۱۔ شہداء کا بلند مقام :

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 21

اقوام کی تاریخ ایسے دن بھی آ جاتے ہیں جن میں سے بے حد ایثار قربانی اور فدا کاری وجا نفشانی کے بغیر خطرات نہیں ٹل سکتے اور عظیم اور مقدس مقاصد نہیں بچ سکتے ، ایسے مواقع پر موٴ من اور فدا کار لوگوں کوآگے آناچا ہیئے اوراپنے خون کی قربانی دے کر آ ئین حق کی حفاظت کرنی چا ہیئے ، اسلامی منطق کی رُوسے ایسے افراد کو” شہید“ کہاجاتا ہے ۔
” شہید “ ”’ شہود “کے مادہ سے ہے اور اس کا ان پراطلاق اس لیے ہوتا ہے کہ :
۱۔ کیونکہ وہ دشمنانِ حق کے مقابلے میں میدان میں حاضر ہوتے ہیں یا
۲۔بوقتِ شہادت ،رحمت کے فرشتوں کامشا ہدہ کرتے ہیں یا
۳۔ خداکی جو عظیم نعمتیں ان کے لیے فرا ہم کی جاچکی ہے ان کا مشا ہد کرتے ہیں یا
۴۔بارگاہ ربّ العزت میںپہنچ کر حاضر ی دیتے ہیں جیساکہ آیت مجید میں ارشاد ہوتا ہے ۔
” وَ لا تَحْسَبَنَّ الَّذینَ قُتِلُوا فی سَبیلِ اللَّہِ اٴَمْواتاً بَلْ اٴَحْیاء ٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُون“ (آل عمران / ۱۶۹) ۔
اسلام میں بہت کم لوگ شہداء کے مرتبے کے برابر ہیں،وہی شہداء جوسوچ سمجھ کراورخلوص قلب کے ساتھ معرکہ حق وباطل میں قدم رکھتے ہیں اور اپنے پاکیزہ خون کے آخری قطرات تک نچھاورکردیتے ہیں ۔
شہداء کے مقام اورمرتبہ کے بارے میں اسلامی مآ خذ میں بہت سی حیرت انگیزروایات ملتی ہیں جن سے شہدا کے کارناموں کی عظمت کا پتہ چلتا ہے ،چنانچہ رسُول اللہ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی ایک حدیث ہے :
” ان فوق کلّ بر براً حتی یقتل الرّجل شھیدً فی سبیل اللہ “ ۔
” ہرنیکی سے بڑھ کرایک نیکی ہوتی ہے جب تک انسان را ہ خدامیں شہید نہ کردیا جائے جب اسے شہادت مل جاتی ہے توپھر اس سے بڑھ کرکوئی اورنیکی نہیں ہے ( 1) ۔
آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کافرمان ہے :
” المجاھدون فی اللہ قواد اھل الجنّة “۔
” مجا ہدین را ہ خدا بہشت والوں کے قائدہوں گے “ ( 2) ۔
ایک اورحدیث میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں ۔
” مامن قطرة احب الی اللہ من قطرة دم فی سبیل اللہ،او قطرة من دموع عین فی سواد اللیل من خشیة اللہ،وما من قدم احبّ الی اللہ من خطو ة الیٰ ذی رحم ، اوخطوة یتم بحازحفاً فی سبیل اللہ “۔
” کوئی قطرہ خدا کو خون کے اس قطر ے سے زیادہ محبُوب نہیں ہے جورا ہ خدامیں یہ جاتا ہے یا آنسو کے اس قطرے سے جورات کی تاریکی میں خو فِ خداسے جاری ہوتا ہے ، اورکوئی قدم خدا کواس قدم سے زیاد ہ محبُوب نہیں ہے جوصلہ ٴ رحمی کے لیے اُٹھایا جائے یا اس قد م سے جورا ہ خدامیں جنگ کے لیے آگے بڑھتا ہے ، جس سے جنگ اپنے انجام کوپہنچتی ہے (3) ۔
اگر تاریخ ِ اسلام کی ورق گردانی کی جائے تومعلوم ہوگاکہ شہداء را ہ خدا نے ہی اسلام کے بہت سے حِصّے کواعزاز بخشا ہے اور اس طرح سے انہوں نے اسلام کی بہت بڑی خدمت کی ہے ۔
نہ صرف ماضی میں بلکہ آج بھی شہادت ایک تقدیر ساز کلمہ ہے ، جس سے دشمنوں پر لرزہ طاری ہوجاتا ہے اورانہیں اسلام کے قلعوں میں رخنہ ڈالنے سے مایوس کردیتا ہے اور شہادت کا کلمہ مسلمانوں کے لیے کس قدر مبارک اور دشمنانِ اسلام کے لیے کسِ قدر خطر نک ہے ؟
لیکن اس میں بھی شک نہیں ہے کہ شہادت کوئی مقصد نہیں بلکہ اصل مقصد دشمن پر کامیابی اور آ ئین حق کی حفاظت اور پاسداریہ ہوتا ہے ،لیکن یہ محافظین اپنے آپ کواس حد تک تیار رکھیں کہ اگراس را ہ میں انہیں خون کی قربانی بھی دینا پڑے تواس سے دریغ نہ کریں اور یہی ہے امت شہید پروردگار کامعنی نہ یہ کہ شہادت کوایک مقصد سمجھ لیاجائے ۔
اسی لیے تورسُول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک مفصّل حدیث کے آخر میںہم پڑھتے ہیں جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے حضرت علی علیہ السلام نے روایت کی ہے ،پیغمبر اکر م(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)قسم اٹھا کرفر ماتے ہیں :
” والّذی نفسی بیدہ لوکان الا نبیاء فی طر یقھم لتر جلوالھم لمایرون من بھائھم ویشفع الرّجل منھم سبعین الفاً من اھل بیتہ وجبرتہ “۔
” اس ذات کی قسم جس کے قبضہ ٴقدرت میں میری جان ہے ، جب شہدا عرصہ ٴمحشر میں وارد ہوں گے ، اگرانبیاء بھی ان کے راستے میں سوار ہوںگے توان کے نور اور شان وشوکتکی وجہ سے سوار یوں سے اُتر پڑیں گے اوران میں سے ہر ایک شخص اپنے خاندان اورہمسایوں میں سے ستر ہزار لوگوں کی شفاعت کرے گا( 4) ۔
یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ اسلامی ثقافت میں شہادت کے دو مختلف معانی ہیں ایک خاص اور دوسراعام شہادت کاخاص معنی تویہ ہے کہ انسان را ہ ِ خدا میں میدانِ جنگ میں ماراجائے اوراس کے اسلامی فقہ میں کُچھ مخصوص احکام ہیں، مثلاً اسے غسل وکفن کی ضر ورت نہیں ہوتی بلکہ اسی خون آ لودہ لباس میں ہی اسے دفن کیاجائے گا جب کہ شہادت کاوسیع او ر عام معنی یہ ہے کہ انسان خدائی فریضے کی انجام وہی میں ماراجائے یامرجائے اورجوشخص بھی اس قسم کے فریضے کی ادائیگی کرتا ہوا کسِی حالت میں بھی دُنیا سے اُٹھ جائے وہ ” شہید“ ہے ۔
اسی لیے اسلامی روایات میں وارد ہوا ہے کہ چند قسم کے لوگ اس دُنیا سے ” شہید “ ہوکرجاتے ہیں ۔
۱۔ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے منقول ہے کہ :
” اذا جاء الموت طالب العلم و ھو علی ھٰذا الحال مات شھیدً ا “۔
” جوشخص حصولِ علم کے راستے میں مرجائے وہ شہید ہوکر مرتا ہے “ ( 5) ۔
۲۔ امیر المو منین علیہ السلام فرماتے ہیں :
” من مات منکم علی فر اشہ و ھوعلی معرفة حق ربہ وحق رسولہ واھل بیتہ مات شھیداً “۔
” جس شخص کوموت آجائے لیکن وہ حق معرفت پروردگار اور حق معرفت رسُول و اہل بیت رکھتا ہوتووہ شہید ہوکرمر تا ہے ( 6) ۔
۳۔ ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :
” من قتل دون ما لہ فھو شھید“۔
اسی طرح کئی اورلوگ ہیں جورا ہ حق میں ماردیئے جاتے ہیں یا اپنی طبعی موت مرتے ہیں اور یہیںسے اس اسلامی ثقافت اور اس کی ہمہ گیریت کاپتہ چلتا ہے ۔
۴۔ اس بحث کوحضرت امام علی بن موسیٰ رضاعلیہ السلام کی ایک حدیث کے ساتھ پایہ تکمیل کوپہنچاتے ہیں ، امام علیہ السلام نے اپنے آباؤ اجداد کے ذ ریعے رسُول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے یُوںروایت کی ہے ۔
” اوّل من یدخل الجنّة الشھید“ ۔
” سب سے پہلے شہید ہی بہشت میں جائے گا “(7) ۔
1۔بحارالا نوار جلد۱۰۰، صفحہ ۱۵۔
2 ۔بحارالا نوار جلد۱۰۰، صفحہ ۱۵۔
3۔بحارالا نوار جلد۱۰۰، صفحہ۱۴۔
4۔بحارالا نوار جلد۱۰۰، صفحہ۱۴۔
5۔سفینتہ البحار جلد۱، مادہ ” شہید“۔
6۔نہج البلاغہ ، خطبہ نمبر ۱۹۰ (آخری خُطبہ ) ۔
7۔بحارالانوار جلد۱۷،صفحہ ۲۷۲۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma