سوره جاثیه/ آیه 7- 10

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 21

۷۔وَیْلٌ لِکُلِّ اٴَفَّاکٍ اٴَثیمٍ ۔
۸۔یَسْمَعُ آیاتِ اللَّہِ تُتْلی عَلَیْہِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَکْبِراً کَاٴَنْ لَمْ یَسْمَعْہا فَبَشِّرْہُ بِعَذابٍ اٴَلیمٍ ۔
۹۔وَ إِذا عَلِمَ مِنْ آیاتِنا شَیْئاً اتَّخَذَہا ہُزُواً اٴُولئِکَ لَہُمْ عَذابٌ مُہینٌ ۔
۱۰۔ مِنْ وَرائِہِمْ جَہَنَّمُ وَ لا یُغْنی عَنْہُمْ ما کَسَبُوا شَیْئاً وَ لا مَا اتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللَّہِ اٴَوْلِیاء َ وَ لَہُمْ عَذابٌ عَظیمٌ۔

ترجمہ

۷۔ جھوٹے گناہ گار کے لیے افسوس ہے ۔
۸۔ کہ اس پرخدا کی آ یاس مسلسل پڑھی جاتی ہیں اور انہیں سُنتا رہتاہے ، پھر بھی غرور سے مخالفت پراڑا رہتاہے ، گو یا اس نے ان کوسُناہی نہیں ، توایسے شخص کودردناک عذاب کی خوش خبری دے دے ۔
۹۔ اور جب اِسے ہماری آ یتوں میں سے کسی آ یت سے آگا ہ کیاجاتا ہے تواس کی ہنسی اڑا تاہے ، ایسے لوگوں کے لیے ذلیل وخوار کرنے والا عذاب ہے ۔
۱۰۔ اور جہنم ان کے پیچھے ہی پیچھے ہے اورجو کچھ وہ کما چکے ہیں وہ انہیں نجات نہیں دلائے گا اور نہ ہی وہ کہ جن کوانہوں نے خداکوچھوڑا کراپنے سرپرست بنانا تھا اور ان کے لیے بڑا درد ناک عذاب ہے ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma