پیغمبر (ص) کی حیثیت کااستحکام اورلوگوں کی اس کے بارے میں ذمہ داریاں

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22
ہم بیان کرچکے ہیں کہ صلح حدیبیہ پر بعض نا دانوںنے سخت تنقید کی ، یہاں تک کہ پیغمبر کے بارے میںان کے سامنے ایسی باتیں کی گئیں ،جن سے آپ کی بے حرمتی ہوتی تھی ، ان باتوں کامجموعی طور پرتقاضا یہی تھا کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی عظمت و مقام اورمرتبہ وحیثیت کے بارے میں دو بارہ تاکید کی جائے ۔
لہٰذا پہلی زیر بحث آ یت میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم) کومخاطب کرتے ہُوئے کہتاہے : ہم نے تجھے ایک گواہ اور بشارت دینے والا اور ڈ رانے والا بناکر بھیجا ہے (انَّا أَرْسَلْناکَ شاہِداً وَ مُبَشِّراً وَ نَذیراً ) ۔
یہ تین عظیم اوصاف اور تین عمدہ مقامات پیغمبر کے اہم ترین مراتب اورمقامات میں سے ہیں ، گو اہ ہونا بشیر ہونا اور نذ یر ہونا گواہ تمام اُمّت مسلمہ پر ، بلکہ ایک معنی کے لحاظ سے تمام امتوں پر گواہ ،جیساکہ سورہ نساء کی آ یت ٤١ میں آ یاہے : فَکَیْفَ ِذا جِئْنا مِنْ کُلِّ أُمَّةٍ بِشَہیدٍ وَ جِئْنا بِکَ عَلی ہؤُلاء ِ شَہیداً : اس دن کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ان کے اعمال پرگواہ لائیں گے ،اور تجھے ان سب گواہوں پر گواہ بنائیں گے ۔
اور سورہ ٔ توبہ کی آ یت ١٠٥ میں فر ماتاہے : وَ قُلِ اعْمَلُوا فَسَیَرَی اللَّہُ عَمَلَکُمْ وَ رَسُولُہُ وَ الْمُؤْمِنُونَ : کہہ دے کہ عمل کرو ، خدا اوراس کارسول اورمومنین ( ائمہ معصوم ) تمہارے عمل کودیکھتے ہیں ۔
اصولی طورپر ہر انسان بہت سے گواہ رکھتاہے ۔
سب سے پہلے توخدا وند عالم ہے جوعالم الغیب والشہادہ ہے ، وہ ہمارے تمام اعمال اور تمہاری نیتوں تک کودیکھ رہاہے ۔
اس کے بعد وہ فرشتے ہیں جوانسان کے اعمال کولکھنے پر مامور ہیں ،جیساکہ سورٔ ق کی آ یت ٢١ میں ارشارہ ہوا ہے وَ جاء َتْ کُلُّ نَفْسٍ مَعَہا سائِق وَ شَہید ۔
اس کے بعد انسانی جسم کے اعضاء و جوارح ہیں، یہاں تک کہ اس بدن کی جِلد بھی گواہی دے گی :( یَوْمَ تَشْہَدُ عَلَیْہِمْ أَلْسِنَتُہُمْ وَ أَیْدیہِمْ وَ أَرْجُلُہُمْ بِما کانُوا یَعْمَلُون) ۔
اس دن ان کی زبانیں ،ہاتھ اورپائوں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے (سورہ ، نور ٢٤) ۔
وَ قالُوا لِجُلُودِہِمْ لِمَ شَہِدْتُمْ عَلَیْنا قالُوا أَنْطَقَنَا اللَّہُ الَّذی أَنْطَقَ کُلَّ شَیْء ٍ ۔
وہ اپنے بدن کی جلد سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی، تووہ کہیں گے وہ خدا جس نے ہر موجود کوقوت گویائی عطاکی ہے ، اُسی نے ہمیں بھی گو یائی دی ہے ، تاکہ ہم گواہی دیں (حٰم سجدہ . ٢١) ۔
زمین بھی گواہوں میں سے ایک گواہ ہے جیساکہ سورہ ٔ زلزال میںآ یاہے ۔
یومئذ تحدث اخبارھا ۔
بعض روایات کے مطابق زنانہ بھی اس دن گواہوں کی صف میں ہوگا .ایک روایت میں علی علیہ السلام سے منقول ہے ۔
مامن یوم یمرعلی بنی اٰدم اِلا قال لہ ذالک الیوم انایوم جدید وانا علیک شھید ، فافعل فی خیراً ، واعمل فی خیراً ، اشھد لک بہ یوم القیامة ، فانّک لن ترانی بعد ھذا ابداً ،
کوئی دن آدم کے بیٹے پرنہیں گزرتا مگر یہ کہ وہ اس سے کہتاہے : میں نیادن ہوں ، میں تیر ے بارے میں گواہی دوںگا ، تومجھ میں نیک کام کر اور عمل خیر بجالا ، تاکہ میں قیامت کے دن تیر ے فائدے میں گواہی دوں ، کیونکہ تواس کے بعد مجھے کبھی بھی نہیں دیکھے گا ( ١)(٢) ۔
بلاشک خدا کی تنہا گواہی کافی ہے ، لیکن گواہوں کا متعدد ہونا مزید اتمامِ حجت کاباعث بھی ہے اورانسانوں میں زیادہ قوی تربیتی اثر بھی رکھتاہے ۔
بہرحال قرآن مجید نے پیغمبر( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے امور کوجو کہ مسئلہ شہادت وبشارت ونذ ارت ہیں. تین عمدہ اوصاف کے عنوانوں کے ساتھ بیان کیاہے ، تاکہ یہ ان وظائف اورذمہ داریوں کے لیے ایک مقدمہ اورتمہید ہو، جوبعد والی آ یت میں بیان ہوئی ہیں۔
بعد والی آ یت میں پیغمبر کے گذ شتہ بیان کردہ اوصاف کے ایک مقصد اورنتیجہ کے عنوان سے پانچ اہم احکام بیان ہوئے ہیں ، جن سے دو حکم توخدا کی اطاعت اور اس قسم کی تسبیح وتنزیہ میںہیں ، اور تین احکام مقام ِ پیغمبر کی تعظیم ، اوران کی اطاعت ودفاع کے بارے میں ہیں، فرماتاہے : مقصد یہ ہے کہ خدا اوراس کے رسُول پرایمان لے آ ئو ، داور دشمنوں کے مقابلہ میں اس کادفاع کرو ، اوراس کی عزّت و احترام و تکریم کرو اورصبح وشام خدا کی تسبیح وتقدیس کرو (لِتُؤْمِنُوا بِاللَّہِ وَ رَسُولِہِ وَ تُعَزِّرُوہُ وَ تُوَقِّرُوہُ وَ تُسَبِّحُوہُ بُکْرَةً وَ أَصیلاً) ۔
تعزّروہ تعزیر کے مادہ سے دراصل منع کے معنی میں ہے ،اس کے بعد دشمن کے مقابلہ میں ہر قسم کے دفاع اورنصرت ومدد کرنے کرنے پراطلاق ہونے لگا ،بعض سزائوں کوبھی ، جوگناہ سے روکتی ہیں، تعزیر کہا جاتاہے ۔
تو قّروہ توقیر کے مادہ سے جس کی اصل وقر ہے سنگینی کے معنی میں ہے ،اس بناء پر یہاں توقیر تعظیم وتکریم کے معنی میں ہے ۔
اس تفسیر کے مطابق وہ ضمیر یں جو تعزّروہ اور تو قّروہ میںآ ئی ہیں وہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات کی طرف لوٹتی ہیں، اور اس کامقصد دشمن کے مقابلہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حمایت اور دفاع کرنااور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعظیم وتکریم کرناہے ،(اس تفسیر کو شیخ طوسی نے تبیان میں اور قرطبی نے مجمع البیان میں اور بعض دوسرے علماء نے اختیار کیاہے ۔
لیکن مفسرین کی ایک جماعت (٣) کانظر یہ یہ ہے، کہ آ یت کی تمام ضمیریں خداکی طرف لوٹتی ہیں، اوعر تعزیر وتوقیر سے مراد یہاں خداکے دین کی نصرت ومدد کرناہے اوراس کی اوراس کے دین کی تعظیم وتکریم کرناہے ، اس تفسیر کے اختیار کرنے میں اِن کی دلیل آ یت میں موجُود تمام ضمیر وں کاہم آہنگ ہوناہے ۔
لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے ، کیونکہ اوّلاً :تعزیر کااصلی معنی دشمنی کے مقابلہ میں دفاع کرنااور اُسے روکنا ہے ، جوخدا کے بارے میں مجازی صورت کے علاوہ صحیح نہیں ہے ، اوراس سے زیادہ اہم آ یت کاشان نزول ہے ،جوحدیبیہ کے واقعہ کے بعد نازل ہوئی ہے ، جبکہ بعض لوگوں نے پیغمبر کے اعلیٰ مقام اور مرتبہ کے سلسلے میں بے حرمتی کی تھی ، اور آ یت پیغمبر کے سامنے مسلمانوں کوان کے وظائف اور ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرنے کے لیے نازل ہوئی تھی ۔
علاوہ ازیں اس بات کو بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ یہ آ یت گذشتہ آ یت کے ایک نتیجہ کے عنوان سے ہے ، جوپیغمبر کی شاھد و بشیر و نذیر کے عنوان سے تعریف وتوصیف کرتی ہے ، اوریہ امران احکام کے لیے .جو بعدوالی آیت میں بیان ہُوئے ہیں. زمین ہموار کرتی ہے گویاتمہید کے طورپر ہے ۔
ّآخر ی زیر بحث آ یت میں بیعت رضوان کے مسئلہ کی طرف ایک مختصر سااشارہ ہے ،جواسی سُورہ کی آ یت ١٨ میں زیادہ تفصیل کے طورپر آ یاہے ۔
اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ : جیساکہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ مشہور تاریخوں کے مطابق آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس خواب کے بعد جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھا تھا ١٤٠٠ افراد کے ساتھ تمرہ انجام دینے کے ارادہ سے مدینہ سے نکلے ، مکّہ کے قریب مشرکین نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور آپ کے اصحاب کومکّہ میں داخل ہونے سے روکنے کامصمم ارادہ کرلیا، پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اورآپ کے اصحاب سرزمین حدیبیہ میں ٹھہرگئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اورقریش کے درمیان سفیروں کاآناجاتا ہوا یہاں تک کہ صلح حدیبیہ کی قرار داد انجام پائی ۔
ان امورمیں ایک مرتبہ عثمان مامور ہُوئے کہ وہ اہل مکّہ تک یہ پیغام پہنچائیں کہ آپ جنگ کے ارادہ سے نہیں آ ئے اور آپ کاارادہ صرف خانہ ٔ خدا کی زیارت ہے ، لیکن مشرکین نے وقتی طورپر عثمان کوروک لیا، اوراسی سبب سے مسلمانوں کے درمیان قتل عثمان کی خبر پھیل گئی ، اوراگر اس طرح کی بات صحیح ہوتی تویہ قریش کی طرف سے اعلان ِ جنگ کی دلیل ہوتی ، لہٰذا پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب تک ہم اس قوم سے نمٹ نہ لیں ہم یہاں سے نہیں جائیں گے ، اوراس اہم امر پر تاکید کے لیے لوگوں کو دعوت دی کہ آپ سے تجدید بیعت کریں ، مسلمان وہاں پرموجودایک درخت کے نیچے جمع ہُوئے اورآنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیعت کی ، کہ ہر گز میدان سے نہیں بھاگیں گے ، اور جس حدتک ان میں تاب وتواں ہے ،دشمن کے قطع قمع کرنے میں کوششیں کریں گے ۔
اس بات کی خبر مشرکین مکّہ کے کانوں تک پہنچی تواس نے ان کے دلوں میں ایک رعب اوروحشت پیدا کر دی اور اسی سبب سے وہ اس ناپسند یدہ صلح کے لیے تیار ہوگئے ۔
اس بیعت کواس بناء پر بیعت رضوان کہاجاتاہے ۔
کیونکہ اسی سُورہ کی آ یت ١٨ میں آ یاہے :
لَقَدْ رَضِیَ اللَّہُ عَنِ الْمُؤْمِنینَ ِذْ یُبایِعُونَکَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ۔
خدامؤ منین سے جب وہ اس درخت کے نیچے تیری بیعت کررہے تھے . راضی ہوگیا ۔
بہرحال قرآن مجید زیربحث آ یت میں کہتاہے :
جو لوگ تیری بیعت کرتے ہیں حقیقت میں وہ خدا کی بیعت کرتے ہیں ، اور خدا کاہاتھ ان کے ہاتھ کے اُوپر ہے (ِنَّ الَّذینَ یُبایِعُونَکَ ِنَّما یُبایِعُونَ اللَّہَ یَدُ اللَّہِ فَوْقَ أَیْدیہِمْ ) ۔
بیعت کسی شخص کی فرمانبرداری او راطاعت کے لیے عہدو پیمان باندھنے کے معنی میں ہے ، اور یہ رسم چلی آ رہی تھی کہ جوشخص اطاعت کا عہدو پیمان باندھتا تھاتووہ اپناہاتھ پیشوااور رہبر کے ہاتھ میں دے دیتاتھا ،اور وفاداری کے عہدو پیمان کااس طریقہ سے اظہار کیاکرتاتھا ۔
اور چونکہ معاملہ اوربیعکے وقت بھی ہاتھ میں ہاتھ دیتے تھے ، اور معاملہ کی قرار داد باندھتے تھے ، اس لیے بیعت کالفظ ان عہدو پیمان پراطلاق ہونے لگا، خصوصاًیہ کہ وہ اپنے عہدو پیمان میں گوا یااپنی جان کااس شخص کے ساتھ معاملہ کررہے ہیں ۔
اور یہیں سے (خدا کاہاتھ ان کے ہاتھ کے اُوپر ہے )کامعنی واضح ہوجاتاہے ، یہ تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پیغمبر کی بیعت ایک بیعت الہٰی ہے ،گویاخدا کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے اوپر قرار پا یا، نہ صرف پیغمبرسے بلکہ انہوںنے یہ خدا سے بیعت کی ہے اوراس قسم کے کنایے عربی زبان میں معمولات میں سے ہیں۔
اس بناء پر جن لوگوںنے اس جُملہ کی اس طرح تفسیر کی ہے کہ خدا کی قدرت ان کی قدرت سے مافوق ہےیا خداکی نصرت و مدد لوگوں کی نصرت و مدد سے برتر ہے اور اسی قسم کی دوسری تفسیریں آ یت کے شان ِ نزول اوراس کے مفاد سے کوئی مناسبت نہیں رکھتیں ، اگرچہ یہ مطلب بذات ِ خودایک صحیح مطلب ہے ۔
اس کے بعد مز یدکہتاہے ، جوشخص نقض عہد اور پیمان شکنی کرے گا ، اور حقیقت وہ اپنے ہی نقصان میں پیمان شکنی کرے گا اوراپنے عہد و پیمان کوتوڑ ے گا (فَمَنْ نَکَثَ فَِنَّما یَنْکُثُ عَلی نَفْسِہ) ۔
اورجوشخص ا س عہدوپیمان کے مقابلہ میں جواس نے خدا کے ساتھ باندھاہے ، وفاداررہے گا اور بیعت کاحق ادا کرے گاتوخدااُسے اجر ِ عظیم دے گا (وَ مَنْ أَوْفی بِما عاہَدَ عَلَیْہُ اللَّہَ فَسَیُؤْتیہِ أَجْراً عَظیما)(٤) ۔
نکث نکث ( بر وزن مکث کے مادہ سے کھولنے اوراُلٹا ہٹا دینے کے معنی میں ہے .اس کے بعد پیمان شکنی ، اور نقض ِعہد کے لیے استعمال ہونے لگا ( ٥) ۔
اس آ یت میں قرآن مجید تمام بیعت کرنے والوں کو خبردار کررہاہے ، کہ اگر وہ اپنے عہدو پیمان پربرقرار رہیں توان کے لیے اجر ِ عظیم ہوگا، لیکن اگروہ اس کو توڑ دین ،تواس کانقصان خودا نہیں کوہوگا وہ یہ خیال نہ کرلیں کہ وہ خدا کوکوئی نقصان پہنچاتے ہیں ، بلکہ معاشرے کی بقاء اور اپنی عظمت و قدرت وقوّت یہاں تک کہ پیمان شکنی کی وجہ سے اپنے وجود کوخطرے میں ڈالتے ہیں ۔
ایک حدیث میں امیر المو منین علی علیہ السلام سے روایت ہے :
ان فی النّار لمد ینة یقال لھا الحصینة ،افلاتسئلونی نا فیھا ؟فقیل لہ :مافیھا یاامیر المؤمنین ؟ قال فیھا ایدی النا کثین ! :۔
جہنم میں حصینہ نامی ایک شہر ہے کیاتم مجھ سے نہیں پوچھوگے کہ اس شہر میں کیاہے ؟کسی نے عرض کیا:اے امیر المو منین اس شہر میں کیاہے ؟فرمایا:پیمان شکنی کرن والوں اورعہد توڑ نے والوں کے ہاتھ ہیں ۔
اسلام میں بیعت کاموضوع یہاں تک کہ قبل ازاسلام اس کاوجود اس کی کیفیت اور اس کے بارے میں شرعی احکام ایک طویل بحث چاہتے ہیںجو انشاء اللہ اسی سورہ کی آ یت ١٨ میں آ ئے گی ۔
١۔ نورالثقلین ، جلد ٤،صفحہ ١١٢۔
٢۔ "" قیامت کی عدالت کے گواہوں "" کے بارے میں ایک بحث ہم نے سورۂ حٰم سجدہ کی آ یت ٢٠ .٢١ کے ذیل میں بھی کی ہے ۔
٣۔ "" زمخشری "" نے "" کشاف "" میں "" آلوسی "" نے "" رُوح المعانی "" میں "" فیض کاشانی "" نے "" صافی "" میں اور "" علامہ طباطبائی نے "" المیزان "" میں اس تفسیر کوقبول کیاہے ۔
٤۔اس بات پر توجہ رکھنی چاہیئے کہ اوپر والی آ یت میں "" علیہ "" خلاف معمول "" ھا"" کی پیش کے ساتھ پڑھاجاتاہے .بعض مفسرین نے اس کی توجیہ میں اس طرح بیان کیاہے ، کہ یہ وہی "" ھو""کی "" ھا "" ہے ، جو اصل میں مفہوم ہے اور "" وائو "" کے حذف ہونے کے بعد کبھی مضموم آ تی ہے .جیسے "" لہ ""اور "" عنہ ""اور کبھی اس بناء پر کہ اس کے پہلے "" یا"" ہے مکسور آ تی ہے ، مثلاً " " علیہ "" لیکن چونکہ زیر بحث آ یت میں اس کے بعد لفظ "" اللہ "" آ یاہے اس لیے مضمون پڑھی گئی ہے تاکہ "" اللہ "" میں جو "" لام "" ہے .اس کی تضخیم کے ساتھ زیادہ سازگار ہو۔
٥۔"" نکث"" نون کی زبر کے ساتھ مصدری رکھتاہے اور "" نکث "" نون کسرہ کے ساتھ اسم مصدر کے معنی رکھتاہے ۔
اسی سے واضح ہے کہ عہد شکنی ونقصِ بیعت اسلام میں کس قدر قبیح ہے ( ۶) ۔
۶۔ بحارالانوار ،جدل ٦٧ ١٨٦۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma