صلح حدیبیہ کے سیاسی، اجتماعی اور مذہبی نتائج

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22
ہجرت کے چھٹے سال( صلح حدیبیہ کے وقت ) مسلمانوں کی حالت میں اور دوسال بعد کی حالت میںفرق نمایاں تھا جب وہ دس ہزار کے مسلح لشکر کے ساتھ فتح مکّہ کے لیے چلے تاکہ مشرکین کو پیمان شکنی کاواندان شکن جواب دیاجائے ،چنانچہ انہوںنے فوجوں کومعمولی سی جھڑ پ کے بغیر ہی مکّہ کوفتح کرلیا ، اس وقت قریش اپنے اندرمقابلہ کرنے کی معمولی سی قدرت بھی نہیں رکھتے تھے .ایک اجمالی موازنہ اس بات کی نشان دہی کرتاہے کہ صلح حدیبیہ کاعکس العمل کس قدر وسیع تھا ۔
خلاصہ کے طورپر مسلمانوں نے اس صلح سے چند امتیاز اوراہم کامیابیاں حاصل کیں ، جنکی تفصیلی حسب ذیل ہے ۔
١۔ عملی طورپر مکّہ کے فریب خوردہ لوگوں کویہ تبادیاکہ وہ جنگ وجدال کاارادہ نہیں رکھتے ،اور مکّہ کے مقدس شہر اورخانہ ٔخداکے لیے بہت زیادہ احترام کے قائل ہیں، یہی بات ایک کثیر جماعت کے دلوں کے لیے اسلام کی طرف کشش کاسبب بن گئی ۔
٢۔ قریش نے پہلی مرتبہ اسلام اور مسلمانوں کورسمی طورپر تسلیم کیا، یہی وہ چیز تھی جو جزیرة العرب میں مسلمانوں کی حیثیت کو ثابت کرنے کی دلیل بنی ۔
٣۔ صلح حدیبیہ کے بعد مسلمان سکون واطمینان کے ساتھ ہرجگہ آجاسکتے تھے اوران کاجان و مال محفوظ ہوگیاتھا ، اورعملی طورپر مشرکین کے ساتھ قریبی تعلق اور میل جول پیدا ہوا ، ایسے تعلقات جس کے نتیجہ میں مشر کین کواسلام کی زیادہ سے زیادہ پہچان کے ساتھ ان کی توجہ اسلام کی طرف مائل ہوئی ۔
٤۔ صلح حدیبیہ کے بعداسلام کی نشر و اشاعت کے لیے سارے جزیرة العرب میں راستہ کھل گیا ، اور پیغمبر کی صلح طلبی کی شہرت نے مختلف اقوام کو . جو پیغمبر کی ذات اوراسلام کے متعلق غلط نظر یہ رکھتے تھے .تجدید نظر پر آ مادہ کیا، اور تبلیغاتی نقطۂ نظر سے بہت سے وسیع امکانات و وسائل مسلمانوں کے ہاتھ آ ئے ۔
٥۔ صلح حدیبیہ نے خیبر کوفتح کرنے اور یہودیوں کے اس سرطانی عدّہ کونکال پھینکنے کے لیے ،جو بالفعل اور بالقوّہ اسلام اور مسلمانوں کے لیے ایک اہم خطرہ تھا . راستہ ہموار کردیا۔
٦۔ اصولی طورپر پیغمبر کی ایک ہزار چارسوافراد کی فوج سے ٹکرلینے سے قریش کووحشت .جن کے پاس کسی قسم کے اہم جنگی ہتھیار بھی نہیں تھے . اور شرائط صلح کوقبول کرلینا ، اسلام کے طرف داروں کے دلوں کی تقو یت ،اور مخالفین کی شکست کے لیے جنہوںنے مسلمانوں کوستایا تھاخود ایک اہم عامل تھا ۔
٧۔ واقعہ حد یبیہ کے بعد پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے بڑ ے بڑے ملکوں ، ایران د ر وم وحبشہ کے سربراہوں اور دُنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں کو متعدد خطوط لکھے اورانہیں اسلام کی طرف دعوت دی اور یہ چیز اچھی طرح سے اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صلح حدیبیہ نے مسلمانوں میں کِس قدر خود اعتماد ی پیدا کردی تھی ، کہ نہ صرف جزیرہ عرب میں بلکہ اس زمانہ کی بڑی دُنیا میں ان کی راہ کوکھول دیا۔
اب ہم آ یات کی تفسیر کی طرف لوٹتے ہیں
اب تک جوکچھ بیان کیاگیاہے ، اس سے یہ بخوبی معلوم کیاجاسکتاہے ،کہ واقعہ صلح حدیبیہ اسلام اور مُسلمانوں کے لیے ایک عظیم فتح اور کا میابی تھی ، اور یہ تعجب کی بات نہیں ہے کہ قرآن مجید سے فتح مبین کے عنوان سے یاد کرتاہے ۔
اس کے علاوہ اور بھی بہت سے قرائن ہمارے پاس ہیں جواس تفسیر کی تائید کرتے ہیں ۔
١۔ فتحناکاجُملہ فعل ماضی کی صورت میں ہے ، یہ اس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ یہ امر ان آ یات کے نزول کے وقت پورا ہوچکاتھا، جبکہ اس وقت صلح حدیبیہ کے علاوہ اورکوئی چیزنہیں ہوئی تھی ۔
٢۔ان آیات کے نزول کازمانہ جس کی طرف اوپر اشارہ ہوچکاہے ،اوراس سورہ کی دوسری آ یات ،جوصلح حدیبیہ کے سلسلہ میں مومنین کی مدح اورمنا فقین و مشرکین کی مذمت کررہی ہیں اس مطلب کے لیے ایک دوسری تائید ہے ۔
اس سور ہ کی آ یت ٢٧ جوپیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے رُو یائے صادقہ (سچّے خواب )کی تاکید کررہی ہے ،وہ یہ کہتی ہے : یقینا تم عنقر یب مسجد الحرام میں انتہائی امن وسکون کے ساتھ داخل ہوگئے اور آخر مناسک عمرہ بجالائو گے یہ اس بات کی ایک شاہد ہے کہ یہ سورہ اور اس کامضمون حد یبیہ کے بعد اور فتح مکّہ سے پہلے کاتھا۔
٣۔ بہت سی روایات میں صلح حدیبیہ کا فتح مبین کے عنوان سے تعارف ہواہے ،منجملہ ان کے یہ ہے :
تفسیر جوامع الجوامعمیں آ یاہے کہ جس وقت پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)حدیبیہ سے واپس لوٹے ( اور سورۂ فتح نازل ہوئی )توایک صحابی نے عرض کیا:
ما ھذاالفتح لقد صدد ناعن البیت وصد ھدینا۔
یہ کیافتح ہے کہ ہمسیں خانۂ خدا کی زیارت سے بھی روک دیاہے اورہماری قربانی میں بھی رکاوٹ ڈال دی ؟ !
پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
بئس الکلا م ھذا ، بل ھوا عظم الفتوح، قدرضی المشر کون ان ید فعو کم عن بلا د ھم با لراع ، و یسئلو کم القضیة ، روغبوا الیکم فی الامان وقد رأو امنکم ما کرھوا !:
تونے بہت بُری بات کہی ہے ، بلکہ یہ توہماری عظیم ترین فتح ہے کہ مشرکین اس بات پرراضی ہوگئے ہیں کہ تمہیں خشونت آمیز طریقہ سے ٹکرلیے بغیر اپنے سرزمین سے دُور کریں ، اورتمہارے سامنے صلح کی پیش کش کریں اور ان تمام تکالیف اور رنج وغم کے باوجود جو تمہاری طرف سے انہوں نے اٹھائے ہیں ،ترکِ تعرض کے لیے تمہاری طرف مائل ہُو ئے ہیں ( 1) ۔
اس کے بعد پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے وہ تکالیف جوانہوںنے بدر واحزاب میں جھیلی تھیں یاو دلائیں ، تومسلمانوںنے تصدیق کی یہ سب سے بڑی فتح تھی اورانہوں نے لاعلمی کی بناء پر یہ فیصلہ کیاتھا ( 2) ۔
زھری جوایک مشہور تابعی ہے ،کہتاہے : کوئی بھی فتح صلح حدیبیہ سے زیادہ عظیم نہیں تھی ،کیونکہ مشرکین نے مسلمانوں کے ساتھ ارتباط او ر تعلق پیداکیا ،اوراسلام ان کے دلوں میںجاں گزیں ہوا ، اورتین ہی سال کے عرصہ میں ایک عظیم گروہ اسلام لے آیا اور مسلمانوں میں ان کی وجہ سے اضافہ ہوا (3) ۔
ان احادیث میں، ان امتیازا ت کے ایک گوشہ کی طرف ،جوصلح حدیبیہ کی برکت سے مسلمانوں کونصیب ہوئے اشارہ ہواہے ۔
صرف ایک ہی حدیث میں امام علی ابن موسی الرضا علیہ السلام سے آ یاہے کہ انّا فتحنا فتح مکہکے بعد نازل ہوئی (4) ۔
لیکن چونکہ صلح حدیبیہ دوسال بعد مکّہ کی فتح کے لیے ایک مقدمہ اورتمہید تھی لہذا اس حدیث کی توجیہ میں کوئی مشکل نہیں ہوگی ۔
یاودوسر ے لفظوںمیںصلح حدیبیہ مختصر سی مدّت میں فتح خیبر کاسبب بنی ( جوہجرت کے ساتویں سال ہوئی )اوراس سے تھوڑ ا ساآگے فتح مکّہ کاسبب بنی،اور دُنیا کے تمام علاقوں میں لوگوں کے دلوں میںنفوذ کرنے کے لحاظ سے اسلا م کی کامیابی کاسبب ہوئی ۔
گو یااس طرح سے چاروں تفاسیر کوجمع کیاجاسکتاہے ،اس شرط کے ساتھ کہ ان سب کامحور اصلی صلح حدیبیہ ہی کو قرار دیا جائے ۔
1۔ ""جوامع الجوامع "" (نورالثقلین،جلد ٥ ،صفحہ ٤٨ .حدیث ٩ کے مطابق ) ۔
2۔ "" تفسیر دُو المنثور "" جلد ٦ ،صفحہ ٦٨۔
3۔ "" مذ کورہ مدرک صفحہ ١٠٩۔
4۔ نورالثقلین ،جلد ٥،صفحہ ٤٨۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma