4۔ اسلام اور غلامی :

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 21

اگرچہ قرآن مجید مین جنگی قیدیوں کے ” استر قاق “ (غلام بنانے ) کامسئلہ ایک حتی حکم کے عنوان سے بیان نہیں ہوا لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ قرآن پاک میں غلاموں کے احکام بھی بیان ہوئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ صدرِ اسلام اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں بھی غلام تھے ، جیسے غلام کے ساتھ از دواج ، محرم ہونے یا ” مکا تبت “ (غلا موں کی آزادی کے لیے عہدو پیمان ) کے احکام وغیرہ ، جو قرآن مجید کی متعدد آیات میں بیان ہُوئے ہیں ، مثلاً سُورہ ٴ نساء ، سُورہ موٴ منون ،سُورہ ٴ نحل ، سُورہ ٴ نور ، سُورہٴ رو م اور سُورہ احزاب کی آیات ۔
یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ اسلام پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام نے اپنی تمام اعلیٰ تعلیمات اورانسانی اقدار کوبلند کرنے کے با وجُود غلامی کے مسئلے پربطور کلی خطِ تنسیخ کیوں نہیں کھینچا اورایک دوٹوک اور عمومی حُکم کے ذ ریعے تمام غلاموں کی آزادی کا اعلان کیوں نہیں کیا؟
یہ ٹھیک ہے کہ اسلام نے غلاموں کے بارے میں بڑی شفارش کی ہے ،لیکن سب سے ا ہم بات ان کی غیر مشرُوط آزادی ہے،آخر ایک انسان دوسرے انسان کا مملُوک اور بندہ کیوں ہو اور آ زادی جوخدا کی بہترین نعمت اور قدرت کابہترین عطیہ ہے اس سے وہ کیوں بہرہ مند نہ ہو ۔
ایک مختصر جملے میں اس کاجواب یہ دیاجاسکتا ہے کہ اسلام نے غلاموں کی آزادی کے لیے ایک جچا تلا اورایک شیڈول پرمبنی پرو گرام دیا ہے کہ جس کے مطابق وہ آہستہ آہستہ آزادی کی نعمت سے مالا مال ہوجاتے ہیں اوراسی طرح کی آزادی سے معاشر ے پر بھی کوئی خوشگوار اثر نہیں پڑتا ۔
لیکن اس اسلامی منصوبے کی تشریح اور تفصیل سے پہلے ہم مقدمے کے طورپر یہاں پرقار ئین کی توجہ چند نکات کی طرف مبذول کراتے ہیں ۔
۱۔ اسلامی غلامی کامُوجد ہرگز نہیں ہے :
یہ بات مسلّم ہے کہ غلامی کی ایجاد اسلام نے نہیں کی ، بلکہ وہ اس وقت ظہور پذیر ہوا جب ساری دُنیا میں غلامی کادور دورہ تھا اورغلامی انسانی معاشرے میں رچ بس چکی تھی ، حتّٰی کہ اسلام کے بعد تک بھی غلامی کارواج جاری رہا اورآج سے تقریباً ایک صدی قبل اس وقت تک تھا جب غلاموں کی آزادی کی تحریک شروع نہیں ہو ئی تھی ، کیونکہ انسانی زندگی کے نظام کی تبدیل سے غلام بنانے کی پرانی روش اب قابلِ قبول نہیں رہی تھی ۔
غلامی کے خلاف جدّ و جہد سب سے پہلے پورپ سے شروع ہوئی ، پھراس کادائرہ ، امریکی اور ایشیائی ملکوں تک بھی پھیل گیا۔
انگلستان میں ۱۸۴۰ء تک ، فرانس میں ۱۸۴۸ ء تک ، ہالینڈ میں ۱۸۶۳ء تک اورامیریکہ ۶۵ ۱۸ ء تک غلامی کاسلسلہ جاری رہا، آخر کار بر سیلنیر میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ایک مشتر کہ اعلامیے کے ذ ریعے ساری دنیا میں غلامی کے سلسلے کوختم کرنے کاتہیہ کرلیاگیا او ر یہ ۱۸۹۰ ء کی بات ہے ( یعنی تقریباً سوسال سے بھی کم عرصہ گزارا ہے ) ۔
۲۔ اس دور میں غلامی کے انداز بدلے گئے ہیں :
یہ ٹھیک ہے کہ اہل یورپ غلامی کے خاتمے کے لیے پیش قدم ثابت ہُوئے ،لیکن جب اسے مسئلے پرذراغور وفکر سے کام لیاجائے تومعلوم ہوگا کہ غلامی کانہ صرف خاتمہ ہی نہیں ہوا ، بلکہ یہ پہلے سے زیادہ خطر ناک اور وحشت ناک صورت میںظا ہر ہوئی ہے ، یعنی قوموں کے استعمار اور مُلکوپر سامرا جیّت کی صُورت میں ، وہ اس طرح سے کہ انفرادی غلام جتنا جتنا کمزور ہوتی گئی اجتماعی غلامی اور سامرا جیّت اسی قدر افز وں تر اور قوی تر ہوتی گئی ، بر طانوی شہنشا ہیّت اگرانفرادی غلامی کے خاتمے کے لیے پیش قدم ہے تواستعمار اور سامراجیّت کے لیے بھی پیش گام دکھائی دیتی ہے۔
مغربی سامراجیوں نے اپنے سامراجی تسلط کے دو ران جن جرائم کا ارتکاب کیا ہے وہ صرف غلامی کے دورائے کے جرائم سے کم نہیں بلکہ وسعت اور شدّت کے لحاظ سے اس سے چار قدم آ گے دکھائی دیتے ہیں ۔
حتّٰی کہ سامراج کے چنگل سے آزاد ہونے والے ملکوں میں قوموں کی غلامی کاسلسلہ پھر بھی جاری رہا ،غلامی سے یہ آزادی ایک نام نہاد سیاسی آزادی تھی ، جب کہ آج بھی سا مراج کے چنگل سے آزاد ہونے والے ملکوں اور دوسرے کئی ملکوں میں بھی اقتصادی اورثقافتی غلامی اوراستعمار کی حکمرانی ہے ۔
یہ صورت حال کمیونسٹ ملکوں میں توخصوصیّت کے ساتھ جاری ہے ، آزادی کادم بھر تے اور غلامی کے خاتمہ کے لیے دوسروں س زیادہ شورمچاتے ہیں حالانکہ وہ خودایک شرمناک قسم کی بر دہ داری میں گرفتار ہیں ۔
جولوگ ان ملکوں میں رہتے ہیں وہ غلاموں کے مانند بالکل بے اختیار ہیں اوران ملکوں کے باشندوں کے تمام اختیار کمیو نسٹ پارٹی کے لیڈ روں کے ہاتھ میں ہیں ، اگرکوئی شخص اختلاف رائے کا اظہار کرتا ہے تواسے یاتوجبر ی کام کے مراکز میں بھیج دیاجاتا ہے یاپھرزندا ن کی کال کوٹھڑ یوں میں بند کردیاجاتا ہے اوراگراس کاشمار دانشو روں میں ہوتواِسے نفساتی مریض قرار دے کرپاگل خانے میں بھیج دیاجاتا ہے ۔
مختصر یہ غلامی نام کے تابع نہیںہے ، جو چیز ناپسند یدہ اور بری ہے وہ ہے اصل غلامی اوراس کاحقیقی مفہوم اورہرایک کومعلُوم ہے کہ یہ مفہوم سامراجی تسلط میں موجُود اور کمیونسٹ ممالک میں بدترین صُورت میں موجُود اور معمُول ہے ۔
خلاصتہ الکلام یہ کہ آج کی دُنیا میںغلامی کے خاتمے کی ایک ظا ہری صُورت تھی جس نے حقیقت میں ایک نئی صُورت اختیار کرلی ہے ۔
۳۔ ماضی میں غلاموں کادردناک انجام :
تاریخی لحاظ سے غلاموں کی ایک نہایت دردناک تاریخ ہے اوروہ ساری زندگی اند وہناک انجام سے دوچار ہوتے رہے ہیں ، مثال کے طورپر ( srarta ) کے غلاموں کے تاریخ کولے لیجئے جوکہ بزعم خودایک متمدن قوم تھی ، کتاب ” روح القوانین “ کے مصنف کے بقول ( sparta) کے غلام اس قدر مصیبت زدہ تھے کہ ان میں سے کوئی بھ غلام کسِی فر د واحد کاغلام نہیں ہوتاتھابلکہ تمام معاشر ے کاغلام ہوتا تھا اورہر شخص کسی بھی قانونی خوف کے بغیر اپنے یاکسِی دوسرے کے غلام کوجتنا چا ہتا دُکھ اور ایذا ئیں پہنچا تا، درحقیقت اس معاشر کے غلاموں کی زندگی حیوانات سے بھی بدترتھی ۔
جب کسِی پسماندہ ملک سے غلاموں کاشکار کیا جاتاتھا ،شکار کے وقت سے لے کر منڈ یوں تک لانے کے عرصے میں بہت سے غلام مرجایا کرتے تھے ، جوبچ جاتے تھے وہ لالچی بردہ فروشوں کی کمائی کاذ ریعہ بنتے تھے ، انہیں کھانے کوصراس حد تک دیاجاتا کہ جس سے وہ جسم اوررُوح کارشتہ بحال رکھ سکتے اور اکام بجا لاتے تھے جب وہ بوڑھے ہوجاتے یاکسِی جان لیوا بیماری کاشکار ہو جاتے توانہیں ان کے حال پر چھوڑ دیاجاتا ہے اور وہ تڑپ تڑپ کرمرجاتے لہذا تاریخی طورپر غلامی کانام اپنے ساتھ ہولناک جرائم کی ایک تفصیلی داستان رکھتا ہے ۔
یہ چند موٹے موٹے نکات اجمالی طورپر بیان کرنے کے بعد ہم اسلام کے غلاموں کو بالتد ریج آزاد کرنے کے منصوبے پر قدر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہیں ۔
۴۔غلاموں کی آزادی کے لیے اسلام کامنصوبہ :
جس چیز پرعام طور سے زیادہ توجہ نہیں دی جاتی وہ یہ ہے کہ اگر کوی غلط نظام کسی معاشر میں رواج پاجائے تواسے ختم کرنے کے لیے ایک مدّت درکار ہوتی ہے اوراس سلسلے میں کوئی بھی اقدام جوسوچے سمجھے منصوبے کے بغیر کیاجائے اس کا نتیجہ اُلٹا نکلتا ہے ،بالکل ویسے ہی جیسے کوئی شخص کسی خطرناک بیماری میں مبتلا ہوجائے اور اس کی یہ بیماری اپنی انہتا تک پہنچ چکی ہو ، یاجیسے کوئی شخص کسِی بُری عادت کاشکار ہوجائے اوراس کی یہ عادت سالہاسال ہے اِس میں راسخ ہوچکی ہوتوایسے حالات میں ایک تد ریجی شیڈ ول کی ضرورت ہوتی ہے ، جس کے تحت اس کا علاج کیاجاتا ہے تب کہیں جاکر کامیابی حاصل ہوتی ہے ۔
زیادہ واضح الفاظ میں یو ں کہیں کہ اگراسلام ایک عمومی حکم کے ذ ریعہ اس زمانے کے تمام غلاموں کی آزاد ی کاحکم دے زیادہ آبادی غلاموں کی تھی ، جن کانہ توکوئی مستقل ذ ریعہٴ معاش تھا، نہ سیرچھپا نے کے لیے اپناگھر اور نہ ہی پیٹ پالنے اور زندہ رہنے کے لیے کوئی اور ذ ریعہ ۔
اگرایک مقررہ دن اور مقر رہ وقت پروہ سب آزاد ہوجاتے تو معاشرے کا ایک بہت بڑا حِصّہ بے کار اور بے روز گار ہوجاتا جِس سے ایک توان کی اپنی زندگی خطرے میں پڑ جاتی اور دوسرے ممکن تھا کہ معاشر ے کے نظم ونسق میں خلل پڑ جاتا اور جب ہرطرف سے انہیں مایوسیوں اور محرو میوں کاسامنا کرناپڑتا تووہ ہرایک پرحملہ آور ہوتے جس سے خانہ جنگی اور خوں ریزی کازبردست اندیشہ تھا۔
اسی لیے ضروری معلوم ہوا ہے کہ غلاموں کوتدریجی طورپر آ زاد کیا جائے تاکہ وہ ماحول اور معاشر ے میں رچ بس جائیںجس سے نہ توانہیںخود کو کسِی قسم کاخطرہ ہو اور نہ ہی معاشرے کے لیے امن وامان کامسئلہ کھڑا ہو، لہذا اسلام نے بھی ٹھیک اسی سوچے سمجھے منصُوبے کواپنا یا ہے ۔
اس قسم کے منصوبے کو کئی طرح سے عملی جامہ پہنانے کاحکم دیاگیا ہے ، جس کے ا ہم پہلوؤں کوہم وفعات کی صورت میں فہرست واربیان کرتے ہیں البتہ اس کی تفصیل کے لیے ایک مستقل کتاب کی ضر ورت ہے ۔
دفعہ (۱) ” غلامی کی بیخ کنی “تاریخی لحاظ سے غلامی کے کئی مختلف اسباب مِلتے ہیں ،صرف جنگ ہی میں گرفتار ہونے والے قیدیوں کوغلام نہیں بنایاجاتاتھا ،بلکہ جومقروض اپنا قرض ادانہیں کرسکتے تھے انہیں بھی غلام بنالیا جاتاتھا ، اس سے بھی بڑھ کریہ کہ زور ،غلبہ اور طاقت بھی غلام بنانے کے اسباب تھے ، طاقت درمُلک مختلف اسلحہ سے مسلح کرکے اپنے افراد افریقہ اوراس جیسے دوسرے پسماندہ مُلکوں میں بھیجتے تھے اور وہ وہاں پر جاکر ٹولیوں اور گروہوں کی صُورت میں انسانوں کاشکار کرتے تھے اورانہیںقیدی بناکر کشتیوں کے ذ ریعے ایشیائی اورپوربی ممالک کی منڈ یوں میں جا کر بیچ ڈالتے تھے ۔
اسلام نے ان تمام مسائل کی روک تھام کی ہے اور صرف ایک مو قعہ پرغلام بنانے کی اجازت دی ہے اوروہ ہے ، جنگی قیدیوں کے بارے میں اور وہ بھی ضروری طورپر نہیں بلکہ جیساکہ ہم مندرجہ بالا آیات کی تفسیر میں بتاچکے ہیں ، اس بات کی اجازت بھی دے دی تھی کہ یا توانہیں غیرمشر وط طورپر رہاکردیں یافدیہ لے کر چھوڑ دیں ۔
اس زمانے میں قید خانے نہیں ہوتے تھے کہ جنگی قیدیوں کوان کا انجام واضح ہونے تک قید خانوں میں رکھ جاتالہٰذا اس کے سواکوئی چارہ نہیں تھاکہ انہیں مختلف کنبوں میں تقسیم کرکے ، غلاموں کی صورت میں ان کی نگہداشت کی جاتی ۔
ظا ہر ہے کہ جب مذ کورہ صُورت تبدیل ہوجائے توپھرکوئی وجہ نہیں کہ اسیروں کے بارے میں امام المسلمین غلامی کاحکم صادر کرے وہ ” من “ اور” فداء “ کے ذ ریعے سے انہیں آزاد کرسکتا ہے ،کیونکہ اسلام نے مسلمانوں کواس بارے میں اجازت دے رکھی ہے کہ وہ مصلحت کوپیش نظر رکھتے ہُوئے مذکورہ صورتوں میں سے کوئی ایک اپنا لیں ، اس طرح اسلام میں غلامی کا راستہ تقریباً بند ہوجاتا ہے ۔
دفعہ (۲)آزادی کی را ہیں :اسلام نے غلاموں کوآزاد کرنے کا ایسا وسیع منصوبہ تشکیل دیا ہے کہ اگر مُسلمان اس پرعمل کرتے تو سب کے سب غلام تدریجاً اور نہایت ہی قلیل مدّت میں آ زاد ہو جاتے اوراسلامی معاشرے میںگھل مِل کراس کا جزوبن جاتے ، اس منصوبے کے چیدہ چیدہ اُصول یہ ہیں :
ا۔اِسلام میں زکوٰة کے آٹھ مصرف ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس سے غلام کوخرید کرآزاد کر وایا جائے ( ملاحظہ ہو سورہ توبہ / ۶۰) ۔
اس طرح سے اسلامی بیت المال میں ایک مستقل اور دائمی حِصّہ مقرر کیاگیا ہے تاکہ غلاموں کی مکمل آزادی کاسلسلہ جاری رہے ۔
ب۔اس مقدس کوپایہ ٴ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اسلام میں کچھ قوانین وضع کیے گئے ہیں جن کی رُوسے غلام اپنے آقاسے ایک طرح کاسمجھوتہ کرتا ہے اورعہد وپیمان باند ھتا ہے جس کی رُو سے وہ اپنی محنت ومشقت سے حاصل کی ہوئی رقم سے آزاد ہوجاتا ہے ،( اس بارے میں اسلامی فقہ میں ” مکاتبة “ کے عنوان سے ایک مستقل فصل موجود ہے ) ( 1) ۔
ج۔ اسلام میں غلاموں کی آذادی کوبہترین عبادات میں سے اور عملِ خیر قرار دیاگیا ہے اوراس بارے میں پیشوایان اسلام پیش پیش نظرآتے ہیں جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام کے حالات میں موٴ رخین نے لکھا ہے کہ :
” اعتق الفاً من کدیدة “۔
” آپ نے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے ایک ہزار غلام آزاد کیے “ (۲) ۔
د۔ اسلام کے عظیم رہبر اورآئمہ اطہار علیہم السلام بہانے سے غلاموں کوآزاد کردیاکرتے تھے تاکہ اس طرح وہ غلا موں کی آزادی کے لیے دوسرے لوگوں کے لیے نمونہ قر ار پائیں ،چنانچہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے ایک غلام نے ایک معمولی سا اچھا کام انجام دیاتوامام علیہ السلام نے اسے فر مایا:
” اذھب فانت حرفانی اکرہ ان استخدم رجلاً من اھل الجنّة “ ۔
” جاؤ ! تم آزاد ہو ،کیونکہ مجھے یہ با ت اچھی نہیں لگتی کہ اہل ِ بہشت میں سے کسی سے خدمت لوں “ (۳) ۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے حالات میں مِلتا ہے کہ :
” آپ کاغلام آپ علیہ السلام کے سر پرپانی ڈال رہاتھا کہ پانی کابرتن اس کے ہاتھ سے گِرا جس سے آپ مجرُوح ہوگئے ، امام نے اپناسر اوپر اُٹھا یاتواس نے یہ قرآنی آیت پڑھی ، ” و الکاظمین الغیط “حضرت نے فر مایا” میں نے اپنا غُصّہ پی لیا “ اس نے کہا ” والعافین عن النّاس “امام نے فرمایامیں نے تجھے معاد کردیا ،خدا بھی تجھے معاف کرے “، اس نے فوراً کہا” واللہ یحب المحسنین “ توامام علیہ السلام نے فر مایا ” جاؤ ! را ہ ِ خدا میں تُم آزاد ہو“(۴) ۔
ھ ۔بعض اسلامی روایات میں ہے کہ ساتھ سال کے بعد غلام خود بُخود آزاد ہوجاتا ہے ، جیساکہ حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام فر ماتے ہیں :
” من کان موٴ مناً فقد عتق بعد سبع سنین ، اعتقہ صاحبہ ام لم یعتقہ ولایحل خد مة کان موٴ مناً بعد سبعة سنین “۔
” مومن غلام سات سال کے بعد خود بخود آزاد ہوجاتا ہے ،خوا ہ اس کامالک اسے آ زاد کرے یانہ کرے اورسات سال کے بعد مومن غلام سے خدمت لیناجائز اورحلال نہیں ہے (۵) ۔
اسی باب میں رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک حدیث بھی درج کی گئی ہے ، آپ فرماتے ہیں :
” مازال جبرئیل یوصینی بالمملوک حتّٰی ظننت انہ سیضرب لہ اجلا یعتق فیہ “۔
” مجھے غلاموں کے بارے میں جبرائیل بار بار سفارش کرتے رہے ہیں ، جس سے میں یہ سمجھنے لگا کہ بہت جلد ان کی آزادی کی تاریخ مقرر کردیں گے کہ جس میں وہ آزاد کردیئے جائیں گے (۶) ۔
و۔ جوشخص کسی مشترک غلام کواپنے حِصّے کی نسبت آزاد کردے ، اس پر فرض بن جاتا ہے کہ بقیہ حِصّے کی خریداری کرکے اسے آزاد کرے (۷) ۔
جوشخص اپنے تمام غلام کے کچُھ حِصّے کوآزاد کردے تویہ آزادی اس کے تمام حصّو ں میں سرایت کرجاتی ہے اوروہ خود بخود مکمل طورپر آزاد ہوجاتا ہے (۸) ۔
ز ۔ جوشخص اپنے والد یا والدہ یانانا یانانی یادادا یادادی یا اولاد یاچچا یاپھوپھی ، ماموں یاخالہ یابھائی یابہن یابھتیجے یابھانجے یابھتیجی یابھانجی کامالک بن جائے تووہ فوراً آزاد ہوجاتے ہیں ۔
ح ۔جب آقا کی اپنی کنیز سے کوئی اولاد ہوجائے تو اس کنیز کافروخت کرناجائز نہیں ہے اوراپنی اولاد کے حِصّے سے وہ فوراً آزاد کردی جائے ۔
یہ صورت حال بہت سی کنیزوں کی آزادی کاسبب بن جاتی تھی کیونکہ وہ اپنے آقاؤں کی بیوی کی حیثیت سے ہوتی تھیں اوران سے صاحب اولاد ہوجاتی تھی ۔
ط ۔ اسلام میں بہت سی خلاف ورزیوں کاکفّارہ غلاموں کی آذادی مقرر کیاگیا ہے (مثال کے طورپر قتل خطاء ، روزے کوجان بُوجھ کرنہ رکھنا اورقسم وغیرہ کے کفار ے ) ۔
ی۔ کئی ایسی سخت سزائیں ہیں کہ اگرآقا اپنے غلام کو وہ سزائیں دے توغلام خود بخود آزاد ہوجاتا ہے (۹ ) ۔
دفعہ(۳)غلاموں کی شخصیت کا احیاء :اسلام نے اس درمیانی مدّت کے لیے غلاموں کے حقوق کے احیاء کے لیے وسیع اقدامات کیے ہیں جووہ اسلامی منصُوبے کے تحت آزادی کے لیے طے کررہے ہوتے ہیں ایسے اقدامات کے تحت جہاں ان کے حقوق کا احیاء مقصُود ہوتا ہے وہاں ان کی انسانی شخصیّت کے احیاء کوبھی پیشِ رکھاگیا ہے تاکہ انسانی شخصیّت کے لحاظ سے آزاد اورغلام کافرق مٹ جائے ، اسی لیے اسلام نے انسانی شخصیّت کامعیار ” تقوٰے “قراردیا ہے ، اسی لیے غلاموں کوبھی اجازت دی گئی کہ ہر قسم کے ا ہم معاشرتی مناصب حتی کہ قاضی جیسے نہایت ا ہم عہدے پر بھی فائز ہوسکتے ہیں ( 10) ۔
عصررسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )میں لشکر کی سپہ سالاری سے لے کر دوسرے ا ہم ترین اورحساس ترین عہدوں پر غلام یا آزاد کردہ غلام فائز رہے ہیں ۔
رسُول اعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بہت سے دوست اورصحابی یاتو غلام تھے یا آزاد غلام تھے اوران میں سے بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جوبزرگانِ اسلام کے معاون ومددگار کی حیثیت سے کام کرتے تھے اوراس بارے میں سلمان فارسی ” رضی اللہ عنہ ‘ ‘ عمّار یاسر ” رضی اللہ عنہ “اور قنبر ” رضی اللہ عنہ “جیسے صحابیوں کا نام لیا جاسکتا ہے ۔
” غزدہ بنی مصطلق “ کے بعد رُسول پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اس قبیلے کی ایک آزاد شدہ کنیز سے از دواج فرمایا اوریہ بات اس قبیلے کے تمام گرفتارشدہ قیدیوں کی آزادی کابہانہ بن گئی ۔
دفعہ (۴) ۔غلاموں سے انسانی سلُوک :اسلام میں غلاموں کے ساتھ نرمی برتنے اوران کے ساتھ مدا رات اورحسنِ سلُوک کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے ،حتّٰی کہ انہیں اپنے آ قاؤں کے ساتھ زندگی میں حِصّے دار بھی بنایا گیا ہے ، جیساکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں :
” جس شخص کا بھائی اس کے زیر ِدست ہے ، اسے چا ہیئے کہ جوکچھ وہ خود کھاتا ہے ویسا ہی اسے کھلائے ، جوخود پہنتا ہے اسے بھی ویسا پہنائے اوراس کی طاقت سے زیادہ اس سے کام نہ لے ( 1۱) ۔
حضرت علی علیہ السلام اپنے غلام قنبرسے فرما یا کرتے تھے :
” مجھے خداسے شرم آتی ہے کہ میں تجھ سے اچھالباس پہنوں ،کیونکہ رسول ِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)فرمایا کرتے تھے جوکچُھ تم خود پہنتے ہوویسا ہی انہیں پہناؤ اورجوتم خود کھاتے ہو ، ویسا ہی انہیں کھلاؤ (1۲) ۔

امام جعفر صادق علیہ السلام فرمایا کرتے تھے :
” میر ے والد جب کسی غلام کوکسی کام کے بجالانے کاحکم دیتے تو اگروہ کام مشکل ہوتاتوپہلے خُودبسم اللہ کہہ کراسے انجام دیتے اور اس کی امداد کیا کرتے تھے ( 1۳) ۔
اس تدریجی اور عبوری عرصے کے دوران غلاموں کے بار ے میں اسلام کے حسن سلُوک کاحکم ا س حد تک ہے کہ اسلام سے اجنبی افراد بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے اوراس کی تعریف کی ہے۔
مثال کے طورپر جر جی زیدان ( عیسائی موٴ رّخ اپنی کتاب تاریخی تمدن میںلکھتے ہیں :
” اسلام ،غلاموں کے ساتھ حد سے زیادہ مہربان ہے ،پیغمبر اسلام نے غلاموں کے بارے میں بڑی تاکید کی ہے ، یہاں تک کہ پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسل) کاکہنا ہے : جن کاموں کی بجا آواری غلاموں کے بس کی بات نہیں وہ ان کے ذمے نہ لگائے جائیں ، جوکچھ تم کھاتے ہو ویسا ہی غلاموں کوکھلاؤ“۔
ایک اورموقع پرفرماتے ہیں :” اپنے غلاموں کوکنیز یاغلام نہ کہو ، بلکہ انہیں میرابیٹا اور میری بیٹی کہہ کر بلایا کرو “۔
قرآن نے بھی غلاموں کے بار ے میں بڑی عمدہ سفارش پیش کی ہیں ، چنانچہ کہتا ہے :
” خدا کی عبادت کرو ، اس کاشریک مت ٹھہراؤ ماں باپ ، قریبی رشتہ دا روں، یتیموں ،بے نواؤں ،نزدیک اور دور کے ہمسایوں، دوستوں بے خانمان لوگوں اور غلاموں کے ساتھ حسن سلُوک کیا کرو ،خداخود پسند لوگوں سے بیزار ہے “ ( 1۴) ۔
دفعہ (۵)آدم فروشی کوبدترین فعل بتایاگیا ہے : اصولی طورپر اسلام میں غلاموں کی خرید فروخت کوبدترین اور سب سے زیادہ قابل نفرت کارو بار قراردیاگیا ہے ،حتّٰی کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک حدیث میں آیا ہے کہ :
” شرالنّاس من باع النّاس “۔
” بدترین لوگ وہ ہیںجوغلاموں کو بیچتے ہیں “ ( 1۵) ۔
غلاموں کے بارے میں اسلام نطقہٴ نظر کوسمجھنے کے لیے یہی بات کافی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی منصوبوں کارُخ کسِ طرف کوہے ۔
اس سے بڑھ کردلچسپ اور جاذب توجہ یہ امر ہے کہ اسلام میں جو گنا ہ ناقابلِ معافی شمارکیے گئے ہیں ان میں سے ایک گنا ہ یہ بھی ہے کہ انسان کی آزادی اور حریت کوسلب کرلیا جائے اور اسے ایک سودے کی صورت میں تبدیل کر دیاجائے ، جیساکہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد گرامی ہے :
” ان اللہ تعالیٰ غافر کل ذنب الامن جحد مھراً او ا غتصب اجبراً اجرہ ، اوباع رجلا حرا “۔
” خدا تین گنا ہوں کے علاوہ دوسرے سب گنا ہ معاف کردے گا۔
۱۔ جوشخص اپنی زوجہ کے مہر کا نکار کردے ۔
۲ ۔مزدور کی مزدوری غصب کرلے ۔
۳۔کسی انسان کوبیچ ڈالے ۔ (1۶) ۔
اس حدیث کی رُوسے عورتوں کے حقوق کاغصب کرنا، مز دوری کا غصب کرنا اورانسانی آزادی کاچھین لینا، تین ناقابلِ معافی گنا ہ ہیں ۔
جیساکہ ہم بتاچکے ہیں کہ اسلام نے صرف ایک موقع پر غلام بنانے کی اجازت دی ہے اور وہ بھی جنگی قیدیوں کواوروہ بھی ہرگزلازمی نہیں ہے ، جبکہ ظہور اسلام کے زمانے میں اوراس کے کئی صدیاں بعد تک طاقت کے ذ ریعے اور سیا ہ ام لوگوں کے ملکوں پرحملہ کرکے آزاد انسانوں کوگرفتار کرکے انہیں غلام بنانے کاطریقہ ٴکارعام تھا اور بعض اوقات تووحشت ناک تعداد میں اس قسم کے غلامو ں کاسُوداکیا جاتایہاں تک کہ ۱۸ ویں صدی عیسوی کے آخر میں حکومت برطانیہ سالانہ دو لاکھ انسانوں کوغلاموں کی صُورت میں فروخت کیاکرتی تھی اورہرسال ایک لاکھ انسانوں کوافریقہ سے پکڑ کرغلاموں کی صورت میں انہیں امریکہ لے جایا جاتا تھا ( 1۷) ۔
مختصر یہ کہ جولوگ غلاموں کے بارے میں اسلامی حکمت عملی پر اعتراض کرتے ہیں انہوں نے دُو رہی سے اس بار ے میں کچُھ سُن رکھّا ہے اوراس پرو گرام کے اصولوں اوراسلام کے ہدف سے قطعاً نا آشناء ہیں ، کیونکہ اسلام کا اصولی پرو گرام غلاموں کی تلفی کے بغیر تدریجی آزادی ہے ، یاوہ لوگ پھران مفاد پرستوں کی باتوں میں آکر ایسی باتیں کرتے ہیں جنہوں نے اپنے خیال میں اسے اسلام کازبردست کمزور نقطہ سمجھ لیا ہے اوراسی چیزکولے کراسلام کے خلاف پرو پیگینڈے میں مصروف ہیں ۔
1۔” کماتبة “ کے بارے میں اوراس کے دلچسپ احکام کے متعلق ہم نے تفسیر نمونہ چودھویں جلد میں تفصیل سے بحث کی ہے۔
۲۔بحارالانوار جلد۴۱، صفحہ ۴۳۔
۳۔وسائل الشیعہ، جلد۱۶،صفحہ ۳۲۔
۴۔تفسیر نورالثقلین ، جلد۱،صفحہ ۳۹۰۔
۵۔وسائل الشیعہ ، جلد۱۶،صفحہ ۳۶۔
۶۔ وسائل الشیعہ ، جلد۱۶،صفحہ ۳۷۔
۷۔شرائع الاسلام کتاب العلق ، وسائل الشیعہ ، جلد۱۶،صفحہ ۲۱۔
۸۔شرائع الاسلام کتاب العلق ۔
۹۔وسائل الشیعہ، جلد۱۶،صفحہ ۲۶۔
10۔شرائع الاسلام ” کتاب القضاء “۔
1۱۔بحارالانوار جلد ۷۴،صفحہ ۱۴۱ (حدیث ۱۱) ۔
1۲۔ بحارالانوار جلد۷۴،صفحہ ۱۴۴ (حدیث ۱۹) ۔
1۳۔بحارالانوار جلد۷۴،صفحہ ۱۴۲ (حدیث ۱۳) ۔
1۴۔تاریخ ِ تمدنِ اسلام، جلد۴،صفحہ ۵۴۔
1۵۔مستدرک الوسائل جلد۲ ،کتاب التجارة باب ۱۹ ،حدیث۱۔
1۶۔ بحارالانوار ، جلد ۱۰۳ ،صفحہ ۱۶۸( حدیث ۱۱) ۔
1۷۔تفسیرالمیزان ، جلد۶،صفحہ ۳۶۸۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma