۱۔ اختیار اور عدالت

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 20
سوره فصلت/ آیه 1- 5

”وَ ما رَبُّکَ بِظَلاَّمٍ لِلْعَبید“مسئلہ اختیار اور اراد ے کی آزادی پرایک روشن دلیل ہے . یہ جملہ اس حقیقت کواضح کررہاہے کہ خدا وند عالم نہ تو بغیر وجہ کے کسی کوسزا دیتا ہے اورنہ ہی کسی علت کے بغیر کسی کی سزا میں اضافہ کرتاہے .اس کے سارے کام صر ف اورصرف عدالت پر مبنی ہوتے ہیں کیونکہ ظلم و زیادتی کا اصل سبب کسی چیز کا نہ ہونا یاکم ہونا ، یاپھر خواہشات نفسانی کی تکمیل ہوتاہے اوراس کی ذات اقدس ان تمام امور سے منزہ و مبرا ہے۔
یہاں پر اور قرآن کے دوسرے مقامات پر” ظلام“ (بہت ظلم کرنے والا ) مبالغے کاصیغہ اس بات کی طرف اشارہ ہو سکتاہے کہ کسی کوبغیر دلیل کے خداسزا دے تو یہ بہت بڑے ظلم کامصداق بن جاتاہے کیونکہ اس سے قطعاً اس بات کی توقع نہیں کی جاسکتی۔
بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ چونکہ اس کی مخلوق بہت بڑی تعداد میں ہے اگر ہرشخص پر بھی ذرہ بھر ظلم کرے تو بھی ” ظلام “ کامصداق پیدا کرلے گا . ( ان دونوں تفسیروں کاآپس میں کوئی تضاد نہیں )۔ 
بہرحال قرآن مجید نے اپنی ان آیات بینات کے ذ ر یعے جبرکے عقیدے کی یکسر نفی کردی ہے ، جو برائی کاسبب ، ہرقسم کی خرابی کی تصدیق اورہر طرح کی ذمہ داری سے پیچھا چھڑا نے کاایک بہانہ ہے . ان الفاظ کے ذریعے قرآن مجید نے ہر شخص کواپنے اعمال کاذمہ دار ٹھہرایاہے اور ہر قسم کے عمل کانتیجہ اس کے بجالانے والے کوسمجھا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب حضرت امام رضا علیہ السلام سے آپ علیہ السلام کےکسی ساتھی نے دریافت کیا:
ھل یجبر اللہ عبادہ علی المعاصی
آیا خدا بندوں کوگناہ پرمجبورکرتاہے ؟
تو امام عالی مقام نے فرمایا :
لا ،بل یخیر ھم ویمھلھم حتٰی یتوبوا
نہیں بلکہ انہیں چھوٹ دے دیتاہے اور مہلت عطا کرتاہے تاکہ وہ اپنے گناہوں سے توبہ کرلیں۔
اس نے پھر پوچھا :
ھل کلف عبادہ مالا یطیقو ن
کیابندوں کواُ ن کی طاقت سے زیادہ ذمہ داری دیتاہے ؟
تو امام علیہ السلام نے فرمایا :
کیف یفعل ذالک وھو یقول ” وما ربک بظلا م للعبید
وہ ایسا کیسے کرسکتاہے جب کہ اس نے کہہ دیا ہے کہ تمہارارب کسی پربھی ظلم نہیں کرتا ۔
امام علیہ السلام نے سلسلہ کلام کوآگے بڑھاتے ہوئے فرمایا میرے والد ماجد موسٰی بن جعفر اپنے اپنے والد جعفر بن محمد سے روایت کرتے ہیں :
من زعم ان اللہ یجبر عبادہ علی المعاصی اویکلفھم مالایطیقون فلا تاٴ کلوا ذبیحتہ،ولا تقبلو اشھادتہ،ولا تصلوا ورائہ،ولا تعطوہ من الز کو ٰ ة شیئا ً
جوشخص یہ سمجھتا ہو کہ خدا بندوں کوگناہ پرمجبور کرتاہے یاانہیں ان کی طاقت سے زیادہ ذمہ داری دیتاہے توا س کے ہاتھ سے ذبح شدہ جا نور گا گوشت نہ کھاؤ ، اس کی گواہی قبول نہ کرو ، اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو ،اسے زکوٰة میں سے کچھ نہ دو ( یعنی اس پر اسلامی احکام جاری نہ کرو (1)
مندرجہ بالاحدیث سے ضمنی طور پر اس بات کی طرف اشارہ بھی ہے کہ جبر کا عقیدہ ” تکلیف مالا یطاق “ یعنی طاقت سے زیادہ ذمہ داری کابھی قائل ہے کیونکہ اگر انسان ایک طرف توگنا ہ پر مجبور ہو اور دوسری طرف اس گناہ سے رو کا جائے تو یہ بات یقینا تکلیف مالا یطاق کامصداق بنتی ہے۔
 1۔ عیون اخبار الرضا ، ( منقول ازنو رالثقلین ،جلد ۴ ،ص ۵۵۵۔
سوره فصلت/ آیه 1- 5
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma