اس کا ئنات کی تخلیق حق کی بنیاد پر ہے

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 21

یہ سُورہ ” حوامیم “ کے خاندان کی سات سُورتو ں میںسے ایک ہے ، جن کے اوائل میں ” حٰم “ کاکلمہ مذکور ہے ۔
حروف ِ مقطعات کی تفسیر میں عموماً اور” حٰم “ کی تفسیر میں خصوصاً سُورہ ٴ بقرہ ، آل عمران ، اعراف اور گزشتہ ” حٰم “ سورتوں کے آغاز میں بہت سے مطالب بیان ہوچکے ہیں ، یہاں پران کے دُہر انے کی ضر ورت نہیں ، صرف اسی حد تک اکتفاء کرتے ہیں کہ یہ جھنجھوڑ کر رَکھ دینے والی ، تحرک انگیز اور معانی و مطالب سے معمُور قرآنی آیات ” حا“ اور ” میم “ وغیرہ ، جیسے سادہ ،حروف تہجی سے مرکّب ہیں ․ خدا کی عظمت کے لیے یہی بات کافی ہے کہ وہ اس قدر عظیم چیز کواس حد تک سادہ حرفوں سے وجُود میں لایا ہے کہ اگر لوگ قیامت تک بھی اس کے اسرار و رموز میں غو وفکر سے کام لیتے رہیں تو بھی نت نئے مطالب حاصل کرتے رہیں گے ۔
شا ید اسی لیے فوراً ہی فر مایاگیا ہے : ” یہ کتاب خدا وندِ عزیز وحکیم ( قا در و توانا ) کی طرف سے نازل ہوئی ہے “ ۔
)تَنْزیلُ الْکِتابِ مِنَ اللَّہِ الْعَزیزِ الْحَکیمِ) ۔
یہ وہی تعبیر ہے جوان تین سُورتوں کے آغاز میں بیان ہوچکی ہے ، جن کے اوّل میں ” حٰم “ ہے (سُورہ موٴ من جاثیہ اوراحقاف ) ۔
یعنی بات ہے کہ ایک ناقابلِ تسخیر قدرت اور بے کراں حکمت ضروری ہے کہ جواس قسم کی کتاب نازل کرے ۔
” تدوینی کتاب “ کے بعد ” تکو ینی کتاب “ کاذکر فر مایاگیا ہے اور آسمانوں اور زمین کی عظمت اورحقانیت کی بات کرتے ہُوئے فرمایاگیا ہے : ہم نے تو سارے آسمانوں اور زمین ” اور جوکُچھ ان دونوں کے درمیان ہے ، کو صرف حق کی اساس پر پیداکیا ہے (ما خَلَقْنَا السَّماواتِ وَ الْاٴَرْضَ وَ ما بَیْنَہُما إِلاَّ بِالْحَقِّ ) ۔
نہ تو اس کی آسمانی کتاب میں کوئی خلاف حق کلمہ موجود ہے اورنہ ہی اس کی کائنات میں غیر موزوں اورحق کے مخالف کوئی چیز موجُود ہے ، سب کچھ موزوں ، نپا تلا اور حق کے ہم گام اور ہم آہنگ ہے ۔
لیکن جس طرح اس تخلیق کا آغاز ہے اسی طرح اس کا انجام بھی ہے ، لہٰذا آیت کے اگلے حِصّے میں فر مایا گیا ہے : ہم نے اس کے لیے ایک خاص وقت معین کردیا ہے ( وَ اٴَجَلٍ مُسَمًّی)۔
جس کے پہنچتے ہی دُنیا فنا ہو ائے گی ، چونکہ یہ کائنات حق پرستو ار ہے اورکسِی مقصد کے تحت تخلیق ہوئی ہے لہٰذا فطری طورپر اس کے بعد ایک اور جہان ہونا چا ہیئے ، جس میں اعمال کے نتائج کی چھان پھٹک کی جائے ، بنابریں اس کائنات کی حقانیت ہی بذات ِ خود معاد کے وجُود پرایک دلیل ہے ،وگرنہ یہ کائنات کھو کھلی ، بے بنیاد اور بے انداز ظلم کی حامل ہوتی ۔
باوجود یکہ قرآن حق ہے اور تخلیق کائنات بھی برحق ، ہٹ دھرم کفار جن چیزوں سے ڈ رائے جاتے ہیں ، ان سے مُنہ پھیر لیتے ہیں (وَ الَّذینَ کَفَرُوا عَمَّا اٴُنْذِرُوا مُعْرِضُون) ۔
ایک طرف توقرآنی آیات پے درپے انہیں اس بات کاخوف دلارہی ہیں کہ تمہیں ایک عظیم عدالت کاسامنا کرنا ہے ،دوسر ی طرف اپنے خاص نظام کے تحت تخلیق کائنات بذات خُود متنبہ کررہی ہے کہ حساب وکتاب ہوگا، لیکن یہ بے پر وا ہ غافل نہ تواس پرتوجہ کرتے ہیں اور نہ ہی اُس پر ۔
” معرضون “ ” اعراض “ کے مادہ سے ہے جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگروہ تکوینی اور تدوینی آیات کا سامنا کریں توحقائق کا ادراک کرلیں گے ،لیکن وہ تواپنا مُنہ ہی پھیر ے ہُوئے حق سے گریز پا ہیں تا کہ ان کی تقلیدی ، تخیلا ت پر مبنی اورخوا ہشات نفسانی کے تحت عمل میں آ نے والی رفتار میں کوئی تبدیلی نہ آجائے ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma