۳۔ اس قدر بہا نے کیوں بناتے ہیں ؟

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 20
سوره فصلت/ آیه 1- 5

اس میں شک نہیں کہ عربی زبان دنیا کی زبانوں سے زیادہ بھرپور اورمستغنی زبان ہے اورقرآن کی عظمت اس لیے نہیں کہ وہ عربی زبان میں ہے ، بلکہ عربی میں اس لیے ہے کیونکہ خداتعالیٰ نے ہر پیغمبر کواس کی قوم کی زبان میں مبعوث کیاہے تاکہ پہلے مرحلے میںوہ قوم ایمان لے آئے اور پھراس کا دین اسی کے ذریعے وسعت اختیار کرجائے۔
لیکن حیلہ گر اور بہانہ جوافر اد بچوں کے مانند ہرروز ایک نئی غیر منطقی بات پیش کیاکرتے تھے اوراپنی بچگانہ اور متضاد باتوں سے واضح کرتے تھے کہ انہیں حق کی تلاش نہیں ہے . کبھی تووہ کہتے ہیں کہ آخر یہ قرآن عربی زبان ہی میں نازل کیوں ہواہے ؟ کیا بہتر نہیں تھا کہ سب یاکچھ قرآن غیر عربی زبان میں بھی نازل ہوتاتا کہ اس سے دوسرے لوگ بھی فائدہ اٹھا سکتے ؟(حالانکہ اس سے ان کاکچھ اور مقصد تھا . اور وہ یہ کہ عرب عوام اس کتاب کی انتہائی زیادہ متاثر کرنے والی جاذبیت سے محروم ہوجائیں )۔ 
اور اگر ان کی یہ خواہش پوری ہوجاتی توپھر کہتے کہ یہ کیاتضاد ہے کہ پیغمبرتوعربی اور کتاب غیر عربی ؟
ہرروز وہ ان حیلوں بہانوں سے دوسرے لوگوں کو راہ حق سے روکاکرتے تھے۔
اصولی طورپر ” بہانے بنانا “ ہمیشہ اس بات کی دلیل ہوتاہے کہ انسان کوتکلیف توکچھ اور ہوتی ہے جس کو وہ ظاہر نہیں کرناچاہتا اور بات کچھ اور کرتاہے . ان لوگوں کو بھی تکلیف یہی تھی کہ عوام الناس تو اس قرآن کی طرف دیوانہ وار کھنچے چلے جارہے ہیں اوران کے مفادات پرزدپڑ رہی ہے لہذا وہ نوراسلام کوبجھانے کے لیے ہر حربے سے کام لینے لگے گئے تھے۔
سوره فصلت/ آیه 1- 5
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma