اولو العزم پیغمبروں کی طرح صبر کریں :

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 21

یہ آیات جوسُورہ ٴ احقاف کی آخری آیتیں ہیں ” معاد “ کے بارے میں گفتگو کررہی ہیں ،کیونکہ ایک توگزشتہ آخری آیات میں جنّوں کے مبلّغین کی زبانی معاد کی بات ہوئی تھی اوردوسرے سورہٴ احقاف کے ابتدائی حِصّوں میں توحید ،عظمت قرآن مجید اورپیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبّوت کے اثبات کے بارے میں گفتگو ہوچکی ہے اوراس سُورت کے آخر ی حِصّے میں معاد کے مسئلے کوپیش کیاجارہا ہے ، اس طرح سے تینوں اعتقادی اصولوں کی تکمیل ہوجاتی ہے ، سب سے پہلے فر مایا گیا ہے :
کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ جس خدانے سارے آسمانوں اور زمین کوپیدا کیا اوران کے پیدا کرنے سے ذرابھی تھکا نہیں اور نہ ہی عاجز ہوا ، وہ اس بات پرقادر ہے کہ مردوں کوزندہ کرلے ، یقینا وہ ہرچیز پرقادر ہے (اٴَ وَ لَمْ یَرَوْا اٴَنَّ اللَّہَ الَّذی خَلَقَ السَّماواتِ وَ الْاٴَرْضَ وَ لَمْ یَعْیَ بِخَلْقِہِنَّ بِقادِرٍ عَلی اٴَنْ یُحْیِیَ الْمَوْتی بَلی إِنَّہُ عَلی کُلِّ شَیْء ٍ قَدیرٌ) ۔
آسمانوں اور زمین کورنگا رنگا اورمختلف مخلوق سمیت خلق کرنا ہر چیزپر اس کی قدرت کی علامت ہے کیونکہ جوچیز بھی تصوّر میں آ جائے اسے خدا ہی نے اس دُنیا میں خلق فرمایا ہے ․تو وہ پھر یہ کیونکرممکن ہے کہ وہ انسانوں کودوبارہ زندگی عطاکرنے سے عاجز ہو؟یہ امکان معاد پر ایک نہایت دندان شکن دلیل ہے۔
اصولی طوپر ہرچیز کے امکان کی دلیل اس کا خوداپنا وقوع پذیر ہونا ہے ،ہم جو اس قدر جاندار چیزوں کو بے جان چیزوں سے معرض وجود میں آ تا ہے دیکھ رہے ہیں، تو معاد کے مسئلے میں اس کی قدر ت مطلقہ کے بارے کس طرح شک کرسکتے ہیں ؟
یہ معاد کے متعدد دلائل میں سے ایک ہے جوخداوندِ عالم نے قرآن مجید کی مختلف آیات میں بیان فرمائے ہیں، منجملہ ان کے سورہٴ یٰس کی آیت ۸۱ میں بھی (۱) ۔
بعد کی آیت میں گنا ہگاروں اورمعاد کے منکروں کے دردناک سزاکے منظر کومجسم کرکے فرمایاگیا ہے :
اس د ن کاسوچ کہ جس دن کفّار آگ کے سامنے پیش کیے جائیں گے (وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذینَ کَفَرُوا عَلَی النَّار) ۔
جی ہاں ! کبھی تودوزخ کوکافروں اور گنا ہگاروں کے سامنے لایاجائے گا اور کبھی گنا ہگاروں اور کافروں کودوزخ کے سامنے پیش کیاجائے گا اور ہرایک کا اپناخاص مقصد ہوگاجن کے بارے میںچند آیات میں پہلے اشارہ کیاجاچکا ہے ۔
جب کفار کوجہنم کے سامنے پیش کیاجائے گا اوروہ جہنم کے جھلسا دینے والی کوہ پیکراوروحشت ناک شعلوں کودیکھیںگے توان سے کہا جائے گا : کیا یہ برحق نہیں (اٴَ لَیْسَ ہذا بِالْحَق) ۔
آیا آج بھی قیامت، خدا کی عدالت اوراس کی سزاوجزا کا انکار کرسکتے ہو؟اب بتاؤ کہ کیا یہ گذشتہ لوگوں کے خرافات پرمبنی قِصّے کہانیاں ہیں ؟
انہیں اعتراف کے سواکوئی اور صُورت نظر نہیں آئے گی لہٰذا : کہیںگے بالکل ہمارے پروردگار کی قسم (برحق ہے اس میں کسی قسم کاشک وشبہ نہیں ،ہم خود گمرا ہ تھے کہ اسے ناحق سمجھتے تھے ) (قالُوا بَلی وَ رَبِّنا) ۔
تواس وقت خداوند تعالیٰ یا اس کے فرشتے کہیں گے :تو لواب انکار اور کُفر کے بد لے عذاب کامزہ چکھو( قالَ فَذُوقُوا الْعَذابَ بِما کُنْتُمْ تَکْفُرُون) ۔
توا س طرح سے وہ تمام حقائق کواپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور اعتراف کریںگے ، اعتراف اوراقر ار بھی ایسا کہ جو انہیں کوئی فائدہ نہیںپہنچا سکے گا اور سوائے روحانیاوروجد انی تکلیف و حسرت واندوہ کے اورکوئی نتیجہ نہیں نکلے گا ۔
اس سلسلے کی آخری آیت میں جو درحقیقت سورہٴ احقاف کی بھی آخر ی آیت ہے ، اللہ تعالیٰ گزشتہ آیات میں معاد کے اثبات اور کفار کی سزا کے پیشِ نظر اپنے رسُول کوحکم دیتا ہے : ” بنابریں! جس طرح اولو العزم پیغمبر صبرکرتے رہے توبھی صبر کر (فَاصْبِرْ کَما صَبَرَ اٴُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لا تَسْتَعْجِلْ لَہُمْ کَاٴَنَّہُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ ما یُوعَدُونَ لَمْ یَلْبَثُوا إِلاَّ ساعَةً مِنْ نَہارٍ بَلاغٌ فَہَلْ یُہْلَکُ إِلاَّ الْقَوْمُ الْفاسِقُونَ) ۔
صرف آپ ہی کواس قوم کی عداو ت اورمخالفت کاسامنانہیں کرناپڑرہا ،تمام اولو ا العزم پیغمبر وں کو بھی یہی مشکلات درپیش تھیں اورانہوں نے استقامت اورصبر وضبط کامظا ہر ہ کیا، عظیم پیغمبر نوح علیہ السلام نے ۱۵۰سال تک تبلیغ دین کی لیکن تھوڑ ے سے لوگوں کے سوا ان پر کوئی ایمان نہ لایا بلکہان کومسلسل تکلیفیںس دیتے رہے اوران کامذاق اڑاتے رہے ۔
ابرا ہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا ، موسیٰ علیہ السلام کوجان سے مار دینے کی دھمکی دی گئی ، ان کا دل قوم کی نافر نیوں اورخلاف ورزیوں کی وجہ سے خون ہوگیا اورعیسیٰ علیہ السلام کوزبردست تکلیفیںپہنچائی گئی ، انہیں بھی جان سے مار دینے کے منصوبے بنائے گئے ،لیکن خدانے انہین بچالیا ، غرض جب سے دُنیا قائم ہے یہی کیا کچھ ہوتا آ رہا ہے اور صبرو استقلا ل کی طاقت کے بغیر ان مشکلات پر قابُو نہیں پایا جاسکتا ۔
او لوالعزم پیغمبر کون تھے ؟
اولوالعزم پیغمبر کون تھے ، اس بارے میں مفسرین کی مختلف آراء ہیں اوراس سلسلے میں تحقیق کرنے سے پہلے ” عزم “ کے معنی کواچھی طرح سمجھنا چا ہیئے ،کیونکہ ” اولوالعزم “ کا معنی ” صاحبانِ عزم “ ۔
” عزم “ محکم اورپختہ ارادے کو کہتے ہیں ،راغب اپنی کتاب مفردات میں کہتے ہیں :
” عزم القلب علی امضاء الامر “ ۔
” کسی کام کوکرگز رنے کے بارے میں پختہ ارادہ کرلینا “۔
قرآن پاک میں ” عزم “ کبھی تو”صبر“ کے معنی میں استعمال ہوا ہے ، جیسے :
”وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ إِنَّ ذلِکَ لَمِنْ عَزْمِ الْاٴُمُورِ “
”جوشخص صبرکرے اور معاف کردے تو یقینا یہ چیز عزمِ امور میں سے ہے ( شوریٰ / ۴۳) ۔
اور کبھی ” ایفائے عہد “ کے معنی میں ، جیسے :
”وَ لَقَدْ عَہِدْنا إِلی آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَہُ عَزْماً “ ۔
” ہم نے پہلے سے آدم کے ساتھ عہد کرلیا،لیکن وہ فراموش کرگئے اوراپنے عہد پر باقی نہ ہے “(طٰہٰ / ۱۱۵) ۔
لیکن اس بات کے پیش نظر کہ جوانبیا ء نئی شریعت اورجدید دین لے کرآ ئے تھے انہیں دوسروں سے زیاد ہ مصائب ومشکلات کاسامنا کرناپڑاتھا اوران کا مقابلہ انہوں نے بڑے محکم عزم اور ارادے سے کیا لہذا ایسے انبیاء علیہم السلام کو” اولو ا العزم “ کہاجاتا ہے اور زیر تفسیرآیت بھی بظا ہر اسی چیز کی طرف اشارہ کررہی ہے ۔
ضمنی طورپر یہ اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی انہی رسولوں میں سے ہیں کیونکہ قرآن کہتا ہے : توبھی اسی طرح صبر کر جس طرح اولو العزم رسُول صبر کرتے رہے “ ۔
یہ جوبعض مفسرین نے ” عزم “ اور” عزیمت “ کی ” حکم اور شر یعت “ کے معنٰی سے تفسیر کی ہے تویہ اس کے معنی کی مناسبت سے ہے، وگر نہ لغت میں ” عزم “ بمنی ” شریعت “ نہیں آیا ۔
بہرحال اس معنی کے لحا ظ سے ” من الرّسل “ میں ” من “ ” تبعیضیة “ اور بزرگ انبیاء کے ایک خاص گروہ کی طرف اشارہ ہے جوصاحبان ِ شریعت تھے ، جیساکہ سورہٴ احزاب کی ساتویں آیت میں ان کی طرف اشارہ کیاگیا ہے ۔
ارشاد ہوتا ہے :
” وَ إِذْ اٴَخَذْنا مِنَ النَّبِیِّینَ میثاقَہُمْ وَ مِنْکَ وَ مِنْ نُوحٍ وَ إِبْرا ہیمَ وَ مُوسی وَ عیسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَ اٴَخَذْنا مِنْہُمْ میثاقاً غَلیظا“
” اس وقت کویاد کرجب ہم نے انبیاء سے پیمان لیا اورتجھ سے اور نوح ، ابرا ہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم سے بھی ہم نے ان سب سے محکم اور ُپختہ پیما ن لیا( احزاب / ۷) ۔
یہاں پرتمام انبیاء کا جمع کی صُورت میںذکر کرنے کے بعد ان پانچ عظیم پیغمبر وں کانام لیاگیا ہے جوان کی خصوصیّت کی دلیل ہے ۔
سُورہ شوریٰ کی تیرھویں آیت میں بھی انہی کاذکر کیاگیا ہے ، ارشاد ہوتا ہے :
” شَرَعَ لَکُمْ مِنَ الدِّینِ ما وَصَّی بِہِ نُوحاً وَ الَّذی اٴَوْحَیْنا إِلَیْکَ وَ ما وَصَّیْنا بِہِ إِبْرا ہیمَ وَ مُوسی وَ عیسی“ ۔
” اس نے تمہارے لیے اس دین کو مقرر کردیا ہے جس کی نوح کوسفارش کی اورجس ہم نے تیر ی طرف وحی کی اورابرا ہیم ، مُوسیٰ کو بھی اس کی سفارش کی “۔
شیعہ اورسُنّی کتب میں اس بارے میں بہت سی روایات ملتی ہیں جن میں سے ظا ہر ہوتا ہے کہ اولو ا العزم پیغمبر یہی پانچ ہیں جیساکہ حضرت امام محمد باقر اورامام جعفرصادق علیہما السلام سے ایک روایت ہے :
” منھم خسمة ، اوّلھم نوح شمّ ابراھیم ثمّ موسیٰ (علیه السلام) ثمّ عیسیٰ (علیه السلام) ثمّ ومحمد “(۲) ۔
ایک اور روایت میں جناب امام زین العابدین علیہ السلام سے منقول ہے :
” منھم خمسة الوا العزم من المرسلین ،نوح (علیه السلام) وابراھیم (علیه السلام) وموسیٰ (علیه السلام) و عیسیٰ ومحمد “ ۔
روای نے پُوچھا :
” لم سموا او الو ا العزم ؟ “
” انہیں اولوا العزم کیوں کہاجاتا ہے ؟“
توامام نے فرمایا :
” لانھم بعثوا الیٰ شرقھا وغربھا وجنھا وانسھا “۔
” کیونکہ وہ شرق وغرب اورجن وانس کی طرف مبعُوث ہُوئے “ ( ۳) ۔
ایک اورحدیث میں بھی حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام فرماتے ہیں :
” سادة النبیین والمرسلین خمسة وھم او لو ا العزم من الر سل و علیھم دارة الرحی نوح وابرا ہیم وموسیٰ وعیسیٰ ومحمد “ ۔
انبیاء ومرسلین کے سردار پانچ ہیں اوروہی اولوا العزم رسُول ہیں ، نبوّت ورسالت کی چکّی ان کے گرد گھومتی ہے اوروہ ہیں حضرات نوح ، ابرا ہم ، مُوسیٰ ، عیسیٰ اورمحمد علیہم السلام ( ۴) ۔
تفسیر ” درمنثور “ میں ابن عباس سے بھی یہی چیز منقول ہے کہ اولوا العزم رسُول پانچ ہیں ( ۵) ۔
البتہ بعض مفسرین اولو ا العزم رسولوں سے وہ رسُول مراد لیتے ہیں جنہیں دشمنوں سے لڑنے کا حکم مِلا ۔
بعض مفسرین نے ان کی تعداد تین سو تیرہ بتاتے ہیں ( ۶) ۔
جبکہ بعض دوسرے مفسرین تمام پیغمبروں کواولو ا العزم (قوی ارادے کامالک ) سمجھتے ہیں (7) ۔
اوراس قول کے مطابق ” من الرّسل “ میں ” من “ بیانیہ ہے یبعیضیہ نہیں ہے ۔
لیکن پہلی تفسیر سب سے زیادہ صحیح ہے اوراسلامی روایات بھی اسی کی تائید کرتی ہیں ۔
ان سب باتوں کے بعد قرآن فرماتا ہے : اوران کفّار کے بارے میں خودان کوجلدی ہے وہ اسے بہت جلد اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے ، اس دن انہیں سخت سزادی جائے گی پھرانہیں اپنی غلطیوں کاپتہ چلے گا ۔
دُنیا کی عُمر آخرت کے مقابلے میں اس قدر کوتا ہ ہے کہ ” جس دن وہ ان وعدوں کودیکھیں گے جوان سے کیے گئے تھے توانہیں معلوم ہوگا کہ گویا دن کی طرف ایک گھڑی وہ اس دُنیا میں ٹھہر ے ہیں (کَاٴَنَّہُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ ما یُوعَدُونَ لَمْ یَلْبَثُوا إِلاَّ ساعَةً مِنْ نَہار) ۔
آخرت کے مقابلے میں دنیاوی عمر کی کمی کا احساس یاتواس لیے ہوگا کہ واقعاً یہ زندگی اس حیات جاوید کے مقابلے میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ہے ،یاپھر اس لیے کہ یہ دنیا اس قدر تیزی سے گزر رہی ہے کہ گویا ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ہے یا اس لیے کہ انہوں نے اپنی پوری دنیاسے کماحقّہ فائدہ اٹھا یا، لہٰذا اس کاثمرہ ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ہے ۔
اب حسرت ان کے دلوں پرچھائی ہوگی، لیکن اس کا فائدہ ؟ کیونکہ واپسی کی تمام را ہیں مسد ور ہوچکی ہوں گی ۔
لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ جناب رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیاکہ :
” دُنیا اور آخرت کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟ “
توآپ نے فرمایا :
” غمضة عین “
”صرف پلک چھپکنے کا “۔
پھرفرمایا خدا وندتعالیٰ کا ا رشاد ہے ۔
” کانھم یوم یرون مایوعدون لم یلبثو ا الاّ ساعة من نھار “ ( ۸) ۔
اس سے ظا ہر ہوتا ہے کہ ” ساعة “ کی تعبیر عام گھنٹے یاگھڑی کی مقدار کے معنی میں نہیں ہے ، بلکہ یہ زمانے کی مختصر اور کم ہونے کی طرف اشارہ ہے :
پھرتمام لوگوں کومتنبہ کرتے ہُوئے فرمایاگیا ہے : یہ ابلاغ ہے ، سب لوگوں کے لیے (بلاغ ) (9) ۔
ان سب لوگوں کے لیے جو پروردگار کی عبودیت کی را ہ سے ہٹ گئے ہیں ، ان لوگوں کے لیے جو دُنیا کی زور گزر زندگی اوراس کی خوا ہشات میں مگن ہوچکے ہیں ، المختصر اس ناپائیدار دُنیامیں رہنے والے تمام لوگوں کے لیے ابلاغ ہے ۔
آخر ی جُملے میں بامعنی اور تہدید آمیز سوال کے طورپر فرمایاگیا ہے : تو کیافاسق لوگوں کے سواکوئی اور ہلاک ہوگا؟ (فَہَلْ یُہْلَکُ إِلاَّ الْقَوْمُ الْفاسِقُونَ) ۔
آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبر و استقامت کامجسم نمونہ تھے
خداکے عظیم پیغمبروں خصوصاً پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی سخت مصائب ،زبردست طوفانوں اورطاقت فرسامشکلات کے مقابلے میں انتہائی صبر و استقامت کی آ ئینہ دار تھی ، اس بات کی طر ف توجہ کرتے ہُوئے را ہ حق میں اس قسم کی مشکلات کاسامنا کرناپڑتا ہے ، را ہ حق کے را ہیوں کواس سے سبق لینا چا ہیئے ۔
ہم عام طورپر تاریخ ِ اسلام کے روشن نقطے سے اس کے ابتدائی تاریک ایّا م کے دیکھنے کے عادی ہیں، اور مستقبل کے جھروکوںسے ماضی کودیکھنے کایہ انداز حقائق وواقعات کواور طرح سے پیش کرتا ہے ،لیکن ہمیں ان ایّام کوتصّور میں لاناچا ہیئے ، جب پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)تن تنہا تھے اور افق زندگی میں کامیابی کی کوئی کرن دکھائی نہیں دیتی تھی ۔
ہٹ دھرم دشمن ان کی نابودی پرکمربستہ تھے ،حتیٰ کہ ابولہب جیسے نزدیک ترین رشتہ دار بھی صف اوّل کے دشمنوں میں شامل تھے ۔
آپ مسلسل قبائل عرب کے پاس جاتے تھے ، انہیں اسلام کی دعوت دیتے تھے ،لیکن کوئی بھی شخص مثبت جواب نہیں دیتا تھا ۔
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)پاس قدر پتھر برساتے کے بدنِ مبارک سے خون بہنے لگ جاتا ، لیکن آ پ اپنے مشن پرڈٹے رہے ۔
ان کاسیاسی ، معاشر تی اوراقتصادی بائیکاٹ اس حد تک سخت کردیاگیاتھا کہ ہرطرف کی را ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)پراورآپ کے ساتھیوںپرمسدُور ہوگئی تھیں ،کچھ توبھُوک کی وجہ سے اور کچھ بیماری کی وجہ سے را ہی ملک بقا ہوگئے ۔
آپ کے ساتھیوں کواس قدر ایذائیں پہنچائی گئیں اور شکنجوں میںجکڑاگیاکہ ان کے دل و جان پراس کا اثر ہوا ۔
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)پرایسے سخت دن بھی گزرے ہیں کہ جن کے ذکر سے زبان وقلم دونوں عاجز ہیں ، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)لوگوں کواسلام کی دعوت دینے کے لیے طائف تشریف لے گئے تواہل ِ طائف نے نہ صرف آپ کی دعوت پر لبیک نہیں کہا بلکہ اس قدر پتھرما رے کہ پاؤں مبارک سے خون جاری ہوگیا۔
بے سمجھ لوگوں کواکسایا کہ آپ پر آواز سے کسیں اور بد کلامی کریں ، آپ کو مجبوراً ایک باغ میں پنا ہ لینا پڑی اورایک درخت کے سائے میں بیٹھ کراپنے خدا سے یوں راز ونیاز کرنے لگے ۔
” اللھم الیک اشکو ضعف قوتی ،وقلة حیلتی ،و ھوانی علی الناس یا ار حم الرٰحمین ! انت رب المستضعفین، وانت ربی ، الیٰ من تکلنی؟الیٰ بعید یتجھمنی ؟ام الی عد وملکتہ امری ؟ان لم یکن بک علی غضب فلا ابالی ․․․“
” خداوندا ! میں اپنی کمز وری ، ناتوانی ، مجبوری کی اور لوگوں کی مجھ سے بے احترامی کی تجھ سے شکایت کرتا ہوں ، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے تومستضعفین کاپروردگار ہے ،تومیرا پر وردگار ہے ، تومجھے کس کے حوالے کرے گا ؟کیا دور دراز کے ان لوگوں کے جو مجھے غصّے سے بھرے درپیش آ ئے ہیں یا ان دشمنوں کے جومیر ے امر کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لے لیں گے ؟پروردگار ا! اگرتومُجھ سے راضی ہوجائے تومیر ے لیے یہی کافی ہے ․․․( ۱۰) ۔
کبھی وہ لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوجادو گرکہتے تھے اور کبھی دیوانہ کہہ کر بلاتے تھے ۔
کبھی آپ کے سرپر گردو غبار اور کوڑ اکرکٹ ڈالا جاتا اور کبھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوشہید کرنے پر ایکا کرلیتے اورآپ کے گھر کا تلواروںسے محاصرہ کرلیتے ۔
لیکن ان تمام مصائب ومشکلات کے باوجود آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے صبرو شکیبائی کادامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔
اورآخر کاراس کاشیریںپھل بھی پالیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کادین نہ صرف جزیرہ نمائے عرب میں بلکہ شرق سے غرب تک پھیل گیا اورآج ہرصبح وشام چار گوشہ ٴ ِ جہان سے اور دُنیا کے پانچوں براعظموں میں اذان سنائی دیتی ہے جوآپ کی فتح اور کا مرانی کی آواز ہے ، اور یہی ہے معنی ” فَاصْبِرْ کَما صَبَرَ اٴُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ “ کا ۔
اور یہ ہے شیاطین اورہریمنون کے ساتھ بنرد آزمائی کاطریقہ ، ان پر کامیابی حاصل کرنے کاطریقہ کاراور خداکے عظیم ا ہداف ومقاصد تک رسائیکا انداز۔
توپھر آج آرام طلب لوگ صبر وشکیبائی اور رنج وغم اٹھا ئے بغیر کیونکر اپنے عظیم مقاصد کوحاصل کرسکتے ہیں ؟
آج کے مُسلمان اس قدر دشمنوں کے مقابلے میںجوان کی نابودی پرتلے ہُوئے ہیں ،پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحیح اوراصلی مکتب سے ہدات اور سبق حاصل کئے بغیر کیونکہ کامیاب ہو سکتے ہیں ؟
مسلمان را ہنما اور لیڈر خاص طورپر طرز عمل اپنانے کے پا بندہیں ، جیساکہ حضرت امیرعلیہ السلام فرماتے ہیں ۔
’ ’ ان الصبر علی ولاة الامر مفروض لقول اللہ عزوجلّ لنبیة، فاصبر کما صبر اولو ا العزم من الرسل، وایجا بہ مثل ذالک علی اولیائہ واھل طاعتہ بقولہ ،لقد کان لکم فی رسو ل اللہ اسوة حسنة “۔
’ ’ رہبروں اورزمام داروںپر صبر واستقامت فرض ہے کیونکہ خدنے اپنے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے فر مایا ہے ” فَاصْبِرْ کَما صَبَرَ اٴُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ “ اوراسی چیز کو اپنے دوستوں اوراطاعت گزاروںپر بھی فرض قرار دیا ہے کیونکہ اس کا ارشاد ہے کہ رسُول اللہ کی ذات تمہار ے لیے ایک بہت اچھانمونہ ہے ( تم سب کو ان کی پیروی کرنی چا ہیئے ) (۱۱) ۔
خداوندا! یہ عظیم نعمت،یہ آسمانی عطیہ اورمصائب ومشکلات کے مقابلے میں یہ صبر وشکیبائی اور استقامت ہمیں بھی عنایت فر ما۔
پر وردگار ا!ہدایت کایہ چراغ جسے تیرے اولو ا العزم رسولوں خصوصاً خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے طاقت فرسا تکلیفیں اٹھاکر بشریت کے راستے میںروشن رکھا ہے ،ہمیں توفیق عطافر ماکہ ہم اسے روشن ہی رکھیں اورپوری لیاقت کے ساتھ اس کی حفاظت کرتے رہیں ۔
بارالہٰا ! ہم جانتے ہیں کہ حق کے تمام دشمن متفق اورمتّحد ہوچکے ہیں اور کسی بھی جُرم کے ارتکاب سے دریغ نہیں کر تے تُو ان کی کوششوں سے زیادہ ہمیںصبرو شکیبائیکی توفیق عطافرماتاکہ اِن بے حدوحساب مشکلات کے سامنے ہم ہر گز نہ جھکنے پائیں اور طوفانی موجوں سے کامیابی سے گزر جائیں اور یہ تیری امداد اورتیر ے بے انہا لطف وکرم کے بغیر قطعاً نا ممکن ہے ۔!
۱۔اس موضوع کے بارے میں اورمعاد کے بارے میں مختلف دلائل کے سِلسلے میں مزید تفصیل کے لیے سورہٴ یٰس کی آخری آیات کی تفسیر کامطالعہ فرمائیے (تفسیر نمونہ جلد ۱۸) ۔
۲۔ مجمع البیان جلد۹،صفحہ ۹۴ ( انہی آیات کے ذیل میں ) ۔
۳۔ بحارالا نوار جلد۱۱، صفحہ ۸۵ (حدیث ۶۱) اسی جلد کے صفحہ ۵۶ پرحدیث نمبر ۵۵ بھی صراحت کے ساتھ یہی کچھ کہتی ہے ۔
۴۔ کافی جلد اوّل باب طبقات الانبیاء والر سل ،حدیث نمبر۳۔
۵۔ تفسیر درمنثور، جلد۶،صفحہ ۴۵۔
۶۔ تفسیر درمنثور، جلد۶،صفحہ ۴۵۔
۷۔ تفسیر درمنثور، جلد۶،صفحہ ۴۵۔
۸۔ روضة الواعظین منقول ازنور الثقلین، جلد ۵،صفحہ ۲۵۔
۹۔ ” بلاغ “ مبتدائے محذوف کی خبرہے ، جس کی تقدیری صُورت یہ ہے ” ھٰذا القراٰن بلاغ “ یا” ھٰذا الوعظ والا نذار بلاغ “ ۔
۱۰۔سیرت ابن ہشام جلد۲،صفحہ ۶۱۔
۱۱۔نورالثقلین جلد۵، صفحہ ۲۳ بحوالہ احتجاج طبرسی ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma