یہی موت ہے اور بس

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 21

گذ شتہ آ یات میں فرعون اور فرعونیوں کی زندگی کی تصو یرکشی کی گئی تھی اوران کے کُفر وانکار کے انجام کاتذ کرہ تھا ، اب ایک بار پھر مشر کین کی باتوں کاذکر کیاجارہاہے اور معاد کے بارے میں ان کے شکوک کو جوک سُورت کے آغاز می مذ کور ہوچکے ہیں ایک مرتبہ پھر دوسرے لفظوںمیں اس طرح بیان کیا جارہا ہے : یہ مشرکین یُوں کہتے ہیں ( إِنَّ ہؤُلاء ِ لَیَقُولُونَ ) ۔
ہمیں توصرف ایک بار مرنا ہے اورہم ہرگز دوبارہ زندہ نہیں ہوں گے ( إِنْ ہِیَ إِلاَّ مَوْتَتُنَا الْاٴُولی وَ ما نَحْنُ بِمُنْشَرینَ) (۱) ۔
معاد ، حیا ت بعدالموت ، جزا سزا اورجنّت و جہنم کے بارے میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جوکچھ کہتے ہیں ان میں سے کسی ایک کی بھی کوئی حقیقت نہیں ،بلکہ سرے سے حشر و نشر کا ہی سوال پیدا نہیں ہوتا ۔
یہاں پر ایک سوال پیداہوتاہے اوروہ یہ کہ مشرکین صرف پہلی موت پر کیوں زیادہ زور دیتے ہیں ؟ جس کامطلب یہ ہے کہ اس موت کے بعد دوسر ی موت نہیں ہے ،جبکہ ان کی مراد حیات بعد الموت کی نفی ہوناہے نہ کہ دوسر ی موت کاانکار دوسرے لفظوں میں انبیاء کرام علیہم السلام نے حیات بعد الموت کی خبر دی ہے نہ کہ دوسر ی موت کی ۔
تواس کاجواب یہ ہے کہ ان کی مُراد بعد از مرگ دوسر ی حالت کے وجود کاانکار ہے ،یعنی ہم فقط ایک بار مریں گے اور یہ سب کچھ ختم ہوجائے گا . اس کے بعد نہ تو دوبارہ زندگی ہوگی اور نہ ہی دوبارہ موت ، جوکچھ ہے صرف یہی ایک موت ہے ( غور کیجئے گا ) ( ۲) ۔
درحقیقت اس آ یت کامفہوم سورہ انعام کی ۲۹ ویں آ یت سے بہت زیادہ ملتا جُلتا ہے ، جس میں کہاگیاہے :
” وَ قالُوا إِنْ ہِیَ إِلاَّ حَیاتُنَا الدُّنْیا وَ ما نَحْنُ بِمَبْعُوثینَ“
” انہوں نے کہا: زندگی صرف یہی دُنیا وی زندگی ہے اورہم ہرگز دوبارہ نہیں اُٹھا ئے جائیںگے ۔
اس کے بعد ان کی گفتار کونقل کیاجاتاہے کہ وہ اپنے بے بنیاد دعوے کے لیے پورے دلائل پیش کرتے ہُوئے کہتے ہیں : اگرتم سچ کہتے ہو توہمار ے باپ داد کو زندہ کرکے ہمارے پاس لے آ ؤ تاکہ وہ تمہاری سچائی کی گواہی دیں (فَاٴْتُوا بِآبائِنا إِنْ کُنْتُمْ صادِقین) ۔
بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ باتیں کہنے والاابوجہل تھا ، جس نے رسُول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی طرف مُنہ کرکے کہا : ” اگرتوسچ کہتاہے تواپنے جد ” قصی بن کلاب “ کو زندہ کر کیونکہ وہ ایک سچا انسان تھااورہم اس سے موت کے بعد کے حالات دریافت کریںگے “
( ۳) ۔
ظاہر ہے کہ یہ سب ان کے حیلے بہانے تھے ، اگر چہ خداوند عالم کاطر یقئہ کار یہ نہیں ہے کہ مردوں کو اس دُنیا میں زندہ کرے تاکہ وہ اُس جہان کی خبریں اِس میں لوگوں کوبتائیں ،لیکن اگرباالفرض ایساکام آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے انجام پابھی جاتا پھر یہ لوگ کوئی اور راگ اِلا پنا شروع کردیتے اوراسے جادُو یاکسی اور چیز کانام دے دیتے ، جس طرح انہوں نے نے بارہا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے معجز ے طلب کیے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے وہ معجزے انہیں دکھائے بھی لیکن وہ ان کاانکار کردیتے ۔
معاد کے بارے میں مشرکین کاعقیدہ
مشرکین ، خاص کرمشرکین عرب کااعتقادی مسائل میں ایک رویہّ نہیں تھا، وہ عقیدہ ٴ شرک میں مشترک ہونے کے باوجُود اعتقادی خصوصیات میں ایک دوسرے سے زبردست اختلاف رکھتے تھے ۔
کچھ لوگ تووہ تھے جونہ توخدا کومانتے تھے اورنہ ہی معاد کو ، یہ وہ لوگ تھے جن کی باتوں کی قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیاہے :
’ ’ ما ہِیَ إِلاَّ حَیاتُنَا الدُّنْیا نَمُوتُ وَ نَحْیا وَ ما یُہْلِکُنا إِلاَّ الدَّہْر“
” اس دنیاوی زندگی کے علاوہ اور کچھ نہیں ، لوگ مرجاتے ہیں توکچھ پیدا ہوجاتے ہیں ، اور ہمیں توصرف طبیعت ہی مو ت دیتی ہے (جاثیہ ۔ ۲۴) ۔
کچُھ لوگ ایسے تھے جوخدا کومانتے تھے او ر بتُوں کواس کی بارگاہ کے لیے شفیع سمجھتے تھے ،لیکن معاد کے مُنکر تھے ، یہ وہ لوگ تھے جوکہا کرتے تھے :
’ ’مَنْ یُحْیِ الْعِظامَ وَ ہِیَ رَمیم‘ ‘۔
” ان گلی سڑی ہڈ یوں کوکون دوبارہ زندہ کرے گا“ ( یٰس ۔ ۸۷) ۔
یہ لوگ بُتوں کے لیے حج بھی بجالا تے تھے اور ق بانی بھی کیا کرتے تھے ، حلال وحرام کے قائل بھی تھے ، اوراکثر مشرکین عرب اسی گروہ سے تعلق رکھتے تھے ۔
بہت سے دلائل سے معلوم ہوتاہے کہ وہ ایک طرح سے بقائے رُو ح کے قائل بھی تھے ،خواہ تناسخ اورتازہ ابدان میں ارواح کے انتقال کی صُورت میں یاکسِی اور طرح سے ( ۴) ۔
خاص کر ” ھامة “ نامی ایک پرندے کے متعلق ان کا عقیدہ مشہور ہے ، عربوں کی داستانوں میں مذ کورہے کہ ان میں کچھ لوگ ایسے تھے جن کا یہ عقیدہ تھا کہ انسانی رُوح ایک پرندہ ہے جواس کے جسم میں پھیلا ہوا ہے جب انسان مرجاتاہے یاقتل ہو جاتاہے تووہ اس کے جسم سے باہر آکر اس کے جسم کاوحشت ناک صُورت میںچکّر لگا ناشروع کردیتاہے اوراس کی قبر کے اِرد گرد روتا پیٹتا رہتاہے ، ان کا عقیدہ تھاکہ یہ پر ندہ پہلے پہل توچھوٹا ہوتاہے ،لیکن بعد میں بڑ ھتارہتاہے یہاں تک کہ اُلو جتنا ہوجاتا ہے اور وہ ہمیشہ تنہا ئیوں میںرہتاہے اوراس کااکثر ٹھکا ناپُرا نے کھنڈ رات ، خالی گھر ،قبریں اورقتل گا ہیں ہوتی ہیں ۔
ان کایہ عقیدہ بھی تھا کہ اگرکسی کو قتل کردیاجاتا تو ” ھا مة “ اس کی قبر پر بیٹھ کریہ فر یاد کرتارہتاہے :
” اسقونی فانی صدیة “ ۔
” مجھے پانی پلاؤ کیونکہ میں بہت پیاساہوں “ ( ۵) ۔
اسلام نے ان تمام خرافاتی عقائد پرخط تنسیخ کھینچ دیا، لہٰذا پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے ایک مشہور حدیث منقول ہے :
” لاھا مة “ ۔
” ہامہ کا عقیدہ جھُوٹ ہے “ ( ۶) ۔
بہرحال اگرچہ وہ معاد اورانسان کے بعد ازموت زندگی کی طرف واپسی کے معتقد نہیں تھے ، لیکن یہ ضرور معلوم ہوتاہے کہ وہ ایک طرح کے تناسخ اوربقائے رُوح کے قائل ضرور تھے ۔
لیکن جسمانی معاد کے متعلق قرآن نے جوتصریحات پیش کی ہیں ان سب کے مُنکر تھے ، مثلاً انسان کی مٹی دوبارہ اکھٹی کی جائے گی اوروہ نئی زندگی کاآغاز کرے گا اوررُوح اورجسم مشتر ک طورپر معاد کے حامل ہوں گے ،وغیرہ ، وہ ان عقائد کاانکار ہی نہیں کرتے تھے ، بلکہ ان سے خائف تھے ،قرآن مجید نے مختلف بیانات کے ذریعے عقائد کوتفصیل کے ساتھ بیان کیاہے اوران کا ثبوت پیش کیاہے ۔
۱۔ ضمیر ” ھی “ کامرجع کیا ہے ؟ اس بارے میں مفسرین کے مختلف نظریات ہیں ، بعض مفسرین اسے ” موتة “ کی طرف پلٹا تے ہیں کیونکہ کلام کے سیاق سے یہی معلوم ہوتاہے ،بنا بریں آ یت کامعنی یہ ہوگا :
” ما لمو تة الّا مو تتنا الاُ ولیٰ) ۔
ملاحظہ ہوتفسیر تبیان ،تفسیر مجمع البیان اور تفسیر کشاف ۔
جبکہ بعض دوسرے مفسرین ضمیر کامرجع ” عاقبة “اور ” نھایة “کوجانتے ہیں ، توایسی صُورت میں آ یت کامعنی یوں ہوگا ۔
” ماعاقبة امرنا الاّ الموتة الاولیٰ “
( دیکھیئے تفسیر رُوح المعانی اور تفسیر المیزان ) ۔
البتہ نتیجے کے لحاظ سے ان میں چنداں فرق نہیں ہے ۔
۲۔ مفسرین نے اس جُملے کی تفسیر میں کئی اوراحتمالات کو بھی ذکر کیاہے جو سارے کے سارے بعید معلوم ہوتے ہیں ، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انہوں نے ” موتہ والی “ کو ” اس دُنیا میں موت قبل از حیات “ کے معنی میں لیاہے ،اس قول کی بناء پر اس جُملے کامفہوم یُوں ہوگا کہ وہ موت جواس حیات کے بعد ہے فقط وہی موت ہے ، جو ہم اختیار کرچکے ہیں اورہم سب مٹی تھے لیکن ہمار ی دوسری موت کے بعد پھرزندگی کاوجود ہرگز نہیں ہے ۔
۳۔ دیکھیئے تفسیر مجمع البیان جلد ۹ ،ص ۶۶ اور بعض دوسری تفسیریں ۔
۴۔ نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد اوّل ،ص ۱۱۷۔
۵۔ بلوغ الارب ، جلد ۲ ،ص ۳۱۱۔
۶۔ بلوغ الارب ، جلد ۲،ص ۳۱۱۔ 
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma