نصرت طلبی عیب نہیں .ظلم کرنا عیب ہے

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 20
سوره فصلت/ آیه 1- 5

یہ آ یات درحقیقت نصرت طلبی ، ظالم کی سزا اور عفو در گزر کے سلسلے میںگزشتہ آیات کی تاکید ، تشریح اور تتمہ ہیں اوراس کا مقصد یہ ہے کہ ظالم کو سزا دینااس اوراس سے انتقام لینامظلوم کاحق ہے اورکسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ اس کی راہ میں کسی قسم کی ر کاوٹ کھڑی کرے اوراس کے ساتھ ساتھ اگرمظلوم کو اس پرغلبہ حاصل ہو جائے تو اگر وہ صبر سے کام لے کر اس سے انتقام نہ لے تو یہ اس کے لیے بہت بڑی فضیلت ہو گی ۔
پہلے فر مایاگیاہے : جوشخص مظلوم ہونے کے بعد کسی سے مدد طلب کر ے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے (وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِہِ فَاٴُولئِکَ ما عَلَیْہِمْ مِنْ سَبیل) (۱).
کسی کویہ حق حاصل نہیں ہے کہ اس کام سے اسے روکے یااسے ملامت اورسر زنش کرے یااسے سزادے ، بلکہ ایسے مظلوم کی مدد کرنے میں کسی قسم کے شک و شبہ کا شکار بھی نہ ہو . کیونکہ استغاثہ اور نصرت طلبی مظلوم کامسلم حق ہے اور مظلوم کی مدد کرنا ہر آزادی پسند اور بیدار ضمیر کے مالک کافرض ہے۔
اعتراض اور سزز تو صرف ان لوگوں کے لےی ہے جولوگوں پر ستم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق ظلم کو روا رکھتے ہیں (إِنَّمَا السَّبیلُ عَلَی الَّذینَ یَظْلِمُونَ النَّاسَ وَ یَبْغُونَ فِی الْاٴَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ ) ۔
دنیامیں کیفر اور سزا پانے کے علاوہ ” ان کے لیے آخر ت میں بھی درد ناک عذاب ہے “ (اٴُولئِکَ لَہُمْ عَذابٌ اٴَلیمٌ ).
” یَظْلِمُونَ النَّاسَ “ اور ” وَ یَبْغُونَ فِی الْاٴَرْضِ بِغَیْرِ الْحَق“ کاآپس میں کیافرق ہے ؟ بعض مفسرین نے پہلے جملے کو”ظلم وستم “ کی طرف اشارہ سمجھا ہے اوردوسرے جملے کو ”تکبر اورخود پسند ی “ کی طرف . ( ۲) جبکہ بعض دوسرے مفسرین نے پہلے جملے کو ”ظلم “ کی طرف اور دوسرے جملے کو ” اسلامی حکومت کی مخالفت “ کی طرف اشارہ قرار دیاہے۔
” بغی “ کااصل معنی کسی چیز کے حصول کے لیے سعی و کوشش کرنا ہے . لیکن اکثر ایساہوتاہے کہ یہ لفظ دوسروں کاحقوق غصب کرنے یاخدا کے حقوق وحدود سے تجاوز کرنے کے موقع پر بولاجاتا ہے . اسی لیے ”ظلم “ کامفہوم خاص ہوتاہے اور”بغی “ کامفہوم عام ہوتا ہے اورحقوق الہٰی سے ہر قسم کے تجاوز اور تعدی پر اس کااطلاق ہوتاہے۔
” بِغَیْرِ الْحَق“ کی تعبیر بھی اسی معنی کے لیے تاکید کے طور پر آ ئی ہے اوراس طرح سے دوسرا جملہ خاص ”کے بعد عام کاذکر “ ہے۔
اس سلسلے کی آخری آیت میں صبر واستقامت اورعفو و در گزر کے مسئلے کو ایک بار پھر بیان کیاگیاہے تاکہ ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کوزوردار لفظوں میں بیان کردیاجائے کہ مظلوم کاظالم سے انتقام ،قصاص اوراسے سزا ، ہرگز عفو و در گز شت سے مانع نہیں ہے جیساکہ فر مایاگیاہے : جولوگ صبر کرتے ہیں اورفریق مخالف کومعاف کردیتے ہیں تو یہ ان کے بڑے کاموں میں سے ہے (وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ إِنَّ ذلِکَ لَمِنْ عَزْمِ الْاٴُمُورِ ) ( ۳).
” عزم “ دراصل ” کسی کام کے انجام دینے کے لیے پختہ ارادہ کرلینے “ کو کہتے ہیں اورمحکم ارادے پر بھی اس کااطلاق ہوتاہے ”عزم الامور “ کی تعبیر سے ممکن ہے اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ یہ ایسے کاموں سے ہے جن کاخدا نے حکم دیا ہے اورہرگز منسوخ نہیں ہوگا . یاایسے کاموں میں سے ہے جن کے بار ے میں انسان کوعزم راسخ سے کام لینا چاہیئے . ان دونوں معانی میں سے جو ب بھی مراد ہو ہرصورت میں اس کام کی اہمیت کی دلیل ہے۔
یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ ”صبر “ کاذکر ”غفران “ سے پہلے ہواہے کیونکہ اگر صبر و شکیبائی نہ ہو تو عفو و در گزر کی نوبت نہیںآتی . نفس ، انسان کے قابوں میں نہیں رہتا اور وہ انتقام پر ہی ڈٹا رہتاہے۔
اس حقیقت کی ایک بار پھر یاد دہائی کروائی جاتی ہے کہ ”عفو اوردرگز “ ایسی صورت میں مطلوب اور قابل تعریف ہے کہ مظلوم طا قتور ہو اور طاقت کے ہوتے ہوئے اسے معاف کردے اورفریق مخالف بھی اس سے صحیح معنوں میں فائد ہ اٹھائے اور ” من عزم الامور “ کی تعبیر بھی شاید اسی معنی کی تاکید کر رہی ہے کیونکہ کسی چیز کے بار ے میں حتمی فیصلہ اسی وقت کیا جاتاہے کہ جب انسان اس کے انجام پر قادر ہو. لیکن جومعافی ظالم کی طرف سے مسلط کی جائے یااسے اپنے اعمال میں زیادہ جری اور گستاخ بنادے وہ قابل ِ تعریف اورمطلوب نہیں ہے۔ بعض روایات کے مطابق مندرجہ بالا آیات میںحضرت امام مہدی عجل اللہ فرجہ کے قیام اور زمین میں آپ علیہ السلام کے اور آپ علیہ السلام کے رفقاء کا ر کے ظالموں اورمفسد ین سے انتقام لینے کی طرف اشاراہ کیا گیا ہے . جیسا کہ بار ہا بتایاجاچکاہے کہ اس قسم کی تفسیر یں آ یات کاواضح اورروشن مصداق ہوا کرتی ہیں اور آیت سے عمومی مفہوم مراد لینے سے مانع نہیں ہو تیں ( ۴).
۱ ۔ ” ظلمہ“ میں مصدر کو مفعول کی طرف مضاف کیاگیاہے۔
۲۔ ملا حظہ ہوں ، تفسیرکشاف تفسیر روح المعانی اور تفسیر روح البیان ، اسی آیت کے ذیل میں۔
۳۔ ” لمن صبر “ میں لام ، لام قسم ہے اور ” لمن عزم الا مور “ میں لام تاکید ہے اوردونوں اس خدائی حکم (عفو ) کی اہمیت ک واضح کرتے ہیں۔
۴۔ تفسیر نو رالثقلین ، جلد ۴ ،ص ۵۸۵۔
سوره فصلت/ آیه 1- 5
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma