آیات حق کی تحریف کرنے والے

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 20
سوره فصلت/ آیه 1- 5

گزشتہ آیات میں پروردگار عالم کی آیات اور نشا نیوں کا ذکرتھا اب ان آیات میں ان لوگوں کومتنبہ کیاجار ہا ہے جو آیات توحید کی تحریف کرتے ہیں اور لوگوں کوغافل و گمراہ کرتے ہیں .خدا فرماتاہے : جولوگ کہ ہماری آیات میں تحریف کرتے ہیں وہ ہم سے چھپ نہیں سکیں گے (إِنَّ الَّذینَ یُلْحِدُونَ فی آیاتِنا لا یَخْفَوْنَ عَلَیْن)۔  
ہو سکتا ہے وہ لوگوں کو مغالطے میںڈال دیتے ہوں اوریہ بھی ممکن ہے کہ وہ اپنی ان بداعمالیوں پر پردہ ڈالتے ہوئے خود کولوگوں کی نگاہوں سے چھپا لیتے ہوں لیکن ہم سے تو اپنا ایک تھو ڑا ساعمل بھی نہیں چھپا سکتے ہیں۔
” یلحدون “ ” الحاد“ کے مادہ سے ہے جو دراصل ” لحد “ ( بروزن ” عہد “ ) سے لیاگیا ہے اور ’ ’ لحد“ اس گڑھے کو کہتے ہیں جوقبر کے اندر ایک طرف مردے کو سلانے کے لیے بنایا جاتاہے . بعد ازاں ہراس کام کو ” الحاد “ کہاجانے لگا جو میانہ روی سے نکل کرافراط اور تفر یط کاشکار ہوجائے . ” شر ک ، بت برستی ، کفر اور بے دینی “ کو بھی اسی وجہ سے ” الحاد “ کہاجاتاہے۔
” آیات الہٰی میں الحاد“ سے مراد توحید اور معاد کے دلائل میں وسوسے ڈالنا ہے جو پہلے کی آیات میں’ ’ ومن اٰیاتہ “ کے عنوان سے بیان ہواہے . یاپھرتمام آیات مراد ہیں خواہ وہ تکوینی ہوں یا تشریعی جوکہ قرآن مجید اور آسمانی کتابوں میں نازل ہوچکی ہیں۔
یہ آیت موجودہ دور میں دنیا بھر کے اُن مادی اور الحادی مکاتب فکر کے بار ے میں بھی ہے جو دنیا کے لوگوں کو توحید اور معاد سے منحرف کرتے رہتے ہیں اور کبھی کہتے ہیں کہ دین جہالت اور خوف کی پیدا وار ہے ، کبھی کہتے ہیں کہ اقتصادی عوامل نے دین کوجنم دیاہے اور کبھی کچھ . لوگ مادی عوامل کو دین کی پیدائش کاسبب بتاتے ہیں۔
قرآن مجید ان تمام چیزوں کواسی سلسلہ گفتگو میں ایک واضح موازنے کے ساتھ بیان کرتے ہوئے کہتاہے : ” آ یا جوشخص آگ میںڈالا جائے وہ بہتر ہے یاوہ جو بروز قیامت ایمان کے زیر سا یہ نہایت امن و اطمینان کے ساتھ عرصہ محشر میں قدم رکھے گا ؟( اٴَ فَمَنْ یُلْقی فِی النَّارِ خَیْرٌ اٴَمْ مَنْ یَاٴْتی آمِناً یَوْمَ الْقِیامَةِ )۔ 
جن لوگوں نے شک اور فساد کی آگ بھڑ کاکر لوگوں کے ایمان کو جلا کر خاکستر کردیا ، اس دن انہیں خود کو بھی لقمہ آتش بننا ہوگا اور جن لوگو ں نے ایمان کے زیر سایہ عالم بشریت کے لیے امن و امان مہیا کیاہے انہیں قیامت کے دن بھی انہتائی اطمینان اور سکون کاماحول میسر ہوناچاہیئے . تو کیا اس دن ہمارے اعمال جسمانی صورت اختیار نہیں کرلیں گے ؟
اگر چہ بعض مفسرین نے آیت کے اس حصے کامصداق ابوجہل اوران کے مقابل جناب حمزہ اورحضر ت عمار یاسر کو قرار دیا ہے لیکن ظاہر ہے کہ یہ صرف اس مصداق کی تطبیق ہی ہے ، آ یت کامفہوم وسیع ہے جس میں وہ بھی اور دوسرے افراد بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ جہنمیوں کے بار ے میں ”القاء “ کالفظ استعمال کیاگیا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ انہیں وہاں پر از خود کوئی اختیار حاصل نہیں ہوگا ، جب کہ بہشتیوں کے بار ے میں ” یا تی “ ( آنا) کی تعبیراستعمال کی گئی ہے جو اُن کے احترام ارادے کی آزادی اورامن وسکون کے انتخاب کی دلیل ہے۔
علاوہ ازیں دوزخ کے مقابلے میں بہشت کو ہو نا چاہیئے ، جس میں اس عذاب سے امان ہوگی جو کہ دوزخ میں موجود ہو گا . یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس دن سب سے ہم مسئلہ یہی امن اور اطمینان وسکون کاہوگا ۔
جب کسی کی ہدایت سے مایوس ہو کر اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتے ہیں اور کہتے ہیں جو تمہاراجی چاہے کرو ، چنانچہ اسی آیت میں اس سلسلے میں انہیں بھی خطاب کرکے یہی کہاگیا ہے : جوتمہاراجی چاہے کرو ( اعْمَلُوا ما شِئْتُمْ )۔  
لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ ’ ’خدا تمہارے اعمال دیکھ رہاہے (إِنَّہُ بِما تَعْمَلُونَ بَصیرٌ)۔  
ظاہر ہے کہ یہ امر ان کی آزاد ی عمل یاکسی کام کو ضروری طور پر انجام دینے کے معنی میں نہیں ہے بلکہ انہیں اس بار ے میں تنبیہ کی گئی ہے کہ ان کے کانوں میں کوئی بھی حق بات موٴ ثر واقع نہیں ہوتی . یہ ایسی بامعنی دھمکی ہے کہ جس میں سزا کاوعدہ بھی ساتھ ساتھ موجود ہے کیونکہ حساب کامحفوظ رکھنا اور اعمال پر نگاہ رکھنابھی اسی غرض کے لیے ہے . بعد کی آیت میں توحید او ر معاد کے بجائے موضوع سخن قرآن اور نبوت کو بنایاگیا ہے اور ضدی مزاج اور متعصب کفار کو ایک بار پھر تنبیہ کرتے ہوتے فر مایاگیاہے : اور جب لوگ اس ذکر اور خد کی یاددلا نے والی چیز ( قرآن مجید ) کے اپنے پاس آجانے کے بعد کافر ہوگئے وہ ہم سے چھپ نہیں پائیں گے (إِنَّ الَّذینَ کَفَرُوا بِالذِّکْرِ لَمَّا جاء َہُمْ ) (۱)۔
” قرآن “ پر”ذکر “ کااطلاق اس لیے کیاگیاہے کیونکہ یہ انسان کوہرچیز سے پہلے بیدار کرتااوراسے یاد دلاتاہے اور جن حقائق کوانسان نے اجمالی طور پر خدا دا د فطرت کے ذ ریعے در یافت کیاہے اس کی مکمل وضاحت اور مفصل تشریح کرتاہے . اس قسم کی تعبیرقرآن مجید کی دوسری آیا ت میں بھی آچکی ہے . جن میں سے ایک سورہ حجر کی نویں آیت ہے،ارشاد ہوتا ہے :
إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ إِنَّا لَہُ لَحافِظُون
ہم نے ہی اس ذکر اوریاد آوری کونازل کیاہے اورہم ہی یقینی طور پر اس کی حفاظت کریں گے۔
اس کے بعد قرآن مجید کی عظمت کو بیا نکرنے کے لیے فرمایاگیا ہے : یقینا یہ ناقابل شکست کتاب ہے (وَ إِنَّہُ لَکِتابٌ عَزیز)۔ 
یہ ایسی کتاب ہے جس کی مثال لانا کسی کے بس کی بات نہیں اور نہ ہی اس پرکوئی غالب آسکتا ہے . یہ ایک بے نظیر کتاب ہے جس کی منطق پختہ اور واضح ہے ، جس کے دلائل ٹھوس اور محکم ہیں ، جس کی تعبیریں مربوط اور گہری ہیں ، جس کی تعلیمات اصولی اور ثمر آورہیں اور جس کے احکام وفرامین ہردور میں انسان کی حقیقی ضروریات سے ہم آہنگ ہیں۔
پھراس کتاب کی ایک اور واضح صفت اور عظمت کو بیان کرتے ہوئے فرمایاگیاہے : کسی قسم کا باطل ، نہ تو اس کتاب کے آگے سے آسکتا ہے اور نہ ہی اس کے پیچھے سے (لا یَاٴْتیہِ الْباطِلُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَ لا مِنْ خَلْفِہِ ٍ )۔ 
کیونکہ یہ ” خدا وند حکیم و حمید کی طرف سے نازل کی گئی ہے (تَنْزیلٌ مِنْ حَکیمٍ حَمید)۔  
وہ ایسا خدا ہے کہ جس کے تمام افعا ل حکمت پرمبنی ہیں اور نہایت ہی کمال ودرستی کے حامل ہیں اسی لیے وہ تمام حمد و ستائش کامستحق ہے۔
” لا یاٴ تیہ الباطل ... “ کے با ر ے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں . جن میں سے زیادہ جامع یہ ہے کہ کسی قسم کا باطل ، کسی لحاظ سے اور کسی طریقے سے قرآن کے پاس نہیں بھٹک سکتا ۔
نہ تو اس کے مفاہیم میں کوئی تناقض گو ئی ہے اور نہ سابقہ علوم اور کتب سے اس کے خلاف کوئی چیز ملتی ہے اورنہ ہی آئندہ کی علمی دریافتیں اس کے برخلاف ہوں گی۔
نہ توکوئی شخص اس کے حقائق کو باطل کرسکتاہے اور نہ ہی کبھی منسوخ کر سکتاہے۔
اس کے معارف،قوانین،نصائح اور خبروں میں نہ اب کوئی تضاد ہے اور نہ ہی آئندہ ظاہر ہوگا ۔
کوئی آیت بلکہ کوئی کلمہ نہ اس سے کم ہوا ہے اور نہ ہی کوئی چیز اس پراضافہ کی گئی ہے دوسرے لفظوں میں تحریف کرنے والوں کے ہاتھ اس کے بلند دامان تک نہ پہنچ سکے ہیں اور نہ ہی پہنچ پائیں گے۔
درحقیقت یہ آیت سورہ حجر کی آیت ۹ کی دوسری تعبیر ہے جس میں کہا گیا ہے :
إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ إِنَّا لَہُ لَحافِظُون
ہم ہی نے قرآن کونازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے ( ۲)۔ 
جو ہم کہہ چکے ہیں اس سے یہ نتیجہ نکالاجاسکتا اہے کہ ” من بین یدیہ ولامن خلفہ “ کاجملہ اس کے آفاقی ہونے کے لیے کنایہ ہے یعنی کہیں سے بھی اور کسی طرف سے بھی بطلان اور خرابی اس کے پاس نہیں آئی اور نہ ہی آ سکتی ہے . لیکن بعض مفسرین نے اسے ” زما نہ ٴ حال “ اور” زمانہ استقبال“ کے لیے کنایہ سمجھاہے جودرحقیقت اس کے پہلے وسیع مفہوم کاایک مصداق ہے۔
لفظ ” باطل“ کے بار ے میں راغب نے مفردات میں لکھا ہے کہ یہ حق کانقطہٴ مقابل ہے . علماء نے کبھی اس کا ایک مصداق بیان کیا ہے جیسے شرک ، شیطان ،فنا ہونے والی موجودات اورجادو گر اور شجاع اورپہلو ان شخص کواس لیے ” باطل “ کہتے ہیں کہ وہ اپنے مدمقابل کوباطل کردیتاہے . یا میدان سے باہر نکل دیتاہے یاپھر قتل کردیتاہے۔
بہرحال آیت کاظاہرمطلق ہے اور ” باطل “ کے مفہوم کو اس کے خاص مصداق میں محدود نہیں کیاجاسکتا ۔
آیت کاآخری ” تنزیل من حکیم حمید “ درحقیقت اس بات کی واضح اور روشن دلیل ہے کہ باطل کسی بھی شکل وصور ت میں اس تک رسائی حاصل نہیں کرسکتا . کیونکہ باطل تو ان باتوں تک پہنچ پاتاہے جو کسی انسان سے بیان ہوئی ہوں ، جوکسی محدود علم اور معین کمال کے مالک سے بیان بیان ہوئی ہوں لیکن جس کاعلم اورحکمت لامحدود ہوں اورخود تمام کمالات کاجامع ہو اورایسے کمالات اسے حمد وستائش کامستحق بنارہے ہوں تو اس کی باتوں میں تناقص ، تضاد اوراختلاف کہاں پایا جاسکتاہے ؟ نہ تو اس پرخط نسخ کھینچا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے باطل کیاجاسکتاہے ، نہ تحریف کاہاتھ اس تک پہنچ سکتاہے اورنہ ہی گذ شتہ علوم او ر کتابوں کے حقائق کے ساتھ اس کا تضاد ہوسکتاہے اور نہ ہی موجودہ اور آئندہ زمانے میں علمی انکشافات کے ساتھ اس کاتضاد ہوسکتاہے۔
بہرحال یہ آیت ان واضح آیات میں سے ہے جوقرآن میں ہر قسم کی تحریف اور کمی اور زیادتی کی نفی کرتی ہیں ( قرآن مجید میں تحریف نہ ہونے کے بار ے میں مزید تفصیل کے لیے تفسیر نمونہ کی جلد ۱۱ سورہ ٴ حجرکی آیت ۹ ” إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ إِنَّا لَہُ لَحافِظُون“ کے ذیل میں بیان ہوئی ہے اوراس کے مختلف دلائل بیان کیے گئے ہیں اور اس سلسلے میں ہونے والے سوالوں کاجواب بھی دیا گیاہے )۔ 
ایک سوال کا جواب
ممکن ہے یہاں پر یہ سوال کیاجائے کہ ” باطل“ کامعنی ” حق کامخالف “ ہے جب کہ آپ نے بھی اور دوسر ے مفسرین نے بھی اس ” مبطل “ ( باطل کرنے والا ) کے معنی میں تفسیر کیاہے۔
ایک ظر یف نکتے کی طرف توجہ سے اس کاجواب حاصل کیاجاسکتاہے اوروہ یہ کہ قرآن مجید یہ نہیں کہتا کہ اس آسمانی کتاب کے بعد باطل وجودمیں نہیں آ ئے گا بلکہ کہتا کہ کوئی باطل اس کے پاس نہیں آئے گا ” یا ٴ تیہ “ میں ضمیر کی طرف توجہ کریں “ اور اس قول کامعنی یہ ہے کہ کوئی بھی چیز اس کے پاس آکر اسے باطل نہیں کرسکتی۔ ( غور کیجئے گا )۔  
۱۔ ” ان الذین “ کی خبر کیاہے ؟ اس میں مفسر ین کی رائے مختلف ہے . سب سے زیادہ مناسب یہی نظر آتاہے کہ کہاجائے کہ ” لا یخفون علینا “ کاجملہ ،پہلی آیت کے قرینے کے مطابق حذف ہوچکاہے . بعض مفسرین کہتے ہیں کہ گزشتہ آیت سے سمجھا جانے والا جملہ ” یلقون فی النا “ اس کی خبر ہے اور بعض کہتے ہیں کہ آئندہ آیا ت میں ذکر ہونے والا جملہ ” اولٰئک ینادون من مکان بعید “ کی خبر ہے . لیکن پہلا معنی زیادہ مناسب معلوم ہوتاہے۔
۲۔ اسی تفسیر کواجمالی طورپر زمخشر ی نے اپنی تفسیر کشاف میں اپنا یا ہے اور تفسیر المیزان میں بھی علامہ طبا طبائی کے اسی طرح کے الفاظ ہیں جبکہ بہت سے مفسرین نے ” باطل “ کے لفظ کومحدود کردیاہے اوراسے ” شیطان یاتحریف کرنے والا یاجھوٹ وغیرہ کے معنی میں لیاہے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام اورامام جعفرصادق علیہ السلام سے ایک حدیث میں یوں بیان ہواہے :
انہ لیس فی اخبارہ عما مضی باطل ولافی اخبارہ عمایکون فی المستقبل باطل
نہ تو اس کی گزشتہ خبروں میں باطل ہے اور نہ ہی مستقبل کی خبروں میں باطل ہوگا ( البیان انہی آیات کے ذیل میں )۔ 
تو واضح ہے کہ یہ سب اس آیت کے وسیع مفہوم کامصداق ہیں . ( خوب غور کیجئے گا )۔  
سوره فصلت/ آیه 1- 5
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma