ولی مطلق صرف خدا ہے

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 20
سوره فصلت/ آیه 1- 5
چونکہ گزشتہ آیات کی تفسیرمیں یہ حقیقت بیان ہوئی تھی کہ خداکے سوا کوئی بھی ولی اور مددگار نہیں ہے . زیر نظرآیات میں اس حقیقت کی تائید اورغیر خداکی ولایت کی نفی میں کچھ معتبر اورمضبوط دلائل پیش کئے جارہے ہیں . چنانچہ سب سے پہلے تعجب اورانکار کے اندر میں ارشاد فرمایاگیا ہے : آ یاانہوں نے خداکے علاوہ دوسروں کواپناولی بنالیاہے (اٴَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِہِ اٴَوْلِیاء َ ) (۱).
جبکہ ولی توصرف خدا ہے (فَاللَّہُ ہُوَ الْوَلِیُّ).
لہذا اگروہ اپنے لیے کوئی ولی اورسرپرست بنانابھی چاہتے ہیں توانہیں چاہیے کہ خداکو ہی بنائیں کیونکہ گزشتہ آیا ت میں اس کی ولایت کے دلائل اس کی صفات کمالیہ کے ساتھ ہی بیان ہوچکے ہیں یعنی جو خداوند عزیز وحکیم ہے ، جو مالک ، علی اورعظیم ہے ، جوغفور اوررحیم ہے . یہ سات اوصا ف جو ابھی بیان ہوچکے ہیں بذات خود خداوند عالم کی ولایت کے لیے بہتر ین دلیل ہیں۔
اس کے بعد ایک دلیل بیان کرتے ہوئے فر مایا گیا ہے : وہی مردوں کوزندہ کرتاہے( وَ ہُوَ یُحْیِ الْمَوْتی ).
اور چونکہ معا د اورقیامت کامعاملہ اسی کے ہاتھ میں ہے اورانسان کی سب سے بڑی پریشانی اس کے مرنے کے بعد دوبارہ زندگی کی کیفیت کے بار ے میں ہے لہٰذااسی کی ذات پرتوکل کرنا چاہیے نہ کہ کسی اور پر ۔
پھرتیسری دلیل بیان فر ماتے ہوئے فرمایا گیا ہے : وہی ہرچیز پرقادر وتوانا ہے (وَ ہُوَ عَلی کُلِّ شَیْء ٍ قَدیر).
یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ” ولی “ ہونے کی اصل شرط قدرت رکھنے اورصحیح معنوں میں قادر ہونے میں مضمر ہے۔
بعد کی آیت میں اللہ تعالیٰ اپنی ولایت کی چوتھی دلیل کو اس صورت میں بیان کرتاہے : ” تم جس چیزمیں اختلاف کروگےاس کا فیصلہ خداکے ہاتھ میں ہے “ اور وہی تمہارے اختلافات ختم کرسکتاہے (وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فیہِ مِنْ شَیْء ٍ فَحُکْمُہُ إِلَی اللَّہِ) ۔
جی ہاں ! ولایت کی ایک شان یہ بھی ہے کہ جولوگ اس کے پرچم تلے زندگی بسر کررہے ہوں اگران کے درمیان کسی قسم کااختلاف ہوجائے تو وہ صحیح فیصلے کے ذریعے اس اختلاف کو ختم کردے . کیابت یاشیاطین کہ جنہیں معبود بنالیاگیاہے اس بات کی قدرت رکھتے ہیں یاپھریہ کام خدا وند عالم کی ذات کے ساتھ خاص ہے ؟ جو ہرقسم کے اختلافات حل کرنے کے ذ ریعوں سے بھی آگاہ ہے حکیم بھی ہے اوراپنے فیصلہ پرعملدر آمد کروانے کی قدرت بھی رکھتاہے . لہذا خداوند عزیز وحکیم ہی کوحاکم ہونا چاہیئے نہ کہ کسی اورکو ۔
اگرچہ بعض مفسرین نے ” مَا اخْتَلَفْتُمْ فیہِ مِنْ شَیْء ٍ “ کے مفہوم کوآیات متشابہ بہات کی تاٴ ویل کے بار ے میں اختلافات یاصرف قانونی لڑائی جھگڑوںمیں محدود کرنے کی کوشش کی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ آیت کامفہوم وسیع ہے اوراس مفہوم میں ہرقسم کے اختلافات آجاتے ہیں خواہ وہ معارف الہیٰہ او ر عقائد کے بار ے میں ہوں یااحکام تشریعی کے بار ے میں اور یاقانونی معاملات وغیرہ میں.کیونکہ انسانی معلومات محدود اورناچیز ہوتی ہیں لہٰذا ان کے درمیان پیداہونے والے اختلاف کوعلم حق کے سرچشمہ فیض اورحی کے ذریعے دور کیاجانا چاہیئے ۔
خداوند عالم کی پاک ذات میں ولایت کے انحصار کے مختلف دلائل ذکرکرنے کے بعد پیغمبرالسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبانی ارشاد فرمایاگیاہے : ” وہی خدا میرا پروردگار ہے “ جس میں کمال کی یہ صفات پائی جکاتی ہیں (ذلِکُمُ اللَّہُ رَبِّی ) (۲)۔
” اسی لیے تو میں نے اسے اپناولی اورمددگار منتخب کیاہے ، اسی پر توکل کیاہے اور تمام مشکلات ومصائب کے وقت اسی کی جانب رجوع کرتاہوں (عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَ إِلَیْہِ اٴُنیب).
یہ بات بھی قابل تو جہ ہے ” ذالکم اللہ ربی “ کاجملہ خدا وند عالم کی ربوبیت مطلقہ کی طرف اشارہ ہے یعنی ایسی مالکیت جس میں تدبیربھی پائی جاتی ہو ، اور ربوبیت کی دوقسمیں ہیں . ایک تو ربوبیت تکو ینی جو کائنات کانظام چلانے کے لیے ہوتی ہے اوردوسری ربوبیت تشریعی جوخدا وندعالم کے سفیروں کے ذریعے احکام وقوانین وضع کرنے اور لوگوں کوہدایت اور تبلیغ کرنے کے لیے ہوتی ہے۔
اسی بنیاد پر اس کے بعد ” توکل “ اور” انابہ “ کے الفاظ آئے ہیں جن میں سے پہلا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تکوینی نظام میں اپنے تمام امور کو خدا کے سپرد کرد یا جائے اور دوسرا اس امرکی جانب کہ تشر یعی امور کی باز گشت بھی اسی کی ذات کی جانب ہے ( غور کیجئے گا ) (۳).
بعد کی آیت خداوند کریم کی ولایت مطلقہ کی پانچویں دلیل بھی ہوسکتی ہے اورمقام ربوبیت اورتوکل وانابہ کی لیاقت اور اہلیت کی دلیل بھی ہوسکتی ہے . فرمایاگیاہے : وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کووجو دبخشا ہے (فاطِرُ السَّماواتِ وَ الْاٴَرْضِ ).
” فاطر “ ”فطر“ (بروزن سطر) کے مادہ سے ہے جس کاصل معنی کسی چیز کوپھاڑ نا ہے . جو کہ ” قطّ “ کے مقابل میں ہے جس کامعنی بعض لوگوں کے بقول عرض میں کاٹنا ہے . گویا چیز وں کی تخلیق کے وقت عدم کا تاریک ردہ چاک ہوجاتاہے اور ہستی اس سے باہر نکل آتی ہے . اسی مناسبت کے تحت ہی جب خرماکے خوشہ کاغلاف شق ہوتاہے اور خوشہ اس سے باہر نکلتاہے تو اسے ”فطر“ (بروزن شتر ) کہتے ہیں ( ۴).
البتہ یہاں پرآسمانوں اور زمین سے مراد تمام آسمان ، زمین اوران میں موجود تمام چیز یں ہیں . کیونکہ خداوندعالم کی خلاقیت ان سب پر محیط ہے۔
پھرخدا کے دوسرے افعال کی توصیف کرتے ہوئے قرآن کہتاہے : تمہاری جنس ہی سے تمہارے لیے جوڑا بنایا ہے اورجانوروں کے بھی جوڑے بنائے ہیں اورتمہیں اس ( جوڑے ہونے کے ) ناطے سے بڑھا تااورپھیلاتاہے (جَعَلَ لَکُمْ مِنْ اٴَنْفُسِکُمْ اٴَزْواجاً وَ مِنَ الْاٴَنْعامِ اٴَزْواجاً یَذْرَؤُکُمْ فیہِ) (۵) ۔
یہ بذات خود پر وردگارعالم کی تدبیراوراس کی ربوبیت اور ولایت کی عظیم نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے انسانوں کے لیے جوڑا بھی انسانی جنس ہی سے بنایا ہے کہ ایک طرف تورو حانی طور پر اس کی تسکین وآرام کاسبب ہے اور دوسری طر ف اس کی نسل کی بقاء تولید اوراس کے وجود کو بر قرار رکھنے کاذریعہ ہے۔
اگرچہ قرآن مجیدنے ” یذرؤ کم “ ( تم انسانوں کوبڑھاتا اورپھیلاتاہے ) کہہ کر انسانوںمخاطب کیاہے لیکن ظاہر سی بات ہے کہ نسل کے بڑھانے کاسلسلہ جانوروں اور دوسرے زندہ موجو دات میں بھی جاری اورساری ہے . لیکن درحقیقت خداوندعالم نے سب کوایک خطاب میں جمع نہ کرکے انسانی عظمت کو بر قرار رکھاہے . لہٰذا خطاب صرف انسانوں ہی کو کیاہے تاکہ اس آیت میں جوتیسری صفت بیان ہوئی ہے وہ یہ کہ ” اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے -- ( لیس کمثلہ شی ء ).
دراصل یہ جملہ تمام خدا ئی صفات کی معرفت کی بنیاد ہے . جب تک اس جملے کوپیش نظرنہ رکھا جائے خدا کی کسی بھی صفت کی حقیقت تک رسائی نہیں کرسکتا . کیونکہ ” معرفة اللہ “ کی راہ کے راہیوں کے لیے جوسب سے زیادہ اورخطرناک مقام آتاہے وہ ”تشبیہ کا مقام ‘ ‘ کہ جہاں پر وہ اسے مخلوق کی صفات سے تشبیہ دیتے ہیں اوریہ امر اس بات کا سبب بن جاتاہے کہ انسان شرک کی گھاٹی میں جاگرتاہے۔
بالفاظ دیگر خدا ہر لحاظ سے غیرمحدود اور لامتناہی وجود ہے اوراسکے علاوہ بھی ہے وہ ہر لحاظ سے محدود اورمتنا ہی ہے عمر،قدرت،علم،حیات،ارادہ،فعل غرض ہر لحاظ سے اور اسی چیزکانام ” تنزیہ “ ہے جس کے ذریعے خداوند عالم کوممکنا ت کے تمام نقائص سے پاک سمجھاجاتاہے۔
یہی وجہ ہے کہ بہت سے مفہوم ایسے ہیں جوغیر خداکے لیے توثابت ہیں لیکن ذات خدا وند ذوالجلال کے لیے ان کا اطلاق بے معنی ہے.بطور مثال بعض کا م ہمارے لیے آسان ہوتے ہیں اوربعض سخت ، بعض چیزیں ہم سے دور ہیں اور بعض نزدیک،بعض اوقعات ماضی میں رونماہوئے ہیں اوربعض حال اورمستقبل میں رو نما ہوں گے . اسی طرح بعض چیزیں ہمارے لیے چھوٹی ہیں اوربعض بڑی ہیں . کیونکہ ہمارا وجود محدود ہے اوردوسری چیزوں کے ساتھ موازنہ کرنے سے یہ مفہوم پیداہوتاہے لیکن جو وجود ہر لحاظ سے غیر متناہی ہے اورازل اورابد پرمحیط ہے اس کے لیے اس قسم کے معانی کاتصّور کرنا ہی غلط ہے . نزدیک یا دور کاسوال اس کے نزدیک بے معنی سی بات ہے . سب اس کے نزدیک ہیں . اس کے لیے مشکل اورآسان کی اصطلاح کوئی حقیقت نہیں رکھتی سب کا م اس کے آسان ہیں . ماضی اورمستقبل کامفہوم اس کے لیے بے معنی مفہوم ہیں اس کے لےی سب حال ہی حال ہے اوریہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ ان معانی کے ادراک کے لیے خوب غور وخوض کی ضرورت ہے اورذہن کوان تمام چیزوں سے خالی کرناہوگا جن کا وہ خو گر ہوچکا ہے . اسی لیے توہم کہتے ہیں وجود خدا کی معرفت توآسان ہے لیکن اس کی صفات کی شناخت ہی مشکل ہے . امیرالمو منین علی بن ابی طالب علیہ السلام نہج البلاغہ میں فر ماتے ہیں :
و ماالجلیل واللطیف والثقلیل والخفیف والقوی والضعیف فی خلقہ الا سواء
چیزیں خوا ہ بڑی ہوں یاچھوٹی ، بھاری ہوں یاہلکی ، طاقتور ہوں یاکمزور،تخلیق و پیدائش میں سے یکساں ہیں اور اس کی قدرت کے سامنے سب ایک سی ہیں( ۶)۔
آیت کے آخر میں اس کی پاک ذات کی ایک اور صفت کو بیان کرتے ہوئے فرمایاگیا ہے : وہ سننے اور دیکھنے والا ہے ( و ھوالسمیع البصیر ).
جی ہاں وہی خالق بھی ہے اور مد بر بھی ، سننے والابھی ہے اوردیکھنے والابھی ہے . اس کے باوجود نہ توا س کی کوئی مثال ہے نہ شبیہ اور نظیر . اس لیے اسی کے سائیہ ولایت و ربوبیت میں پنا ہ لینی چاہیے اوراس کے غیر کی بندگی کاجو اگردن سے اتار کرپھینک دینا چاہیے ۔
زیر نظر آیات میں سے آخری آیت میں خدا وند عالم کی تین اور صفات بیان کی جارہی ہیں کہ جن میں سے ہر ایک صفت ولایت اور ربوبیت کے مسئلے کو خاص اندازمیں پیش کررہی ہے۔
سب سے پہلے فرمایاگیا ہے ہے : آسمانوں اور زمین کی چابیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں (لَہُ مَقالیدُ السَّماواتِ وَ الْاٴَرْضِ ).
اسی لیے جوشخص بھی جو کچھ رکھتاہے سب اسی کا ہے اجوکچھ حاصل کرناچاہتاہے اسی سے حاصل کر ے .صرف چابیاں ہی اس کے ہاتھ میں نہیں بلکہ زمین وآسمان کے خزانے بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں :
وللہ خزائن السماوات والارض
آسمانوں اور زمین کے خز انے خدا ک لیے ہیں . ( منافقوں / ۷ ).
” مقالید “ ” مقید “ ( بروزن ” اقلید“ ) کی جمع ہے جس کامعنی ہے چابی . یہ کلیہ بہت سے مقامات پرکنایہ کی صورت میں کسی چیز پرکا مل تسلط حاصل ہونے کے معنی میں استعمال ہوتاہے . مثلاً کہاجاتاہے کہ اس کام کی چابی میرے ہاتھ میں ہے ، یعنی وہاں تک رسائی اوراسے سرکرنے اوراس پر تسلط پانے کاسارا اختیار میرے پاس ہے . ( اس لفظ کی اصل ، اور خصوصیات کی تفصیل تفسیرنمونہ جلد ۱۹ سورہ ٴ زمر کی آیت ۶۳ کے ضمن مین بیان ہوئی ہے ).
بعدکی صفت ( جو کہ درحقیقت پہلی صفت کانتیجہ ہے ) کے بارے میں فرمایاگیاہے : جس کے لیے چاہے رزق کے کشادہ کردے اور جس کے لیے چاہے روزی تنگ کردے (یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَشاء ُ وَ یَقْدِر).
چو نکہ خزائن عالم اسی کے ہاتھ میں ہیں لہٰذا ہرشخص کارزق وروزی بھی اسی کے دست قدرت میں ہے .ا پنی مشیّت کے مطابق جوکہ اس کی حکمت سے ظاہر ہوتی ہے اوربند گان خدا کی مصلحت بھی اسی میں ہوتی ہے رزق تقسیم کرتاہے۔
چونکہ تمام موجودات کورز ق سے بہر ہ مند کر نا، ان کی ضروریات اوردوسری بہت سی خصوصیات کو جاننے اوران سے آگاہ ونے پر موقوف ہے لہٰذا آخری صفت کے بار ے میں فرمایاگیاہے : وہ ہرچیز کوجانتاہے ( إِنَّہُ بِکُلِّ شَیْء ٍ عَلیمٌ ).
یہاں بعینہ وہی بات ہورہی ہے جوسورہٴ ہود کی چھٹی آیت میں آئی ہے کہ :
وَ ما مِنْ دَابَّةٍ فِی الْاٴَرْضِ إِلاَّ عَلَی اللَّہِ رِزْقُہا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّہا وَ مُسْتَوْدَعَہا کُلٌّ فی کِتابٍ مُبین
روئے زمین پرکوئی بھی چلنے والاایسا نہیں ہے جس کی روزی خداکے ذمہ نہ ہو . وہ اس کے رہنے اور منتقل ہونے کی جگہ کوجانتاہے . یہ سب کچھ کتاب مبین میں درج ہے۔
تو اس طرح سے چار آیات میں خدا کی گیارہ (ذاتی اورفعلی ) صفات بیان ہوئی ہیں . یعنی اس کی ولایت مطلقہ ، مردوں کو زندہ کرنا ،ہرچیز پرقدرت رکھنا، آسمان وزمین کی تخلیق ، انسانوں کے جوڑے جوڑے بنانا اورانہیں پھیلانا اوربڑھا، اس کاشریک نہ ہونا، سننے اور دیکھنے والاہونا ،آسمان وزمین کے خزانوں پرقدرت رکھنا ، رازق ہونا اور تمام چیزوں سے آگاہ اورعالم ہونا ۔
یہ صفات بیان کے لحاظ سے ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں اور سب اس کی ولایت اور ربوبیت کی دلیل ہیں نتیجتاً توحید عبادت کے ثبوت کاراستہ ہیں۔
۱۔ زمخشری نے کشاف میں اور فخر الدین رازی نے تفسیر کبیر میں اوردوسرے بہت سے مفسرین نے یہاں پر” ام “ کامعنی استفہام انکاری لیا ہے . اوربعض دوسرے مفسرین مثلاً طبرسی نے مجمع البیان میں اورقرطبی نے الجامع لاحکام القرآن میں اسکامعنی ” بل “ کا لیاہے۔
۲۔ اس جملے کے آغاز میں لفظ ” قُل “ مقدر ہے لہٰذاصرف یہی جملہ اوراس کے بعد کاجملہ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبانی اداہو رہاہے . اور ” مَا اخْتَلَفْتُمْ فیہِ مِنْ شَیْء ٍ “ کاجملہ پروردگار عالم کے بیانات کاتسلسل ہے اورجن لوگوں نے اس کے علاوہ کوئی اورموٴ قف اپنایا ہے ظاہراًوہ صحیح نہیں ہے۔
۳۔ المیزان جلد ۱۸ ،ص ۲۳۔
۴۔”فطر “ کے معنی کے سلسلہ میں تفسیرنمونہ کی پانچویں جلد میں سورہ انعام کی آیت ۱۴ کے ذیل میں دلچسپ گفتگو ہوچکی ہے . یہاں پر اسے دہرانے کی ضرورت نہیں۔
۵۔”فیہ “ کی ضمیر یاتو ” تدبیر “ کی طرف لوٹ رہی ہے یاپھر” جعل ازوا ج “ کی طرف ضمنی طورپر یہ بھی بتاتے چلیں کہ ”یذ رؤ “ ” ذراٴ “ (بروزن ” زرع “ ) کے مادہ سے ہے جس کامعنی ” تخلیق “ اور ” پیدائش “ ہے لیکن تخلیق ایسی جس سے مخلوق ظاہر ی طورپر منصہ شہود پر آجائے ارو یہ لفظ پھیلانے اور منتشر کرنے کے معنی میں آتاہے۔
۶۔ نہج البلاغہ خطبہ ۱۸۴۔
سوره فصلت/ آیه 1- 5
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma