قرآن خدا کی طرف سے رُوح ہے

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 20
سوره فصلت/ آیه 1- 5

گزشتہ آ یت میں وحی کی کلی اور عمومی گفتگو کے بعد ،زیر تفسیرآیت میں خود پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی ذات پروحی کے بار ے میں گفتگو کرتے ہوئے فر مایاگیاہے : جس طرح ہم نے گزشتہ انبیاء پرمختلف طریقوں سے وحی نازل کی تجھ پر بھی اپنے فر مان سے روح کو وحی کیا (وَ کَذلِکَ اٴَوْحَیْنا إِلَیْکَ رُوحاً مِنْ اٴَمْرِنا).
” کذالک “ اسی طرح کی تعبیرسے ممکن ہے کہ اس بات کی طرف اشارہ ہوکہ گزشتہ آیت میں وحی کی جوتین قسمیں بیان ہوئیں ان سب صورتوں میں تجھ پروحی نازل ہوئی ہے . کبھی تو براہ راست تیرا پروردگار کی پاک ذات سے رابط پیداہواہے ، کبھی وحی کے فرشتے کے ذریعے اور کبھی صوتی لہروں سے ملتی جلتی آواز کے ذریعے ،جیساکہ روایات میں بھی ان تینوں قسموں کی طرف اشارہ ہو ا ہے اور گزشتہ آیت کی تفسیر میں ہم تفصیل کے ساتھ ان کاذکر کرچکے ہیں۔
یہاں پریہ سوال پیدا ہوتاہے کہ آیت مذکور ” روح “ سے کیا چیز مراد ہے ؟ تو اس بار ے میں مفسرین کے دو نظر یئے ہیں۔
ایک یہ کہ اس سے مراد قرآن مجید ہے جوقلب وروح کی زندگی کاسبب ہے،اسی قول کواکثر مفسرین نے اپنایا ہے ( ۱).
راغب بھی مفر دات میں یہی کہتے ہیں کہ :
سمی القراٰن روحاً فی قولہ ” وکذالک اوحینا الیک روحاً من امر نا “ وذالک لکون القراٰن سبباً للحیٰوة الاخرویة
قرآ نکو” وکذالک اوحین...“ کی آیت میںروح کے نام سے یاد کیاگیاہے،کیونکہ وہ اخروی زندگی کاسبب ہے۔
یہ معنی آیت میں موجودمختلف قرائن کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ ہے.جیسے ” کذالک“ کل کلمہ ہے جومسئلہ وحی کی طرف اشارہ ہے اور” اوحینا “ کاکلمہ ہے،اسی طرح اور بھی کلمات ہیںجو اسی آیت میں ذکر ہوئے ہیں۔
اگرچہ قرآن کی دوسری آیات میں ” روح “ کالفظ زیادہ تر دوسرے معانی کے لیے آ یاہے لیکن مندرجہ بالاقرائن کومدنظررکھتے ہوئے اس آیت میں موجودہ روح کاظاہر ی معنی قرآن مجید ہے۔
سورہٴنحل کی دوسری آ یت ” یُنَزِّلُ الْمَلائِکَةَ بِالرُّوحِ مِنْ اٴَمْرِہِ عَلی مَنْ یَشاء ُ مِنْ عِبادِہ“ کی تفسیر میں بھی ہم بتاچکے ہیں کہ قرائن کی روسے ” روح “ وہاں بھی ” قرآن،وحی اورنبوت “ کے معنی میں ہے اورحقیقت میں دونوں آیات ایک دوسرے کی تفسیر کررہی ہیں۔
قرآن مانند روح کیوں نہ ہو جب کہ سورہٴانفال کی ۲۴ ویں آیت میں ہے :
یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا اسْتَجیبُوا لِلَّہِ وَ لِلرَّسُولِ إِذا دَعاکُمْ لِما یُحْییکُمْ
اے ایمان دارو ! خدااور اس کے رسول کے بلا وے کا جواب دوجب وہ تمہیں ایسی چیز کی طرف بلائیں جو تمہاری زندگی کاسبب ہیں۔
دوسر ی تفسیر یہ ہے کہ یہاں پر ’’ روح “ سے مراد ” القدس “ ہے ( یا وہ فرشتہ جو جبرائیل اور میکا ئیل سے بھی بڑا ہے اور ہمیشہ رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے ہمرا ہ رہا ہے ) ۔
تو اس تفسیر کے مطابق ” اوحینا “ کا معنی ” انز لنا “ بنے گا ” روح القدس“ یاوہ عظیم فرشتہ ہم نے تجھ پرنازل کیا . ( اگر چہ قرآن مجید میں کسی اورمقام پر ” اوحینا“ ” انزلنا “ کے معنی میں نہیں دیکھاگیاہے ) ۔
بعض روایات سے بھی اس تفسیر کی تائید ہوتی ہے لیکن جیساکہ ہم بتاچکے ہیں کہ پہلی تفسیرآیت میں موجود متعدد قرائن کے لحاظ سے زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے . لہٰذا ممکن ہے کہ ایسی روایات جن میں روح کی تفسیر” روح القدس “ یاخدا کے بلند مقام فرشتے سے کی گئی ہے ان میں آیت کے باطنی معنی کی طرف اشارہ ہو ۔
بہرحال سلسلہ آ یت کو اآگے بڑھاتے ہوئے فر مایا گیا ہے : اس سے پہلے تو کتاب اورایمان سے آگاہ نہیں تھا لیکن ہم نے اسے ایسا نور بنا یاہے کہ جس کے ذ ریعے ہم اپنے بندو ں سے جسے چا ہیں ہدایت کریں (ما کُنْتَ تَدْری مَا الْکِتابُ وَ لاَ الْإیمانُ وَ لکِنْ جَعَلْناہُ نُوراً نَہْدی بِہِ مَنْ نَشاء ُ مِنْ عِبادِنا).
یہ خدا کی مہر بانی تھی جوتیرے شامل حال رہی اور یہ آسمانی وحی تھی جوتجھ پر نازل ہوئی اور تونے اس کے تمام مطالب کو مان لیا۔
خدا کاارادہ بھی یہی تھا کہ اس عظیم آسمانی کتاب اوراس کی تعلیمات کے ذریعے وہ تیر ے علاوہ اپنے دوسرے بندوں کو بھی اس آسمانی نور کے پر تو میں ہدایت کرے،کا ئنات کے مشرق ومغرب کو ، ہرزمانے میں تا قیام قیامت اس نور کی تابا نیوں سے منور فرماتا رہے۔
بعض کچھ فہم لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس جملے سے معلوم ہوتاہے کہ پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نبوت سے پہلے ( معاذ اللہ) خدا پر ایمان نہیں رکھتے تھے.جب کہ آیت کا معنی با لکل واضح ہے آیت کہتی ہے کہ قرآن نازل ہو نے سے پہلے آپ قرآن کو نہیں جانتے تھے اوراس کے مندرجات اورمطالب سے آگاہ نہیں تھے اور یہ چیز پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے عقیدہ توحید اورعباد ت وبندگی کے اصو لوں کے بار ے میں انکی معرفت کے قطعاً منافی نہیں. خلاصہٴکلام یہ کہ قرآنی مندرجات سے ناآشنا ئی اور بات ہے اور خدا کی عدم معرفت اوربات ہے۔
دو ر نبوت سے پہلے آ نحضرت کے بار ے میں جوکچھ تاریخ کی کتابوں میں ملتاہے وہ بھی اسی بات کاروشن گواہ ہے اور اس سے بڑھ کرروشن بات امیرالموٴمنین علی علیہ السلام کاوہ کلام ہے جو نہج البلاغہ میں درج ہے: آ پ علیہ السلام فرماتے ہیں :
ولقد قرن اللہ بہ( ص) من لدن ان کان فطیما اعظم ملک من ملا ئکتہ یسلک بہ طریق المکارم ،ومحاسن اخلاق العالم لیلہ ونھارہ
جب سے پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دودھ بڑھائی ہوئی ،خدانے اپنے فرشتوں میں سے ایک عظیم فرشتہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ملادیا جوشب وروز مکارم اخلاق اور نیک راستوں پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کوا پنے ساتھ رکھتا تھا ( ۲).
آ یت کے آ خر میں فر مایا گیا ہے:یقینا تو لوگوں کو،صراط مستقیم کی ہدایت کرتاہے (وَ إِنَّکَ لَتَہْدی إِلی صِراطٍ مُسْتَقیم).
یہ قرآن صرف تیرے لیے نور نہیں بلکہ دوسرے تمام لوگوں کے لیے بھی نور ہے اورصراط مستقیم کی طرف لوگوں کی ہدایت کرتاہے . اور راہ حق پرچلنے والوں کے لیے یہ خدا کاایک عظیم احسان ہے اور تمام تشنہ کاموں کے لیے آ ب حیات ہے . یہی مفہوم سورہٴحم سجدہ کی چوالیسویں آیت میں آ یاہے البتہ دوسر ے لفظوں کے ساتھ ۔
قُلْ ہُوَ لِلَّذینَ آمَنُوا ہُدیً وَ شِفاء ٌ وَ الَّذینَ لا یُؤْمِنُونَ فی آذانِہِم
کہہ دے کہ یہ کتاب ان لوگوں کے لیے ہدایت اور شفا کاسبب ہے جوا یمان لائے ہیں اور جواس پر ایمان نہیں لاتے ان کے کان بہر ے ہیں۔
لہذا تفسیر کے طورپر ’ ’صراط مستقیم “ سے مراد ہے کہ:” اللہ تعالیٰ کی راہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سب کی سب اسی کی ہیں “ (صِراطِ اللَّہِ الَّذی لَہُ ما فِی السَّماواتِ وَ ما فِی الْاٴَرْض).
اس راہ سے بڑھ کر اورکون سی راہ سیدھی ہوگی جو مبداٴ عالم ہستی تک جاپہنچائے ؟ اس سے بڑھ کراور کون سی راہ زیادہ صاف ہوگی جوکائنات کے خالق تک جا پہنچے ؟
حقیقی سعادت وہ ہوتی ہے جس کی طر ف خدا بلا ئے اور تک پہنچنے کی تنہا وہی راہ ہے جسے اس نے خود منتخب کیاہے۔
اس آیت کاآخری جملہ جوسورہٴشوری کاآخر ی جملہ بھی ہے درحقیقت اس معنی کی دلیل ہے کہ را ہ مستقیم صرف وہ راہ ہے جو خدا کی طرف جاتی ہے.چنانچہ فرمایاگیاہے:آگاہ ہو ! سب چیزو ں کواسی کی طرف لوٹ جاناہے ( اٴَلا إِلَی اللَّہِ تَصیرُ الْاٴُمُورُ).
چونکہ وہ کائنات کامالک اورحاکم و مدبرہے اور چونکہ انسان کے ارتقائی مراحل اسی عظیم مدبر کے زیر عنایت انجام پانے چاہئیں لہٰذا سیدھی راہ وہی ہے جو اسی کی طرف جاتی ہے اوراس کے علاوہ دوسرے تمام راستے گمراہی کے ہیں کیونکہ وہ باطل کی طرف جاتے ہیں . آیا اس کی ذات پاکے علاوہ کچھ اور عالم وجودمیں حق ہوسکتا ہے ؟
یہ جملہ جہاں پر ہیز گاروں کے لیے خوشخبری ہے وہاں ظالموں اور گناہگاروں کے لیے ایک تنبیہ بھی ہے کہ یاد رکھو تم سب نے اسی کی طرف لوٹ کر جاناہے۔
یہ اس بات کی دلیل بھی ہے کہ وحی کوصرف خدا ہی کی جانب سے نازل ہوناچاہئے کیونکہ ہرایک چیزکی بازگشت اسی کی طرف اوران کی تد بیر خدا کی طرفسے ہے.اسی لیے اسے انبیاء پرنازل ہونے والی وحی کامبداٴ بھی ہونا چاہیے .تاکہ صحیح معنوں میں ہدایت انجام پاسکے.اس طرح سے ان آیات کاسیاق وسبا ق دوسرے سے ہم آہنگ اور مربوط ہے اور سورت کااختتام بھی اسی کے آغاز کے ساتھ مربوط اورہم آہنگ ہے اور سب پر ایک ہی طر یقہٴ کار حکم فرماہے۔
۱۔ تفسیرمجمع البیان میں طبرسی نے تبیان میںشیخ طوسی نے ،تفسیر کبیر میں فخر رازی نے،تفسیر مراغی میں مراغی نے اوردوسر ے بہت سے مفسرین نے ۔
۲۔ نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۲ (خطبہ قاصعہ ).
سوره فصلت/ آیه 1- 5
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma