مودّت اہل بیت(ع) اجرِ رسالت ہے

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 20
سوره فصلت/ آیه 1- 5

اسی سورت کی ۱۴ ویں آیت میں ذکر تھا دین کاتعین پروردگار عالم کی طرف سے او ر تبلیغ کااور الو لعزم ابنیاء کے ذریعے ہوتاہے . اب مذکور ہ بالا آ یات میں سے پہلی آیت میں اس تعین کی غیر خداسے نفی کی بات ہورہی ہے اور یہ بتا یاجارہاہے کہ قانون ِ الہٰی کے مقابلے میں کسی اورقانون کوکوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے . بلکہ اصولی طور پر قانون گزار ہی کاحق ہی صرف خدا کوحاصل ہے . ارشاد ہوتاہے : آیا ان کے ایسے معبود ہیں جنہوں نے خداکی اجازت کے بغیران کے لیے کوئی دین بنادیاہے (اٴَمْ لَہُمْ شُرَکاء ُ شَرَعُوا لَہُمْ مِنَ الدِّینِ ما لَمْ یَاٴْذَنْ بِہِ اللَّہُ ).
جبکہ کا ئنات کاخالق ، مالک اور مدبر صرف خداہے . لہٰذا قانون گزاری کاحق بھی صرف اسے حاصل ہے اوراس کی اجازت کے بغیر کوئی شخص بھی اس کی اس قلمر و میں مداخلت نہیں کرسکتا .لہٰذا اس کی قانون سازی کے مقابلے میں جوکچھ بھی ہوگا وہ باطل ہوگا ۔
اس کے فوراً بعد باطل قانون سازوں کودھمکی اور تنبیہ کے لہجے میں خبر دار کیاجارہاہے : اگران لوگوں کو مہلت دینے کے بار ے میں خدا کافرمان ِ حق نہ ہوتا اوران کے لیے مہلت مقرر نہ ہوچکی ہو تی توا ن کے درمیان فیصلہ ہوچکا ہوت. ان کے لیے عذاب کاحکم آچکا ہوتا اورانہیں کسی قسم کی مہلت نہ ملتی (وَ لَوْ لا کَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَہُمْ ).
اس کے باوجود انہیں یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیئے کہ ”ظالموں کے لیے درد ناک عذاب ہے “ (وَ إِنَّ الظَّالِمینَ لَہُمْ عَذابٌ اٴَلیم).
” کَلِمَةُ الْفَصْل“ سے مراد وہ مقر رہ مہلت ہے جو خدا نے انہیں دی ہے تاکہ وہ آزادی سے کام کریں اوران پر اتمام حجت ہوجائے۔
خدائی قوانین کے مقابلے میں اپنے خود سا ختہ قوانین اپنانے والے مشر کین پر ” ظالمین “ کااطلاق اس لیے کیاگیاہے کہ ”ظلم “ کے مفہوم میں اس قدر وسعت ہے کہ اس کااطلاق ہراس پر ہوتاہے جوبے موقع ومحل انجام دیاجائے ” عَذابٌ اٴَلیم“ سے بظاہر مراد روز قیامت کاعذاب ہے کیونکہ قرآن مجید میں عام طور پر ” عَذابٌ اٴَلیم“ اسی معنی میں استعمال ہواہے اور بعد کی آیت سے بھی اسی حقیقت کی گواہ ہے اورقرطبی جیسے بعض مفسرین نے جوا س دنیا اور آخرت کاعذاب مراد لیاہے ،بعد معلوم ہوتاہے۔
پھر” ظالمین کے لیے عذاب “ اوران کی مقابلے میں ” موٴ منین کی جزا “ کی کچھ مزید وضاحت فرماتے ہوئے کہاگیا ہے : اس دن آپ ظالموں کودیکھیں گے کہ وہ اپنے انجام دیئے گئے سے سخت خائف ہوں گے. لیکن اس کا کیافائدہ ان کے اعمال کی سزا انہیں مل کررہے گی (تَرَی الظَّالِمینَ مُشْفِقینَ مِمَّا کَسَبُوا وَ ہُوَ واقِعٌ بِہِمْ) ۔
لیکن جولوگ ایمان لے آئے اورانہوں نے نیک اعمال انجام دیئے وہ بہشت کے بہترین اور سر سبز و شاداب باغات میں ہوں گے ( وَ الَّذینَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ فی رَوْضاتِ الْجَنَّات).
”روضات ‘ “ ” روضة“ کی جمع ہے جس کامعنی ہے جس کا معنی ایسی جگہ ہے جہاں پانی اور درخت وافر مقد ار میں ہوں . لہذا سرسبز وشاداب باغات کو” روضة “ کہاجاتاہے اس تعبیرسے یہ بات بخوبی سمجھی جاسکتی ہے کہ بہشت کے باغات بھی مختلف ہیں اورصالح موٴ منین کی رہائش بہشت کے بہترین باغات میں ہوگی . جس کا مفہوم یہ ہے کہ جب گناہگار موٴ منین کوخدا کی طرف سے معافی ملے گی تووہ بہشت میں توضر ورجائیں گے مگرا ن کی جگہ ” روضات “ نہیں ہوگی ۔
جبکہ صالح موٴ منین کے بار ے میں خداوند عالم کافضل وکرم یہیں پرختم ہو جات. ان پرخدا کی اس قدر مہربانی ہوگی کہ جوکچھ بھی چاہیں گے ان کے پروردگار کے پاس ان کے لیے سب کچھ فراہم ہوگا (لَہُمْ ما یَشاؤُنَ عِنْدَ رَبِّہِم).
گو یا ان کے ” عمل “ اور”جزا“ کاکوئی تقابل نہیں کیاجاسکتا،کیونکہ ” لَہُمْ ما یَشاؤُن“ کاجملہ اس حقیقت کاترجمان ہے۔
اس سے بھی بڑھ کردلچسپ بات ” عندر بھم “ ( ان کے پروردگار کے پاس ) کی تعبیر ہے ، جوموٴ منین کے بار ے میں خداوند عالم کے بے حدو حساب لطف و کرم کو بیان کررہی ہے.اس سے بڑھ کراورکیا مہر بانی ہوسکتی ہے کہ انہیں خداکا قرب حاصل ہوگ. جیساکہ شہداء کے بار ے میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے۔
بل احیاء عندر بھم یرزقون
اور صالح موٴ منین کے بار ے میں فرماتاہے :
لَہُمْ ما یَشاؤُنَ عِنْدَ رَبِّہِم
چنانچہ آیت کے آخر میں فر مایاگیاہے : یہ ہے خدا کابہت بڑافضل (ذلِکَ ہُوَ الْفَضْلُ الْکَبیرُ ).
ہم کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کی نعمتیں اس قدر وسیع و عظیم ہیں کہ قلم و زبان ان کے بیان سے قاصر ہیں اور ہم مادی دنیا کے اسیروں کے لیے اس کاتصور بھی محال ہے ہم سمجھ سکیں کہ ”لَہُمْ ما یَشاؤُنَ عِنْدَ رَبِّہِم “ کے جملے میں کیا کیامفہوم پوشیدہ ہیں ؟ موٴ منین کیاچاہیں گے اور خداوند عالم کے قرب میں انہیں کیاکچھ ملے گا ؟
اصولی طورپر خدا وندعالم جس چیز کی فضل کبیر کے عنوان سے توصیف کرے صاف ظاہر ہے کہ وہ چیزاس قدرعظمت کی مالک ہوگی کہ ہم جس قدر بھی اس کاتصور کریں پھر بھی ہمارا طائر خیال وہاں تک نہیں پہنچ سکتا ۔
دوسرے لفظوں میں خدا کے ان خاص بندوں کامرتبہ قدر بلند ہوگاکہ وہ جس چیز کاارادہ کریں گے وہ چیز فوراً مہیا ہوجائے گی . گویاوہ اس خدا وند عالم کی اس لامتناہی قدرت کے آئینہ دار ہوں کے جو فر ماتاہے :
إِنَّما اٴَمْرُہُ إِذا اٴَرادَ شَیْئاً اٴَنْ یَقُولَ لَہُ کُنْ فَیَکُونُ
اوراس سے بڑھ کراور کیا فضیلت ہو سکتی ہے۔
اس عظیم جزا کی عظمت کو بعد کی آیت میں بیان کرتے ہوئے فرمایاگیاہے : یہ وہی چیزہے جس کی خوشخبر ی خدانے اپنے ان بندوں کودی ہے جو ایمان لے آئے اورعمل صالح بجالائے ہیں (ذلِکَ الَّذی یُبَشِّرُ اللَّہُ عِبادَہُ الَّذینَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ ).
وہ خشخبری دیتاہے تاکہ اطاعت اوربندگی کرتے ہوئے اورخواہشات نفسانی سے مقابلے کے دوران اوردشمنوں سے جہاد کرتے ہوئے وہ جن مشکلات سے گزریں انہیں خوشی سے جھیل لیں اوروہ اس عظیم جزاکی وجہ سے خداوند کریم کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے زندگی کے نشیب و فراز والے راستوں میں زیادہ سے زیادہ ہمت وطاقت کامظاہرہ کریں۔
چونکہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی تبلیغ رسالت کی وجہ سے یہ خیال لوگوں کے د ل میں آسکتا تھاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اپنی رسالت کی تبلیغ کالوگوں سے اجر طل فرمائیں گے.اسی بار ے میں فوراً پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کوحکم دیاگیا ہے کہ ” کہہ دے ! میں اس بار ے میں تم سے کچھ نہیں مانگتا مگر یہ کہ میرے قریبیوں کے ساتھ محبت کرو “ (قُلْ لا اٴَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اٴَجْراً إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبی).
ذوی القربیٰ کی دوستی جیساکہ آگے چل کر بیان ہوگا ولایت کے مسئلے اور خاندان رسالت میں سے ہونے والے آئمہ معصومین کی پیشوائی اور رہبری کی طرف لوٹ جاتی ہے .جو درحقیقت پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی رہبر ی اور ولایت الہٰیہ کے تسلسل کے مترادف ہے اور ظاہر ہے کہ اس ولایت اور ہبری کو تسلیم کرناایساہے،جیساکہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت و نبوت کوتسلیم کرنا،جوکہ انسان کی اپنی سعادت کاذریعہ ہوتاہے اوراس کا نتیجہ خودانسان کی طرف ہی لوٹ جاتاہے۔
سوره فصلت/ آیه 1- 5
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma