نکته:

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 20
سوره فصلت/ آیه 1- 5

اس مقام پر ایک سوال پیداہوتاہے کہ اوروہ ہ کہ مندرجہ بالاآیات میں ہم نے پڑ ھاہے ” واذ امسہ الشر فذو دعاء عریض “ یعنی جب انسان کوبرائی آلیتی ہے اور تکلیف پہنچتی ہے تووہ لمبی چوڑی دعائیں کرتاہے . لیکن سورہ بنی اسرائیل کی ۸۳ ویں آیت میں ہے :
و اذا مسہ الشر کان یئو ساً
جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تووہ مایوس ہوجاتاہے۔
اس قسم کامفہوم انہی آیات میں بھی مذ کورہ ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ مسلسل اور لمبی چوڑی دعائیں پُراُمید ہونے کی دلیل ہوتی ہیں جب کہ دوسری آیات میں قرآن کہتاہے کہ انسان نااُمید ہوجاتاہے.آخر اس کی کیاوجہ ہے ؟
اس کے جواب میں بعض مفسرین نے لوگوں کودوحصوں میں تقسیم کیاہے،ایک وہ جومشکلات اور سختیوں کے وقت بالکل مایوس ہو جاتے ہیں اور دوسرے وہ جو دعاپراصر ار اور آ ہ و زاری کرتے ہیں ( 1)۔ 
بعض مفسرین نے کہا ہے کہ مایوسی سے مراد معمول کے ذ رائع سے نااُمید ہوجاناہے اوریہ خدا سے درخواست اور دعا کے منافی نہیں ہے(2)۔
ایک احتمال یہ بھی ہے کہ ” ذو دعاء عریض “ سے مراد خداسے دعا اور درخواست نہیں بلکہ بڑی حد تک چیخ و پکار مراد ہے . ان کے نزدیک اس
بات کی گواہ سورہٴ حج کی ۱۹ ، اور ۲۰ ویں آیت ہے جس میں خدا فرماتاہے :
انّ الانسان خلق ھلو عاً اذامسہ الشّر جز وعاً
انسان حریص پیداکیاگیاہے جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو زبردست چیخ و پکار شروع کردیتاہے۔
باوجود یکہ یہ دوحالتیں کم ظرف لوگوں کے لیے دومختلف مرحلوں میں پید اہوتی ہیں، شروع شروع میں توہر پیغمبروں کے آستان پرسر جھکاتے اور دعائیں مانگتے ہیں چیخ و پکار اور شور و غو غابلند کرتے ہیں ، لیکن زیادہ دیر نہیں گزرتی کہ مایوسی ان کے تمام وجود پرحکم فرما ہو جاتی ہے اور وہ مایوس اورخا موش ہوجاتے ہیں۔
1. تفسیرروح البیان جلد ۸ ،ص ۲۸۰۔
2۔ تفسیر المیزان جلد ۱۷ ،ص ۴۲۸ لیکن مندرجہ بالاآیات کوپیش نظررکھتے ہوئے جو کہ ایسے لوگوں کی خدمت میں ہیں جبکہ ظاہر ی اسباب سے امیدیں منقطع کرکے خداکی طرف متوجہ ہونا عیب ہی نہیں بلکہ لائق تعریف بھی ہے یہ تفسیر زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے۔
سوره فصلت/ آیه 1- 5
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma