جب ہو لناک دھواں آسمان پرچھا جائیگا

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 21

گزشتہ آ یات میں اس بات کے بارے میں گفتگو ہو رہی تھی کہ اگروہ یقین کے خواہاں ہیں ، تو یقین کے حصول کے اسباب بہت ہیں اور فراہم بھی ہیں.زیر تفسیر آ یات میں سے پہلی آ یت میں فرمایاگیا ہے : وہ یقین اورحق کے طلب گار ہیں ہیں ” بلکہ وہ توشک میں پڑ ے (حقائق کے ساتھ )کھیل رہے ہیں “ (بَلْ ہُمْ فی شَکٍّ یَلْعَبُون) ۔
اگروہ اس آسمانی کتاب اور آ پ کی نبوّت کی حقّانیت میں شک کرتے ہیں تو اس وجہ سے نہیں کہ یہ کوئی پیچیدہ مسئلہ ہے ، بلکہ اس لیے شک کرتے ہیں کہ اس پر سنجیدگی سے غور نہیں کرتے ، بلکہ ہنسی مذاق میں بات کوٹال دیتے ہیں کبھی تواس کاتمسخر اڑاتے ہیں اور کبھی از خود تجاہل عارفانہ کااظہار کرتے ہیں اور نٹ نئے کھیل میں لگے رہتے ہیں ۔
” یلعبون“” تعاب “کے مادہ سے ہے جس کامعنی ” مفرادت “ میں ” راغب “کے بقول وہ ” لعاب دہن “(تھوک )ہے جو منہ سے ٹپکتاہے ،چونکہ کھیل اورمذاق کے موقع پر انسان کااپنے کام سے کوئی خاص مقصد پیشِ نظرنہیں ہوتا، لہذااسے ایسی تُھوک سے تشبیہ دی گئی ہے جوانسان کے مُنہ سے ٹپکتی ہے ۔
بہرحال یہ ایک حقیقت ہے کہ مسائل پر سنجیدہ گی سے غور وخوض کوحقائق کی شنا خت میں بہت مدد دے سکتاہےاور غیر سنجیدہ طریقہ ٴ کار حقائق کے چہر ے پرپردے ڈال دیتاہے ۔
بعد کی آ یت میں رسُولِ پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کومخاطب کرتے ہُوئے ان ہٹ دھرم اور سخت منکرین کودھمکی دیتے ہُوئے فرمایاگیاہے :اِس دن کاانتظار کرو کہ جس دن آسمان سے ظاہر دھواں نکلے گا (فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاٴْتِی السَّماء ُ بِدُخانٍ مُبینٍ) ۔
ایسادھواں جوتمام لوگوں کوڈھانک لے گا (یَغْشَی النَّاسَ )
پھران سے کہاجائے گاکہ یہ خدا کادرد ناک عذاب ہے (ہذا عَذابٌ اٴَلیمٌ ) ۔
وحشت اوراضطراب ان کے تمام وجُود کواپنی لپیٹ میں لے لے گا ،ان کی آنکھوں سے تمام پردے ہٹا دیئے جائیں گے ، اور وہ اپنی عظیم غلطیوں سے واقف ہوجائیں گے ، بارگاہ ایزادی کی طرف رجوع کرکے کہیں گے : پر وردگار ا ! ہم سے عذاب دُور کردے کہ ہم ایمان لا تے ہیں (رَبَّنَا اکْشِفْ عَنَّا الْعَذابَ إِنَّا مُؤْمِنُون) ۔
لیکن ان نا بکاروں کے اس دعو ے کی تر دید کرتے ہُوئے فرمایاگیاہے : وہ کس طرح سے اورکہاں نصیحت حاصل کریں گے جب کہ ان کے پاس روشن معجزات اور دلائل کے ساتھ رسُول آچکاہے (اٴَنَّی لَہُمُ الذِّکْری وَ قَدْ جاء َہُمْ رَسُولٌ مُبینٌ ) ۔
ایساپیغمبر جوخود بھی ظاہر اور آشکار تھااوراس کی تعلیمات ، پرو گرام ،دلائل اور معجزات بھی واضح تھے ۔
لیکن بجائے اس کے کہ وہ لوگ اس رسُول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے سامنے سرتسلیم خم کر دیتے ، خداوند واحد لاشریک کی ذات پر ایمان لے آتے اوراس کے احکام کو جان و دِل سے قبول کرتے ،” اس سے رو گردان ہوکرکہنے لگے یہ تو دیوانہ ہے جِسے دوسرے لوگ ایسی باتیں سکھاتے پڑھاتے ہیں “ (ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْہُ وَ قالُوا مُعَلَّمٌ مَجْنُونٌ) ۔
کبھی وہ کہتے تھے کہ ایک” رُومی غلام “انبیاء کے قِصّے کہانیاں سُن کرانہیں بتاتاہے اور یہ آ یات انہی قصّوں کی بنیاد پر گھڑ ی گئی ہیں ، خدا وند عالم اس بارے میں فرماتاہے :
”وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اٴَنَّہُمْ یَقُولُونَ إِنَّما یُعَلِّمُہُ بَشَرٌ لِسانُ الَّذی یُلْحِدُونَ إِلَیْہِ اٴَعْجَمِیٌّ وَ ہذا لِسانٌ عَرَبِیٌّ مُبینٌ ‘ ‘
” ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ کوئی بشر اسے تعلیم دیتاہے ،حالانکہ جس شخص کی طرف یہ الحاد نسبت دیتے ہیں ، اس کی زبان عجمی ہے اوراس کی زبان واضح اور کھُلم کھُلاّعربی ہے “۔ (نحل ، ۱۰۳)
کبھی کہتے تھے کہ ان کے حواس مختل ہیں اوراسی اختلال کے سبب ان سے یہ باتیں سرزد ہورہی ہیں ،یعنی وہ دماغی توازن کھو چکے ہیں ۔
پھر فرمایاگیاہے : ہم تھوڑ ے سے عرصے کے لیے تم سے عذاب کوٹال دیتے ہیں ، لیکن تم عبرت حاصل نہیں کرتے اور پھر اپنے کاموں کی طرف لوٹ جاتے ہو (إِنَّا کاشِفُوا الْعَذابِ قَلیلاً إِنَّکُمْ عائِدُونَ) ۔
یہاں پر یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ اگر کبھی وہ عذاب کے چنگل میں پھنس جاتے تواپنے کئے پراظہار ندامت کرتے اوراپنی کرتوتوں پرنظر ثانی کرنے کی ٹھان لیتے جو عارضی ہوتی تھی ، لیکن جونہی طوفان حوادث تھم جاتاتووہ اپنی سابقہ کرتوتوں میں لگ جاتے ۔
زیر تفسیر آ یت میں سے آخری آ یت میں فر مایاگیا ہے : ہم ان سے پُور ا بدلہ تو اس عظیم اور سخت سزا کے دن لیں گے ، یقینا ہم بدلہ لے کر رہیں گے (یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْکُبْری إِنَّا مُنْتَقِمُونَ ) (۱) ۔
” ننتقم منھم یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْکُبْری إِنَّا مُنْتَقِمُونَ “
” بطش “( بروزن ” نقش “ )کامعنی کسی چیز کومضبوطی کے ساتھ پکڑناہے ، یہاں پرسخت سزا کے لیے گرفت میں لینے کے معنی میں ہے اور ” بطشة “کو ”کبرٰی “سے موصوف کرنااس سزا کی شدت اور سنگینی کی طرف اشارہ ہے، جو ان لوگوں کے انتظار میں ہے ۔
خلاصہ یہ کہ بالفرض اگران کی عارضی سزا میں کمی واقع ہوجائے یاعارضی طورپر ختم ہو جائے توشدید اورسخت ترین سزااِن کے انتظارمیں ہے ، جس سے راہ فرار اختیار نہیں کی جاسکتی ۔
” “ ” انتقا م“ کے مادہ سے ہے ، جیساکہ ہم پہلے بتاچکے ہیں اس کے معنی سزادینا ہے ، اگرچہ یہ کلمہ آج کل کے روز مرّہ کے استعمال میں ایک اور معنی اختیار کرچکاہے اوروہ ہے غصّے کی آگ بجُھا نے اور دل کی بھڑ اس نکالنے کے لیے سزادینا، لیکن اس کے لغوی معنی میں یہ چیز نہیں پائی جاتی ۔
” دخان مبین “ سے کیا مراد ہے ؟
ان آ یات میں مذ کور ” دخان “ (دھویں )سے کیامراد ہے جو عذابِ الہٰی کی ایک علامت کے طورپر بیان کیا گیا ہے ، اس بارے میں مفسرین کی مختلف آ راء میں ، ان میں سے دو نظر یئے اہم ہیں :
۱۔ اس سزا کی طرف اشارہ ہے ، جس میں کفار قریش پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے زمانے میں مبتلاہُوئے تھے ،کیونکہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے ان کے بارے میں نفرین اور بد دُعا کی تھی اورکہاتھا :
” اللھم سنین کسنی یوسف “
” خدا وندا ! انہیں یوسف علیہ السلام کے زمانے کی سی قحط سالی اورخشک سالی میں مبتلا فرما“۔
اس کے بعد قحط سالی مکّہ کے اطراف میں ایسی حکم فرماہوئی کہ مکّہ کے لوگ بھُوک اورپیاس کی شدت میں مبتلا ہوگئے اوراس ابتلا ٴ کے دور میں جب بھی وہ آ سمان کی طرف نگاہ کرتے تو انہیں ہرطرف دھواں ہی دھواں دکھائی دیتا ، نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ وہ مر دار اورمردہ جانوروں کی ہڈ یاں تک کھانے پر مجبُور ہوگئے ۔
وہ پیغمبر گرامی قدر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے پاس آ کر کہنے لگے ۔
” محمد“ (صلی ا للہ علیہ وآلہ وسلم)آپ ہی توہمیں صلہ ٴ رحمی کاحُکم دیتے ہیں ، جب کہ آپ ہی کے رشتہ دار اس صورتِ حال کی وجہ سے فنا و برباد ہورہے ہیں ،(اگر یہ عذاب ہم سے برطرف ہو گیاتو ہم یقینا ایمان لے آ ئیں گے ) ۔
آنحضرت نے ان کے حق میں دُعا کی ،نعمت کی فراوانی انہیں نصیب ہوئی اور عذاب ان سے دُور ہوگیا ، لیکن انہوں نے اس ماجرے سے بھی عبرت حاصل نہیں کی اوراپنی اصلی حالت ( کُفر ) کی طرف پلٹ گئے ( ۲) ۔
اسی تفسیر کے مطابق حقیقت میں دھویں کاکوئی وجود نہیں تھا ، بلکہ بُھوکے پیاسے لوگوں کی نگا ہوں میں آسمان سیاہ اور تاریک ہوگیا تھا ، اسی لیے اس مقام پر ” دخان “ مجازی حیثیت رکھتاہے اوراس سخت اوروحشت ناک حالت کی طرف اشارہ ہے ۔
بعض مفسرین کہتے ہیں کہ نبیادی طور پرعربی ادبیات میں”دخان “عمومی مصیبت اوربلا کے لیے کنایہ ہے ( ۳) ۔
بعض دوسر ے مفسرین کہتے ہیں کہ خشک سالی اور بارش کی کمی کی وجہ سے عام طورپر سیاہ اور و بیزگرد و غبار آسمان پر چھا جاتاہے ،جِسے”دخان “ سے تعبیر کرتے ہیں ، کیونکہ بارش ہی گرددو غبار کوفرد کرکے فضاکو صاف وشفاف بناتی ہے ( ۴) ۔
مذکورہ تمام اوصاف کے پیشِ نظر اس تفسیر کے مطابق ” دخان “ کے کلمہ کامعنی مجازی ہوگا ۔
۲۔” دخان مبین “سے مراد وہ گہر ادھواں ہے جوکا ئنات کے خاتمے اورقیامِ قیامت سے پہلے تمام آسمان کواپنی لپیٹ میںلے لے گا اوریہی چیز دُنیا کے اختتام اور ظالموں اور مفسدین کے لیے عذابِ الیم کے آغا ز کی نشانی ہوگی ۔
ایسے موقع پر ظالموں کایہ ٹولہ خواب غفلت سے بیدار ہوگا اور عذاب دُور کرنے اور دُنیا کی معمُول کی زندگی کی طرف بازگشت کی درخواست کرے گا ، جوقبول نہیں کی جائے گی ۔
اس تفسیر کے مطابق ” دخان “کاحقیقی معنی مراد ہے اوران آ یات کامضمُون بھی وہی ہے جودوسری قرآنی آ یات کا ہے کہ قیامت کے قریب کے زمانے میں یادخود قیامت کےک دن گناہگار اورکافر لوگ عذاب ک برطرف ہونے اور دُنیا میںلوٹ جانے کی درخواست کریں گے لیکن ان کی یہ در خواست مستر د کردی جائے گی ( ۵) ۔
اس تفسیر کے مطابق ایک مشکل باقی رہ جاتی ہے اوروہ یہ کہ یہ تفسیر ”إِنَّا کاشِفُوا الْعَذابِ قَلیلاً إِنَّکُمْ عائِدُون “ (ہم تھوڑاساعذاب برطرف کریں گے ،لیکن تم لوگ پھراپنی کارستانیوں کی طرف لوٹ جاؤ گے ) کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے ، کیونکہ دُنیا کے خاتمے یاقیامت کے دن خدا کا عذاب کم نہیں ہوگا کہ وہ لوگ کُفر یاگناہ کی حالت کی طرف پلٹ جائیں ۔
لیکن اگر اس جُملے کاایک قضیہ شرطیہ کی صُورت میں معنی کریں ، ہرچیز کہ تھوڑا ساظاہر میں تو مخالفت ہوگا ، لیکن یہ مشکل ضرور برطرف ہوجائے گی کیونکہ آ یت کامفہوم یوں ہوگا ۔ ” جب ہم ان سے تھوڑا ساعذاب برطرف کریں گے تووہ اپنی پہلی راہ روش کو دو بار ہ اختیار کرلیں گے “ جو درحقیقت سورہٴ انعام کی ۲۸ ویں آ یت کے مانند ہو جائے گا، جس میں کہاگیاہے ۔
”وَ لَوْ رُدُّوا لَعادُوا لِما نُہُوا عَنْہ“
” اگر وہ دةں ا کی طرف لوٹا بھی دیئے جائیں توجن اعمال سے انہیں روکاگیا تھا، ان کاارتکاب کریں گے “ ۔
اس کے علاوہ ” “ (سخت اور شدید سزا ) کی جنگ ِ بدر کے واقعے سے تفسیر بعید معلوم ہوتی ہے ، جبکہ یہ تعبیر قیامت کی سزاؤں سے مکمل طورپر ہم آہنگ ہے ۔( ۶) ۔
دوسر ی تفسیر کاایک اور شاہد وہ روایات ہیں جو پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہیں اور جن میں ” دخان “ کی تفسیر اس دھویں سے کی گئی ہے جوقرب قیامت کے زمانہ میں تمام دُنیا کواپنی لپیٹ میں لے لے گا ،مثلاً جناب حذیفہ یمانی ۺ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں :
” چار چیزیں قربِ قیامت کی علامات ہیں ، پہلی دجال کاظاہر ہونا، دوسری عیسیٰ السلام کانازل ہونا، تیسر ی سرزمین عدن کی گہرائیوں سے آگ اُٹھنااور چوتھی دھواں ۔
حذیفہ نے پوچھا یارسُو ل اللہ ! وہ ” دخان “ (د ھواں ) کیاہے ؟ توآپ نے یہ آ یت تلاوت فرمائی ۔
” فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاٴْتِی السَّماء ُ بِدُخانٍ مُبین“
پھر فر مایا ۔
” یملاٴ مابین المشرق والمغرب ، یمکث اربعین یوماً ولیلة ، اماالموٴ من فیصیبہ منہ کھیٴة الز کمة ،وامّا الکا فر بمنز لة السکوان یخرج من منخریہ و اذنیہ و دبرہ “ ۔
” وہ مشرق اورمغرب کوپوری طرح اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور چالیس شبانہ روز چھایارہے گا ، مُوٴ من کی یہ حالت ہوگی ، جیسے کسی کو زکام ہوتاہے ، اورکافر کی حالت یہ ہوگی جیسے کوئی مدہوش ہوتاہے دھواں کی ناک کے نتھنوں ، کا نوں اور پیچھے سے باہر نکلتا ر ہے گا “ (7) ۔
ایک اورروایت میں ابو مالک اشعری رسُول اللہ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں :
” ان ربکم انذر کم ثلاثا : الدّ خان یاٴ خذ الموٴ من منہ کالز کمة ،و یاٴ خذ الکافر فینفخ حتی یخرج من کلّ مسمع منہ ، والثانیة الدابة والثا لثة الدّجال “۔
” تمہارے پروردگار نے تمہیں تین چیزوں سے ڈ رایاہے ، ایک تو ” دخان “ (دھواں ) ہے جس کی وجہ سے مومن کو زکام جیسی تکلیف ہوگی اور کافر کاتمام جسم پُھول جائے گا اور دھواں اس کے تمام مشامِ بدن سے باہر نکلے گا ، دوسرے دابة الارض ہے اور تیسر ے دجال ہے ( ۸) ۔
” دابة الارض “ کے بارے میں سُورہٴ نمل کی آ یت ۸۲ کے ذیل میں (تفسیر نمونہ جلد ۱۵ میں ) تفصیل سے گفتگو کی گئی ہے ۔
” دخان “ کے بارے میں ابو سعید خدری ۻ نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ ولہ وسلم ) سے اسی کی ایک اور روایت بھی بیان کی ہے ( ۹) ۔
اہل بیت اطہار علیہم السلام کے ذریعہ سے نقل ہونے والی روایات میں بھی اسی قسم کی تعبیر ملتی ہیں ، بلکہ اس سے زیادہ مفصّل جن میں سے ایک وہ رایت بھی ہے جو امیر الموٴ منین علیہ السلام نے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے بیان کی ہے آپ فرماتے ہیں ۔
”عشر قبل الساعة الشمس منھا ، السفیانی والدّ جال والدّ خان ، و الدابة وخروج القائم (ع) وطلوع الشمس من مغر بھاونزُول عیسیٰ وخسف بالمشر ق ، وخسف بجز یرة العرب و نار تخرج من قعر عدن تسوق النّا س الی المحشر “ ۔
” قیامت سے قبل دس نشانیاں ہرصُورت میں ظاہر ہو ر رہیں گی : سفیانی ، دجال ،دخان ، (دھواں ) ،دابة الارض ،قیام ِ مہدی علیہماالسلام مغر ب سے سُورج کاطُلوع ، عیسیٰ کانزول ،مشرق زمین پرایک زلزلہ جس سے زمین دھنس جائے گی ، جزیرة العرب میں بھی اسی نوعیت کازلزلہ اور سرزمین ِ عدن کی گہرائیوں سے آگ کانکلنا جولوگوں کوہنکا کر عرصہ محشر میں لے آ ئے گے ۔(۱۰) ۔
مجموعی گفتگو سے نہ نتیجہ نکلا کہ دوسری تفسیر زیادہ مناسب ہے ۔
۱۔اس جُملے کی ترکیب میں بہت سے احتمال پیش کیے گئے ہیں ،جس احتمال کواکثر مفسرین نے قبول کیاہے اور آ یت کے انداز سے بھی مطابقت رکھتاہے وہ یہ ہے کہ ” یوم “کا کلمہ ” ننتقم “فعل سے متعلق ہے جو ” افا منتقمون “کے جُملہ سے سمجھا جاتاہے ، بنا بر ین اس کی تقدیر صُور ت یہ ہوگی ۔
۲۔مجمع البیان جلد ۹،۶۳ انہی آ یات کے ذیل میں ۔
۳۔فخر رازی کہتے ہیں ” ان العرب یسمون الشر الغالب الد خان“ ( جلد ۲۷ ص ۲۴۲) ۔
۴۔تفسیر روح المعانی ، جلد ۲۵ ،ص ۱۰۷۔
۵۔اس بارے میں سورہٴ انعام کی آ یات ۲۷ تا ۳۰ کی طرف رجُو ع فرمائیں ۔
۶۔ راغب اپنی کتاب ” مفر دات “ میں کہتے ہیں ۔
” لبطش ھو تناول الشی و بصولة “
بطش کامعنی چیزکو پوری طاقت سے پکڑ ناہے ۔
جو عام طورپر سزا دینے کاپیش خیمہ ہواکرتاہے ۔
۷۔ تفسیر درمنثور جلد ۶ ،ص ۲۹۔
۸۔ تفسیر درمنثور ، جلد ۶،ص ۲۹۔
۹ ۔ تفسیر درمنثور ، جلد ۶،ص ۲۹۔
۱۰۔ بحارالانوار ، جلد ۵۲ ،ص ۲۰۹۔ 
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma