سُورہ احقاف کے مضامین اور فضیلت

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 21
سُورہ احقاف

مکہ میں نازل ہوئی
اس کی ۳۵ آ یات ہیں

سُورہ احقاف کے مضامین

یہ سُورت مکی سُورتوں میں سے ہے ، البتہ کچھ مفسرین کی رائے میں اس کی چند آ یات مدینہ میں نازل ہوئی ہین ، اس کی تشریح ہم انہی آ یت کے ضمن میں کریں گے ، زمان ومکان کے پیشِ نظر اس کا نزُول اس زمانے میں ہواجب شرک کے خلاف جدّو جہد جاری تھی ،توحید ،معاد وراسلام کے بنیاد ی مسائل کی طر ف دعوت دی جا رہی تھی ،لہٰذا یہ سُورت بھی اسی تناظر میںگفتگو کررہی ہے ،مجموعی طورپر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اس سُورت کے پیشِ نظر مندرجہ ذیل امور ہیں ۔
۱۔ قرآن کی عظمت کابیان ۔
۲۔ ہرطرح کے شرک اور بُت پرستی کے خلاف دوٹوک موقف ۔
۳۔ لوگوں کومعاد اور پر وردگار کی عدالت کے مفہوم کی فہمائش ۔
۴۔ ضمنی طور پر مشرکین اور مجرمین کے لیے تنبیہ کے طورپر قومِ عاد کی داستان کاایک حصّہ بھی بیا ن کیاگیاہے جو سرزمینِ احقاف میں سکونت پذیر تھی (سُورت کانام بھی یہیں سے لیاگیا ہے ) ۔
۵۔ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کے عمومی اوروسیع ہونے کاتذ کرہ ، اس حوالے سے کہ یہ انسانوں کے علاوہ جنات کے لیے بھی ہے ۔
۶۔ مومنین کے لیے تشویق اور کفار کے لیے انذار بھی اس سُورت میںموجُود ہ اور امید وخوف کے مبادی بھی اس میں موجود ہیں ۔
۷۔ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صبرواستقامت کی تلقین کی گئی ہے اور گزشتہ عظیم پیغمبروں کے نقش قدم پرزیادہ سے زیادہ چلنے کی دعوت دی گئی ہے ۔


سورہ احقاف اور اس کے فضائل

ایک حدیث کہ جورسُول ِ اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے مروی ہے ، اس میں اس سُورت کی فضیلت یوں وار د ہوئی ہے :
” من قراٴ سُورہ الا حقاف اعطی من الا جر بعد دکل رمل فی الدّ نیا عشر حسنات ، ومحی عنہ عشر سیّئات ورفع لہ عشر ء د رجا ت “۔
” جو شخص سُورہ احقاف کی تلاوت کرے گا اسے دُنیا میں موجُود ریت کے ہر ذرّے کے بدلے دس نیکیاں دی جائیں گی اور دس برائیاں مٹائی جائیں گی اور دس درجے بلند کیے جائیں گے (1) ۔
” احقا ف “ جمع ہے ” حقف “ ( بروزن رِزق) کی ، جس کامعنی ایسی چلنے والی ریت ہے جوجنگل اور بیابان میں ہواؤں کے چلنے سے مستطیل اورٹیڑھی شکل میں ایک دوسرے پرجمع ہوتی رہتی ہے ، قومِ عاد کی سرزمین کوبھی اسی وجہ سے ” احقاف “ کہتے تھے کہ وہ اس نوعیت کا ایک ریگستان تھی ، مندرجہ حدیث کی تعبیر بھی اسی چیز کی طرف اشارہ ہے ۔
ظا ہر سی بات ہے کہ اس قسم کے حسنات اوردرجات صرف الفاظ کی تلاوت سے حاصل نہیں ہوجاتے ، بلکہ ایسی تلاوت مراد ہے جو تعمیر ی، بیدار کرنے والی اورایمان وتقویٰ کے را ہ پر چلانے والی ہواور سچ مچ سُورہ احقاف کے مضامین اپنے اندر ایسا اثر رکھتے بھی ہیں ،بشر طیکہ انسان طالب حقیقت اور آ ما دہ ٴ عمل ہو ۔
ایک اورحدیث میں حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام فرماتے ہیں :
” من قراٴ کل لیلة اوکل جمعة سُورة الاحقاف لم یصبہ اللہ عزّوجلّ بر وعة فی الحیٰوة الدّنیا ، واٰمنہ من فزع یو م القیامة ان شاء اللہ “۔
” جوشخص ہررات یا ہرجُمعہ کوسُورہ ٴ احقاف کی تلاوت کرتا ہے خداوند بزرگ و برتراس سے دُنیا کی وحشت اورخوف اُٹھا لیتا ہے اور قیامت کے دن کی وحشت سے بھی وہ اس کی امان میں آ جاتا ہے ( ۲) ۔
۱۔ تفسیر مجمع البیان ،سُورہ احقاف کا آغاز ۔
۲۔ تفسیر مجمع البیان اور تفسیر نوارلثقلین ، سُورہٴ احقا ف کا آغاز ۔ 
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma