داستان صُلح حدیبیہ

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22
چھٹی ہجری کے ماہ ذی قعدہ میںپیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرہ کے قصد سے مکّہ کی طرف روانہ ہُوئے ،اورتمام مسلمانوں کواس سفر میں شرکت کاشوق دلایا ، اگرچہ ایک گروہ کنارہ کش ہوگیا ، مگرمہا جرین وانصار اور باد یہ نشین اعراب کی ایک کثیر جما عت آپ کے ساتھ مکّہ کی طرف روانہ ہوگئی ۔
یہ جمعیت جو تقریباً ایک ہزار چارسو افراد پر مشتمل تھی ،سب کے سب نے لباس احرام پہنا ہواتھا ،اور تلوار کے علاوہ ،جومسافروں کااسلحہ شمارہو تی تھی .کوئی جنگی ہتھیار اپنے ساتھ نہ لیاتھا ۔
جب پیغمبر مکہ کے نزدیکی مقام عسفان پہنچے توآپ کواطلاع مکی کہ قریش نے یہ پختہ ارادہ کر لیاہے کہ آپ کومکّہ میں داخل نہ ہونے دیں گے ،یہاں تک کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) حدیبیہ میں پہنچ گئے ( حدیبیہ مکّہ سے بیس کلو میڑ کے فاصلہ پر ایک بستی ہے ،جو ایک کنویں یادرخت کی مناسبت سے اس نام سے موسوم تھی ) حضرت (صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم ) نے فرمایا کہ تم سب اسی جگہ رُک جائو ،لوگوں نے عرض کیا کہ یہاں توکوئی پانی نہیں ہے ، پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معجزنہ طورپر اس کنویں سے جو وہاں تھا ،اپنے اصحاب کے لیے پانی فراہم کیا ۔
اسی مقام پر قریش اور پیغمبر کے دمیان سفراء آ تے جاتے رہے تاکہ کسِی طرح سے مشکل حل ہوجائے ،آخر کار ، عروہ ابن مسعود ثقفی جوایک ہوشیار آدمی تھا ، قریش کی طرف سے پیغمبر کی خدمت میں حاضر ہوا ،پیغمبر نے فرمایا مین جنگ کے ارادہ سے نہیں آ یااور میرا مقصد صرف خانہ ٔ خدا کی زیارت ہے ، ضمناً عروہ نے اس ملاقات میں پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے وضوء کرنے کا منظر بھی دیکھا ،کہ صحابۂ آپ کے وضوء کے پانی کاایک قطرہ بھی زمین پر گرنے نہیں دیتے تھے ، جب وہ واپس لوٹو تو اس نے قریش سے کہا: میںقیصر وکسرٰی اورنجاش کے دربار میں گیا ہوں .میں نے کسی سربراہ مملکت کواس کی قوم کے درمیان اتنابا عظمت نہیں دیکھا ، جتنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی عظمت کو ان کے اصحاب میں دیکھا ہے .اگرتم یہ خیال کرتے ہوکہ وہ محمد کو چھوڑ جائیں گے تویہ بہت بڑی غلطی ہوگی ، دیکھ لو تمہارا مقابلہ ایسے ایثار کر نے والوں کے ساتھ ہے .یہ تمہارے لیے غوروفکر کامقام ہے ۔
اسی دوران پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمر سے فرمایا کہ وہ مکّہ جائیں ، اور اشراف قریش کواس سفر کے مقصد سے آگاہ کریں ،عمر نے کہاکہ قریش مجھ سے شدید دشمنی رکھتے ہیں ،لہٰذا مجھے ان سے خطرہ ہے ،بہتر یہ ہے کہ عثمان کواس کام کے لیے بھیجاجائے ، عثمان مکّہ کی طرف آ ئے ، تھوڑ ی دیر نہ گز ری تھی کہ مسلمانوں کے درمیان یہ افواہ پھیل گئی کہ ان کو قتل کردیاہے .اس موقع پر پیغمبر نے شدّتِ عمل کاارادہ کیا اور ایک درخت کے نیچے جووہاں پرموجُود تھا ، اپنے اصحاب سے بیعت لی ، جو بیعت رضوان کے نام سے مشہور ہوئی ، اوران کے ساتھ ،عہدو پیمان کیاکہ آخری سانس تک ڈٹیں گے ، لیکن تھوڑ ی دیر نہ گز ری تھی کہ عثمان صحیح وسالم واپس لوٹ آ ئے اوراُن کے پیچھے پیچھے قریش نے سہل بن عمر کو مصالحت کے لیے پیغمبر کی خدمت میں بھیجا ، لیکن تاکید کی ایک سال کسی طرح بھی آپ کامکّہ میں ورود ممکن نہیں ہے ۔
بہت زیادہ بحث وگفتگو کے بعد صلح کاعہدوپیمان ہوا ، جس کی ایک شق یہ تھی کہ مسلمان اس سال عمرہ سے باز رہیں اور آ ئندہ سال مکّہ میں آ ئیں ،اس شرط کے ساتھ کہ تین دن سے زیادہ مکّہ میں نہ رہیں ،اور مسافرت کے عام ہتھیار کے علاوہ اور کوئی اسلحہ اپنے ساتھ نہ لائیں ، اور دوسرے متعدد مواد جن کا دارو مداران مسلمانوں کی جان و مال کی امنیّت پرتھا ، جومدینہ سے مکّہ میں وارد ہوں اور اسی طرح مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان سال جنگ نہ کرنے اور مکہ میں رہنے والے مُسلمانوں کے لیے مذہبی فرائض کی انجام دہی بھی اس میں شامل کی گئی تھی ۔
پر پیما ن حقیقت میں ہر جہت سے ایک عدم تعرض کاعہدو پیمان تھا، جس نے مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان مسلسل اور باربار کی جنگوں کو وقتی طورپر ختم کردیا ۔
صلح کے عہدو پیمان کامتن اس طرح تھاکہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے علی علیہ السلام کوحکم دیاکہ لکھو :
بسم اللہ الرحمن الرحیم سہل بن عمر نے ، جو مشرکین کانمائندہ تھا، کہا : میں اس قسم کے جملہ سے آشنانہیں ہوں ، لہذا ،بسمکِ اللّٰھم لکھو !
پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فر مایا : بسمک اللّٰھم ۔
اس کے بعدفرمایا : لکھو ! یہ وہ چیزہے جس پر محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے سہل بن عمر و سے مصالحت کی سہل نے کہا: ہم اگر
آپ کو رسول اللہ سمجھتے توآپ سے جنگ نہ کرتے ، صرف اپنا اوراپنے والد کانام لکھیئے ، پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کوئی حرج نہیں لکھو یہ وہ چیز ہے جس پرمحمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) بن عبداللہ نے سہل بن عمرو سے صلح کی ، کہ دس سال تک دونوں طرف سے جنگ متروک رہے گی تاکہ لوگوں کوامن وامان کی صورت دوبارہ میسر آ ئے ۔
علاوہ ازیں جوشخص قریش میں سے اپنے والی کی اجازت کے بغیر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے پاس آ ئے ( اور مسلمان ہوگئے ) اسے واپس کردیں اورجوشخص ان افراد میں سے جو محمد کے پاس ہیں قریش کی طرف پلٹ جائے تواس کی واپس لوتانا ضروری نہیں ہے ۔
تمام لوگ آزاد ہین جوچاہے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے عہد و پیمان میں داخل ہواور جو چاہے قریش کے عہدوپیمان میں داخل ہو ،طرفین اس بات کے پابند ہیں کہ ایک دوسرے سے خیانت نہ کریں (اورایک دوسرے کے جان و مال کومحترم شمار کریں ۔
اس کے علاوہ محمد اس سال واپس چلے جائیں اورمکّہ میں داخل نہ ہوں ، لیکن آیندہ سال ہم تین دن کے لیے مکّہ سے باہر چلے جائیں گے اوران کے اصحاب آ جائیں ،لیکن تین دن سے زیادہ نہ ٹھہر یں ( اورمراسم عمرہ کو انجام دے کرواپس چلے جائیں ) اس شرط کے ساتھ کہ سوائے مسافر کے ہتھیار یعنی تلوار کے .وہ بھی غلاف میں .کوئی اورہتھیار ساتھ نہ لائیں ۔
اس پیمان پر مسلمانوں اور مشرکین کے ایک گروہ نے گواہی دی اور اس عہد نامہ کے کاتب علی بن ابی طالب علیہ السلام تھے ( 1) ۔
مرحوم علامہ مجلسی نے بحا رالانوار میں کچھ اورامور بھی نقل کیے ہیں ،منجملہ ان کے یہ کہ :
اسلام مکّہ میں آشکار ہوگااورکسی کوکسی مذہب کے انتخاب کرنے پرمجبور نہیں کریں گے ، اور مسلمانوں کی اذیت و آزا ر نہیں پہنچائیں گے ( 2) ۔
اس موقع پر پیغمبر نے حکم دیاکہ قربانی کے وہ اونٹ جووہ اپنے ہمراہ لائے تھے ، اسی جگہ قربان کردیں اوراپنے سروں کومنڈ وائیں ، اور احرام سے باہر نکل آئیں ، لیکن یہ بات کچھ مسلمانوں کوسخت ناگوار معلوم ہوئی ،کیونکہ عمرہ کے مناسک کی انجام دہی کے بغیران کی نظر میں احرام سے باہر نکل آ ناممکن نہیں تھا ، لیکن پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے ذاتی طورپر خود پیش قدمی کی اورقربانی کے اونٹوں کونحرکیا اوراحرام سے باہر نکل آ ئے اورمسلمانوں کوسمجھایا کہ یہ احرام وقربانی کے قانون میں ایک استثناء ہے جوخدا کی طرف سے قرار دیاگیاہے ۔
مُسلمانوں نے جب یہ دیکھا توسر تسلیم خم کردیا ،اور پیغمبر کاحکم کامِل طورسے مان لیا ،اور وہیں سے مدینہ کی راہ لی ،لیکن غم و اندوہ کاایک پہاڑ ان کے دلوں پر بوجھ ڈال رہاتھا کیونکہ ظاہر میں یہ سارے کاسارا سفر ایک ناکامی اور شکست تھی ،لیکن اس بات کی خبرنہیں تھی کہ صلح حدیبیہ کی داستان کے پیچھے مسلمانوں اوراسلام کے لیے کتنی کامیابیاں چھپی ہوئی ہیں .اسی وقت سورۂ فتح نازل ہو ئی اور پیغمبر گرامی ٔ اسلام کوفتح عظیم کی بشارت مِلی ( 3) ۔
1۔ تاریخ طبری جلد ٢ ،صفحہ ٢٨١ (کچھ تلخیص کے ساتھ ) ۔
2۔ بحارالانوار جلد ٢٠ ،صفحہ ٣٥٢۔
3۔ سیرة ابن ہشام : جلد ٣،صفحہ ٣٢١ ،٣٢٤ ،"" تفسیر مجمع البیان "" "" تفسیر فی ظلال "" کامل ابن اثیر جلد ٢ ،اور دوسرے مدرک نے بہت زیادہ تلخیص کے ساتھ ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma