاید وہ راہ راست پر آ جائیں ۔
١۔نہج البلاغہ خطبہ نمبر ٥٣۔
٢۔آ یت کے الفاظ کی روانی کاتقاضا یہ ہے کہ "" انّا اعتد نا لھم سعیرً ا"" کہاجائے لیکن خاص طورپر ضمیر کی ہٹا کراس کی بجائے اسمِ ظاہر یعنی "" الکافرین "" کہاگیا ہے تاکہ اس خرابی کوبیان کیاجائے جومسئلہ کفر ہے ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma