۱۔ خدائی صفات کی معرفت :

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 20
سوره فصلت/ آیه 1- 5
چونکہ ہماری معلومات بلکہ ہماراتمام وجود محدود ہے لہٰذاہم لامحدود ذات خدا وند عالم کی کُنہ وحقیقت تک نہیں پہنچ سکتے ، کیونکہ کسی چیز کی حقیقت سے آگاہ ہی دراصل اس کے احاطہ کرنے کے معنی میں ہوتاہے ، اسی لیے ایک محدود چیزکسی لامحدود ذات کاکیسے احاطہ کرسکتی ہے ؟ نیز جس طرح اس کی ذات کی حقیقت سے آشنا ئی مشکل ہے اسی طرح اس غیر محدود ذات کی صفات کے بار ے میں بھی آگاہ ہی ہم جیسے محدود افراد کے بس سے باہر ہے کیونکہ اس کی صفات بی تو عین ذات ہوتی ہے۔
بنابریں ہم خداکی ذات اورصفات کے بارے میں جوکچھ بھی جانتے یاسمجھتے ہیں وہ صرف اپنے ایک اجمالی علم کی بناء پر ہے جس کازیادہ ترمحور اس کے آثار ہیں۔
پھر یہ کہ ہمارے الفاظ ، ہماری روزمرہ کی زندگی کی ضروریات پورا کرنے کے لیے ہوتے ہیں اور برحق خداکی لامحدود ذات اورصفات کوبیان نہیں کرسکتے.لہٰذا علم وقدرت،حیات و ولایت اورمالکیت جیسے الفاظ جو کہ اس کی صفات ثبوتیہ اورصفات سبیہ کوبیان کرتے ہیں درحقیقت ان کا اصل معنی کچھ اور ہی ہے.یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ہمیں ایسی تعبیرات دیکھنے میں آتی ہیں جو بادی النظرمیں متنا قض اور متضاد معلوم ہوتی ہیں معلوم ہوتی ہیں لیکن جب ان پراچھی طرح غور وخوض کیاجائے تو کچھ اورحقیقت سامنے آتی ہے .مثلاً ہم کہتے ہیں کہ خدا ” اول “ بھی ہے اور” آخر “ بھی ’ ’ ظاہر “ بھی ہے اور ’ ’ باطن “ بھی . سب کے ساتھ بھی ہے مگران کے ہمراہ نہیں ، سب سے جداہے لیکن ان سے اجنبی نہیں۔
البتہ اگران الفاظ کے معیار اورمفہوم کے ساتھ محدود اورممکن موجودات کے متعلق بات کریں تو یہ چیز سمجھ میں آتی ہے کوجو چیز اوّل ہوتی ہے وہ آخر نہیں ہوسکتی اور جوظاہر ہوتی ہے وہ باطن نہیں ہوسکتی . لیکن ان الفاظ کوغیر متنا ہی اور لامحدودذات کے افق میں دیکھناچاہیں تو سب اس میں جمع ہیں . کیونکہ غیر متناہی وجود اول ہونے کے باوجود آخر ہے اور ظاہر ہونے کے ساتھ باطن ہے۔
جب یہ بات سمجھ آگئی تو ہم یہیں پرایک اوربات کہیں گے اور وہ یہ کہ اس کی اجمالی اورجلالی صفات کی معرفت کے بے جوسب سے ضروری اوراہم بات پیش نظررکھنی چاہیئے وہ یہ ہے کہ حقیقت ہمیشہ پیش نظر رہے کہ ” نہ تو کوئی چیزاس کی مثل ہے اور نہ ہی وہ کسی کے مشابہ ہے “ ( لیس کمثلہ شی ء ).
امیر المو منین علی بن ابی طالب علیہ السلام نے اسی حقیقت کوبڑی وضاحت کے ساتھ نہج البلاغہ کے خطبات میں بیان فرمایا ہے ، مثلاً:
ماوحد ہ من کیفہ ، ولا حقیقة اصاب من مثلہ ،ولاایاہ عنی من شبھہ ، ولاصمدہ من اشارالیہ و توھمہ
جوشخص اس کی کیفیت کاقائل ہوااس نے اسے اکیلا نہ جانا اور جس نے اس کے لیے شبیہ اورمثال قرار دی وہ اس کی ذات کی حقیقت تک رسائی حاصل نہ کرسکا اور جس نے اسے کسی کے مشابہ سمجھا اس نے اس کاقصد نہیں کیا اور جو اس کی طرف اشارہ کرے گا یااپنے وہی وگمان میں لے آئے گا وہ اسے منزہ نہیں سمجھے گا ( 1).
ایک اورمقام پر ارشاد فر ماتے ہیں :
کل مسمی بالوحدة غیرہ قلیل
ہروہ چیز کووحد ت کے نام سے موسوم کیاجائے وہ بہت قلیل اورکم مقدار میں ہوتی ہے سوائے ذات خدا کے کیونکہ اس کی وحدت اس کی غیر متناہی عظمت پرواضح دلیل ہے ( 2).
مختصر یہ کہ صفات خدا وند ی کے باب میں ، ہمیشہ ” لیس کمثلہ شی ء “ ( اس کے مانند کوئی چیز نہیں ) کاچراغ لے کرحرکت کرنی چاہیئے اور ” لم یکن لہ کفوً احد “ ( اس کے مانند ومشابہ کوئی چیز نہیں ) کے پرتومیں اسے دیکھنا چاہیئے اورعبادات وغیرہ میں ” سبحان اللہ “ ( وہ پاک وپاکیزہ ہے ) کا ارشارہ بھی اسی حقیقت کی طرف ہے۔
1۔ خطبہ ،ص ۱۸۶۔
2۔ خطبہ . ۶۵ ۔
سوره فصلت/ آیه 1- 5
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma