قوم عاد اور تبا ہ کُن آندھی

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 21

قرآن مجید کُل حقائق کوبیان کرنے کے بعدان کے قابلِ ذکر مصداق بیان کرتا ہے تاکہ وہ کلی حقائق سامنے آ جائیں لہٰذیہاں پر بھی سرکش مستکبر ین اورہوس پرست متکبرین کے احوال کی وضاحت قومِ عاد کی مثال سے لی گئی ہے جوایک واضح نمونہ ہے ، ارشاد ہوتا ہے :مکہ کے ان مشرکین کوقومِ عاد کے بھائی (ہود ) کی سرگزشت یاد لا(وَ اذْکُرْ اٴَخا عادٍ ) ۔
” اخ “ (بھائی ) کی تعبیر اس عظیم پیغمبر کی اپنی قوم کے ساتھ نہایت ہی دل سوزی اوراس کے ساتھ نہایت ہی محبت کو بیان کررہی ہے ، جیساکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ تعبیر بہت سے عظیم انبیاء ک بارے میں قرآن مجید میں استعمال ہوئی ہے ،وہ اپنی قوم کے لیے دِل سوز اورمہر بان بھائی تھے اورانہوں نے ان کے لیے کسِی ایثار سے کبھی دریغ نہیں کیا ۔
ممکن ہے یہ تعبیر ضمنی طورپر ان کی اپنی قوموںسے رشتہ داری کی طرف بھی اشارہ ہو ۔
پھرفر مایاگیا ہے: جب انہوں نے اپنی قوم م کوسرزمین احقاف میں ڈ رایا ، جب کہ ان سے پہلے ماضی قریب اور بعید میں بہت سے انبیاء گزرچکے تھے ، جنہوں نے اپنی قو م کوڈ رایاتھا (إِذْ اٴَنْذَرَ قَوْمَہُ بِالْاٴَحْقافِ وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَ مِنْ خَلْفِہِ ) ۔
” احقاف “ کے متعلق ہم پہلے بھی بتاچکے ہیں کہ اس کامعنی وہ اُڑنے والی ریت ہے جوہواؤں کے ذریعے جنگلوں اور بیا بانوں میں مستطیل اورکج مج صُورت میں ڈھیروں کی صُورت میں جمع ہوتی رہتی ہے اوراس تعبیرسے واضح ہوتا ہے کہ قومِ عاد کاعلاقہ ایک بہت بڑا ریگستان تھا ۔
بعض لوگ اس کامحل وقوع جزیرہ نمائے عرب کے دل یعنی ” نجد“ ” احساء ‘ ‘ ” حضرت موت “ اور” عمان “ کے درمیان کاعلاقہ قرار دیتے ہیں ( ۱) ۔
لیکن یہ بات بعید معلوم ہوتی ہے ،کیونکہ دوسری قرآنی آیات (مثلاً سُورہ شعراء )سے یہ معلُوم ہوتا ہے کہ قومِ عاد ایسی جگہ رہتی تھی ، جہاں پانی کی فراوانی تھی اورخوبصُورت درخت موجود تھے اور جزیرہ نمائے عرب میں ایسی چیز بہت بعید ہے ۔
بعض دوسرے مفسرین نے اسے جزیرہ نمائے عرب کے جنوب میں بتایا ہے جو یمن کے اطراف میں یابحیرہ عرب کے ساحلوں پرتھی (۲) ۔
بعض حضرات کاخیال یہ بھی ہے کہ ” احقاف “سرزمین عراق میں کلا ہ اور بابل کے علاقوں میں سے ایک علاقہ ہے ( ۳) ۔
بعض حضرات کاخیال یہ بھی ہے کہ ” احقاف “سرزمین عراق میں کلا ہ اور بابل کے علاقوں میں سے ایک علاقہ ہے ( ۴) ۔
” طبر ی “کہتے ہیں کہ شام میں ” احقاف“نامی ایک پہاڑ ہے ( ۵) ۔
لیکن ” احقاف “کے لغوی معنی کی مناسبت اوراس چیز کے پیش نظر کہ ان کہ سرزمین چلنے والی ریت سے غیر محفوظ ہونے کے با وجُود پانی کی دولت سے مالا مال اوردرختوں سے سر سبز تھی ان لوگوں کے قول کوزیادہ تقویت حاصل ہوتی ہے کہ یہ سرزمین جزیزہ نمائے عرب کے جنوب اوریمن کے نزدیک تھی ۔
” وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ َ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ ومِنْ خَلْفِہِ “ (ڈرانے والے انبیاء جوہُودعلیہ السلام کے آگے پیچھے آچکے تھے )یہ ان انبیاء کی طرف اشارہ ہے جوان سے پہلے مبعوث ہوچکے تھے ،کچھ توبہت کم مُدّت کے فاصلے سے آئے تھے ، جن کے بارے میں قرآن نے ” مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ“ کہا ہے اور کچُھ بہت زیادہ مدّت کے فاصلے سے کہ جنہیں ’ ’ مِنْ خَلْفِہِ “سے تعبیرکیاگیا ہے ۔
لیکن بعض حضرات نے جویہ احتمال پیش کیا ہے کہ اس جُملے سے مراد وہ انبیاء ہیں جو ہُود سے پہلے گزرچکے تھے ، یا ہود علیہ السلام کے بعدآ ئے تھے ،بہت ہی بعید معلوم ہوتا ہے اور ” قد خلت “سے بھی ہم آہنگ نہیں ہے جو زمانہ ماضی کامعنی دیتا ہے ۔
اب دیکھنایہ ہے کہ اس عظیم پیغمبر کی نبّوت کن امور پر بنتی تھی ؟قرآن کہتا ہے :
( ہود نے اُن سے کہا )خدا ئے واحد کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو “ (اٴَلاَّ تَعْبُدُوا إِلاَّ اللَّہَ ) ۔
پھراُنھیں متنبہ کرتے ہُوئے مزید کہا : میں تمہار ے بارے میں ایک بڑ ے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں (إِنِّی اٴَخافُ عَلَیْکُمْ عَذابَ یَوْمٍ عَظیم) ۔
اگرچہ ” یوم عظیم “کے الفاظ عام طورپر قیامت کے دن کے معنی میں آ ئے ہیں ، لیکن قرآنی آیات میں کبھی ان وحشت ناک اورسخت ایام پر بھی اس اطلاق کیاگیا ہے جو امتوں پرگزر چکے ہیں اوریہاں پر بھی یہی معنی مراد ہیں ، کیونکہ ہم انہی آیات میں آ گے چل کرپڑھیں گے کہ آخر کار قومِ عاد ایک سخت اوروحشتناک روز خدائی عذاب میں مبتلا ہو کرتبا ہ و برباد ہوگئی ۔
لیکن اس ہٹ دھرم اورسرکش قوم نے خداکی اس دعوت کے مقابلے کی ٹھان لی اورحضرت ہُود علیہ السلام سے اس قوم کے افراد بولے ” : کیا تواس لیے آیا ہے کہ ہمیں جُھوٹ اورفریب کے ذ ریعے ہمارے خداؤں سے پھیردے (قالُوا اٴَ جِئْتَنا لِتَاٴْفِکَنا عَنْ آلِہَتِنا )(6) ۔
تُو اگرسچ کہتا ہے ،توجس عذاب کی ہمیں دھمکی دیتا ہے اسے لے آ (فَاٴْتِنا بِما تَعِدُنا إِنْ کُنْتَ مِنَ الصَّادِقینَ) ۔
یہ دونوں جُملے اس سرکش قوم کی بے را ہ روی اورہٹ دھرمی کوبخوبی واضح کررہے ہیں کیونکہ پہلے جُملے میں وہ کہہ رہے ہیں کہ تیری یہ دعوت ان معبودوں کے برخلاف ہے جن کے ہم خو گرہوچکے ہیں اور جوہم نے اپنے آباو اجداد سے ورثے میںپائے ہیں ،لہذا یہ سب کچھ جُھوٹ اورفریب ہے ۔
دوسرے جُملے میں وہ عذاب کاتقاضا کرتے ہیں ، ایساعذاب کہ اگرنازل ہوجائے تو پھراس سے خلاصی کی را ہیں مسدُور ہوجائیں ، اس قسم کے عذاب کی کون عقل مند شخص تمنا کرسکتا ہے ،ہرچند کہ اس پریقین نہ بھی رکھتا ہو؟
لیکن ہُود علیہ السلام نے اس احمقانہ تقاضے کے جواب میں اُن سے کہا:” عِلم توصرف خداکے پاس ہے “ (قالَ إِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللَّہِ ) ۔
وہی بہتر جانتا ہے کہ کب اورکن حالات میں وہ تبا ہ کُن عذاب کونازل کرے ، اس سے نہ تو تمہار ے تقاضوں کا تعلق ہے اور نہ ہی میرے ارادے اوراختیارکواس میں کچُھ دخل ہے ، صرف اتمام ِ حجّت کامقصد پورا ہوجائے کیونکہ اس کی حکمت کایہی تقاضا ہے ۔
پھرفر ماتے ہیں : میرا کام توصرف یہ ہے کہ میں جواحکام دے کر بھیجاگیا ہوں وہ تم تک پہنچائے دیتا ہوں (وَ اٴُبَلِّغُکُمْ ما اٴُرْسِلْتُ بِہِ ) ۔
میرا اصل فریضہ اورذمہ داری یہی ہے اور اطاعتِ الہٰی کے لیے ارادہ کرناتمہار اکام ہے اور عذاب کا ارادہ اور مشیّت خداکا کام ہے ۔
لیکن میں تمہیں دیکھ رہا ہے کہ تم ہمیشہ جہالت اور نا دانی میں پڑ ی رہنے والی قوم ہو (وَ لکِنِّی اٴَراکُمْ قَوْماً تَجْہَلُونَ) ۔
تمہار ی بدبختی کا اصل سرچشمہ بھی یہی جہالت ہے اورجہالت بھی ایسی جس میں ہٹ دھرمی ،تکبر اورغرور پایا جاتا ہے اور وہ تمیں خداکے بھیجے ہُو بندوں کی دعوت کامطالعہ کرنے کی اجازت نہیں دیتی ، ایسی جہالت جوتمہیںعذابِ الہٰی کے نزُول اور تمہار ی نابودی پراُکسار ہی ہے، اگر تمہیں کچُھ علم ہوتا اورذرّہ بھر سوجھ بوجھ ہوتی توکم از کم اتنا تو ضر ورسوچ لیتے کہ تمام منفی احتمالات کے مقابلے میں کم از کم ایک مثبت احتمال بھی تو موجُود ہے کہ ا گر متحقق ہو جائے توتمہاراکچھ نہیںرہے گا ۔
سرانجام ہُو د علیہ السلا م کی تمام نصیحتیں او ر برا درانہ شفقت اور رہبر ی ان سنگدلوں پرکچُھ اثرنہ کرسکی اوروہ حق کوقبُول کر نے کے بجائے اپنے باطل عقیدے پربڑی ہٹ دھرمی کے ساتھ ڈٹے رہے ، حتٰی کہ نوح علیہ السلام کی بھی لوگ ان الفاظ کے ساتھ تکذیب کرتے تھے کہ ” اگرسچ کہتے ہوتوجس عذاب کاوعدہ کیا ہے وہ کیا ہوٴا ؟“
اب جب کہ کافی اتمام حجّت ہوچکی اورانہوں نے زندہ رہنے کی عدمِ اہلیّت کاثبوت فرا ہم کردیاتوحکمتِ الہٰی بھی اس بات پر آ ماد ہ ہوگئی کہ ان پر ” استیصالی عذاب “ یعنی تبا ہ کن عذاب نازل کرے ۔
انہوں نے اچانک دیکھا تو افق پر ایک ابر ظا ہرہوا اور بہت جلد پورے آسمان پرپھیل گیا۔
جب انہوں نے اسے بادل کی صورت میں دیکھا کہ ان کے دردں اوراورندی نالوں کی طرف امڈ ا آ ر ہا ہے تو خوشی خوشی کہنے لگے یہ تو بارش برسانے والابادل ہے (فَلَمَّا رَاٴَوْہُ عارِضاً مُسْتَقْبِلَ اٴَوْدِیَتِہِمْ قالُوا ہذا عارِضٌ مُمْطِرُناٌ )(7) ۔
مفسرین کہتے ہیں کہ ایک عرصے تک قوم عاد کے علاقے میں بارش نہیں برسی تھی ، موسم بہت گرم اور خشک تھا، یہاں تک کہ دم گھٹنے لگ گیاتھا ، جب قوم عاد کی نگاگھنگھورکھٹا پرپڑی جو دوری کی افق سے ان کے آسمان کی جانب رواںدواں تھی تووہ لوگ اسے دیکھ کربہت مسرور ہوگئے اور بارش کے استقبال میں اسی جانب چل پڑے اور دورں اورپہاڑ ی نالوں کے راستوں کے کنار ے پہنچ گئے تاکہ بابرکت بارش کے برسنے کے منظر سے لطف اندوز ہوں۔
لیکن بہت جلد انہیں بتادیاگیا کہ یہ بارش برسانے والے بادل نہیں ہیں ، ” یہ تووہی وحشت ناک عذاب ہے جس کے آنے کی تم جلدی مچا رہے تھے “ (بَلْ ہُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِہِ ) ۔
” یہ وہ وحشت ناک آندھی ہے جودرد ناک عذاب کی حامل ہے “ (ریحٌ فیہا عَذابٌ اٴَلیم) ۔
بظا ہر یہ بات کہنے والا خودخدا وندبزرگ وبرتر ہے یاپھرحضرت ہُود علیہ السلام ہیں ، جب ان کی خوشی کے نعر ے سُنے تواُن سے یہ کہاگیا۔
جی ہاں یہ تبا ہ کُن آندھی ہے ” جو اپنے پر وردگار کے حکم سے ہرچیز کو تبا ہ و برباد کردے گی “ (تُدَمِّرُ کُلَّ شَیْء ٍ بِاٴَمْرِ رَبِّہا) ۔
بعض مفسرین کے بقول ” ہر چیز“ سے مراد انسا ، چو پائے اوران کے اموال ہیں ، کیونکہ بعد کے جُملے میں فر مایاگیا ہے :توایسے عالم میں ان کی صبح ہوئی کہ ان کے گھروں کے سواکچھ نظرہی نہیں آتا تھا (فَاٴَصْبَحُوا لا یُری إِلاَّ مَساکِنُہُمْ ) ۔
اس سے ظا ہر ہوتا ہے کہ ان کے گھرتو صحیح سالم تھے لیکن وہ خود ہلاک ہوگئے اوران کے اجسام اوراموال بھی تیزو تند آندھی کے ذریعے دُور دراز کے جنگلوں ، بیابانوں یاپھر سمندرمیں پھینک دیئے گئے ۔
بعض مفسرین کہتے ہیں کہ جب وہ پہلی بارمتوجہ ہُوئے کہ یہ سیا ہ بادل توگر دوغبار سے اٹی آندھی کے ہیں اوریہ وہ وقت تھا جب یہ بادل ان کے علاقے کے بالکل نزدیک پہنچ گئے اوران کے جانوروں اور چر وا ہوں کوجوار د گرد کے بیا بانوں میں تھے زمین سے اُٹھا اٹھا کرپٹخنے لگے اورخیموں کواکھاڑ کراس قدر اوپرلے جانے لگے کہ وہ ایک ٹڈی کے مانند نظرآرہے تھے ۔
انہوں نے جب یہ منظردیکھاتودوڑ ے دوڑے اپنے گھروں میں جاگھُسے اور دروازے بند کرلیے ،لیکن ہوانے ان کے دروازوں کوبھی اکھاڑ کرزمین پر دے مارا (یاپھر اوپر پھینک دیا)او” احقاف “ یعنی اڑنے والی ریت کوان کے جسموں پرڈال دیا ۔
سورہٴ حآقہ کی ساتوں آیت میں ہے کہ ” یہ آندھی سات راتیں اورآٹھ دِن تک مسلسل چلتی رہی “ وہ مسلسل ریت کے ٹیلو ں کے نیچے سے چیخ وپکار کررہے تھے ،پھرآندھی نے ریت کوان کے اوپرسے ہٹادیا اوران کے بدن ظا ہر ہوگئے پھران اجسمام کواپنے ساتھ لے جاکر سمندر میںپھیند یا ( 8) ۔
آخر میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے فرمایاگیا ہے کہ یہ انجام اس گمرا ہ قوم کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ ” ہم گنا ہگار لوگوں کویونہی سزادیا کرتے ہیں “ (کَذلِکَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمینَ ) ۔
یہ ایک تنبیہ ہے کہ تمام مجرموں ،گنا ہگاروں،کافروں،ہٹ دھرم لوگوں اورخود غرض افراد کے لیے اگرتم بھی اس را ہ پر چلوگے توتمہار ا انجام بھیان لوگوں سے قطعاً بہتر نہیں ہوگا ۔
کبھی ان ہواؤں کوجوقرآن کے بقول ” مبشرات بین یدی رحمتہ“ (اس کی باران رحمت کے پیش قدم ہوتی ہیں )اوران کاکام مردہ زمینوں کوزندہ کرنا ہوتا ہے ،ہلا کت کاحکم مِلتا ہے ۔
کبھی وہ زمین جوانسان کے آرام وسکون کاگہوارہ ہوتی ہے ایک زبردست جھٹکے سے قبر ستان میں تبدیل ہوجاتی ہے ۔
کبھی وہ بارش جوتمام موجودات کاسرمایہ حیات ہوتی ہے ،سیلاب میں بدل جاتی ہے اورہر چیزغرق کردیتی ہے ۔
جی ہاں ! انسان کی زندگی پرمامور چیز وں کو اس کی موت کاعامل بنادیا جاتا ہے اورکِس قدر دردد ناک ہے ایسی موت جوزندگی کے عامل سے جنم لے ،خاص کرجب قوم ہود جیسے افراد کے لیے اوّل توفرحت اور سر ورپیداکرے پھر عذاب میں مبتلا کردے تاکہ یہ عذاب زیادہ درد ناک ہو۔
قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ فرمایاگیا ہے ، یہ ہوا ، ہواکی یہ لُطف سوجیں ہی تھیں جنہوں نے پروردگار کے حکم سے تمام چیزوں کوتبا ہ وبرباد کرڈالا ( 9) ۔
۱۔اعلامِ قرآن،ص ۹۴۔
۲۔” فی ظلال القرآن “ انہی آیات کے ذیل میں ۔
۳۔” فی ظلال القرآن“انہی آیات کے ذیل میں ۔
۴۔مرحوم شعرانی نے تفسیر ابو الفتوح رازی کے حاشیہ پرنقل کیا ہے ملاحظہ ہو، جلد۱۰،صفحہ ۱۶۵۔
۵۔مرحوم شعرانی نے تفسیر ابو الفتوح رازی کے حاشیہ پرنقل کیا ہے ملاحظہ ہو، جلد۱۰،صفحہ ۱۶۵۔
6۔ ” لتا ٴ فکنا “ ” افک “ کے مادہ سے ہے جس کا معنی جُھوٹ اورحق سے انحراف ہے ۔
7۔” عارض “ ” عرض “کے مادہ سے ہے اور یہاں پراس بادل کے معنی میں ہے جوآسمان پر پھیل جاتا ہے اور شاید بارش برسانے والے بادلوں کی ایک علا مت ہے ، جواسی افق پرپھیل کراوپر بڑ ھتاجاتا ہے ” اودیة “ ” وادی “ کی جمع ہے ، جس کا معنی درّہ ور پانی بہنے کی جگہ ہے ۔
8۔تفسیر فخررازی ، جلد۲۸،صفحہ ۲۸انہی آیات کے ذ یل میں اور تفسیرقرطبی جلد ۹، صفحہ ۶۰۲۶میں بھی یہی معنی ذکرکیاگیا ہے ۔
9۔” تد میر“ ” تدمیر “ کے مادہ سے ہے جس کامعنی ہلاک اورنیست ونابود کرنا ہے ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma