فتح مبین کا ایک اور نتیجہ

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22
شیعہ اوراہل سنّت مفسرین کی ایک جماعت نے نقل کیاہے ، کہ جس وقت اس سُورہ کی ابتدائی آ یات میں پیغمبر اسلام کوفتح مبین ، اتمام نعمت ،ہدایت اور نصرت کی بشارت دی گئی ، توبعض مسلمانوں نے جو حوادث حدیبیہ سے دل تنگ اور پریشان تھے ، عرض کیا۔
ھنیئا لک یارسول اللہ !لقد بین اللہ لک ماذ ایفعل بک ،فما یفعل بنا ؟
فنزلت : لید خل المُؤمنین و المُؤ منات ...۔
اے خدا کے رسول پر تمام خدائی نعمتیں آپ کومبارک، خدا نے جوکچھ آپ کو دیاہے یاد ے گا اُسے تواس نے بیان کردیاہے ،ہمیں وہ کیا دے گا ؟اس موقع پرپہلی زِیر بحث آ یت نازل ہوئی ، اور مومین کوبشار ت دی کہ ان کے لیے بھی بڑا ثواب اوراجر ِ عظیم ہے (١) ۔
بہرحال یہ آ یات اس طرح صلح حدیبیہ سے مربوط لوگوں کے افکار میں مختلف عمل ، اوراس کے وزنی نتائج کے بارے میں گفتگو کررہی ہیں ،اور ہر گروہ کی سرنوشت کواس عظیم آزمائش کی بھٹی میں مشخص کرتی ہیں۔
پہلے فرماتاہے کہ اس عظیم فتح کادوسرا مقصد یہ تھاکہ صاحب ایمان مردوںاور عورتوں کوجنت میں داخل کرے ، جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں (لِیُدْخِلَ الْمُؤْمِنینَ وَ الْمُؤْمِناتِ جَنَّاتٍ تَجْری مِنْ تَحْتِہَا الْأَنْہارُ) ۔
وہ ہمیشہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے ، اور یہ عظیم نعمت ہر گز ان سے چھینی نہیں جائے گی (خالِدینَ فیہا ) ۔
اس کے علاوہ یہ مقصد بھی تھا کہ ان کے بُرے اعمال پرپردہ ڈال دے اور انہیں معاف کردے (وَ یُکَفِّرَ عَنْہُمْ سَیِّئاتِہِم) ۔
اور یہ خداکے نزدیک ایک عظیم کامیابی ہے (وَ کانَ ذلِکَ عِنْدَ اللَّہِ فَوْزاً عَظیماً )(٢) ۔
اس طرح سے خدانے ان چار نعمتوں کے مقابلہ میں،جوفتح مبین میں اپنے پیغمبرکودیں .دوعظیم نعمتیں مومنین پر بھی ارزانی فرمائیں ،بہشت جاودانی اپنی تمام نعمتوں کے ساتھ، اور عفو ودرگزران کی لغز شوں سے،یہ اس روحانیاطمینان اور سکون کے علاوہ ہے ،جوانہیںاس دنیا میں عطا فرمایاہے ، اوران تینوں نعمتوں کامجموعہ ایک فوز عظیم یعنی بہت بڑی کامیابی ہے ، ان لوگوں کے لیے جو اس امتحان کی کٹھالی سے صحیح وسالم باہر نکل آ ئے ۔
لفظ فوز جس کا قرآن مجید میں عام طور پر عظیم کی صفت کے ساتھ ذکر ہوا ہے ،اور بعض اوقات مبین اور کبیر کے ساتھ بھی آ یا ہے ،
مفردات میں راغب کے قول کے مطا بق کامیابی اور خیرات کاسلامتی کے ساتھ حصُول ہے .اور یہ اُسی صورت میں ہے کہ اس میں آخرت کی نجات بھی ہو، اگرچہ مادی دنیا کی نعمتوں کے کھو بیٹھنے کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو ۔
ایک مشہور روایت کے مطابق جب امیر المؤ منین علی علیہ السلام کافرقِ مبارک محرب عبادت میںخطا کار زمانہ عبدالرحمن بن ملجم کی شمشیر سے شگافتہ ہوا توآپ نے بأ واز بلند فرمایا :
فز تُ و ربّ الکعبُة
کعبہ کے رب کی قسم میں کامیاب ہوا ۔
(اور میرے سعادت مانہ پرمیر ے خون سے دستخط ہوگئے ہیں ) ۔
ہاں بعض اوقات پر ورد گار کے امتحانات ایسے سخت اور طاقت فرسا ہوتے ہیں جو کمز ورایمان والوں کوجڑ سے اکھاڑ پھینک دیتے ہیں اور ان کے دلوں کواُلٹ دیتے ہیں .صرف سچے مومنین ہی جوسکینہ اور اطمینان کی نعمت سے بہرہ مند ہوتے ہیں . مقابلہ مین ڈٹتے ہیں ، اور وہ قیامت میں اس کے ثمرات و نتائج سے بھی بہرہ مند ہوں گے ، اور واقعاً یہ ایک فوز عظیم ہے ۔
لیکن اس گروہ کے مقابلہ میں بے ایمان منافقین ومشرکین کاایک گروہ تھا . جن کی سرنوشت کی بعد والی آ یت میں اس طرح تصویرکشی ہوئی ہے،: دوسرا مقصد یہ ہے منافق مردوںاور عورتوں اور مشر ک مردوں اور عوتوں کی سزا دے (وَ یُعَذِّبَ الْمُنافِقینَ وَ الْمُنافِقاتِ وَ الْمُشْرِکینَ وَ الْمُشْرِکات) ۔
وہی کہ جوخدا کے متعلق بُراگمان کرتے تھے :( الظَّانِّینَ بِاللَّہِ ظَنَّ السَّوْء ِ ) ۔
ہاں ! پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اور مومنین کی مدینہ سے روانگی کے وقت یہ گمان رکھتے تھے کہ یہ گروہ ہرگزصحیح وسالم مدینہ پلٹ کرنہیں آ ئے گا ،جیساکہ اسی سُورہ ٔ کی آیہ ١٢ میں بیان ہواہے بَلْ ظَنَنْتُمْ أَنْ لَنْ یَنْقَلِبَ الرَّسُولُ وَ الْمُؤْمِنُونَ ِلی أَہْلیہِمْ أَبَداً ۔
اور مشرکین بھی یہی گمان رکھتے تھے کہ محمد اس تھوڑی سی جمعیّت کے ساتھ ، اورکافی اسلحہ نہ رکھنے کی وجہ سے صحیح وسالم مدینہ کی طرف نہیں لوٹیں گیے ، او راسلام کاستارہ بہت جلد غروب ہوجائے گا ۔
اس کے بعد عذاب اور سزا کی وضاحت کرتے ہُوئے چار عنوانوں کے تحت اس کی تشریح کرتاہے۔
فر ماتاہے ، حوادث اور بُر ے اثرت ونتائج صرف اسی گروہ پرنازل ہونگے (عَلَیْہِمْ دائِرَةُ السَّوْء)(٣) ۔
دائرة لغت میں حوادث اوران روئیدادوں کے معنی میں ہے جوانسان کوپیش آ تی ہیں . چاہے وہ اچھی ہوں یابُری ،لیکن یہاں لفظ سوء کے ذکر کرنے کی وجہ سے نا مطلوب جوادث ہی مراد ہیں ۔
دوسرے یہ کہ خدانے ان پرغضب کیاہے (وَ غَضِبَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ ) ۔
اورانہیں خدانے اپنی رحمت سے بھی دور کردیاہے (وَ لَعَنَہُمْ ) ۔
اور آخر میں ان کے لیے ابھی سے جہنم فراہم کررکھی ہے اوروہ کیاہی بُرا انجام ہے (وَ أَعَدَّ لَہُمْ جَہَنَّمَ وَ ساء َتْ مَصیراً)(٤) ۔
قابل ِ توجہ بات یہ ہے کہ میدان حدیبیہ میں زیادہ ترمسلمان مرد تھے ، اوران کے مقابل میں بھی منافق ومشرک مرد تھے ، لیکن اوپر والی آ یات میں قرآن نے اس فوزِ عظیم اوراس عذاب الیم میں عورتوں اورمردوں کومشترک شمارکیاہے ، یہ اس بناء پر ہے کہ باایمان مرد جو میدان جنگ میں حاضر ہوتے ہیں ، صاحبِ ایمان عورتوں کی پشتیبانی کے بغیر اوراسی طرح منافق مرد منافق عورتوں کی ہمکاری کے بغیر اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکتے ۔
اصولی طورپر اسلام مردوں ہی کادین نہیں ہے ، کہ عورتوں کی شخصیّت کو نظر انداز کردے ،لہٰذا ہراس مقام پر جہاںعورتوں کے نام کانہ ہوناکلام میں انحصاری مفہوم پیداکرتاہو وہاں عورتوں کاذکر صراحت کے ساتھ پیش کرتاہے،تاکہ معلوم ہوجائے کہ اسلام کا تعلق تمام انسانوں سے ہے ۔
آخر ی زیر بحث آ یت میں ایک مرتبہ پھر خدا کی قدرت کی عظمت کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے کہتاہے آسمانوں و زمین کے لشکر اورفوجیں خداہی کے لیے ہیں .اور خدا عزیز وحکیم ہے (وَ لِلَّہِ جُنُودُ السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ وَ کانَ اللَّہُ عَزیزاً حَکیماً) ۔
یہ بات ایک مرتبہ اہل ایمان کے مقامات اورنعمتوں کے ذیل میں بیان ہوچکی ہے ، اورایک مرتبہ یہاںمنافقین اور مشرکین کے عذاب اور سزائوں کے ذیل میں آ ئی ہیں تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ وہ خداجس کے زیر فرمان آسمانوں اور زمین کے سارے لشکر ہیں وہ اس پر بھی قدرت رکھتاہے اوراس پر بھی اسے نوانائی حاصل ہے . جس وقت اس کا دریا ئے رحمت موجزن ہوتاہے توجن میں لیاقت وشا ئستگی ہوتی ہے ، وہ جہاں کہیں بھی ہوں ان کے شامل حا ل ہوتاہے ، اور جس وقت اس کے قہرو عضب کی آگ شعلہ زن ہو توپھر کسی مجرم میں یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ فرار کرسکے ۔
قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ مومنین کے ذکر کے وقت خداکی علم وحکمت کے ساتھ توصیف ہوئی ہے ،جومقام ِ رحمت کے ساتھ مناسب ہے،لیکن منافق ومشرک لوگوں کے لیے خدا کی قدرت وحکمت کے ساتھ توصیف ہوئی ہے ،جومقام عذاب کے ساتھ مناسب ہے ۔
آسمانوںاور زمین کے لشکر وں سے کیا مراد ہے ؟
یہ لفظ ایک وسیع معنی رکھتاہے ، جوخداکے فرشتون کے لشکروں کو بھی شامل ہے ،اور صاعقہ زلزلوں طوفان سیلابوں امواج اور دوسری غیر مرئی طاقتوں کے لشکروں کوبھی ، جن سے ہم آگاہی نہیں رکھتے ، کیونکہ یہ سب اللہ کے لشکرہیں اوران کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں ۔
١۔ تفسیر "" مراغی "" جلد ٢٦ ،صفحہ ٨٥ وتفسیر ابو الفتوح رازی "" جلد ١٠ ،صفحہ ٢٦ وتفسیر روح المعانی ،جلد ٢٦ صفحہ ٨٦۔
٢۔اس بیان کے مطابق "" لید خل "" اوراسی طرح "" یعذب"" کاجُملہ جوبعد والی آ یت میں آ ئے گا "" لیغفر"" کے جُملہ پر عطف ہے . مفسر ین کے ایک گروہ نے منجملہ : شیخ طوسی نے "" تبیان "" میں اور "" طبرسی "" نے "" مجمع البیان ""میں اورابو الفتوح رازی نے اپنی تفسیر میں اسی معنی کو انتخاب کیاہے ،جبکہ ایک دوسرے گروہ نے "" لیرز دادو اایماناً "" پر عطف سمجھاہے ،حالانکہ نہ وہ اوپر والے شان نزول ہے ہم آہنگ ہے اور نہ ہی کفّار کی سزا اور مجازات کے ساتھ ۔
٣۔ ""سوء "" بر وزن "" نوع""""صحاح اللغتہ "" کے قول کے مطابق مصدری معنی رکھتاہے ،اور "" سوء "" بروزن "" کور"" اسمِ مصدر کے معنی میں ہے .لیکن بقول کشاف دونوں کاایک ہی معنی ہے ۔
٤۔ "" مصیرا"" مختلف حالات کے معنی میں ہے ،جس تک انسان یکے بعد دیگر سے پہنچتا ہے ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma