اولاد ، اسکا عطیہ ہے

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 20
سوره فصلت/ آیه 1- 5
جہاں تک گزشتہ آیا ت کاتعلق ہے ان میں کافروں اورظالموں کی کچھ دردنااوروحشت ناک حصے کو بیان کیاگیاہے . لیکن زیر نظر آیات میں روئے سخن تمام لو گوں کی طرف ہے اورانہیں خبردار کیاجارہاہے کہ وہ بھی ایسے ہی درد ناک انجام سے دوچار ہونے سے پہلے اپنے پر وردگار کی دعوت کولبیک کہتے ہوئے راہ حق کواختیار کریں۔
ارشاد ہوتاہے : اپنے پروردگار کی دعوت قبول کرو ، اس سے پہلے کہ وہ دن آپہنچے کہ جس کے لیے ارادہ خدا وندی کے سامنے کوئی باز گشت نہیں (اسْتَجیبُوا لِرَبِّکُمْ مِنْ قَبْلِ اٴَنْ یَاٴْتِیَ یَوْمٌ لا مَرَدَّ لَہُ مِنَ اللَّہِ ) (۱) ۔
اوراگرتم یہ خیال کرو کہ اس دن لطف الہٰی کے سائے کے علاوہ کوئی جائے پناہ اوراس کی رحمت کے علاو ہ اور کوئی بچانے والا اور مدافع ہوگا تو یہ تمہاری بھول ہے .کیونکہ ” اس دن تمہارے لیے نہ تو کوئی جائے پناہ ہے کہ جہاں تم عذاب الہٰی سے پناہ لو اور نہ ہی کوئی یارو مددگار ہے جو تمہارا دفاع کرے گا “ (ما لَکُمْ مِنْ مَلْجَإٍ یَوْمَئِذٍ وَ ما لَکُمْ مِنْ نَکیر) ۔
” یوم لامردّلہ من اللہ “ کاجملہ قیامت کے دن کی طرف اشارہ ہے نہ کہ موت کے دن کی طرف اور” من اللہ “ کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس کے ارادے اور فرمان جو واپس نہ لوٹ سکنے پر مبنی ہے کہ مقابلے میں کوئی شخص اپنے ارادے ر عمل در آمد نہیں کرسکتا ۔
بہر حال عذاب الہٰی سے بچنے کے لیے جو راہیں تصور یں آسکتی ہیںان سب کے دروازے ، بند کئے جاچکے ہوں گے .عذاب سے بچنے کی جوراہ ہیںتصور میں آسکتی ہیں ان میں سے ایک تودنیا میں واپس جاکر گنا ہوں اورغلطیوں کی تلافی کرنا ہے .دوسرے ایسی جائے پناہ کاتصور کہ جس کے زیر سایہ انسان خود کو محفوظ کرسکے اورتیسر ے کسی ایسے شخص کاوجود جو اس کادفاع کرسکے . اور مذ کورہ بالا آیت میں مذ کور تینوں جملوں کے ذریعے ہرراستے کی نفی کردی گئی ہے۔
بعض مفسرین نے ” مالکم من نکیر “ کے جملے کی اس معنی میں تفسیر کی ہے کہ ” تم ہر گز وہاں پراپنے گناہوں کاانکار نہیں کرسکو گے دلائل اور شواہد اس قدر زیادہ ہوں گے کہ انکار کی گنجائش ہی باقی نہیں رہے گی . لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے۔
بعد کی آیت میں روئے سخن پیغمبرا کرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی طرف کرکے ان کی دلجوئی کے طور پر فر مایاگیا ہے : اس کے باوجود اگروہ تجھ سے منہ پھیر لیتے ہیں تو توغم نہ کھا کیونکہ ہم نے تجھے انہیں روگرانی سے روکنے کے نگران بنا کر نہیں بھیجا (فَإِنْ اٴَعْرَضُوا فَما اٴَرْسَلْناکَ عَلَیْہِمْ حَفیظاً ).
” تیرا فیصلہ توصرف خدا ئی پیغام پہنچانا ہے اور بس “ خواہ وہ مانیں نہ مانیں (إِنْ عَلَیْکَ إِلاَّ الْبَلاغُ).
اپنے فریضہ کوصحیح معنوں میں انجام دیتا رہ اوران پر اتمام حجت کرتارہ . جن لوگوں کے دل اس کے لیے آ مادہ ہیں وہ مان لیں گے اگر چہ بہت سے لوگ اس سے منہ پھیر لیں،تو اس بار ے میں جوابدہ نہیں ہے . اسی مفہوم سے ملتی جلتی ایک آ یت اسی سور ت کے اوائل میں بھی آچکی ہے جس میں فر مایا گیا ہے :
وَ ما اٴَنْتَ عَلَیْہِمْ بِوَکیل
توا نہیں حق قبول کرنے کے لیے آمادہ کرنے پر مامو ر نہیں ہے (شورٰی . ۶).
پھر ایمان اور روگر دانی کرنے والے افراد کی صورت حال اوران کی کیفیت کو ان الفاظ میں بیان کیاگیا ہے : ” جب ہم انسان کواپنی طرف سے کوئی رحمت نصیب کرتے ہیں تو وہ اس سے خوش ہوجاتاہے “ (وَ إِنَّا إِذا اٴَذَقْنَا الْإِنْسانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِہا ).
” اورجب ان کے عمل انجام دینے کی وجہ سے ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے توانسان کفران کرتاہے (وَ إِنْ تُصِبْہُمْ سَیِّئَةٌ بِما قَدَّمَتْ اٴَیْدیہِمْ فَإِنَّ الْإِنْسانَ کَفُورٌ).
جب کہ شکرِمنعم ضروری ہے لیکن خداکی نعمتیں پاکر بھی وہ بیدار نہیں ہوتے اوراس کاشکر بجا نہیں لاتے اوراس منعم حقیقی کی معرفت اوراطاعت کافریضہ انجام نہیںدیتے اورنہ ہی گناہوں کی وجہ سے ملنے والی سزاؤں کے ذ ریعے وہ خواب غفلت سے بیدار ہوتے ہیں اور نہ رسول اللہ کی دعوت حق ان پر کچھ اثر کرتی ہے۔
تشریعی لحاظ سے ہدایت کاذریعہ ابنیا ء الہٰی کی دعو ت ہے اور تکو ینی لحاظ سے کبھی مصیبتیں ہوتی ہیں اوکبھی نعمتیں. لیکن ان دل کے اندھوں کے لیے کوئی بھی چیز موٴثر نہیں ہوتی.قصور خود ان کااپنا ہے توا س معاملے میں بالکل بے قصور ہے تونے اپناپیغام رسانی سے اپنافریضہ انجام دے دیا ہے۔
مندرجہ بالا آیت میں ” اذااذ قنا “ ( جب ہم چکھاتے ہیں ) کی تعبیر رحمت کے بار ے میں ہے اور کئی دوسری قرآنی آیات میں عذاب الہٰی کے بار ے میں اورممکن ہے کہ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ اس دنیا کی نعمتیں ہوں یامصیبتیں جس قدر زیادہ ہوں پھر بھی آخرت کی نعمتوں اور مصیبتوں کے مقابلے میں بالکل معمولی ہوتی ہیں. یاپھر یہ مراد ہے کہ یہ کم ظرف لوگ معمولی سی نعمت پر مست اور مغر ور ہوجاتے ہیں اورذ راسی مصیبت پر مایوس اور منکر ۔
یہاں پر یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ خدانعمت کواپنی طرف نسبت دیتاہے کیونکہ یہ اس کی رحمت کاتقاضاہوتاہے اورمصائب کوانسانوں کی طرف،کیونکہ یہ ان کے اعمال کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
پہلے بھی ہم یہ نکتہ بتاچکے ہیں کہ اس قسم کی آیات میں لفظ ” انسان “ کی تعبیر” غیرتربیت یافتہ انسانوں کے مزاح کی طرف اشارہ ہوتی ہے جن کی فکر کوتاہ اور روح پست ہوتی ہے اور آیت بالامیں اس کاتکر اراسی معنی کی تاکید کے لےے ہے۔
پھر اس حقیقت کو ظاہر کرنے کے لیے اس دنیامیں ہر طرح کی نعمت اوررحمت خدا کی طرف سے ہے اورکوئی شخص ازخود کسی بھی چیز کامالک نہین ہے ایک کلی مسئلہ اوراس کے واضح مصداق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایاگیاہے : آسمانوں اور زمین کی ملکیت اورحکومت خداہی کے لیے ہے ، وہ چاہے پیدا کر ے (لِلَّہِ مُلْکُ السَّماواتِ وَ الْاٴَرْضِ یَخْلُقُ ما یَشاءَ).
اسی وجہ سے سب اس کے خوان نعمت کے ریزہ خوار ہیں اوراسی کی مہر بانی اور رحمت کے نیاز مند ،اسی لیے نہ تو نعمت کے موقع پر غرور کو ئی عقلمند ی کی بات ہے اورنہ ہی مصیبت کے وقت مایوسی ۔
اس حقیقت کا کہ کوئی شخص ازخود کسی بھی چیز کا مالک نہیںجو کچھ ہے اسی کی طرف سے ہے کا ایک واضح نمونہ یہ ہے کہ ” جسے چاہے لڑ کی عطاکردے اورجسے چاہے لڑکا دے دے ( ُ یَہَبُ لِمَنْ یَشاء ُ إِناثاً وَ یَہَبُ لِمَنْ یَشاء ُ الذُّکُور) ۔
” یااگر چاہے تو لڑکا اورلڑکی دونوں دے دے اورجسے چاہے بانجھ اوربے اولاد بنادے “ (اٴَوْ یُزَوِّجُہُمْ ذُکْراناً وَ إِناثاً وَ یَجْعَلُ مَنْ یَشاء ُ عَقیماً ).
تو اس لحاظ سے لوگ چار حصّوں میں تقسیم ہوجاتے ہیں . ایک وہ جن کے ہاں صرف لڑکا ہے اوروہ بیٹی کے خواہش مند ہیں . دوسرے وہ جن کے ہاں صرف لڑکی ہے اورلڑ کے کے خواہش مند ہیں . تیسرے وہ جن کے ہاں دونوں ہیں اور چوتھے وہ جوان دونوں سے محروم ہیں اور ان کا دل اولاد کی آرزو میں تڑ پ رہاہے۔
عجیب بات یہ ہے کہ نہ تو گزشتہ دونوں میں اور نہ ہی آج کے سائنسی اور ترقی یافتہ دور میں کسی شخص کو اس بار ے میں انتخاب کی قدرت حاصل ہے اور تمام ترکوششوں کے باوجود آج تک کوئی بھی شخص حقیقی معنوں میں بانجھ عورت کے بچہ جننے کے قابل نہیںبناسکا اور نہ ہی اولاد کی نوع کو اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کرنے میں کامیاب ہوا ہے . اگرچہ بعض غذاؤں یا دواؤں کی وجہ سے لڑ کے یالڑ کی کی پیدائش کے امکان میں اضافے کا انکار نہیں کیاجاسکتاہے یہ صرف امکان اوراحتمال کی حدتک ہی ہوتاہے کسی چیز کاقطعی حاصل نہیں ہوتا ۔
یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ ان آیات میں ” اناث “ ( لڑ کیوں ) کو”ذکور “ ( لڑکوں ) پرمقدم کیاگیاہے تاکہ ایک تو اس اہمیت کوبیان کیاجائے جواسلام نے عورتوں کو عطا فرمائی ہے اوردوسر ے یہ کہ جولوگ غلط تصور کی بنا پرلڑ کیوں کی پیدائش کو ناپسند کرتے ہیں انہیں ذہن نشین کر وادے کہ وہ (خدا ) تمہاری مرضی کے خلاف ایسی اولاد عطا کرتاہے جسے تم پسند نہیں کرتے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اولاد کاانتخاب تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔
”یھب “ ( عطاکرتاہے ) کی تعبیر اس بات کی روشن دلیل ہے کہ جس طرح لڑکے خدا کا عطیہ ہوتے ہیں اسی طرح لڑ کیاں بھی اسی کا عطیہ ہیںاوران میں فرق سمجھنا ایک سچے مسلمان کے لیے صحیح نہیں ہے کیونکہ دونوں خدائی ” ھبہ“ (عطیہ ) ہیں۔
یہا ں پر ” یذ وّجھم “ کالفظ ” تزویج “ کے معنی میں نہیں ہے بلکہ کچھ انسانوں کے لیے ان دونعمتوں کو ملا کردینے کے معنی میں ہے . بالفظ دیگر ” تزویج “ کا لفظ بعض اوقات دومختلف چیزوں یادومختلف جنسو کواکٹھا کرنے کے معنی میں بھی آتاہے . کیونکہ اصل میں ” زوج “ دوایسی چیزوں یادوشخصوں کے جوڑ ے کے معنی میں آتا ہے جو ایک دوسرے کے ہم پلہ ہوں . بعض مفسرین نے لڑ کوں اورلڑ کیوں کی با لترتیب اورپے درپے پیدائش کے معنی میں لیاہے جب کہ بعض نے جڑ واں بچوں کی پیدائش کے معنی کئے ہیں یعنی ایک لڑ کا اور دوسری لڑکی ۔
لیکن مندرجہ بالا تفاسیر پر آیت میں کوئی دلیل موجود نہیں ہے اورساتھ ہی یہ معانی ظاہر آیت کے ساتھ ہم آہنگ نہین کیونکہ آیت تیسرے گروہ کی خبر دینا چاہتی ہے جن کے ہاں لڑکے بھی ہیں اور لڑ کیاں بھی ۔
بہرحال یہ صرف اولاد کی پیدائش ہی کی بات نہیں بلکہ ہرچیز پرخدا کی مشیت مطلقاً حکم فرماہے اوروہ ایسا حاکم ہے جوقادر بھی ہے او ر آگاہ وحکیم بھی جس کاعلم اورقدرت ساتھ ساتھ ہیں . لہٰذا فرمایاگیا ہے : وہ دانا وقادر ہے ( إِنَّہُ عَلیمٌ قَدیرٌ).
اس نکتے کی طرف بھی توجہ رہے کہ لفظ ” عقیم “ ” عقیم“ (بروزن ”بخل “ ،یابروزن ” فہم “ ) کے مادہ سے لیاگیا ہے جس کامعنی ایسی خشکی اوریبوست ہے جوکسی بھی اثر کوقبول کرنے سے مانع ہوتی ہے اور’ ’ عقیم عورتیں “ ان عورتوں کوکہاجاتا ہے جن کارحم ،مرد کانطفہ قبول کر نے یابچے کواپنے اندر پرورش دینے ک لیے آمادہ نہ ہو اور عقیم ہواؤں کواس لیے عقیم کہاجاتاہے کہ وہ بارش برسانے والے بادلوں کوآپس میں نہیںجوڑ سکتیں نیز روزعقیم اس دن کوکہاجاتاہے جس میں کسی قسم کی مسرت اورخوشی نہ ہو . جب کہ قیامت کو ” یوم عقیم“ کے عنوان سے اس لیے یاد کیاگیا ہے کیونکہ اس کے بعد کوئی اوردن نہیں ہے کہ جس میں گزشتہ اعمال کی تلافی کی جاسکے ۔
اور جس غذ ا کے تمام جزا ثیم ختم کر دیئے گئے ہوں اسے ” عقیم “ کہتے ہیں کیونکہ یہ ضرررسان چیزیں اس میں پرورش ہیں پائیں۔
 ۱۔ مندرجہ بالاجملے میں” من اللہ “ کاکلمہ ہوسکتاہے ” من قبل اللہ “ کے معنی میں ہو یعنی خدا کی طرف سے کوئی باز گشت نہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ ” فی مقابل اللہ “ کے معنی میں ہو . یعنی خدائی ارادے کے مقابلے میں کوئی شخص دنیا میں لوٹانے کی قدرت نہیں رکھتا۔
سوره فصلت/ آیه 1- 5
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma