۳۔ ” آفاقی “ اور” انفسی “ آ یات :

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 20
سوره فصلت/ آیه 1- 5
ہم ہرچیز کاتوانکار کرسکتے ہیں لیکن اس کائنات میں خود اپنے اندراور اپنے باہر ایک منظم اورحیرت انگیز نظام ہرگرنہیں کرسکتے . بعض اوقات ایسابھی ہوتاہے کہ ایک ماہر اور سپیشلسٹ شخص آنکھ ، دماغ یادل کی اسر ار آمیز بناوٹ کے بار ے میں تحقیقات کرتاہے اوراس بار ے میں لکھی گئی کتابوں کامطالعہ کرتاہے پھر بھی اس بات کااعتراف کرتاہے کہ اس موضوع کے سلسلے میں ابھی بہت کچھ تحقیق کرناباقی ہے۔
پھر یہ بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ آج کے محققین کے علوم تاریخی اعتبار سے لاکھوں دانشوروں اور سائنس دانوں کے مسلسل مطالعات کانچوڑ اور نتیجہ ہیں۔
اس طرح سے ہم جہاں بھی اور جسے بھی دیکھیں اس کے ماوراخدا وند متعال کی بے انہتا قدرت اورعام کے آثار دکھائی دیتے ہیں . اور جو انگور ی بھی زمین سے اگتی ہے زبان حال کے ساتھ ” وحد ہ لاشکرلہ “ کہہ کرسر اٹھاتی ہے ،اورجس ذّر ے کابھی دل چیز یں اس کے درمیان سے ایک آفتاب پھوٹتاہے۔
اسی پراکتفا کرتے ہوئے بہتر یہی ہے کہ اس جہان کے اہم اور پیچیدہ موضوعات سے چشم پوشی کرکے سادہ اوراپنے آ پ کے مسائل کاتجزیہ و تحلیل کریں. پھر بھی اس مبداٴ عظیم و برتر کے وجودپر روشن دلائل میں سے مناسب معلوم ہوتاہے کہ ہم آیہاں پردومثالیں پیش کریں۔
۱۔ یقینا آپ جانتے ہیں کہ ہرانسان کے پاؤں کے تلوے میں ایک خاص قسم کاخلا یاگڑھا موجودہے جو عام طور پر کوئی اہم چیزمعلوم نہیں ہوتا ،لیکن جب ہم یہ سنتے ہیں کہ فوج میں بھرتی کے خصوصی معائنے کے وقت جن افراد کے پاؤں میں اس قسم کاخلانہیں ہوتا بھرتی نہیں کیاجاتایاامید میں بھیجنے کے بجائے انہیں دفتری کاموں میں کھپا یاجاتاہے .توپھر پتہ چلتاہے کہ جس چیز کوہم عام اور سادہ سی بات سمجھ کرنظرانداز کردیتے ہیں اس کی وجودا نسانی کے لیے کس قدر اہمیت ہے او ر وہ یہ کہ اس کے نہ ہونے کی وجہ سے انسان کھڑا ہوجائے تو بہت جلد تھک جاتاہے . فن سپاہ گری کے اظہار کے موقعے پر چلنے یاد وڑنے کی لازمی توانائی سے قاصر ہوتاہے یہی وجہ ہے کہ ہمیں اعتراف کرنا پڑ تاہے کہ اس کا ئنات کاسارا نظام جچا تلااورکسی حساب کتاب کے تحت ہے حتٰی کہ پاؤ کے تلوے کاخلابھی۔
۲۔ انسان کی آنکھوں اورمنہ میں پانی کے چشمے پھوٹ رہے ہیں . جو نہایت ہی ظریف اور باریک سو راخوں سے تمام زندگی مسلسل کام کرتے رہتے ہیں . اگر یہ نہ ہوتے تو انسان میں دیکھنے کی قدرت ہوتی نہ بولنے اور غذاکو چنانے اور نگلنے کی طاقت . بالفاظ دیگران دوبظاہر چھوٹی لیکن نہایت اہم چیزوں کے بغیر انسانی زندگی ناممکن تھی۔
اگرآنکھ کی سطح ہمیشہ مرطوب نہ ہوتوڈھیلوں کی گردش تکلیف دہ بن جائے بلکہ ناممکن ہوجائے اور جب پلکیں آپس میں ملیں تو اس سطح کوچھیل کررکھ دیں بلکہ آنکھ کی حرکت ہی بالکل بندہو کر رہ جائے۔
اگرزبان،گلا اورمنہ مرطوب نہ ہوں تو بات کرنا ناممکن ہوجائے اورغذ ا کو نگلنا محال ہوجائے . آپ نے تجربہ کیا ہوگ. کہ جب کسی کامنہ یاگلا خشک ہوجاتاہے تو اس کے لیے بات کرناتوبجائے خود سانس لینا بھی دشوار ہوجاتاہے ،غذاکھانا یااسے نگلنا تو دور کی بات رہی.آپ خودہی اندازہ کیجئے کہ اگر یہ پانی اور تری مکمل طور پر منقطع ہوجائے توا نسان کاکیابنے ؟
ناک کے اندر ونی حصے کو بھی مرطوب ہوناچاہیئے تاکہ سانس کی ہمیشہ کی آمدورفت آسانی سے جاری رہے۔
یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ جو پانی آنسوؤں کی نالیوں کے ذر یعہ سے نکل کرنا ک میں آجاتاہے اور اسے فالتو یااضافی پانی کہتے ہیں اسی کے ذر یعہ ناک ہمیشہ تر رہتا ہے اور جس ظریف و بار یک سوراخ سے یہ پانی بہتا رہتاہے اگربالفرض ایک دن کے لیے آنکھ کایہ پانی سیلاب کی صورت میں چہرے پر بہتا رہے اورانسان کے چہرے کو بگاڑ کررکھ دے اور نہایت ہی بد نما بنادے۔
اگران سوراخوں کی کشش کی وجہ سے آنسو ؤں کے چشموں کاتوازن بگڑجائے پھر بھی یہی صورت حال درپیش ہو۔
لعاب دہن کی نالیوں کی بھی یہی کیفیت ہے اگرلعاب دہن کم ہو توزبان ،منہ اور گلا خشک ہوجائیں اور اگر زیادہ ہوجائے تو بات کرنی دشوار ہوجائے اور منہ سے پانی بہنے لگے۔
آنکھ کے پانی کی ترکیب کچھ اس طرح سے ہے کہ اس کاذائقہ نمکین ہوتاہے اوراس سے آنکھ کی ظریف ولطیف صورت کی مکمل حفاظت ہوتی ہے اور جب بھی آنکھ میں گردو غبار یاکوئی اور چیز پڑجاتی ہے تووہ پانی خود کار صورت میں بہنا شروع کردیتاہے اور جب تک اسے باہر نہیں پھینک دیتا تھمنے میں نہیں آتا۔
آنکھ کے پانی کے برخلاف لعاب دہن کی ترکیب ہی کچھ ایسی ہے کہ اس کاکوئی ذائقہ نہیں ہے تاکہ غذا کاذائقہ اچھی طرح محسوس کیاجائے اوراس میں نمکیات کاوجود غذا کے ہاضمے کے لیے موٴ ثرعامل ہے۔
اگران دوچشموں کے فز یکل اور کیمیکل پہلوؤں پرغورکیا جائے اوران کے جچے تلے اورحساب و کتاب کے تحت نظام کی ظرافت ، منفعت اور برکت کے بار ے میں سوچ بچار سے کام لیاجائے توہمیں یقین ہوجائے گا کہ کائنات کایہ نظام اندھے اور بہرے ” اتفاق “ کانتیجہ نہیں ہوسکتا . اسی ایک انفسی آیت جو بظاہر ایک چھوٹی سی آیت ہے کا مطالعہ ہم پرظاہرکرتاہے کہ ذات خدا وند متعال برحق ہے ” سَنُریہِمْ آیاتِنا فِی الْآفاقِ وَ فی اٴَنْفُسِہِمْ حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَہُمْ اٴَنَُّ الْحَق“۔
حضرت امام جعفرصاد ق علیہ السلام ” توحید مفضل “ نامی مشہورحدیث میں جو پروردگار عالم کی آفاقی اورانفسی آیات سے لبریز ہے ،اسی مطلب کی طرف ایک با معنی اشارہ فر ماتے ہیں۔
ای مفضل ! تاٴ مل الریق ومافیہ من المنفعة ،فانہ جعل یجری جر یاناً دائماًالی الفسم ،لیبل الحلق والکھم اة فلایجف ، فان ھذہ المواضع لوجعلت کذالک کان فیہ ھلاک الانسان ، ثم کان لاتستطیع ان یسیغ طعاماً اذالم یکن فی الفم بلة تنفذہ ، تشھد بذالک المشاھدة ۔
اے مفضل ! لعاب دہن اوراسکے فوائد کے با ر ے میں ذراغور کرو ، یہ لعاب ہمیشہ منہ میںچلتارہتاہے ، تاکہ حلق اور چھوٹی سی زبان ( جس کاغذا نگلنے میں اہم کر دار ہے ) کوہمیشہ مرطوب رکھے . اور اسے خشک نہ ہونے دے کیونکہ اگریہ اعضاء خشک ہو جائیں توانسان ہلاک ہوجائے اوراصولی طور پر اگرمنہ میں رطوبت نہ ہو تو انسان غذا نہیں نگل سکتا ، تجربہ اورمشاہدہ اسی بات کا گواہ ہے ( 1)۔ 
انسانی جسم کے علاوہ ا نسانی روح بھی عجائبات کا خزانہ ہے جس نے تمام علماء اور دانشوروں کو حیران اور ششدرکررکھاہے . اس کائنات میں اس قسم کی لاکھوں کروڑوں آیات بیّنات موجودہیں جوسب کی سبب بیک زبان کہہ رہی ہیں” انہ الحق “ ۔
یہیں پرہم بھی سیدالشھداء حضرت امام علیہ السام کے ہم صدا ہو کر کہتے ہیں۔
عمیت عین لاتراک
خداوندا ! ندھی ہوجائے وہ آنکھ جوتجھے نہ دیکھے۔
سورہ ٴحٰم سجدہ (فصّلت ) کی تفسیر اختتام کوپہنچی
 1۔ بحارالانوار جلد ۳ ،ص ۷۷ ۔
سوره فصلت/ آیه 1- 5
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma