تھو ہر کادرخت

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 21

گذشتہ آ یات میں ” یوم الفصل “ یاجدائی کے دن کی بابت بات ہورہی تھی ، لیکن ان آ یات میں دوزخیوں کے وحشت ناک اور لر زادینے والے عذاب کی ایک جھلک پیش کی جارہی ہے جو در حقیقت گذ شتہ آ یات کاتتمہ ہے ۔
ارشاد ہوتاہے : تھو ہر کادرخت (إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ ) ۔
گناہگا روں کی سزا ہے (طَعامُ الْاٴَثیم) ۔
یہی لوگ ہوں گے جواس کڑوے بد مزہ بد بو دار اور مہلک درخت کو کھائیں گے ۔
جیساکہ ہم سُورہ ٴ صافات کی آ یت ۴۲ کی تفسیر میں بیان کرچکے ہیں کہ مفسرین اور اربابِ لغت کے بقول ” زقوم “ ایک ایسے پودے کانام ہے جوکڑ وا، بد مزہ اور بد بو دار ہوتاہے ، جس کے پتے چھوٹے ہوتے ہیں اور جز یرة العرب کی سرزمین ” تہامہ “ میںپیدا ہوتاہے اورجس سے مشرکین بھی آشناتھے . یہ ایک ایساپو دا ہے جس کا شیرہ کڑ وا ہوتا ہے ،اگریہ شیرہ بدن کو لگ جائے تو بدن سُوج جاتاہے ( ۱) ۔
بعض مفسرین کاخیال ہے کہ ” زقوم “ کااصلی معنی ” نگنا“ ہے ( ۲) ۔
جبکہ بعض دوسرے لوگوں نے اسے جہنمیوں کی ہرقسم نفرت انگیز غذا کے معنی میں لیا ہے ( ۳) ۔
ایک روایت میں ہے کہ جب یہ لفظ قرآن مجید میں نازل ہوا تو کفّارِ قریش کہنے لگے ، اس قسم کاپودا ہمارے مُلک میںپیدا نہیں ہوتا ، تم میں سے کِس شخص کو” زقوم “ کے معنی کاعلم ہے ؟ تو ہاں پرایک افریقی شخص بھی موجود تھا ، اس نے کہا ہما ری زبان ” زقوم “ کامعنی ” کھُجور اور مکھن ہے “ (شاید اس کا مقصد بھی مذاق اڑاناتھا ) جب ابو جہل نے یہ بات سُنی تواس نے استہزاء کے طورپر اپنی کنیز کوبلا کرکہا ” تھوڑا سا مکھّن اور خرمالے آ ؤ تاکہ اس سے زقوم بنائیں “ چنانچہ ” زقوم “ تیار کیاگیا اور وہ کھاتے بھی جاتے تھے اور مذا ق بھی اڑاتے جاتے تھے اور کہتے تھے ،” محمد ہمیں اسی چیز سے ڈ رتاہے “ ( ۴) ۔
ساتھ ہی یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ لُغت عرب اورقرآنی استعمال میں ” شجر ہ“ کالفظ کہیں پر تو ” درخت “ کے معنی میں آ یا ہے اور کہیں پر مطلق ” پودے “ کے معنی میں ۔
” اثیم ‘ ‘ ” اثم “ کے مادہ سے ہے ، جس کامعنی ہے ” ایسا شخص جوہمیشہ گناہوں میںغر ق رہتاہے “ یہاں پرہٹ دھرم، حد سے تجاوز کرنے والے اور گناہوں میں غرق کفار مراد ہیں ۔
پھرفر مایاگیاہے : پگھلی ہوئی دحات کی طر ح وہ گنا ہگاروں کے پیٹ میں ابال کھائے گا (کَالْمُہْلِ یَغْلی فِی الْبُطُون) ۔
جیسے کھولتا ہوا پانی (کَغَلْیِ الْحَمیم) ۔
بہت سے مفسر ین اور ارباب لغت کے بقُول ’ ’ مھل “ کے معنی پگھلی ہوئی دھات ہے اور مفردات میں راغب نے اور بعض دوسرے صاحب ِ لغت نے اس کامعنی ” گھی یاتیل کی تلچھٹ “ بتایا ہے ، جونہایت ہی ناپسند یدہ چیز ہوتی ہے لیکن اس کاپہلا معنی زیادہ مناسب معلُوم ہوتاہے ۔
” حمیم “ کے معنی ” کھولتا ہوا گرم پانی “ ہے اور کبھی اس کااطلاق گہر ے اور پکّے دوست پر بھی ہوتاہے ،لیکن یہاں پر پہلامعنی مراد ہے ۔
بہرحال جب تھو ہر ان کے جسم میں پہنچے گا توانتہا ئی زیادہ حرارت پیدا کرکے کھو لتے ہُوئے پانی کے مانند پیٹ میں ابال پیدا کردے گا ،یہ غذ اقوت اور طاقت کاذریعہ بننے کے بجائے مصیبت ،عذاب اوردُکھ درد کا سبب بن جائے گی ۔
پھرفر مایاگیاہے کہ دوزخ پرمامُور فرشتوں کوخطاب ہوگا: گناہوں میںغرق ان مجرمُوں کوپکڑو اورانہیں جہنم میںپھینک دو (خُذُوہُ فَاعْتِلُوہُ إِلی سَواء ِ الْجَحیمِ ) ۔
” فعتلوہ “ ” عتل “ ( بروزن ” قتل “ ) کے مادہ سے ہے ، جس کامعنی پکڑنا ،گھسیٹنا اور پھینکنا ہے ، جیسا کہ برتاؤ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے سرکش مجرمین کے ساتھ سرکاری کارندے کرتے ہیں ۔
” سواء “ کامعنی ” درمیان “ ہے ، کیونکہ اس کافاصلہ ہرطرف سے مساوی ہوتاہے ،ایسے افراد کوجہنم کے درمیان میں لے جانے کامقصد یہ ہوگاکہ وہاں کی حرارت نسبتاً زیادہ شدید ہوگی اورآگ کے شعلے اسے ہرطرف سے گھیر ے ہوں گے ۔
پھران کی ایک اورالمناک سزا کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے فرمایاگیاہے : پھر دوزخ پرما مور فرشتوں کوحکم دیا جائے گا: اس کے سرپر کھولتا ہوا عذاب ڈالو (ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَاٴْسِہِ مِنْ عَذابِ الْحَمیمِ ) (۵) ۔
اس طرح سے ایک تووہ اند ر سے جلیں گے اور دوسر ے باہر سے جہنم کی آگ ان کے تمام وجُود کواپنی لپیٹ میں لے لے گی اور آگ کے درمیان میں بھی ان پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا ۔
اسی سے ملی جلتی ایک اور آ یت سُورہٴ حج میں بھی بیان ہوئی ہے ،ارشاد ہوتاہے :
” یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُؤُسِہِمُ الْحَمیم“ ( حج ، ۱۹) ۔
ان تمام درد ناک جسمانی عذابوں کے بعد انہیں جانکاہ روحانی سزاؤں سے بھی دو چار ہوناپڑے گا ، ارشا د ہوتاہے ، کہ اس گناہگا رسرکش اور بے ایمان مجرم سے کہاجائے گا : مزہ چکھ ! کیونکہ تو وہی شخص توہے جو بزعم خویش سب سے زیادہ طاقتور اور سب سے زیادہ قابلِ احترام تھ (ذُقْ إِنَّکَ اٴَنْتَ الْعَزیزُ الْکَریمُ) ۔
تو ہی توتھا جس نے بینوا مظلوموں کی زنجیر وں میں جکڑاہواتھا ، اُن پرظلم وستم کیاکر تاتھا ،اپنی ناقابلِ تسخیر طاقت کا لوہا منوانے کے درپے تھااورلوگوں سے اپنا بہت زیادہ احترام کرواتاتھا ۔
جی ہاں ! یہ تُو ہی تھا کہ اس تمام غرور کے ساتھ ہرقسم کے جُرم کاارتکاب کیاکرتاتھا ، اب تو اپنے تمام اعمال کامزہ چکھ کہ سب کچھ تیری آنکھوں کے سامنے مجسم ہوچکا ہے ، جس طرح تُو دُنیا میں لوگوں کے جسم ورُوح کوجلایا کرتاتھا اب توخُود اندر اور باہر خداکے قہر کی آگ اورکھولتے ہُوئے گرم پانی میں جل رہاہے ۔
روایت میں ہے کہ ایک دن رسُول اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے ابو جہل کاہاتھ پکڑ کرکہا:
” اولی لک فاولی “
” ابوجہل انتظار کرو ،انتظا ر “۔
یہ سُن کرابوجہل ناراض ہوگیا اوراپنا ہاتھ جھڑا کرکہنے لگا “۔
” با ی شی ء تھددنی ؟ ما تستطیع انت وصاحبک ان تفعلا بی شیئاً ! انی لمن اعز ھذ االو ادی واکر مہ “۔
” مجھے کِس بات کی دھمکی دے رہے ہو ؟ نہ تو تم میر ا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور نہ ہی تمہاراصاحب (خد)میرا کچھ بگاڑ سکتاہے ، میںمکّہ کی تمام دھرتی میں سب سے زیادہ طاقت ور اور صاحب احترام شخصیّت ہوں “۔
مندرجہ بالا آ یت اسی چیز کو بیان کررہی ہے ، آ یت کہتی ہے کہ جب اسے آتشِ جہنم میں ڈالا جائے گا تواسے کہاجائے گا : اے طاقت ورسرزمین مکّہ کے معزز انسان ! اس عذاب کامزہ چکھ ( ۶) ۔
اس سلسلے کی آخری آ یت میں فرمایاگیاہے : انہیں خطاب ہوگا: یہ وہی چیزہے ، جس کے بارے میں تم لوگ ہمیشہ شک وشبہ کیاکرتے تھے (إِنَّ ہذا ما کُنْتُمْ بِہِ تَمْتَرُون) ۔
قرآن کی کس قدر آ یات میںمختلف دلائل کے ذریعے کے ذریعے اس دن کی حقانیت تمہارے گوش گزار کی کئی؟ آ یاہم نے تمہیں نہیں کہاتھا کہ تم قیامت کاثبوت عالم نباتات میںدیکھو کیونکہ ” کَذلِکَ الْخُرُوج“ قیامت کے دن تم بھی اسی طرح زندہ کیے جاؤ گے ( ق۔ ۱۱) ۔
کیاتمہیں نہیں بتا یاگیاتھا کہ مُردوں کوزندہ کرناخدا کے لیے بہت آسان ہے ” کذالک النشور“ ( فاطر ۔ ۹) ۔
کیا تمہیں نہیں بتایاگیا کہ مُردوں کوزندہ کرنا خدا کے لیے بہت آسان ہے ” وذالک علی اللہ یسیر “ ( تغابن ۔ ۷) ۔
کیاتمہیں نہیں کہاگیا تھا کہ آ یاپہلی تخلیق ہمارے لیے مُشکل تھی کہ تم قیامت کے بارے میں شک کر تے ہو ؟ ”اٴَ فَعَیینا بِالْخَلْقِ الْاٴَوَّل “ ( ق ، ۱۵) ۔
خلاصہ کلام مختلف طریقوں سے حقیقت تم سے بیان کردی گئی تھی ،لیکن افسوس کہ تمہار ے پاس سننے والے کان نہیں تھے ۔
جسمانی اور رُ و حانی سزائیں
ہم جانتے ہیں کہ قرآن تصریحات کے مطابق معاد دو پہلوؤ کی حامل ہے ، ایک جسمانی اوردوسر ے روحانی ،یہ ایک فطری امر ہے کہ سزا اور جزا بھی دونوں پہلوؤں پر مشتمل ہو ، لہذا آ یات و روایات میں ان دونوں کی طرف اشارہ کیاگیا ہے ، لیکن چونکہ عوام النا س کی زایادہ توجہ جسمانی پہلو کی طرف ہوتی ہے لہذا زیادہ وضاحت اور تشریح بھی جسمانی سزا اور جزا کی کی گئی ہے ،لیکن روحانی سزا ااور جزا کی طرف بھی کم اشارات نہیں ہیں ۔
اسی بات کاایک واضح نمونہ ہم نے مندرجہ بالا آ یات میں دیکھ لیاہے کہ جن میں کچھ ددد ناک جسمانی سزاؤں کوبیان کرنے کے بعد مستکبر اورسرکش ظالموں کورُو حانی سزاؤں کی طرف معنی خیز اشارے ملتے ہیں ۔
قرآن مجید کی دوسری آ یات میں بھی رُوحانی جزاؤں کے بارے میں اشار ے ملتے ہیں ، سُورہ ٴ توبہ کی آ یت ۷۲ میں فر مایاگیاہے :
” ور ضوان من اللہ اکبر“
” خداکی خوشنودی اور رضا مندی تمام جزاؤ ں سے برتر ہے “ ۔
سورہٴ یٰس آ یت ۵۸ میں فر مایاگیا ہے :
” سلام قولاً من ربّ رحیم “۔
” ان کے لیے سلام ومبارک بادی ہے رحیم اورمہر بان خداکی جانب ہے “ ۔
سورہٴ حجر کی ۴۷ ویں آ یت میں :
”وَ نَزَعْنا ما فی صُدُورِہِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْواناً عَلی سُرُرٍ مُتَقابِلین “۔
” ہم ان کے دِلوں سے ہرقسم کاحسد ، کینہ اوردشمنی نکال دیں گے ، سب بھائی بھائی ہوں گے اورتختو ں پرایک دوسرے کے سامنے براجمان ہوں گے “۔
صاف ظاہر ہے کہ وہاں کی روحانی لذتیں بھی وسیع اور بے انتہاہوں گی کہ جن کی تعریف و توصیف نہیں کی جا سکتی ، اِسی لیے قرآنی آ یات میں بھی عام طورپر صرف اشاروں اشاروں سے کام لیاگیاہے لیکن روحانی سزاؤں کوحقا رت ڈانٹ ڈانٹ ، سر زنش ، افسوس اوررنج و غم کی صُورت میں منعکس کیاگیاہے کہ جن کاایک نمونہ مندرجہ بالاآ یات میں آپ ملاحظہ فرماچکے ہیں ۔
۱۔ تفسیر مجمع البیان ، تفسیر رُوح البیان ، اور تفسیر رُوح المعانی ۔
۲۔ لسان العرب مادہ ” زقم “۔
۳۔ مفر دات راغب مادہ ’ ’ زقم “ ۔
۴۔ تفسیر قرطبی ، جلد ۸ ،ص ۵۵۲۹(سُورہٴ صافات کی ۶۲ ویں آ یت کے ذیل میں ) ۔
۵۔ ” عَذابِ الْحَمیمِ “ ” اضافت بیانیہ “ ہے یعنی یہ کھولتا ہواگرم پانی ایک عذاب ہے جوان پر ڈالاجا ئے گا ۔
۶۔ تفسیرمراغی جلد ، ۲۵ ،ص ۱۳۵ (اسی آ یت کے ذیل ، تفسیر رُوح المعانی اور تفسیر کبیر فخر الدین رازی ) ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma