۱۔ وحی قرآن اورسنّت کی روشنی میں:

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 20
سوره فصلت/ آیه 1- 5

جیساکہ راغب اصفہانی اپنی کتاب مفردات میں کہتے ہیں وحی کااصل معنی ” تیز ی کے ساتھ اشارہ ہے .خواہ وہ رمزیہ کلام کے ذ ریعے ہو یالفظی ترکیب سے خالی آواز کی صورت میں ، یا( ہاتھ، آنکھ اورسرجیسے ) اعضاء کے ذریعے یاتحر یر کے ذ ریعہ “۔
ان تعبیرات سے بخوبی سمجھا جاسکتاہے کہ وحی میں دوچیز یں مخفی ہیں ایک اشارہ اوردوسر ے تیزی . اسی لیے انبیاء کے عالم غیب اورخدا کی ذات سے مر مو ز اورسریع رابطے کے لیے اسی کلمے کاانتخاب کیاگیاہے۔
قرآن مجید اوراحادیث معصو مین علیہ السلام میں لفظ ” وحی “ کو مختلف معانی کے لیے استعمال کیاگیاہے . کبھی انبیاء کے بار ے میں ، کبھی دوسرے انسانوں کے بار ے میں،کبھی انسانوں کے باہمی روابط کے بار ے میں،کبھی شیاطین کے مر موز باہمی رابطوں کے بار ے میں اور کبھی حیوانات کے بار ے میں۔
اس بار ے میں سب سے زیادہ جامع گفتگو امیر الموٴ منین علی بن ابی طالب علیہ السلام کی وہ گفتگو ہے جوآپ علیہ السلام نے ایک شخص کے وحی کے بار ے میں سوال کے جواب میں ارشاد فر مائی . اس گفتگو میں امام علیہ السلام نے وحی کوسات قسموں پر تقسیم فر مایا:
(۱).وحی رسالت ونبوت : جیسے قرآن مجید میں ہے :
إِنَّا اٴَوْحَیْنا إِلَیْکَ کَما اٴَوْحَیْنا إِلی نُوحٍ وَ النَّبِیِّینَ مِنْ بَعْدِہِ وَ اٴَوْحَیْنا إِلی إِبْراہیمَ وَ إِسْماعیلَ وَ إِسْحاقَ وَ یَعْقُوبَ وَ الْاٴَسْباطِ وَ عیسی وَ اٴَیُّوبَ وَ یُونُسَ وَ ہارُونَ وَ سُلَیْمانَ وَ آتَیْنا داوُدَ زَبُورا
ہم نے تیر ی طرف ویسے ہی وحی بھیجی جیسے نوح اوران کے بعددوسر ے انبیاء کی طرف وحی بھیجی تھی اورابراہیم ، اسماعیل،اسحاق،یعقوب،اسباط،( بنی اسرائیل کے طا ئفوں )عیسٰی،ایوب،یونس،ہارون اورسلیمان کی طرف وحی بھیجی تھی اور دا ؤد کو ہم نے زبور عطا کی (1).
(۲). وحی بمعنی الہام وہدایت:جیسے قرآن مجید میں ہے :
وَ اٴَوْحی رَبُّکَ إِلَی النَّحْل
اور تمہار ے پروردگار نے شہد کی مکھی کی طرف الہام کیا ( 2).
) ۳) ۔ وحی بمعنی اشارہ: جیسے قرآن مجید میں ہے :
فَخَرَجَ عَلی قَوْمِہِ مِنَ الْمِحْرابِ فَاٴَوْحی إِلَیْہِمْ اٴَنْ سَبِّحُوا بُکْرَةً وَ عَشِیًّا
زکر یانے محراب عبادت سے باہر کے لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کیاکہ صبح وشام خدا کی تسبیح کیاکرو . ( 3).
(۴) ۔ وحی بمعنی تقدیر :جیسے قرآن میں ہے :
وَ اٴَوْحی فی کُلِّ سَماء ٍ اٴَمْرَہا
خدا نے ہرآسمان میں تقد یر اورتدبیر کولازم فر مادیاہے ( 4).
(۵) ۔وحی بمعنی امر :جیسے قرآن میں ہے :
وَ إِذْ اٴَوْحَیْتُ إِلَی الْحَوارِیِّینَ اٴَنْ آمِنُوا بی وَ بِرَسُولی
اس وقت کو یاد کر و جب میں نے حوا ریوں کوحکم دیاکہ مجھ پر اور میر ے رسول پرایمان لے آؤ ( 5).
( ۶).وحی بمعنی جھو ٹ بولنا : جیسے قرآن میں ہے :
وَ کَذلِکَ جَعَلْنا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیاطینَ الْإِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوحی بَعْضُہُمْ إِلی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوراً
اسی طرح ہم نے ہر نبی کے مقابلے میںانسانوں اورجنوں کے شیطانوں میں سے ایک نہ ایک دشمن قرار دیاکہ وہ شیاطین جھوٹ اور فریب پر مبنی باتوں کو ایک دوسر ے تک مخفی طور پر پہنچاتے ہیں ( 6).
( ۷). وحی بمعنی خبر:جیسے قرآن میں ہے :
وَ جَعَلْناہُمْ اٴَئِمَّةً یَہْدُونَ بِاٴَمْرِنا وَ اٴَوْحَیْنا إِلَیْہِمْ فِعْلَ الْخَیْرات
اور ہم نے انہیں پیشو ا بنایا جوہمار ے فرمان کے مطابق ہدایت کیاکرتے تھے اورہم نے انہیں نیک کاموں کے بجالانے کی خبردی (7) (8) ۔

البتہ سات قسموں میں سے کچھ ایسی بھی ہیں جن کہ اورقسمیں بھی بن سکتی ہیں جنکی روسے کتاب وسنت میں وحی کے استعمال کے موار د زیادہ ہوجائیں گے . اسی لیے تفلیسی نے کتاب وجوہ القرآن میں وحی کی دس قسمیں شمار کی ہیں بلکہ بعض علماء نے دس سے بھی زیادہ اقسام بتائی ہیں۔
لیکن ایک لحاظ سے وحی اوراس کے مشتقات کے مقاما ت استعمال سے مجموعی طور پر یہ نتیجہ اخذ کیاجاسکتاہے کہ پروردگار عالم کی طرف سے وحی کی دوقسمیں ہیںایک وحی تشر یعی اور دوسر ی وحی تکوینی ۔
وحی تشر یعی وہی ہے جو انبیاء علیہم السلام پرنازل ہوتی تھی اوران کے خدا کے درمیان یہ ایک رابط تھاجس سے وہ احکام و فر امین الہٰی اورحقائق وصول کیاکرتے تھے ۔
اور وحی تکوینی درحقیقت وہ خاص تکو ینی جبلتیں ،استعداد ، شرائط اور قوا نین ہیں جو خدانے کائنات کی مختلف موجودات کے اندر مقرر کردیئے ہیں۔
1۔ سورہ ٴ نساء آیت ۱۶۳۔
2۔سورہ ٴ نحل آیت ۶۸۔
3۔سورہ ٴ مریم آیت ۱۱۔
4۔ سورہ ٴ حم سجدہ آیت ۱۲۔
5۔ سورہ ٴ مائدہ ، آ یت ۱۱۱۔
6۔ انعام ، آیت ۱۱۲۔
7۔ انبیاء ، آیت ۷۳۔
8۔ بحارالانوار ، جلد ۱۸ ،ص ۲۵۴۔
سوره فصلت/ آیه 1- 5
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma