۳۔ خداکے رازق ہونے کے بار ے میں کچھ باتیں۔

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 20
سوره فصلت/ آیه 1- 5

الف:روزی کے وسیع اور تنگ ہونے کا معیارکیاہے ؟یہ بات توہمیشہ ذہن میں رہنی چاہیئے کہ کسی کے رزق کی وسعت کبھی انسان کوروزی کی وسعت کے ذریعے آزماتاہے اوربے انتہامال اس کے اختیار میں دے دیتا ہے اورکبھی معیثت کی تنگی کی وجہ سے اس کے صبراستقامت اور پامردی اکاامتحان لیناچاہتا ہے اوراس سے ان صفات کو پروان چڑھاتاہے۔
کبھی تو ایسا ہوتاہے کہ مال و دولت کی فراوانی صاحبان مال کے لیے وبال جان بن جاتی ہے اوران سے ہرقسم کاسکھ اور چین چھین لیتی ہے . چنانچہ سور ہ ٴ توبہ کی ۵۵ ویں آیت میں ارشاد ہوتاہے :
فَلا تُعْجِبْکَ اٴَمْوالُہُمْ وَ لا اٴَوْلادُہُمْ إِنَّما یُریدُ اللَّہُ لِیُعَذِّبَہُمْ بِہا فِی الْحَیاةِ الدُّنْیا وَ تَزْہَقَ اٴَنْفُسُہُمْ وَ ہُمْ کافِرُونَ
ان لوگوں کے مال و دولت اوراولاد کی فراوانی تجھے حیران نہ کردے . خداتو یہی چاہتاہے کہ انھیں اس ذریعے سے دنیا وی زندگی میں عذاب دے اوروہ کفر کی حالت میں مریں۔
سورہ ٴ موٴ منون کی آیات ۵۵.۵۶ میں فرمایا گیا ہے :
اٴَ یَحْسَبُونَ اٴَنَّما نُمِدُّہُمْ بِہِ مِنْ مالٍ وَ بَنینَ ،نُسارِعُ لَہُمْ فِی الْخَیْراتِ بَلْ لا یَشْعُرُونَ
کیاوہ گمان کرتے ہیں کہ ہم نے جوا نہیں مال و اولاد عطاکی ہے اس لیے ہے کہ ان پراچھائیوں کے درواز ے کھول دیئے ہیں ،ایسانہیں ہے،وہ اس بات کو نہیں سمجھتے ۔
( ب ):روزی کامقرر کرنااس کی تلاش کے منافی نہیں : روزی کے بار ے میں خدا وند عالم کی طرف سے تقدیر کی جو آیات قرآن مجید میں آئی ہیں ان سے یہ نتیجہ نہیں نکالنا چاہیئے کہ چونکہ خدا وند عالم نے انسان کی روزی تو مقرر فرماہی دی ہے لہٰذااس بار ے میں تلاش اورکوشش کی کیاضرورت ہے . اس بات کوسستی کابہانہ بنا کرانفرادی ااوراجتماعی کوششوں سے فرار نہیں کرناچاہیئے.و گرنہ سوچ قرآن مجید کی ان اکثرو بیشتر آیات کے خلاف ہوگی جن میں سعی و کوشش اور تلاش وحصول کو کامیابی کامعیار سمجھا گیاہے۔
مقصد یہ ہے کہ تمام تلاش اورکو ششوں کے باوجود بھی کبھی ہم واضح طور پر دیکھتے ہیں کہ کوئی ایسا ہاتھ کار فر ماہوتاہے کہ ان سب کو ششوں کا نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلتا اور کبھی اس کے بالکل برعکس ہوتاہے ایسا اس لیے ہے تاکہ دنیا کو معلوم ہوجائے کہ اس عالم اسباب کے پس پردہ ذات ” مسبب الاسباب “ کادست قدرت کار فر ماہے۔
بہرحال سستی اور کاہلی کی وجہ سے حاصل ہونے والی محرومیوں کی ہرگز خدا کے کھاتے میں نہیںڈالنا چاہیئے کیونکہ اس نے توپہلے دن سے فرمادیا ہے کہ تلاش وکوشش کے مطابق روزی ملے گی ۔
(ج):رزق صر ف دنیاوی نعمتوں ہی کا نام نہیں:رزق اور روزی کاوسیع معنی ہے جو معنوی اور روحانی روزی پر بھی بولاجاتا ہے . بلکہ حقیقت میں روزی کہتے ہی معنوی رزق کو ہیں . دعاؤں میں بھی اسی معنوی روزی کے بار ے میں رزق کالفظ اکثر مقام پر بولاگیاہے.مثلاً حج کے بار ے میں ہم دعامنگتے ہیں۔
اللھم ارز قنی حج بیتک الحرام
اطاعت کی توفیق اورمعصیت سے دوری کے لیے کہتے ہیں :
اللھم ارز قنی توفیق الطاعة و بعد المعصیة ... “
ماہ رمضان کی دعاؤں میں کہتے ہیں ( ۱۵ ویں روزے کی دعا میں) :
اللھم ارزقنی فیہ طاعة الخاشعین
اوراسی طرح دوسری چیزوں کے بار ے میں ہے۔
(د) : قرآن مجید اور روزی کی کثرت :قرآ ن مجید نے چند امور ایسے ذکر کئے ہیں جو بذات خود انسانی تربیت کے لیے تعمیر ی درس کی حیثیت رکھتے ہیں ،ایک مقام پر ارشاد فر ماتاہے :
لئن شکرتم لاز یدنکم
اگر تم نے نعمتوں کاشکر ادا کیا( انہیں اپنے صحیح مصرف میں خرچ کیا) تو تمہیں زیادہ نعمتیں عطاکروں گا ۔( ابرہیم ./۷)
ایک دوسرے مقام پر لوگوں کوتلاش وحصول روزی کی دعوت دیتے ہوئے فرماتاہے :
ہُوَ الَّذی جَعَلَ لَکُمُ الْاٴَرْضَ ذَلُولاً فَامْشُوا فی مَناکِبِہا وَ کُلُوا مِنْ رِزْقِہ
خدا تو وہ ذات ہے جس نے زمین کو تمہارے لیے خاضع اور خاشع بنادیاہے تاکہ تم اس کی پشت پر چلو پھر و اوراس کے رزق سے کھا ؤ پیو۔ ( ملک / ۱۵)
ایک اورمقام پر تقویٰ اورپر ہیز گاری کووسعت رز ق کامعیار بتایا ہے ،ارشاد ہوتاہے :
وَ لَوْ اٴَنَّ اٴَہْلَ الْقُری آمَنُوا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنا عَلَیْہِمْ بَرَکاتٍ مِنَ السَّماء ِ وَ الْاٴَرْضِ
یعنی اگرروئے زمین کے لوگ ایمان لے آئیں اور تقویٰ اختیار کرلیں توہم آسمان و زمین کی برکتیں ان کے لیے کھول دیں۔ ( اعراف / ۹۶)
( ھ ):رزق کی تنگی اور تربیتی مسائل : بعض اوقات ایسابھی ہوتاہے کہ اگر لوگوں پر رزق کی تنگی اس لیے کی جاتی ہے تاکہ ان کی طرف سے پیدا ہونے والے فتنہ وفساد کے آگے بندباندھاجاسکے جیساکہ اسی سورہ ( شوریٰ ) کی ۲۷ ویں آیت میں ہے :
ولو بسط اللہ الرزق لعبادة البغو افی الارض
اگرخداپنے بندوں کے لیے روزی کشادہ کردے تو وہ ظلم وطغیان کی راہ اختیار کرلیں۔
(و) :رزق صرف خداکے ہاتھ میں ہے :قرآن مجید نے اس بات پر زور دیاہے کہ انسانوں کو چاہیئے کہ وہ اپنا روزی رسان صرف خدا کوجانیں اور غیر خداسے کبھی روزی نہ مانگیں اوراس کے ساتھ خداپر ایمان اور توکل کے بعد سعی و کوشش سے کام لیں سو رہٴ فاطر کی تیسری آیت میں ارشاد فرمایا گیاہے :
ہَلْ مِنْ خالِقٍ غَیْرُ اللَّہِ یَرْزُقُکُمْ مِنَ السَّماء ِ وَ الْاٴَرْض
آیاخدا کے علاوہ کوئی اورخالق ہے جو تمہیں زمیں آوسمان سے روز ی بہم پہنچائے ؟
سورہ ٴ عنکبوت کی آیت ۱۷ میں ارشاد فرمایا گیا ہے :
فابتغوا عنداللہ الرزق
رزق صرف خدا ہی سے مانگو۔
اس طرح کاحکم دے کرانسان کے اندر عزت نفس، بے نیاز ی ، خود داری اورغیر وابستگی کی روح کو اجاگر کردیاہے۔
روزی کی تقسیم ،زندگی بسرکرنے کے لیے رزق کی تلا ش ، روزی کے اسباب کے سرچشمے کے بار ے میں ہم نے تفسیر نمونہ کی ۱۱ویں جلد ( سور ہ نحل کی ۷۱ ویں آیت کے ذیل ) میں اور نویں جلد ( سور ہ ٴ ہود کی چھٹی آیت کے ذیل میں ) تفصیل سے گفتگو کی ہے۔
سوره فصلت/ آیه 1- 5
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma