میدان ِ جنگ میں ارادے کی پختگی ضروی ہے :

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 21

جیساکہ ہم پہلے بتاچکے ہیں گذ شتہ آیات مسلمانوں کوایک ا ہم جنگی حکم کے لیے آمادہ کرنے کے لیے مقدمہ تھیں ، جس کے بارے میں زیرتفسیر آیات میں تفصیل سے گفتگو کی جارہی ہے ، ارشاد ہوتا ہے : جب میدان ِ جنگ میں کافروں کے آمنے سامنے آجاؤ توپوری طاقت کے ساتھ ان پرحملہ کرو اوران کی گردنیں ماردو (فَإِذا لَقیتُمُ الَّذینَ کَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقابِ )(۱) ۔

ظا ہر سی بات ہے کہ ” گردن ماردینا “ قتل کے لیے کنایہ ہے ،لہذا اس کی ضرور ت نہیں ہے کہ مجا ہدین اس بات کی کوشش کریں کہ وہ ان کی صرف گردنیں اڑائیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ دشمن کاصفایا کردیں ، لیکن چونکہ گردن اٹا انا قتل کاروشن ترین مقصداق ہے لہذا اس کا ذکر کیا گیا ہے ۔
اور ہرحالت میں یہ حکم میدان ِ جنگ کے ساتھ مخصوص ہے ،کیونکہ ” لقیتم “ جو ” لقاء“ کے مادہ سے ہے ایسے مواقع پر ” جنگ “ کے معنی میں آ تا ہے ، متعدد قرینے بھی خود آیت میں اسی معنی پرگواہ ہیں، جیسے ” قید یوں کی اسارت “ ،” حرب“ (جنگ ) کالفظ اور ” را ہ خدامیں مارا جانا“ وغیرہ ۔
قصّہ مختصر یہ کہ ” لقاء “ کبھی تو ہر قسم کی ملاقات کے لیے استعمال ہوتا ہے اور کبھی میدان جنگ میں دشمن سے مڈ بھیڑ کے لیے اورقرآن مجید میں بھی دونوں معانی کے لیے استعمال ہوا ہے ، اور زیر نظر آیات میں دوسرے معنی کے لیےاستعمال ہوا ہے ۔
یہیں سے یہ بات بھی بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ جولوگ اسلام کے خلاف پر وپیگنڈا کی غرض سے آیت کادوسرے انداز میں معنی کرتے ہیں کہ اسلام کہتا ہے ” جب تم کسی کافر کے آمنے سامنے آجاؤ تو اس کی گردن اڑادو “ بد نیتی اور خود غرض کے سوا اور کچھ نہیں ہے جبکہ یہی آیت صراحت کے ساتھ میدان جنگ میں مڈ بھیڑ ہونے کی بات کررہی ہے۔
ظا ہر ہے کہ جب انسان میدان جنگ میں کسی خونخوار کاسامنا کرتا ہے تو اگر پُورے عزم اور دوٹوک اندازمیں دشمن پرسخت اور تابڑ توڑ حملے نہ کرے اوراس پر کاری ضربیں نہ لگائے توخودفنا ہوجائے اوریہ ایک صحیح اور بالکل منطقی حکم ہے ۔
پھرفر مایاگیا ہے : یہ کاری ضربیں ان پربرابر جاری رکھو ، یہاں تک کہ دشمن کاستیاناس کردو اوران کوگھٹنے ٹیکنے پرمجبور کردو ، ایسے میں قیدیوں کی گرفتاری کاکا م کرو اورانہیں خوب باندھ لو (حَتَّی إِذا اٴَثْخَنْتُمُوہُمْ فَشُدُّوا الْوَثاق) ۔
” اٴَثْخَنْتُمُوہُم“ ” ثخن “( بروزن ”شکن“ ) ٹھوس اورسخت ہونے کوکہتے ہیں ، اسی لیے اس کا اطلاق دشمن پر مکمل فتح وکامرانی، واضح غلبہ اور مکمل تسلط حاصل کرلینے پرہوتا ہے ۔
اگرچہ اکثرمفسرین نے اس کو” دشمن کوکثرت اور شدت کے سات کرنے کے معنی میں لیا ہے ، لیا ہے جیساکہ ہم ابھی بتاچکے ہیں یہ اس کالغوی معنی نہیں ہے ،لیکن چونکہ بعض اوقات جب تک دشمن کوزبردست اورسیع پیمانے پر قتل نہ کردیاجائے اس وقت تک خطرہ ٹلتا نہیںہے ۔
لہذا ان حالات میں قتل کرنا اس کا ایک مصدا ق توہوسکتا ہے اس کا اصل مفہوم نہیں ہے ( ۲) ۔
بہرحال مندرجہ بالا آیت ایک نہایت حساب جنگی حکمت عملی بیان کررہی ہے کہ جب تک دشمن کازور پوری طرح ٹوٹ نہ جائے اس وقت تک جنگی قید ی بنانے کا اقدام نہ کیاجائے ، کیونکہ اس اقدام سے بعض اوقات مسلمانوں کے میدان جنگ میں پاؤں اکھڑجانے کا احتمال ہوتا ہے اور جنگی قیدیوں کی گرفتاری اورانہیں محاذ سے پیچھے منتقل کرنے کی وجہ سے اصل کی ادائیگی سے رہ جانے کا اندیشہ ہوتا ہے ۔
”فَشُدُّوا الْوَثاق “ کی تعبیر (اس بات کے پیش نظر کہ ” وثاق “ رسی یا ہراس چیزکوکہتے ہیں جس سے کسی چیز کو باندھاجائے ) جنگی قیدیوں کواچھی طرح باندھنے کی طرف اشارہ ہے مبادا کوئی قیدی موقع مِلنے پراپنے آپ کوچھڑا لے اورکوئی زبردست نقصان پہنچادے ۔
بعد کے جُملے میں جنگی قیدیوں کے بارے میں حکم بیان کیاجارہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعدان کے ساتھ کیاسلوک کیاجائے ؟ ارشاد فر مایا گیا ہے : یاتوان پراحسان کرو اورکسی معاد ضے کے بغیر انہیں چھوڑ دویا پھران سے فدیہ اورمعاضہ لے کر رہا کردو (فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَ إِمَّا فِداء) ۔
اس طرح سے جنگی قیویوں کوجنگ کے خاتمہ کے بعد قتل نہ کرو ، بلکہ اسلامی رہنما مصلحت کے پیشِ نظر یاتوا ان سے معاوضہ لے کرانہیں چھوڑ دے یامعاوضہ لیے بغیر انہیں رہا کردے اور یہ معاوضہ درحقیقت ایک قسم کاجنگی تاوان ہے جو دشمن کوادا کرناپڑتا ہے ۔
البتہ اس سِلسلے میں اسلام کا ایک تیسراحکم بھی ہے وہ یہ کہ ان قیدیوں کوغلام بنالیاجائے ،لیکن یہ ایک لازمی حکم نہیں ہے ، بلکہ مسلمانوں کے سر برا ہ کی مرضی پرمنحصر ہے کہ وہ خاص حالات اور زمان ومکان کی مصلحت کے پیشِ نظر اس حکم پرعمل درآمدضروری سمجھتا ہو ، شاید اسی لیے قرآنی متن میں اس کاصراحت کے ساتھ حکم نہیں آیا ،صرف اسلامی روایا ت میں ذِکر کیاگیا ہے ۔
ہمارے مشہور فقیہ ” فاضل مقدار “کنزالعرفان “ میں فرماتے ہیں :
” اگرجنگ کے خاتمے پرکوئی قیدی پکڑا جائے تومسلمانوں کے امام کوان تین امور میں سے کسِی ایک کو اختیار کرنے کی اجازت ہے :
۱۔غیرمشر وط طورپر اسے چھوڑ دے ۔
۲۔ فدیہ اور معاوضہ لے کراسے رہاکرد ے۔
۳۔ اِسے غلام بنا لیاجائے اورکسی بھی صورت میں اسے قتل کرناجائز نہیں ۔
اورایک اور مقام پر فرماتے ہیں :
غلام بنانے کامسئلہ روایات سے توثابت ہے ، لیکن قرآن کی کِس آیت سے ثابت نہیں ہے ( ۳) ۔
یہ مسئلہ دوسری فقہی کتابوں میں بھی درج ہے ( ۴) ۔
” غلامی “ کی بحث کے سلسلے میں انہی آیات کے ضمن میں ہم اس بات کی طرف بھی اشارہ کریں گے ۔
اسی آیت کوآگے بڑھاتے ہُوئے فر مایاگیا ہے : یہ صُورت حال ا س وقت تک جاری رہے اور دشمنوں پر اس وقت تک کاری ضربیں لگاتے رہو اور کچھ لوگوں کوجنگی قیدی بنالو ، یہاں تک کہ جنگ اپناسنگین بُوجھ زمین پررکھ دے (حَتَّی تَضَعَ الْحَرْبُ اٴَوْزارَہا)( ۵) ۔
جنگ سے صرف اس وقت ہاتھ اُٹھ ؤ جب دشمن کی تمام توانا ئیاںختم ہوجائیں اور جنگ کی آگ بُجھ جائے ۔
” اوزر “” وزر “کی جمع ہے جس کا معنی ” سنگین بوجھ “ہے ، اور بعض اوقات اس کا اطلاق ” گنا ہوں “ پر بھی ہوتا ہے ، کیونکہ وہ بھی توگنا ہگاروں کے کندھے کے بوجھ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔
قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اس آیت میں اس سنگین بوجھ کی نسبت جنگ کی طرف دی گئی ہے۔
فر مایاگیا ہے :جنگ اپناسنگین بوجھ ان کے کندھوںپر رہتا ہے ۔
لیکن اسلام اور کفُر کے درمیان جنگ کب ختم ہوگی ؟یہ ایک ایساسوال ہے ، جس کے بارے میں مفسرین نے مختلف جوابات دیئے ہیں ، ابن عباس اور بعض دوسرے حضرات نے کہا ہے کہ یہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک روئے زمین پرایک بھی بُت پرست باقی اور شرک موجود ہے ۔
بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اسلام اورکفر کے درمیان جنگ میں اس وقت تک جاری ہے جب تک مُسلمان ” دجال “ پرغلبہ حاصل نہ کرلیں ، انہوں نے اس نظر یئے کا استدلال پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس فرمان سے کیا ہے :
” والجھادماض مد بعثنی اللہ الیٰ یقا تل اٰخرامتی الدجال “۔
جب سے خدا نے مجھے مبعُوث فرمایا ہے اس وقت سے لے کرتب تک جہادجاری رہے گی جب تک میری اُمّت کا آخر ی شخص وجال سے لڑ تارہے گا “( ۶)۔
وجال کے بارے میں ایک لمبی چوڑی بحث ہے،لیکن اس حد تک ضرور معلوم ہے کہ وجال ایک یاکئی مکار انسان ہیں جوآخری زمانے میںلوگوں کواصول توحید اورحق وعدالت کی را ہوں سے ہٹانے میں سرگرم عمل ہوں گے اورحضرت امام مہدی علیہ السلام اپنی عظیم طاقت کے ذریعے انہیں صفحہ ہستی سے مٹال دیں گے ۔
اس طرح جب تک وجال روئے زمین پرموجُود ہیں ، حق اور باطل کی معر کہ آرائی جاری ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی کُفر کے ساتھ دوطرح کی معر کہ آرائی جاری ہے ، ایک محدُود اورقلیل المعیاد جیسے پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غزوات جوآپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اپنے دشمنوںسے کئے اورہرجنگ کے بعد تلواریں نیا موں میںچلی جاتیں اور دوسری مسلسل اور طویل المعیار جوشرک ،کفر، ظلم ، برائی اور فتنہ وفساد کے خلاف ہے اوریہ سلسلہ حضرت اورامام مہدی علیہ السلام کے ذ ریعے عالمی سطح پر عدل وانصا ف کی حکومت کے قائم ہونے تک جاری رہے گا۔
پھرفر مایا گیا ہے :تمہاری صورتِ حال یہی ہونی چا ہیئے(ذا لِکَ)(۷) ۔
اوراگر خداچا ہتا توان سے کئی اور طریقے سے انتقام لے لیتا،(وَ لَوْ یَشاء ُ اللَّہُ لاَنْتَصَرَ مِنْہُم ) ۔
آسمانی بجلیوں، زلزلوں، آند ھیوں اور دوسری آفات کے ذریعے سے ، تا ہم اس صورت میں آ ز مائش وامتحان کی بات ختم ہوجاتی ، ” لیکن خداچا ہتا ہے کہ تمہاری ایک دوسر ے کے ذریعہ آزمائش کرے “ (وَ لکِنْ لِیَبْلُوَا بَعْضَکُمْ بِبَعْض) ۔
جنگ کاحقیقی فلسفہ اورحق وباطل کی معرکہ آرائی کا اصل نکتہ بھی یہی ہے ، جنگوں میں حقیقی مومنین کی صفیں غیر حقیقی مومنین سے جدا ہوجاتی ہیں اور کر دار کے غازی گفتار کے غازیوںسے جدا ہوجاتے ہیں،صلاحیتیںپروان چڑھتی ہیں، استقامتاور پامردی کا احیا ہوتا ہے او ر دنیامیںزندگی بسرنے کا اصل مقصد حاصل ہوتا ہے ، یعنی قوّتِ ایمان کوپرورش ہوتی ہے اورانسانی اقدار کاصحیح معنوں میں احیاء ہوتا ہے ۔
اگر موٴ منین ایک گوشے میں بیٹھ کراپنے معمولی کی زندگی بسرکرنے میں لگ جاتے اور جب بھی مشر کین اور ظالموں کاکوئی لشکر مسلمانوںپرحملہ کرتا اور خدا غیب کی را ہوں اور معجزے کے ذ ریعے انہیں تبا ہ و برباد کردیتا تومعاشر ے کی کوئی قدرو قیمت نہ ہوتی ، معاشر ے میں ٹھہراؤ سُستی ،کمزوری اور کاہلی وجود میں آ جاتے اوراسلام وایمان صرف نام کی حد تک ہوتے ۔
خلاصتہ الکلام یہ کہ اللہ کواپنے مقد س دین کے استقلال کے لیے ہماری جنگ و جدال کی ضر ورت نہیں ہے ، بلکہ ہم خُود ، دشمن کے مقابلے میں تربیّت پاتے ہیں اور ہمیں اس مقدس جنگ کی ضرورت ہے ۔
یہی قرآن مجید کی دوسری آیات میں دیگر صورتوں میں بیان ہوا ہے ، مثلاً
”اٴَمْ حَسِبْتُمْ اٴَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللَّہُ الَّذینَ جا ہدُوا مِنْکُمْ وَ یَعْلَمَ الصَّابِرین “
’ ’ کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم صرف ایمان کے خالی دعوو ں سے بہشت میں چلے جاؤ گے حالانکہ ابھی تک خدانے تم میں سے مجا ہدین اور صابرین کو معیّن نہیں کیا ہے ( اٰل عمران /۱۴۲) ۔
اس سے پہلی آیت میں ہے ” وَ لِیُمَحِّصَ اللَّہُ الَّذینَ آمَنُوا وَ یَمْحَقَ الْکافِرین“ مقصد یہ ہے کہ خدا (ان جنگوں کے سایے میں)مومنین کوخالص کرے اور کفّار کونیست ونابُود کرے ۔
زیرتفسیر آیت کے آخر ی جُملہ میں ان شہیدوں کاتذکرہ ہے جوایسی جنگوں میں اپنی شیر ین زندگی کوقربان کرتے ہیں اوراسلامی معاشرے پران کا بہت بڑاحق ہے ، ارشاد ہوتا ہے : اورجولوگ خداکی را ہ میں مارے گئے ہیں خدا ان کے اعمال کوہرگز اکارت نہیں کرے گا (وَ الَّذینَ قُتِلُوا فی سَبیلِ اللَّہِ فَلَنْ یُضِلَّ اٴَعْمالَہُم) ۔
ان کی فداکار یوں کے آثار باقی رہ جاتے ہیں ” لا الہٰ الا اللہ“کی جوبھی صدا سُنائی دیتی ہے انہی کی تکلیفوں کاثمرہ ہے جو مسلمان بھی اللہ کی بارگاہ میں سربسجود ہوتا ہے توان کی فدا کار یوں کی برکت سے ہے، غلامی کی زنجیر یں ان کے مصائب جھیلنے سے ٹوٹتی ہیں اور مسلمانوں کی عزّت و آبرو بھی انہی کی مرہونِ مِنّت ہے ۔
شہدا پر خدا کی یہ ایک عنایت ہے ۔
تین اور عنایتوں کاتذکرہ بعد کی آیا ت میں ہوتا ہے ۔
سب سے پہلے فر مایاگیا ہے : اللہ انہیں ہدایت کرے گا (سَیَہْدیہِمْ ) ۔
بلندمرتبہ مقامات ،عظیم کامیابی اور رضوان الہٰی کی طرف ہدایت ۔
دوسری عنایت یہ کہ ” ان کے حالات سنوار د ے گا “ (وَ یُصْلِحُ بالَہُم) ۔
اللہ انہیں تسکین ، اطمینان ِ خاطر اور روحانی سردرفرماتا ہے ، فرشتوں کے ہم آہنگ صفائے باطن اور روحانی مدارج سے نواز تا ہے جوان کے ہمدم ہوتے ہیں ۔
اوراپنی رحمت کے جوار میں انہیں اپنی ضیا فت میں بلاتا ہے ۔
آخر ی عنایت یہ ہے کہ ” انہیں اپنی جاودانی بہشت میں داخل کرے گا جس کے اوصاف انہیں پہلے بتارکھے ہیں (وَ یُدْخِلُہُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَہا لَہُمْ ) ۔
بعض مفسرین کہتے ہیں کہ انہیں بہشت بریں اورمقامِ رضوان کے صرف کلی اوصاف ہی سے آگاہ نہیں کرتا ، بلکہ بہشت کے محلات کی علامتوں اور نشانیوںسے بھی مکمل طورپر آگاہ کردیتا ہے ، اس حد تک کہ جب بھی وہ بہشت میں داخل ہوں گے سیدھے اپنے اپنے محلات میں چلے جائیں گے ( ۸) ۔
بعض مفسرین نے ” غرّ فھا“کی ” عِرف “(بروزن ” فِکر “ )عطر اورخوشبُو، کے معنی سے تفسیر کی ہے ، یعنی خدا انہیں ایسی بہشت میں پہنچائے گا جو مہمانوں کے لیے سراسر معطر ہوگی ۔
لیکن پہلی تفسیرزیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے۔
بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اگران آیات کو ” “ ( آل عمران / ۱۶۹ ) کے ساتھ ملا دیں تویہ نتیجہ نکلے گاکہ ” اصلاح بال “سے مراد وہی جاودانی زندگی ہے ، جس کے سائے میں شہدائے را ہ ِ خدا پر دے اور حجابا ت ہٹ جانے کے بعد اپنے رب کے حضور شرف یابی کے لیے تیارہوںگے ( ۹) ۔
۱۔ ”ضرب “ مصدر ہے اورایک فعل مقدر کامفعول مطلق ہے ، جس کی تقدیریوں ہے ” اضربواضرب الرّقاب“ جیساکہ سُورہ انفال آیت ۱۲ میں اس کی تصریح کی گئی ہے کہ ” فاضربو افوق الا عناق “۔
۲۔” لسان العرب “ میں ” ابن اعرابی “ سے نقل کیاگیا ہے کہ ” اثخن اذا غلب وقھر“ قہرو غلبہ کے معنی میں ہے ۔
۳۔کنز العرفان جلد۱صفحہ ۳۶۵۔
۴۔” شرائع الاسلام “ کتاب الجہاد ،و” شرح لمعہ “ احکام ِغنیمت۔
۵۔” حتٰی“” فضرب الرقاب “کے لیے غایب ہے ، اس بارے میں اور بھی بہت سے احتمالات بیان کیے گئے ہیں جوقابل اعتنا نہیں ہیں ۔
۶۔مجمع البیان جلد۹،صفحہ ۹۸۔
۷۔” ذا لِکَ“ ایک محذوف مبتداء کی خبر سے جو تقدیری طورپر یُو ہے ”الا مرذ الک “ ۔
۸۔مجمع البیان جلد۹،ص ۹۸۔
۹۔المیزان جلد۱۸،ص ۲۴۴۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma