۲۔ ایک زبردست غلط فہمی کاازالہ :

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 20
سوره فصلت/ آیه 1- 5
ہو سکتاہے کہ کچھ لوگ اس قرآنی حقیقت سے غلط نتیجہ نکالتے ہوئے ،جو مصیبت بھی ان پر آن پڑ ے اسے قبول کرلیں اور کہیں کہ ہرتکلیف مصیبت اور ناخوش گوار واقعے کے سامنے ہتھیار ڈال دینے چاہئیں اوریوں وہ قرآن کے ایک سبق آموز اور متحرک اصول کاالٹا نتیجہ نکالیں ، یہ بہت ہی خطر ناک بات ہوگی ۔
قرآمجید یہ کبھی نہیں کہتاکہ مصیبتوں کے آگے ہتھیا رڈال دیئے جائیں ، مشکلات کودور کرنے کے لیے کسی قسم کی کوشش نہ کی جائے اوراپنے آ پ کو ظلم وستم اور بیماریوں کے حوالے کردیا جائے بلکہ وہ توکہتاہے کہ اگرسعی و کوشش او ر تلاش بسیار کے بعد بھی مصیبتیں تم پرغالب ہیں تو تمہیں جان لینا چاہیئے کہ تم سے کوئی ایسا گناہ سرزد ہوگیاہے جس کانتیجہ اور کفار ہ اب بھی تمہارادامن نہیں چھوڑ رہا ، لہٰذا اپنے گزشتہ اعمال پرنظر کرو ، اپنے کیے کی معافی مانگو ،اپنی اصلاح کرو اور خامیوں کی تلافی کرو ۔
یہ جو بعض روایات میں اس آ یت کو بہترین قرآنی آیت قرار دیاگیا ہے تو اس کے وجہ بھی یہی ہے کہ اس میں اہم تر بیتی آثار پائے جاتے ہیں ، یہ آیت اسنان کوبوجھ ہلکا کر تی ہے ، قلب وروح میں عشق پر وردگار کی جوت جگاتی ہے اور چراغ اُمید کوروشن کرتی ہے۔
۳۔ ” اصحاب صفہ “ کون لوگ ہیں ؟ جولوگ آج کل مسجد نبوی کی زیارت کے لیے مدینہ منورہ جاتے ہیں تومسجد کے پاس اورقبررسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے نزدیک ایک جگہ دیکھتے ہیں جوزمین سے قد رے بلند ہے اوراس کے اطراف کوایک مختصر اور معمولی سی دیوار کے ذریعے باقی مسجد سے زیبا اور دلپذیر صورت میں جدا کیاگیا ہے اور بہت سے لوگ نماز اور تلاوت کلام پاک کے لیے اس جگہ کا انتخاب کرتے ہیں۔
یہ جگہ اس ”صفہ “ اور چبوتر ے کی یاد گار کے طورپر ہے جس پرپیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے حکم سے چھپرڈال کرمدینے کے باہرسے آنے
والے ان لوگوں کے لیے تیار کیاگیاتھا جواسلام قبول کرتے تھے لیکن ان کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتاتھا ( 1).
اس کی تفصیل یہ ہے کہ سب سے پہلے جس ایسے شخص نے اسلام قبول کیا مدینہ میں جس کی کوئی رہائش گاہ نہیں تھی یمامہ کارہنے والاایک جوان تھا جس کانام جو یبر تھا کہ جس کی شادی کی داستان کوتاریخ اسلام میں شہرت حاصل ہے اور کی شادی دلفا نامی خاتون سے ہوئی اور شادی طبقاتی نظام پرایک اچھی ضرب تھی ۔
چونکہ جو یبر کے لیے رہائش کی کوئی جگہ نہیں تھی لہٰذاپیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے انہیں رات کومسجد میں سونے کی اجازت دے دی ،لیکن جوں جوں اسلام قبول کرنے والے بے گھر افراد کی تعداد میں اضافہ ہو تاگیا اور وہ سب کے سب مسجد میں اپنا ڈیرہ بسیرا کر نے لگے تومسجد کے انتظامی امور پیچیدگیاں پیداہونے لگیں لہٰذا انہیں حکم دیاگیا ہے کہ وہ مسجد سے باہر جاکر رہیں تاکہ مسجد ہرلحاظ سے پاک و پاکیزہ رہے اور ساتھ ہی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ حکم بھی ہوا کہ اصحاب کے گھروں کے جو دروازے مسجد کی طرف تھے ان سب کو بند کردیاجائے سوائے علی و فاطمہ علیہم السلام کے در وازہ کے چنانچہ ایساہی ہوا ۔
اسی موقع پر رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے حکم دیا کہ ایک جگہ پر کھجور کی لکڑ یوں کاچھپر ڈال دیاجائے تاکہ باہر سے آنے والے اور فقیر مسلمان وہاں رہاکریں ، حضور اکرم( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) ذاتی طورپر ان کی دیکھ بھال فر ماتے تھے.روٹی کھجو ر اوردوسر ی اشیاء خوردنی انہیں عطاکرتے تھے.دوسر مسلما ن بھی ان کا خیال رکھا کرتے تھے اور زکوٰة وصدقات وغیرہ سے ان کی معاونت کیاکرتے تھے۔
وہ بھی ہر اسلا می جنگ میں شرکت کیاکرتے تھے اور پور ے خلوص کے ساتھ جہاد کر ے تھے . قرآن مجید کی کچھ آ یات بھی ان کی فضیلت،پا کدامنی ،صفائے قلبی اور تقدس کے بار ے میں ناز ل ہوئی ہیں ،بہرحال اس ”صفہ“ میں ان کے رہنے کی وجہ سے انہیں ”اصحاب صفہ “ کہاجان لگا۔
 1۔ ”صفہ “ بروزن ” غصہ “ لغت میں گر میوں کے اس حجرے کو کہتے ہیں جس پر کھجور کی لکڑ یوں کے چھت ڈالی جائے۔ 
سوره فصلت/ آیه 1- 5
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma