٢۔ "" ماتقدم "" اور "" ماتأ خّر "" سے کیا مراد ہے ؟

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22
زیر بحث آ یت میں یہ بیان ہُوا ہے کہ خدافر ماتاہے : فتح مبین کے سایے میں تیرے پہلے گناہ بھی اورآیندہ کے گناہ بھی بخشش دیئے ہیں، اس بارے میں کہ متقدم اورمتأ خر (پہلے اور آیندہ کے ) سے کیا مراد ہے ، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے ۔
بعض نے ماتقد م کوآدم وحوا کے عصیان اورترکِ اولیٰ کی طرف اشارہ سمجھاہے ،اور ماتأ خّر کو امت کے گناہوں کی طرف ۔
بعض دوسروں نے ما تقدم کونبوّت سے قبل کے مسائل سے مربُوط جاناہے ، اور ماتأ خّر کونبوّت سے بعد کے ساتھ مربوط سمجھاہے ۔
بعض نے ماتقدم کو ان ( گناہوں ) سے جوصلح حدیبیہ سے پہلے ہُوئے تھے ، اور ماتأ خّر کواُن سے جوصلح کے بعد ہُوئے ، مربُوط سمجھاہے ۔
لیکن اس تفسیر کی طرف توجہ کرتے ہُوئے ،جوہم نے آ یت کے اصل معنٰی کے ب ارے میں خاص طور پر صلح حدیبیہ کے مسئلہ کے ربط میں . بیان کی ہے ، یہ واضح ہوجاتاہے کہ اس سے مراد و ہ تمام ناروا نسبتیں اور گناہ ہیںجو وہ اپنے گمان کے مطابق پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی طرف گزشتہ زمانے میں منسُوب کرتے رہتے تھے یاآیندہ کرتے ، اوراگریہ عظیم کامیابی نصیب نہ ہوئی ہوتی تو وہ ان تمام گناہوں کوقطعی و یقینی خیال کرلیتے ، لیکن اس کامیابی کے حصول کے ساتھ گذشتہ نا روا نسبتیں بھی ختم ہوگئیں ،اوروہ بھی جن کے بارے میں ممکن تھا کہ آ آ یندہ نسبت دیتے ۔
اس تفسیر کاایک دوسراشاہدوہ روایت ہے ، جوامام علی ابن مُوسیٰ الرضا علیہ السلام سے منقول ہوئی ہے کہ مامون نے جس وقت اس آ یت کے متعلق سوال کیا توامام علیہ السلام نے جواب میں فرمایا :
مشرکین مکّہ کے نزدیک کسی شخص کاگناہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ سنگین نہیں تھا، کیونکہ وہ ٣٣٠بتوں کی پرستش کیاکرتے تھے ، جس وقت پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں توحید کی طرف دعوت دی توان پر بہت گراں گزرا ،اورانہوںنے کہا: کیااس نے ہمارے سب خدا ئوں کوایک خدامیں تبدیل کردیاہے ؟ یہ تو ایک عجیب بات ہے ... ہم نے ہرگز اس قسم کی کوئی بات اپنے آبائو اجداد سے نہیں سُنی ، یہ توایک بہت بڑا جُھوٹ ہے ۔
لیکن جس وقت خدانے (صلح حدیبیہ کے بعد ) اپنے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے فتح کردیا ،توخدا نے فرمایا، اسے محمد ہم نے تیر ے لیے فتح مبین فراہم کی ہے تاکہ توحید کی طرف دعوت دینے کی بناء پر مشرکین عرب کے نزدیک جتنے گناہ تونے پہلے کیے تھے یا آ یندہ کرے گا ان سب کوبخش دیا،کیونکہ بعض مشرکین مکّہ تواس دن ایمان لاچکے تھے ، اور بعض مکّہ سے باہر نکل گئے تھے .اورایمان نہیں لائے تھے ،لیکن ان میں اب توحید کاانکار کرنے کی جرأ ت باقی نہیں رہی تھی، لہٰذاپیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا گناہ ان کی نظر میں بھی کامیابی کی بناء پر بخشا گیا، جس وقت مامون نے یہ سُنا تو کہا بارک اللہ ، اے ابوالحسن( ١) ۔
 ١۔ نورالثلقین ، جدل ٥،صفحہ ٥٦)۔ 
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma