آپ (ص) کا دین تمام انبیا ء (ع) کے دین کا نچوڑ ہے

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 20
سوره فصلت/ آیه 1- 5

اس سورہ کی اکثر گفتگو مشرکین سے متعلق ہے اور گزشتہ آیا ت میں بھی اسی موضوع پربات ہورہی تھی . لہٰذا زیرنظر آیات بھی اس حقیقت کوواضح کررہی ہیں کہ توحید الہٰی کی طرف اسلام کی دعوت کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ تمام اولو العزم انبیاء کی دعوت ہے نہ صرف توحید کی حد تک ، تمام بنیاد ی مسائل میں تمام انبیاء کی دعوت کے اصول تمام آسمانی ادیان میں ایک ہی تھے ۔
چنانچہ ارشاد ہوتاہے :خدا نے ایسادین تمہارے لیے مقرر فرمایا ہے جس کی ہدایت پہلےاولو العزم پیغمبر نوح کی فرمائی تھی (شَرَعَ لَکُمْ مِنَ الدِّینِ ما وَصَّی بِہِ نُوحا).
” ااوراسی طرح جس چیز کی ہم نے تیر ی طرف وحی بھیجی اور ابراہیم ،موسٰی اورعیسٰی کواس کی سفارش کی “ ( وَ الَّذی اٴَوْحَیْنا إِلَیْکَ وَ ما وَصَّیْنا بِہِ إِبْراہیمَ وَ مُوسی وَ عیسی).
تواس طرح سے جوکچھ گزشتہ پیغمبروں کی شر یعتوں میں موجود تھا وہ سب کچھ آپ کی شریعت میں موجود ہے۔
آنچہ خوبان ہمہ دار ند تو تنہا داری
” من الدین “ کی تعبیرسے واضح ہوتاہے آسمانی شریعتوں کی ہم آ ہنگی صرف توحید بااصول دین کے دوسرے مسائل تک محدود نہیں ہے بلکہ دین الہٰی اساسی اوربنیادی لحاظ سے مجموعی طور پر ہر جگہ ایک ہے ہرچند کہ انسانی معاشرے کے ارتقائی تقاضا وں کے تحت فروعی قوانین کوانسان کے ارتقائی مراحل سے ہم آہنگ کرناپڑتاہے تاکہ وہ بالتد ریج اپنی آخر ی حد ود اور”خاتم ادیان“ تک پہنچ جائیں۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن پاک کی دیگر آیات میں بہت سارے شواہد موجود ہیں جن سے پتہ چلتاہے کہ تمام ادیان کے مقائد ، فرائض اورقوانین کے کلی اصول ایک جیسے ہیں۔
مثلاً قرآن مجید بہت سے ابنیاء کے حالات ہم پڑھتے ہیں کہ ان کی ابتدائی دعوت یہی تھی ” یاقوم اعبدوا اللہ“ (۱)۔
و لقد بعثنا فی کل امة رسولاً ان اعبدو االلہ
ایک اور جگہ ارشاد ہوتاہے : ہم ے امت میں ایک رسول بھیجا تا کہ وہ لو گوں کوکہے کہ خدائے واحد کی عبادت کرو ۔
قیامت کے بار ے میں ڈرانے کا سلسلہ بھی بہت سے انبیاء کی دعوت میں آیاہے ملاحظہ ہوں سورہ ٴ انعام کی ۱۳۰ ویں آیت،سور ہٴ اعراف،کی ۵۹ ویں آیت،سور ہ شعراء کی ۱۳۵ ویں ، سور ہ مریم کی ۳۱ ویں اورطٰہٰ کی ۱۵ ویں۔
حضرت موسٰی،عیسٰی اور شعیب علیہم السلام نماز کی تبلیغ کرتے ہیں ملاحظہ ہو سورہ طٰہٰ /۱۴ ، سور ہ ٴ مریم / ۳۱ ، اور سور ہ ٴ ہود / ۸۷ ،اورحضرت ابراہیم علیہ السلام حج کی دعوت دیتے ہیں ملاحظہ ہو سورہ ٴ حج / ۲۷۔
روز ہ تمام گزشتہ اقوام میں تھا . ملاحظہ ہوں سور ہ ٴ بقرہ / ۱۸۳ ۔
لہٰذ اآیت میں ایک کلّی حکم کے تحت تما م انبیاء کے بار ے میں فرمایاگیاہے : ہم نے ان سب کو حکم د یا : دین کوقائم و بر قرا ر رکھو اوراس میں تفر قہ نہ ڈا لو ( اٴَنْ اٴَقیمُوا الدِّینَ وَ لا تَتَفَرَّقُوا فیہِ ).
دواہم امور کا حکم تھا،ایک تو تمام امورمیں خدا کے دین کوقائم و برقرا ر رکھیں (صرف عمل کی حد تک نہیں بلکہ اسے قائم ،زندہ اور بر قرار بھی رکھیں ) اوردوسرے بہت بڑی بلاسے پرہیز کریں یعنی دین میں تفر قہ اور نفاق ایجاد نہ کریں۔
اسی آیت میں آگے چل کرفرما یاگیاہے:ہرچند کہ تیری یہ دعوت مشرکین کے لیے سخت گراں ہے (کَبُرَ عَلَی الْمُشْرِکینَ ما تَدْعُوہُمْ إِلَیْہِ).
سالہاسال کے تعصب اور جہالت کی وجہ سے وہ لو گ شرک اور بُت پرستی سے مانوس ہوچکے ہیں اور شرک ان کے وجود میں حلول کرچکاہے جس کی بناء پر توحید کی دعوت سے انہیں وحشت ہوتی ہے علاوہ ازیں شرک سے مشرکین کے سر غنوں کے شخصی مفادات وابستہ ہیں جبکہ دعوت توحید تومستضعفین کو ایسے لوگوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے پر آمادہ کرتی ہے اور مشرکین کی ہوادہوس پرستی اورمظالم کی روک تھام کرتی ہے۔
لیکن پھر بھی جس طرح انبیاء کاانتخاب خدا کے ہاتھ میں ہے اسی طرح لوگوں کی ہدایت بھی اسی کے دست قدرت میں ہے ” خداجسے چاہے منتخب کرلے اورجواس کی طرف لوٹ جائے اسے ہدایت کرتاہے “ (اللَّہُ یَجْتَبی إِلَیْہِ مَنْ یَشاء ُ وَ یَہْدی إِلَیْہِ مَنْ یُنیب) ۔
 ۱۔ ملاحظہ ہو سورہ اعراف کی آیات ۵۹، ۶۵، ۷۳ ،۸۵ . سور ہ ہود کی آیات ۵۰ ، ۶۱ ،۸۴.جوبالترتیب جناب نوح ، ہود ، صالح اور شعیب علیہم السلام کے بار ے میں ہیں۔
سوره فصلت/ آیه 1- 5
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma