”ام القرٰم “ سے قیام

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 20
سوره فصلت/ آیه 1- 5

چونکہ گزشتہ آ یات میں شرک کے مسئلہ کی طرف اشارہ ہوچکاہے لہٰذازیر نظر آیات میں سے پہلی آیت میں مشر کین کے انجام کی نشاندہی کی گئی ہے ارشاد ہوتاہے : جن لوگوں نے خد کے علاوہ دوسرے لوگوں کو اپناولی بنایا ہے خداان کے اعمال کاحساب محفوظ رکھتا ہے اوران کی نیتوں سے آگاہ ہے (وَ الَّذینَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِہِ اٴَوْلِیاء َ اللَّہُ حَفیظٌ عَلَیْہِمْ ).
تاکہ موقع پرہی ان کاحساب چکادے اورانہیں ضروری سزادے ۔
پھر روئے سخن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کرکے فر مایاگیاہے :تیرا یہ کام نہیں ہے کہ انہیں حق قبول کرنے پر مجبور کرے (وَ ما اٴَنْتَ عَلَیْہِمْ بِوَکیل).
آپ کاکام توصرف تبلیغ رسالت اورخدا کے احکام خدائی بندوں تک پہنچاناہے . اس جملہ سے ملتے جلتے اور بھی بہت سے جملے قرآن مجید میں ملتے ہیں جیسے :
لست علیھم بمصیطر
تیراکنٹر ول تونہیں ہے۔ ( غاشیہ . ۲۲)
وماانت علیہم بجبار
تیراکام انہیں مجبور کرنانہیں۔ (ق . ۴۵)
وما جعلنا ک علیھم خفیطاً
ہم نے تجھے ان کے اعمال کاذمہ دار بنا کرنہیں بھیجا ۔ ( انعام . ۱۰۷)
ماعلی الرسول الاّ البلاغ
رسول کا کام صر ف تبلیغ و پیام رسانی ہے۔ ( مائد ہ . ۹۹)
یہ آیات اس حقیقت کو بیان کرتی ہیں کہ خدا وند تبارک و تعالیٰ چاہتاہے کہ اس کے بندے آزا د رہ کراس کے راستے کو اپنائیں کیونکہ ایمان اور عمل صالح کی حقیقی قدر و قیمت بھی اسی وقت ہوتی ہے جب اسے بغیر کسی پابندی کے اپنا یاجائے اورمجبوری سے لایاجانے والاایمان اورانجام دیاجانے والاعمل صحیح معنوں میں کسی قدر و قیمت اوراہمیّت کا حامل نہیں ہوتا ۔
اس کے بعد ایک بار پھر مسئلہ وحی کو بیان کیاجا رہاہے او ر اگر سابقہ آیات میں خود وحی کی بات ہورہی تھی تو یہان پر وحی کامقصد بتایاجارہا ہے،فر مایا گیا ہے : اوراسی طرح ہم نے تیری طرف فصیح عربی قرآن نازل کیاہے اور تجھ پر اس کی وحی کی ہے . تاکہ تو ام القری (مکہ ) اوراس کے ارد گرد والوں کوڈرائے (وَ کَذلِکَ اٴَوْحَیْنا إِلَیْکَ قُرْآناً عَرَبِیًّا لِتُنْذِرَ اٴُمَّ الْقُری وَ مَنْ حَوْلَہا)۔
اور انہیں اس دن سے ڈرائے کہ جس دن تمام لوگ جمع ہوں گے اوراس میں کسی قسم کاشک وشبہ بھی نہیں ہے ( وَ تُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لا رَیْبَ فیہ).
جس دن کہ لوگوں دوحصوں میں تقسیم ہوجائیں گے ” ایک گروہ بہشت میں اورایک جہنم کی آگ میں ہوگا (فَریقٌ فِی الْجَنَّةِ وَ فَریقٌ فِی السَّعیرِ).
” کذالک “ کی تعبیر ممکن ہے اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ جس طرح ہم نے گزشتہ انبیاء کی طرف ان کی اپنی زبان میں وحی نازل کی ہے آپ کی طرف بھی اسی طرح قرآن عربی زبان میں وحی کیاہے (بنابریں ” کذالک “ کااشارہ ” والی الذین من قبلک “ کی طرف ہوگا) . اور یہ بھی ممکن ہے کہ بعد کے جملے کی طرف اشارہ ہویعنی آپ پرہماری وحی اس طرح ہے : قرآن کوعربی زبان میں اورڈرانے کی غرض سے ۔
یہ ٹھیک ہے کہ ” فَریقٌ فِی الْجَنَّةِ وَ فَریقٌ فِی السَّعیر“
سے یہ بات سمجھی جاسکتی ہے کہ پیغمبر خدا کافریضہ انذار بھی ہے اور بشارت دینا بھی ہے . لیکن چونکہ ” انذار “ کی تاثیر خصوصاً نادان اور ہٹ دھرم لوگوں کے دلوں میں زیادہ ہوتی ہے لہذا آیت میں بھی دو مرتبہ ” انذار “ کوبیان کیاگیاہے . البتہ فرق اتنا ہے پہلے مرحلے میں ڈرائے جانے والے لوگوں کی بات ہے اور دوسرے مرحلے میں جس چیز سے ڈرا یاجارہا ہے یعنی قیامت کی ۔
جس دن کہ تمام انسانوں کے اجتماع کی وجہ سے ذلت و رسوائی سخت اور درد ناک ہوگی ( ۱).
یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ آیا ” لتندرامالقرٰی ومن حولھا “ سے یہ بات نہیں سمجھی جاتی کہ قرآن کے نزول کامقصد مکہ اوراس کے اطراف کے لوگوں کوڈرا نانہیں ہے ؟ اگر ایساہے توپھریہ بات اسلام کے عالمگیر ہونے کے منافی نہیں ہے ؟
لیکن ایک نکتہ کی طرف توجہ کرنے سے اس کا جواب واضح ہوجاتاہے اوروہ یہ کہ ” ام القرٰی “ کاکلمہ دوالفاظ سے مرکب ہے ایک ” ام “ ہے جس کااصل معنی کسی چیز کی بنیاد،ابتداور آغازہے ” ماں “ کو” ام “ اس لیے کہتے ہیں کہ و ہ اولاد کے لیے اصل اوربنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔
جبکہ ” قرٰی “ ” قریہ “ کی جمع ہے جس کامعنی ہرقسم کی آبادی ہے خواہ شہری ہو یاد یہاتی . شہربڑ ے ہوں یاچھوٹے ، اس بات کے شواہد قرآن میں بہت ملتے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ” مکہ “ کو ” ام القرای “ ( تمام آبادیوں کی اصل وبنیاد) کسی لیے کہتے ہیں ؟چنانچہ روایات اس بات کی صراحت کرتی ہیں کہ پہلے پہلی تمام زمین،پانی میں غرق تھی اورآہستہ آہستہ خشکی پانی سے ظاہر ہوناشروع ہوئی ( جدید سائنس بھی اسی نظر یے کی تائید کرتی ہے ).
یہی روایات کہتی ہیں کہ سب سے پہلے جس سرزمین نے پانی سے سر نکالا” خانہ کعبہ “ تھا پھراس کے اطراف کی زمین ظاہر ہونا شروع ہوئی جسے ” دحوالارض “ ( یعنی زمین کابچھنا ) کے نام سے یاد کیاجاتا ہے۔
اس تاریخ پس منظر سے ظاہر ہوتاہے کہ مکہ معظمہ روئے زمین کی تمام آبادیوں کی بنیاد ، اصل اورنقطہ آغاز ہے . اسی لئے جب بھی ” ام القرٰی ومن ھولھا کہاجاتاہے اس سے مراد روئے زمین کے تمام لوگ ہوتے ہیں(۲).
علاوہ ازیں ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اسلام نے تدریجی ترقی کی ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوپہلے پہل حکم ہوا کہ وہ اپنے قریب کے رشتہ داروں کوتبلیغ کریں جیساکہ سورہ ٴ شعراء کی ۲۱۴ وی وٴیت میں ہے ” واندرعشیرتک الاقربین “ تاکہ اس طرح سے اسلام کی بنیادیں مضبوط ہوں اور بڑھنے پھیلنے کے لیے آمادہ ہو ۔
پھردوسرے مرحلے میں آپ صلی للہ علیہ وآلہ وسلم کوحکم ہوا کہ عرب قوم کو تبلیغ وانذار کریں،جیسا کہ سور ہٴ حٰم سجدہ کی تیسری آیت میں آیاہے :
قُرْآناً عَرَبِیًّا لِقَوْمٍ یَعْلَمُون
یہ قرآن عربی ہے اس قوم کے لیے جو فہم و ادراک رکھتی ہے( ۳).
سور ہ ٴ زخرف کی ۴۴ ویں آ یت میں بھی ہے :
وانہ لذ کرلک ولقومک
یہ قرآن تیر ے لیے اور تیری قوم کے لیے یاد آوری ہے۔
جنانچہ جب اس قوم میں اسلام کی بنیادیں پختہ ہوگئیں توپھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کووسیع اور عالی سطح پرتبلیغ اسلام کاحکم ہوا،جیساکہ سورہٴ فرقان کے آغاز میں ہے :
تَبارَکَ الَّذی نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلی عَبْدِہِ لِیَکُونَ لِلْعالَمینَ نَذیراً
بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پرقرآن نازل کیاتاکہ وہ تمام جہان والوں کو ڈرائے ۔
یہ اوراس قسم کی کئی دوسری آیات ہیں۔
یہ اسی حکم کی وجہ تھی کہ اس زمانے میںپیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ن جزیرہ ة العرب سے باہر کے بادشاہوں کے نام خطوط روانہ کئے اور کسری ،قیصر اورنجاشی جیسے بادشاہوں کواسلام کی دعوت دی ۔
اورا نہی خطوط اور بنیاد وں پرہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیروکاروں نے تبلیغ اسلام کا سلسلہ جاری رکھا اورعالمی سطح پرآگے بڑھ کرپوری دنیامیں اسلام کو روشناس کروایا ۔
اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ قیامت کہ ” یوم الجمع “ کیوں کہتے ہی ؟ چنانچہ اس بار ے میں کئی تفسیر یں ملتی ہیں۔
کئی مفسرین کہتے ہیں چونکہ اس دن ارواح اوراجسام جمع ہوں گے ۔
بعض کہتے ہیں چونکہ اس دن انسان اور اس کے اعمال جمع ہوں گے ۔
بعض کہتے ہیں چونکہ اس دن ظالم اورم ظلوم جمع ہوں گے ۔
لیکن بظاہر یہ ہے کہ اس عظیم دن میں تمام قات جمع ہو گی خواہ وہ اولین میں سے ہوں یاآخر ین میں سے . جیسا کہ سور ہ واقعہ کی ۴۹ . ۵۰ ویں آیت میں آیا: (قُلْ إِنَّ الْاٴَوَّلینَ وَ الْآخِرینَ ،لَمَجْمُوعُونَ إِلی میقاتِ یَوْمٍ مَعْلُومٍ )۔
او رچونکہ ” فَریقٌ فِی الْجَنَّةِ وَ فَریقٌ فِی السَّعیرِ“ جا جملہ لوگوں کی دوحصوں میں تقسیم کی نشا ندہی کرتاہے لہٰذا بعد کی آیت میں ارشاد ہوتاہے : اگر خداچاہتا ان سب کوایک ہی امت قرار دیتاان کو جبری طور پر ہدایت کرتاور موٴ من بناتا ( وَ لَوْ شاء َ اللَّہُ لَجَعَلَہُمْ اٴُمَّةً واحِدَةً).
لیکن جبری طور پرایمان لانے کا کیا فائدہ ؟ اور یہ انسان کمال کامعیار کیونکر قرار پاسکتاہے ؟ حقیقی تکامل اورارتقاء وہی ہوتاہے جو انسان اپنے ارادے ،اختیاراورمکمل آزادی سے طے کرے۔
قرآنی آیات،انسان کی آزادی ،ارادے اوراختیار کے دلائل سے معمور ہیں اصولی طورپر انسان کویہی چیز دوسرے جانوروں سے ممتاز کرتی ہے . اگرانسان سے آزاد ی چھین لی جائے تو گویااس سے انسانیت چھین لی جاتی ہے۔
یہ ایک عظیم ترین امتیاز اوراعزاز ہے جوخدانے انسان کوعطافرمایا ہے اور تکامل وارتقاء کاغیر محدود راستہ بھی اس کے لیے کھول دیاگیا ہے اور یہ خدا وندعالم کی ناقابل تردید اوراٹل سنت ہے
تعجب تو اس بات پر ہوتاہے کہ اب بھی کچھ ناآگاہ اور بے خبرلوگ ایسے ہیں جوجبر کے عقید ے کی حمایت کرتے ہیں اور طرّہ یہ کہ انبیاء علیہم السلام کے پیرو کار بھی کہلاتے ہیں . حالانکہ جبر کے عقیدے کومان لیناتمام ابنیاء کے مسلک کی نفی اورنکار کے مترادف ہے ، اس طرح نہ توفرائض دواجبات کاکوئی مفہوم ہوگا، نہ سوال و جواب کااور نہ ہی وعظ ونصیحت کاحتٰی کہ ثواب اورعقاب یعنی جزااور سزااپنی حیثیت کھودیں گے۔
اس طرح سے نہ تو انسان اپنے عمال پرنظر ثانی کرسکتاہے ، نہ ندامت اورپشیمانی کاکوئی مفہوم ہوگا اورنہ ہی توبہ اورگزشتہ اعمال کی اصلاح کی ضرورت ہوگی ۔
پھر اس بار ے میں ایک اور اہم مسئلہ بیان فر مایاگیاہے اورایسے لوگوں کوتعریف اور توصیف کی گئی ہے جوبہشت کے مستحق اور سعادت مند ہیں اور یہ ان لوگوں کے مقابلہ میں ہے جوجہنم میں جائیں گے .ارشاد ہوتاہے : لیکن خداجسے چاہے اپنی رحمت میں داخل کردے اور ظالموں کے لیے کوئی ولی اور مددگار نہیں ہے (وَ لکِنْ یُدْخِلُ مَنْ یَشاء ُ فی رَحْمَتِہِ وَ الظَّالِمُونَ ما لَہُمْ مِنْ وَلِیٍّ وَ لا نَصیر) ۔
چونکہ دوزخی لوگوں کو ”ظلم“ کی صفت سے موصوف کیاجارہاہے جس سے ظاہر ہوتاہے کہ پہلے جملے میں ” من یشاء “ ( جسے چاہے ) سے مراد وہ لوگ ہیں جوظالم نہیں ہیں اوراس طرح سے گو یا عادل افرادبہشتی اور ظالم جہنمی ہیں۔
لیکن توجہ رہے کہ اس آیت میں اور قرآن مجیدکی بہت سی دوسری آیات میں لفظ ”ظالم “ وسیع معنی ہے اورصرف ان لوگوں کے لیے نہیں جودوسروں پرظلم کرتے ہیں بلکہ ایسے لوگوں کے لیے بھی ہے جواپنے آپ ظلم کرتے ہیں یاعقیدے کے لحاظ سے گمراہ ہیں اور شرک وکفر سے بڑھ کراور کیاظلم ہوسکتاہے حضرت لقمان اپنے فرزند سے فرماتے ہیں :
یا بُنَیَّ لا تُشْرِکْ بِاللَّہِ إِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظیمٌ
میرے بیٹے خداکاشریک نہ ٹھہراؤ کہ شرک عظیم ظلم ہے۔ ( لقمان / ۱۳)
ایک اور آیت میں ہے :
اٴَلا لَعْنَةُ اللَّہِ عَلَی الظَّالِمینَ ،الَّذینَ یَصُدُّونَ عَنْ سَبیلِ اللَّہِ وَ یَبْغُونَہا عِوَجاً وَ ہُمْ بِالْآخِرَةِ ہُمْ کافِرُونَ
خبردار رہو کہ خداکی لعنت ظالموں پرہے وہی کہ جولوگوں کوراہ حق سے روکتے ہیں اوراسے تبدیل کردیتے ہیں اورآخرت پرایمان نہیں رکھتے۔( ہود/۱۸. ۱۹)
” ولی “ اور”نصیر “ کے درمیان فرق کے بار ے میں بعض کہتے ہیں” ولی “ وہ ہوتاہے جو کسی درخواست کے بغیر کسی انسان کی مدد کرے لیکن ” نصیر “ کامعنی اس سے عام ہے ( ۴)۔
یہ احتمال بھی ہے کہ ” ولی “ ایسے سرپر ست کی طرف اشارہ ہے جو ولایت کے حکم کے تحت اورکسی درخواست کے بغیر حمایت اورمدد کرتا ہے اور ”نصیر “ وہ فریادرس ہے جو امداد کی درخواست کے بعدانسان کی امداد کو آتاہے۔
۱۔ تو جہ رہے کہ" انذار “ دومفعولوں کی طرف متعدی ہوتاہے اور زیر نظر آیات میں پہلے جملہ میں اس کا پہلا مفعول ذکرہوا ہے اور دوسرے جملے میں اس کادوسرا مفعول .البتہ کبھی اس کادوسرا مفعول ” با“ کے ساتھ آ تا ہے اور کہتے ہیں ” انذرہ بذالک “ ۔
۲۔ یہ تعبیرسور ہ انعام کی آیت ۹۲ میں بھی آئی ہے اورہم نے اس بار ے میں مذکورہ آیت کی تفسیر کے ذیل میں تفسیرنمونہ کی پانچویں جلد میں مزید تفصیل بیان کی ہے۔
۳۔ یہ اس صورت میں ہے جب ” عربی زبان “ کیاجائے . لیکن اگراس کا معنی ” فصیح “ کیاجائے تو پھر اس کا مفہوم کچھ اور ہوگا ۔
۴۔ ” مجمع البیان “ طبرسی جلد ۸ ،ص ۲۷۹( سورہ عنکبوت کی آیت ۲۲ کے ذیل میں ).
سوره فصلت/ آیه 1- 5
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma